سٹیٹس لَو
سٹیٹس لَو
کالم از: سر جاوید بشیر
میں اکثر سوچتا ہوں کہ آج ہماری محبت کتنی سستی اور کھوکھلی ہو گئی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ محبت وہی ہے جو اسٹیٹس پر لگائی جائے، جو پوسٹ میں لکھی جائے، جس کے نیچے دل والے ایموجیز ہوں، اور جسے سب دیکھ کر واہ واہ کریں۔ اگر باپ اپنی اولاد کو گلے لگا کر روز یہ نہ کہے کہ "میں تم سے پیار کرتا ہوں" تو ہمیں لگتا ہے کہ وہ محبت ہی نہیں کرتا۔ اگر ماں اپنی دعاؤں کو آواز نہ دے تو ہمیں لگتا ہے کہ وہ کچھ نہیں چاہتی۔ یہ سوچ… یہ رواج… دراصل ہماری بڑی بدقسمتی ہے۔
محبت وہ نہیں جو دکھائی جائے، محبت وہ جو لفظوں سے نہیں بلکہ احساس سے لکھی جائے۔ لیکن افسوس کہ ہمارا معاشرہ محبت کو بھی ایک تماشہ بنا بیٹھا ہے۔ یہاں ہر رشتہ بھیجے گئے اسٹیٹس، اپڈیٹ کی گئی پوسٹ، اور سجی سجائی تصویر سے ماپا جاتا ہے۔ دل کی خاموش دھڑکنوں کو کوئی نہیں سنتا، آنکھ کی نمی کو کوئی نہیں پڑھتا، ہاتھ کے کانپنے کو کوئی نہیں سمجھتا۔
میں نے اپنے والد کو کبھی یہ کہتے نہیں سنا کہ "بیٹا، میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں"۔ لیکن ان کی خاموش محبت کو میں نے ان کے پسینے میں دیکھا ہے، ان کی دن رات کی محنت میں، ان کے جھکے ہوئے کندھوں پر موجود بوجھ میں۔ وہ محبت جو کبھی کہی نہیں گئی، مگر ہر دن محسوس کی گئی۔
میری ماں… اس نے مجھے کبھی لفظوں میں نہیں بتایا کہ وہ مجھ سے کتنا پیار کرتی ہے۔ مگر جب میں بیمار ہوتا تو وہ پوری رات میرے پاس جاگتی، جب میں تھکا ہوتا تو میرا پسندیدہ کھانا بنا دیتی، جب میں الجھ جاتا تو اپنی دعاؤں میں مجھے لپیٹ لیتی۔ اس کی آنکھوں کی نمی، اس کے ہاتھوں کی گرمی، اور اس کی سجدوں کی خاموش دعائیں… یہ سب چیخ چیخ کر کہتی ہیں کہ دنیا کی سب سے بڑی محبت ماں ہے، اور یہ محبت کبھی دکھانے کی نہیں، بس جینے کی ہوتی ہے۔
مگر آج کے زمانے نے محبت کو عجیب رنگ دے دیا ہے۔ اب محبت وہ ہے جو سٹیٹس پر ڈالی جائے۔ جس کی بڑی بڑی تصویریں انسٹاگرام اور فیس بک پر لگائی جائیں، جسے "ہیش ٹیگ لَو" سے سجا کر دنیا کو دکھایا جائے۔ بیوی اپنے شوہر سے شکوہ کرتی ہے کہ "آپ نے مجھے کبھی فیس بک پر پوسٹ کیوں نہیں کی؟" شوہر بیوی سے کہتا ہے "اگر تم مجھ سے سچ میں محبت کرتی ہو تو انسٹاگرام پر اپنی بائیو میں میرا نام لکھو"۔ یہ ہے ہماری حقیقت۔ ہم نے محبت کو دکھاوے کی چیز بنا دیا ہے۔
دوست ایک دوسرے کو تولتے ہیں کہ کس نے کس کے سٹیٹس پر زیادہ کمنٹس کیے، کس نے زیادہ دل والے ایموجی دیے۔ رشتہ دار اس وقت محبت کے دعوے دار بنتے ہیں جب وہ سب کے سامنے آ کر آپ کے لیے بڑی بڑی باتیں کریں۔ مگر جب ضرورت ہو، وہی محبت کہیں کھو جاتی ہے۔
ہمارے معاشرے میں "سٹیٹس لَو" نے خلوص کا گلا گھونٹ دیا ہے۔ شوہر بیوی کے لیے گفٹ خرید لیتا ہے تاکہ لوگ دیکھیں اور واہ واہ کریں، مگر اسی شوہر کے پاس وقت نہیں ہوتا کہ بیوی کے ساتھ بیٹھ کر دو باتیں کر سکے۔ بیوی اپنی محبت یہ سمجھنے لگی ہے کہ اگر اس کی سالگرہ پر ہال نہ بُک ہو، تصویریں نہ لگیں، تو شاید وہ محبت نہیں ہے۔ والدین اور اولاد کے درمیان بھی یہی حال ہے۔ اولاد سٹیٹس پر ماں باپ کی تصویریں لگا کر لکھتی ہے "میری جان، میری دنیا"، لیکن جب ماں بیمار ہو تو وہ فون کے سکرین کے سامنے مصروف رہتی ہے۔ یہ کیسی محبت ہے؟ یہ تو صرف لفظوں کا جادو ہے جس کے پیچھے خالی پن ہے۔
محبت وہ نہیں جو پوسٹ پر لائکس اور کمنٹس جمع کرے۔ محبت وہ ہے جو رات کو کسی کا لحاف درست کر دے، جو خالی جیب کے باوجود اولاد کی ضرورت پوری کرنے کے لیے فکر کرے، جو شوہر بیوی کے چہرے پر تھکن دیکھ کر ایک گلاس پانی لا کر رکھ دے، جو بیوی شوہر کے دن بھر کے دکھ سن کر چپ چاپ اس کے ساتھ بیٹھ جائے۔ محبت وہ ہے جو دکھاوے سے نہیں بلکہ خاموش خدمت سے جھلکتی ہے۔
میں نے اپنی زندگی میں سیکھا ہے کہ اصل محبت وہ ہے جو دنیا کو نہیں دکھائی جاتی۔ وہ جو ماں کے سجدوں میں چھپی ہوتی ہے، وہ جو باپ کے پسینے میں چھپ جاتی ہے، وہ جو بھائی کی حفاظت میں چھپ جاتی ہے، وہ جو دوست کے خاموش ساتھ میں جھلکتی ہے۔ لیکن افسوس، ہم نے اپنے معاشرے میں محبت کو لفظوں اور سٹیٹس کا قیدی بنا دیا ہے۔
کاش ہم سمجھ پاتے کہ وہ محبت زیادہ قیمتی ہے جو دکھائی نہیں دیتی۔ کاش ہم دیکھ سکتے کہ ایک نظر، ایک دعا، ایک خیال، ایک قربانی کتنی بڑی محبت ہے۔ کاش ہم اس دکھاوے کی محبت سے نکل کر ان خاموش محبتوں کو پہچان سکیں جو اصل میں ہماری زندگی کا سہارا ہیں۔ محبت وہ نہیں جو سٹیٹس پر لکھی جائے، محبت وہ ہے جو دل سے محسوس ہو۔ ماں باپ کی خاموش محبت کی طرح، جو آج بھی میرے ساتھ ہے، حالانکہ وہ دونوں اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔ ان کا پیار مجھے روز زندہ رکھتا ہے، مجھے سنبھالتا ہے، مجھے سمجھاتا ہے کہ اصل محبت کبھی لفظوں میں
قید نہیں کی جا سکتی۔
Really sir g when we will come out from showoff,then we will do something for our dear ones not for people or showoff
جواب دیںحذف کریںBitter really of this generation specially 😞
جواب دیںحذف کریںWow wow wow sir its damn reality of our generation now a days same happening like this
جواب دیںحذف کریںBut
But we should to change ourselves go to reality from showoff
What things we watch on mobile we start to do
But we didn't understand they're doing these for just like and views
A real loves showed by deeds by things what others did for us
May Allah Gives Everyone sense and improves everyone level of thinking Ameenn
Exactly. In this Era we believe only show off .new generation don't see their Parents effort.i think in all circumstance our media and our partners involve. Parents and media show reality.
جواب دیںحذف کریںYes sir your all words are absolutely right. Our life has become show off. It's very bad thing. And It made us by ourselves. And we have to change this show off than we can become happy💝😍
جواب دیںحذف کریں