روحانیت کا سفر 11
روحانیت کا سفر 11
صبر… جو اس سفر کا زادِ راہ ہے۔
کالم از: سر جاوید بشیر
الحمدللہ! آج روحانیت کے سفر پر ہمارا گیارہواں کالم ہے۔ اللہ رب العزت کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ یہ بابرکت سفر جاری ہے۔
آپ نے کبھی غور کیا؟ جب ہم کسی سفر پر روانہ ہوتے ہیں، تو اس کے لیے بہت سارا لازمی سامان ساتھ رکھتے ہیں، جسے ہم "زادِ راہ" کہتے ہیں۔ یہ سامان ہمیں سفر کی تھکن، بھوک، اور مشکلات سے بچاتا ہے۔
آج میں آپ سے اسی روحانی زادِ راہ کی بات کروں گا، جو ہماری اس زندگی کی آخری سانس تک جاری رہنے والے سفر کو آسان بنا دیتا ہے۔
یہ سفر، جو ہماری روح کی منزل کی طرف جاتا ہے، اس میں ہم ہر لمحے کچھ نہ کچھ پاتے ہی ہیں، اور یہ سب اسی زادِ راہ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اور یہ زادِ راہ اور کچھ نہیں، یہ ہے صبر!
دنیا کا کوئی وزیر۔ کوئی جرنیل۔ کوئی امیر اگر آپ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہہ دے کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ تو دل مضبوط ہو جاتا ہے۔ تکلیف آدھی رہ جاتی ہے۔ پھر سوچیں۔ جب خالقِ کائنات کہے کہ میں صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوں۔ تو پھر کیسی پریشانی۔ کیسا خوف۔ کیسی شکست۔
لوگ سمجھتے ہیں صبر چپ رہنے کا نام ہے۔ یہ سوچ غلط ہے۔ صبر خاموشی نہیں۔ صبر یقین ہے۔ صبر یہ ہے کہ انسان کوشش جاری رکھے۔ مگر نتیجہ اللہ کے حوالے کر دے۔ صبر یہ ہے کہ آنکھوں میں آنسو ہوں۔ لیکن دل میں شک نہ ہو۔ صبر یہ ہے کہ راستہ مشکل ہو۔ لیکن قدم رک نہ جائیں۔ روحانیت اسی صبر سے پروان چڑھتی ہے۔ دل اسی یقین سے روشن ہوتا ہے۔ اور انسان اسی برداشت سے اللہ کے قریب آتا ہے۔
میں نے زندگی میں ایسے لوگ دیکھے جو بظاہر مضبوط لگتے تھے۔ زبان پر بڑے بڑے دعوے۔ مگر جب دکھ آیا۔ تکلیف آئی۔ اللہ کی آزمائش آئی۔ وہ ٹوٹ گئے۔ کیونکہ ان کے پاس صبر نہیں تھا۔ اور میں نے کچھ ایسے لوگ بھی دیکھے جن کی جیب خالی تھی۔ جن کے کپڑے پرانے تھے۔ جن کے پاس دنیا کی کوئی طاقت نہیں تھی۔ مگر ان کے دل میں صبر کا خزانہ تھا۔ اور اللہ انہیں اوپر اٹھاتا گیا۔ انہی کے نصیب سنورتے گئے۔ یہی روحانیت ہے۔ جو صبر والے دل کو وہ مقام دیتی ہے جس تک طاقت والے بھی نہیں پہنچ پاتے۔
ہماری پوری زندگی صبر سے بھری ہے۔ ماں بچے کے رونے پر صبر کرتی ہے۔ باپ اپنی ضرورتوں پر صبر کرتا ہے۔ غریب اپنی بھوک پر صبر کرتا ہے۔ بیمار اپنی تکلیف پر صبر کرتا ہے۔ مگر ایک اور بھی ہے جو سب سے زیادہ صبر کرتا ہے۔ وہ ہمارا رب ہے۔ ہم غلطیاں کرتے ہیں۔ وہ معاف کرتا ہے۔ ہم بھول جاتے ہیں۔ وہ نوازتا ہے۔ ہم گناہ کرتے ہیں۔ وہ رزق دیتا رہتا ہے۔ وہ ہمیں وقت دیتا ہے کہ شاید کبھی ہم لوٹ آئیں۔ صبر رب کی صفت بھی ہے۔ اور بندے کا امتحان بھی ہے۔
پاکستانی معاشرہ آج تھک چکا ہے۔ ہر شخص جلدی میں ہے۔ جلدی عزت۔ جلدی دولت۔ جلدی فائدہ۔ اور جب جلدی پوری نہیں ہوتی۔ دل شکایتوں سے بھر جاتا ہے۔ زندگی بوجھ لگنے لگتی ہے۔ رشتے کڑوے ہو جاتے ہیں۔ باتوں میں سختی آ جاتی ہے۔ حالانکہ اگر ہم صبر کو اپنے دل میں جگہ دے دیں۔ تو زندگی نرم ہو جائے۔ گفتگو میٹھی ہو جائے۔ اور دل میں سکون اتر آئے۔
روحانیت اسی جگہ سے شروع ہوتی ہے جہاں انسان اپنے دل کو اللہ کے سپرد کرتا ہے۔ جہاں وہ اپنے غم کو اللہ کی عدالت میں رکھتا ہے۔ جہاں وہ تڑپ کر کہتا ہے۔ یا رب میں تھک گیا ہوں۔ مگر میں ٹوٹوں گا نہیں۔ کیونکہ مجھے یقین ہے کہ تو میرے ساتھ ہے۔
جس دن انسان کا دل یہ سیکھ لیتا ہے۔ اسی دن روحانی سفر شروع ہو جاتا ہے۔
کبھی کبھی دعا دیر سے قبول ہوتی ہے۔ انسان سمجھتا ہے کہ شاید اللہ نے سننا چھوڑ دیا۔ لیکن نہیں۔ اللہ سن رہا ہوتا ہے۔ حالات بنا رہا ہوتا ہے۔ لوگ بدل رہا ہوتا ہے۔ وقت تیار کر رہا ہوتا ہے۔ اور جب ساری چیزیں مکمل ہو جاتی ہیں۔ تو دعا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے۔ اور آنکھوں سے آنسو بہہ جاتے ہیں۔ تب انسان سمجھتا ہے کہ صبر رائیگاں نہیں گیا۔
کبھی کبھی جو چیز دیر سے ملتی ہے۔ وہ ہمیشہ کے لیے ملتی ہے۔ اور جو چیز جلدی ملتی ہے۔ وہ جلدی چھن جاتی ہے۔ روحانیت میں ہر شے وقت کے ساتھ ملتی ہے۔ اللہ کے وقت کے ساتھ۔ اور اللہ کے فیصلے انسانوں کی عقل سے بہتر ہوتے ہیں۔
میں آپ سے سچ کہتا ہوں۔ صبر آسان نہیں۔ دکھ کاٹتے ہیں۔ جملے چبھتے ہیں۔ لوگوں کے رویے زخم بنتے ہیں۔ راتیں جاگتی ہیں۔ دل رو رو کر تھک جاتا ہے۔ لیکن پھر بھی جو شخص صبر کرتا ہے۔ وہ اللہ کے دروازے کے قریب ہوتا جاتا ہے۔ اور یہی قرب روحانیت ہے۔ جب انسان مضبوط دکھائی نہ دے۔ مگر اندر سے مضبوط ہو جائے۔ جب اس کے آنسو کمزور نہ ہوں۔ بلکہ عبادت بن جائیں۔ جب وہ دکھ کے ساتھ اللہ سے لپٹ جائے۔ تو سمجھ لیں اس نے روحانیت کو چھو لیا۔
آپ کی زندگی میں غم ہوں گے۔ پریشانیاں ہوں گی۔ تنہائی ہوگی۔ غربت ہوگی۔ ناکامیاں ہوں گی۔ مگر اگر آپ صبر کر گئے۔ تو ایک دن سب بدل جائے گا۔ قرآن کا وعدہ ہے کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ جب اللہ کسی کے ساتھ ہو جائے۔ تو دنیا کی کوئی طاقت اس کا راستہ نہیں روک سکتی۔
آپ کے دل میں اگر صبر کی روشنی جل گئی۔ تو سمجھیں اللہ نے آپ کی روح جگا دی۔ اور جس انسان کی روح بیدار ہو جائے۔ اس کا سفر کبھی ادھورا نہیں رہتا۔
آج کا پیغام صرف اتنا ہے۔ صبر کمزوری نہیں۔ یہ روحانیت کی طاقت ہے۔ ۔ یہ دل کا سکون ہے۔ اور یہ روحانیت کا زادِ راہ ہے۔
اگر آپ صبر کر رہے ہیں۔ تو یقین رکھیں۔ اللہ آپ کے ساتھ ہے۔ آپ کے حق میں فیصلے لکھے جا رہے ہیں۔ دعائیں راستہ بن رہی ہیں۔ اور ایک دن آپ کی آنکھیں آنسوؤں کے ساتھ کہیں گی۔ شکر ہے۔ میرا رب مجھے کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔
آخر میں بس اتنی سی بات اپنے دل سے لکھ رہا ہوں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی زندگی روحانیت سے بھر جائے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ دل کے اندھیرے ختم ہو جائیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ راتیں بے چین نہ رہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ پریشانیاں آپ کو توڑ نہ سکیں۔ تو اپنے دل کو اس زادِ راہ سے بھر لیں۔ صبر کو اپنی سانسوں میں شامل کر لیں۔ آپ دیکھیں گے کہ زندگی کتنی بدل جاتی ہے۔ دکھ بھی نرم پڑ جاتے ہیں۔ لوگوں کی سختیاں بھی کم لگنے لگتی ہیں۔ اور دل اللہ کے نور سے بھر جاتا ہے۔ پھر ایک دن آپ حیران ہو کر اپنے آپ سے کہیں گے۔ میری زندگی کتنی خوبصورت ہو گئی۔ کتنی خوشگوار ہو گئی۔ اور یہ سب صبر کی برکت سے ہوا۔
ہمارا یہ روحانیت کا سفر یونہی جاری رہے گا۔ ہر جمعہ المبارک ہم ایک نیا قدم رکھیں گے۔ ایک نیا دروازہ کھولیں گے۔ ایک نیا راز جانیں گے۔ اللہ عزوجل سے دعا ہے۔ وہ ہمیں اس روحانی سفر میں کامیابیاں عطا فرمائے۔ ہمارے دلوں میں صبر کی روشنی قائم رکھے۔ ہمیں نازک لمحوں میں ثابت قدم رکھے۔ اور ہمیں ایک سچا، نرم دل اور صابر انسان بنا دے۔ آمین۔
Aj ki generation ka problem hi yahi ha ka kisi mai b sabar or bardasht nahi ha
جواب دیںحذف کریںAmeen 💕
جواب دیںحذف کریںReally sir g you are going to the .best I really appreciate you 💞
Patience is a deep concept when it comes,we can lose anything worldly but we believe in Allah almighty because he is always with that person who is patience 💖
Allah Almighty blesses us a lot of things but some time we lose the patient and think why is it happening with us, but Allah Almighty chooses the greatest thing for us which remains with us for whole life ☺️
I pray to Allah Almighty may he grant us patience 🤲
When it cames then we don't weep in front of others, rather in front of Allah Almighty who always supports us and grants us ☺️
السلام علیکم
جواب دیںحذف کریںجاوید صاحب صبح دل سے جو آوازیں آرہی تھی تحریر کی تھی شائع بھی کیا تھا نتیجہ 0 بہت افسوس ہے ایسی کارکردگی پر خیر جو ہوا سو ہوا
سب سے پہلے آپ کو مبارک باد دی تھی ۱۱ روحانی سفر کی
اب مختصر یہ کہ ۳ طرح کے صبر ہیں پہلے یہ بتاؤں کہ اللہ تعالی ہمیں ضمانت دے رہا ہے کہ میں آپ کے ساتھ ہوں میں آپ کو لفظوں میں نہیں بتا سکتا یہ کتنا بڑا انعام ہے اچھا تو میں بتا رہا تھا کہ
اللہ سے تعلق رکھنا
ایک جملہ عرض ہے
اللہ کے معاملے میں لوگوں سے نہ ڈرو
لوگوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو
یہ بھی صبر ہے ہر چیز سے بیگانہ ہو کر مکمل توجہ خالق حقیقی پر یکسوئی کے ساتھ اس کی عبادت میں مشغول ہونا
نفس سے جنگ یعنی اپنے آپ سے
اپنے آپ کو شہوت سے پاک کرنا اور اپنی تنہائی کو پاک کرنا
مشکل راستے میں بھی چلتے رہنا مشکل راستے کامطلب اونچے نیچے راستے ہرگز نہیں ہے جب ہم حق کے راستے پر چلتے ہیں تو بہت سی شیطانی رکاوٹیں آتی ہیں جیسے اپنی انا کا خیال وغیرہ
ان سب مشکلوں کو عبور کرکے ہی انسان روحانیت حاصل کر سکتا ہے
ایک اور بات کہ روحانیت اللہ رب العزت کی رفاقت کا نام ہے یعنی پہلے بھی بتایا جا چکا ہے کہ
ان اللہ مع الصابرین
اللہ تعالی کی رفاقت کا یہی مطلب ہے
اللہ تعالی ہم سب کو روحانیت عطا فرماۓ
آمین یارب العالمین
Wow wow wow sir g
جواب دیںحذف کریںA great thing is patience
But unfortunately not anyone has this
always when i pray to Allah Almighty that give me this thing if this is better for me but if this is not better for me then give me patience I'm happy in your grants and what thing you will give me
May Allah gives alll of us patience for gain more things
And youuu Always gave us and learnt us a new and unique things that's will help us in the future
May Allah gives uh and your family alllll the happiness and have a great healthy super Life Ameenn
Thanks for making this columns for us 😍😍♥️♥️✨✨