روحانیت کا سفر7

 روحانیت کا سفر 7

کالم از: سر جاوید بشیر


الحمدللہ، آج میرا روحانیت کے سفر پر یہ ساتواں کالم ہے۔ دل میں ایک عجیب سا سکون ہے کہ یہ سلسلہ رکنے کے بجائے بڑھ رہا ہے۔ میری دعا ہے کہ یہ سفر جاری رہے، تاکہ ہم سب مل کر روحانیت کو ہر پہلو سے سمجھ سکیں۔ میرا مقصد یہی ہے کہ روحانیت کو صرف بڑے بڑے فلسفوں یا مشکل اصطلاحات تک محدود نہ کیا جائے، بلکہ ایک عام انسان بھی اسے آسانی سے سمجھ سکے اور اپنی زندگی کے اندھیروں کو روشنی میں بدل سکے۔


 روحانیت کے بارے میں ہمارے معاشرے میں کئی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ صرف خانقاہوں میں بیٹھنے، دنیا کو چھوڑ دینے یا زندگی کی رنگینیوں کو ترک کرنے کا نام ہے۔ لیکن علامہ اقبال نے روحانیت کو ایک بالکل نیا اور زندہ روپ دیا۔ انہوں نے روحانیت کو عام انسان کی زندگی کے لیے اتنا آسان اور حقیقت کے قریب کر دیا کہ کوئی بھی، چاہے مزدور ہو یا طالبعلم، تاجر ہو یا کسان، اپنے روزمرہ کے کاموں میں بھی روحانیت کو پا سکتا ہے۔


اسی لیے میں آج کا کالم اقبال کے ایک اور عظیم شعر سے شروع کرتا ہوں:


"اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی / تُو اگر میرا نہیں بنتا، نہ بن اپنا تو بن"


یہ اشعار پڑھتے ہی دل کے اندر ایک زلزلہ سا برپا ہوتا ہے۔ کتنا بڑا پیغام ہے اس میں! گویا اقبال ہم سب سے کہہ رہے ہیں کہ اصل زندگی کا راز باہر نہیں، دولت، شہرت یا دنیاوی عزت میں نہیں بلکہ ہمارے اپنے اندر ہے۔



جب میں یہ شعر پڑھتا ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے اقبال مجھے کہہ رہے ہوں: "جاوید، اگر تمہیں حقیقت جاننی ہے تو دوسروں کے پیچھے مت بھاگو، اپنے اندر جھانکو۔"


ہم سب اکثر دوسروں کی زندگیوں میں الجھ کر رہ جاتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ فلاں کے پاس یہ چیز ہے تو میرے پاس بھی ہونی چاہیے، فلاں کے پاس یہ کامیابی ہے تو مجھے بھی چاہیے۔ لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اصل سکون اور اصل خوشی ہماری اپنی ذات کے اندر چھپی ہے۔


اقبال کا یہ پیغام دراصل روحانیت کی پہلی سیڑھی ہے: خود کو پہچانو۔

اور یہی وہ نکتہ ہے جو مجھے ہر بار جھنجھوڑ دیتا ہے۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ جب انسان اپنی حقیقت پہچان لیتا ہے تو اللہ کی حقیقت خود بخود اس پر عیاں ہو جاتی ہے۔


"تُو اگر میرا نہیں بنتا، نہ بن، اپنا تو بن"


یہ الفاظ پڑھ کر میرا دل لرز جاتا ہے۔ گویا یہ رب العالمین کی طرف سے ایک محبت بھری پکار ہے۔ اللہ فرماتا ہے: "اگر تم میرے نہیں بنتے تو نہ بنو، لیکن کم از کم اپنے تو بنو۔"


کیا ہی عجیب اور دل کو چھو لینے والا جملہ ہے! یعنی اللہ ہمیں ہماری ہی ذات کی طرف متوجہ کر رہا ہے۔ اور جب ہم اپنی ذات کو پہچان لیتے ہیں تو ہمیں یہ حقیقت سمجھ آ جاتی ہے کہ ہم دراصل اللہ کی تخلیق ہیں، اللہ کے نور کا حصہ ہیں۔


یعنی: اپنی پہچان کرو گے تو خدا کو پہچان لو گے۔


یہی تو روحانیت کا دروازہ ہے۔ جب ہم اپنے اندر جھانکتے ہیں، اپنی کمزوریوں کو دیکھتے ہیں، اپنی طاقتوں کو پہچانتے ہیں، تو ایک نئی روشنی اندر پیدا ہوتی ہے۔ یہی روشنی ہمیں اللہ کی طرف لے جاتی ہے۔


من میں ڈوبنا صرف ایک شاعرانہ جملہ نہیں ہے، یہ دراصل ایک عملی پیغام ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے غرور، اپنی ضد اور اپنی انا (ego) کو توڑ دے۔ جب ہم اپنی ذات کی گہرائیوں میں اترتے ہیں تو ہمیں اپنی حقیقت کا علم ہوتا ہے۔ ہمیں پتا چلتا ہے کہ ہم کتنے کمزور ہیں، کتنے محتاج ہیں، اور ہماری طاقت کہاں سے آتی ہے۔


میں جب بھی اس نکتے پر غور کرتا ہوں، میری آنکھوں کے سامنے اپنے گزرے دن آ جاتے ہیں۔ ماں اور باپ اب اس دنیا میں نہیں ہیں، مگر ان کی خاموش محبت اور قربانیاں آج بھی میری سانسوں میں بستی ہیں۔ وہ اپنی زندگیوں میں شاید لفظوں میں محبت کا اظہار نہیں کرتے تھے، مگر ان کے پسینے، ان کی دعائیں، اور ان کے خواب میرے لیے ہمیشہ روشنی کا چراغ رہے۔


اسی خاموش محبت نے مجھے یہ سکھایا کہ اصل روحانیت دوسروں کو خوش کرنے میں ہے، دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے میں ہے، اپنی انا کو ختم کر کے دوسروں کے دکھ کو بانٹنے میں ہے۔


ہم آج کی دنیا میں جتنا باہر بھاگتے ہیں، اتنا ہی اپنے اندر سے دور ہو جاتے ہیں۔ ہر شخص سوشل میڈیا پر اپنی خوشی دکھانے کی دوڑ میں لگا ہے، لیکن حقیقت میں اندر سے خالی ہے۔ اندر کا سکون مر چکا ہے۔


اقبال یہی تو کہتے ہیں:

اپنے اندر جاؤ۔ اپنے من میں ڈوبو۔ وہیں زندگی کا سراغ ملے گا۔


میں خود جب بھی تھک جاتا ہوں، مایوس ہو جاتا ہوں، تو اس شعر کو پڑھ کر یوں لگتا ہے جیسے میرے دل کے اندر ایک نیا چراغ جل گیا ہو۔ جیسے اللہ کہہ رہا ہو: "اپنے اندر دیکھو، تمہارا مقصد یہ دنیاوی چیزیں نہیں ہیں، تمہارا مقصد اس رب کو پہچاننا ہے جس نے تمہیں پیدا کیا۔"


یہ حقیقت کبھی نہ بھولیں کہ جب بندہ اپنی حقیقت پہچان لیتا ہے، تو اللہ خود کی پہچان دیتا ہے۔ جب انسان اپنے اندر جھانکتا ہے تو وہ اپنے گناہوں کو بھی دیکھتا ہے۔ اپنی کمزوریوں کو بھی دیکھتا ہے۔ اور یہ احساس اس کو جھکنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہی جھکنا، یہی عاجزی، روحانیت کی اصل بنیاد ہے۔



مجھے یاد ہے، ایک دن ایک شخص ملا۔ وہ بظاہر بڑا کامیاب تھا، دولت مند، عزت والا۔ مگر وہ بولا: "جاوید بھائی، دل میں سکون نہیں ہے۔"


میں نے اس سے کہا: "کبھی تنہائی میں بیٹھ کر اپنے اندر جھانکا ہے؟ کبھی سوچا ہے کہ تم واقعی کون ہو؟ تمہارا مقصد کیا ہے؟"

وہ خاموش ہو گیا۔ اور پھر رونے لگا۔ بولا: "نہیں، کبھی وقت ہی نہیں نکالا۔"


یہی تو ہماری اصل بیماری ہے۔ ہم ساری دنیا میں بھاگتے ہیں مگر ایک لمحہ بھی اپنے لیے نہیں نکالتے۔ اپنے اندر کے سفر کے لیے نہیں نکالتے۔


اقبال کا یہ شعر دراصل زندگی کا ایک مکمل فلسفہ ہے۔

"اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی" یعنی اپنی ذات کو پہچانو، یہی زندگی کا راز ہے۔

"تُو اگر میرا نہیں بنتا، نہ بن اپنا تو بن" یعنی اگر تم خدا کو نہیں پہچانتے تو کم از کم خود کو پہچانو، کیونکہ خود کو پہچاننا ہی خدا کو پہچاننے کا راستہ ہے۔


یہ پیغام صرف جملے نہیں ہیں۔ یہ وہ چراغ ہیں جو ہمارے ٹوٹے دلوں کو جوڑ سکتے ہیں، ہماری بکھری ہوئی زندگیوں کو سنوار سکتے ہیں، اور ہمیں اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لا سکتے ہیں۔


الحمدللہ، یہ روحانیت کے سفر پر میرا ساتواں کالم ہے۔ میری دعا ہے کہ یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہے، اور ہر جمعہ ہم اس سفر کو مزید آگے بڑھاتے رہیں۔

ان شاءاللہ، 

اگلے جمعہ کو ہم روحانیت کے ایک اور نئے پہلو پر بات کریں گے۔


تبصرے

  1. Khuda apko youhi likhny ki tofeeq or taqat ata faryem very beautiful description of how to find over selves thank you for such great information

    جواب دیںحذف کریں
  2. These words are too much deep "اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی / تُو اگر میرا نہیں بنتا، نہ بن اپنا تو بن"
    Life is a name of self recognition,then we try to change ourselves

    جواب دیںحذف کریں
  3. خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
    خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے

    جواب دیںحذف کریں
  4. Excellent. We should act all the points you indicate because in this way we achieve real power of spirituality. Now a days we have only on one duty ,to criticize others. Allah Almighty gives the ability to do right.

    جواب دیںحذف کریں
  5. السلام علیکم
    ماشااللہ جاوید صاحب اللہ تعالی آپکو مذید لکھنے کی طاقت عطا فرماۓ
    ماشااللہ ایک ایک لفظ انمول ھے آپ کی بات کو بڑھانے کیلیے بلے شاہ سرکار کا شعر پیش خدمت ھے
    بلے شاہ اسمانی پھڑنا پھرنا ایں
    جیہڑا گھر بیٹھا اے اونوں پھڑیا ای نیئں
    گھر بیٹھا سے مراد جو تمہارے اندر ھے اس کی طرف توجہ دو لوگوں میں برایاں نہ ڈھونڈو اپنا احتساب کرو جب آپ اپنا احتساب کریں گے تو آپ کو اپنے اندر کی برائیاں دور کریں گے اور پھر شیطان کی بجاۓ رحمان آجاۓ گا تو آپ روحانیت کی منزلیں طے کرتے جائیں گے
    ایک اور شعر آپکی نظر
    اک میں ہی برا ھوں باقی
    سب لوگ ھی اچھے ہیں
    جب اس کسم کی سوچ آجاۓ گی تو روحانیت خود بخود انا شروع ھو جاۓ گی
    اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ھو

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

"قارئین کی پسند: ہمارے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے کالمز کی فہرست"

Vloggers ka Pakistan, Ducky Bhai, Rajab Butt, Sistrology

Sawal pochna mana hai, swal kyun pocha

Chacha, aur Chacha ka Pakistan!

Law of Karma, Maqfat e Ammal

Ducky Bhai, Rajab Butt aur Nani waly ka Sach, Ducky aik fake hero

Jinnah Ka Adhoora Khwab: Kya Tum Use Poora Karoge? Azadi Ka Asal Matlab: Jinnah Ke Alfaaz Mein