روحانیت کا سفر8

 

روحانیت کا سفر 8

کالم از: سر جاوید بشیر


الحمدللہ، آج میرا روحانیت پر آٹھواں کالم ہے۔ اگر اللہ عزوجل نے چاہا تو یہ سلسلہ یونہی ہر جمعے جاری رہے گا، کیونکہ میرے نزدیک روحانیت ہی وہ طاقت ہے جو انسان کو ہر غم، ہر دکھ اور ہر گناہ سے آزاد کر سکتی ہے۔


روحانیت کا سفر دراصل انسان کے اندر کے اُس دروازے تک پہنچنے کا نام ہے، جہاں باہر کی آوازیں مدھم ہو جاتی ہیں، اور اندر کی آواز سنائی دینے لگتی ہے۔

یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان اپنی دھڑکنوں میں اللہ کی موجودگی کو محسوس کرتا ہے۔


گزشتہ کالم میں ہم نے بات کی تھی کہ روحانیت کا اصل مقصد خود کو پہچاننا ہے۔

مگر آج میں آپ کو اُس مقام تک لے جانا چاہتا ہوں جہاں الفاظ ختم ہو جاتے ہیں اور احساس بولنے لگتا ہے۔


میرے محترم اُستاد جناب جاوید چوہدری فرماتے ہیں کہ پاکستانی معاشرہ “بولیریا” میں مبتلا ہو چکا ہے۔ ہر شخص بولنے کے جنون میں ہے، مگر سننے کی طاقت ختم ہو چکی ہے۔

یعنی سب بولنا چاہتے ہیں، مسلسل بولتے رہنا چاہتے ہیں مگر سننے والا کوئی نہیں۔

یہ بولنا دراصل روحانیت کا قاتل ہے، کیونکہ روحانیت اور بولیریا ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔


روحانی انسان وہ ہے جو سننا جانتا ہے جو اپنے اندر کے شور کو قابو میں کر کے اپنے رب کی آواز سن لیتا ہے۔


جب انسان خاموش ہوتا ہے،تو وہ اپنے رب کی آواز سن پاتا ہے۔

ہمارا رب کسی شور میں نہیں بلکہ سکون میں بولتا ہے۔

جب آپ خاموش ہو کر رب کے حضور بیٹھتے ہیں، تو دل پر ایک عجیب سا سکون اترتا ہے۔ یہی سکون روحانیت کی پہچان ہے۔


خاموشی صرف زبان بند رکھنے کا نام نہیں،

یہ صبر، برداشت اور خود پر قابو پانے کی کیفیت ہے۔

جب کوئی آپ کو تکلیف دے اور آپ بدلہ لینے کے بجائے اللہ کے حوالے کر دیں تو سمجھ لیجیے کہ آپ نے روحانی ترقی کا دروازہ کھول دیا۔


ہمارے معاشرے میں برداشت ختم ہو چکی ہے۔

ہم معمولی اختلاف پر لڑ پڑتے ہیں، ایک جملہ رشتے توڑ دیتا ہے۔

مگر روحانی انسان وہ ہے جو برداشت میں طاقت تلاش کرتا ہے، جو جانتا ہے کہ جو بولنے سے نہیں بدلا جا سکتا، وہ صرف محبت اور دعا سے بدلے گا۔


روحانیت کے سفر میں ایک مقام ایسا بھی آتا ہےجب زبان خاموش ہو جاتی ہےاور دل تسبیح بن جاتا ہے۔ ہر سانس “سبحان اللہ” بن جاتی ہے، ہر دھڑکن “الحمدللہ” کہنے لگتی ہے۔


یہ وہ مقام ہے جب عبادت وقت ک محتاج نہیں رہتی، بلکہ زندگی خود عبادت بن جاتی ہے۔


خاموشی انسان کو اپنے آپ سے ملاتی ہے۔

یہ ایک آئینہ ہے، جس میں انسان اپنی اصل صورت دیکھتا ہے۔

جب آپ تنہائی میں بیٹھتے ہیں اور دل کا شور تھم جاتا ہے، تو آپ اپنے گناہوں سے، اپنی نیتوں سے، اپنے رویوں سے روبرو ہوتے ہیں۔


یہ لمحہ دردناک ضرور ہوتا ہے مگر یہی پہچان اصلاح کی بنیاد ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جس نے اپنی غلطی پہچان لی، وہ آدھا بہتر ہو گیا اور جو اپنی اصلاح شروع کر دے، وہ روحانیت کی راہ پر چل پڑتا ہے۔


روحانیت کوئی جادوئی تجربہ نہیں، یہ ہماری روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی باتوں میں چھپی ہے۔

جب آپ کسی پر تنقید کے بجائے دعا دیتے ہیں،

جب آپ غصے کے بجائے مسکرا دیتے ہیں،

جب آپ بحث کے بجائے خاموش ہو جاتے ہیں 

تو سمجھ لیجیے کہ آپ روحانیت کے درجے میں قدم رکھ چکے ہیں۔

روحانیت کے اس سفر میں خاموشی وہ روشنی ہے جو انسان کے دل کے اندھیروں کو مٹا دیتی ہے۔ یہ روشنی باہر نہیں بلکہ آپ کے اندر ہے۔ بس شرط یہ ہے کہ آپ دنیا کے شور کو بند کر کے اپنے رب کی آواز سننا سیکھ لیں۔

یہ وہ مقام ہے جہاں انسان کے اندر کے طوفان تھم جاتے ہیں۔


یاد رکھیں،

روحانیت کوئی منزل نہیں، یہ تو چلتے رہنے کا نام ہے۔

ہر نماز، ہر دعا، ہر آنسو، ایک نیا قدم ہے۔

اور جب آپ کا دل رب کے ذکر سے نرم پڑنے لگے،تو سمجھ لیجیے آپ روحانیت کے مسافر بن گئے ہو۔

جو خاموشی میں رب کو

 پا لیتا ہے، اسے زندگی کے ہر شور میں سکون ملتا ہے۔


تبصرے

  1. اسلام علیکم
    آپ کو بہت مبارک ہو کہ آپ نے روحانیت کی آٹھویں بلندی عبور کر لی
    یہ عام انسان کا کام نہیں ایسے لوگ رب کے حضور خاص ہوتے ہیں جن پر اللہ تعالی کا خاص کرم ہوتاہے
    جیسا کہ آپ نے فرمایا
    خاموشی اگر آجاۓ تو سمجھو آپ کو اللہ کا قرب حاصل ہے
    جی بالکل جب آپ اللہ کی مخلوق کی خیر خواہہی چاہتے اور اللہ کا ذکر کرتے ہیں تو خاموشی خود بخود آجاتی ہے
    ایسی حالت ہو تو آپ روحانیت کے سفر پر گامزن ہو وہ شخص دنیا سے بیگانا نہیں ہوتا لیکن اس کو کسی کی پرواہ بھی نہیں ہوتی وہ اپنے رب کے ذکر میں مشغول ہوتا ہے یہی آپ نے فرمایا کہ وہ ہر وقت عبادت میں ہوتا ہے میرے پاس صوفیانہ کلام ہیں لیکن میں وہ الفاظ لکھنا نہیں چاہتا
    بس یہی کہوںگا کہ روحانیت اللہ رب العزت کی قربت کو کہتے ہیں
    ان اللہ مع الصابرین
    بس یہی روحانیت ہے اللہ رب العزت آپ کو مذید لکھنے کی قوت عطا فرماۓ
    آمین یا رب العالمین

    جواب دیںحذف کریں
  2. Thank you sir javed ya column boht faida da ga kiyoka ya haqeeqt bayan kr raha sach khud batata ha ka ma sach jis trha ya column ma duniya kisab sa bari cheez khamoshi ka zikr howa jo allah ko bohot pasand ha ya column mera bohot kam aya ga kiyoka ya mena apni marzi sa nahi allah ka hukaam sa prha ha kiyoka ya column mare persent halaat pr bohot fit bathata ones again thank you sir for giving as lesson on rohaniyat.I requested you to write on ka kamyabi allah ko pana ma ha hama kisiko paisa sa judge nahi krna chahiya kiyoka uska hazoor ya kuch mani nahi rakhta aj kl log allah sa zyda paisa pa yaqeen krna shoro hogaya hain sochta han paisa ha to sub ha laken iska bich allah ko naraz kr bathta hain laken asal kamyabi to ya ha ka allah ha to sab ha kisi na kiya khob kaha ha rab razi ta sab razi .

    جواب دیںحذف کریں
  3. Spirituality is very necessary in life, it gives us comfort in our life it makes our life beautiful it makes us patience in life 💗
    It's a great blessing of Allah Almighty,we achieve it when we want to get it and try for it 🙂
    A person always try get all things in its life it gives time to everyone but it never saves some minutes per day for it for its happiness its inner voice 💖
    Sir g you are doing a great job to tell us about spirituality 😌
    Because it is not a work for one or two day it is life time companion ❤️
    Today I learnt a new thing about spirituality that when we become a spiritual person, our life becomes very easy and beautiful where we have no any lust for worldly benefits 😌

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

"قارئین کی پسند: ہمارے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے کالمز کی فہرست"

Vloggers ka Pakistan, Ducky Bhai, Rajab Butt, Sistrology

Sawal pochna mana hai, swal kyun pocha

Chacha, aur Chacha ka Pakistan!

Law of Karma, Maqfat e Ammal

Ducky Bhai, Rajab Butt aur Nani waly ka Sach, Ducky aik fake hero

Jinnah Ka Adhoora Khwab: Kya Tum Use Poora Karoge? Azadi Ka Asal Matlab: Jinnah Ke Alfaaz Mein