برکت نہیں رہی

 برکت نہیں رہی


کالم از: سر جاوید بشیر


یہ ایک بہت ہی سادہ سا گھر تھا، مٹی کی دیواریں، دروازے کے ساتھ ہی اک چھوٹا سا صحن تھا، اور صحن کے ایک کونے میں، جہاں سورج کی کرنیں ذرا زیادہ ہی مہربانی کرتیں، وہاں ایک ہینڈ پمپ نصب تھا۔ وہ پمپ، جو پیاس بجھانے کا واحد ذریعہ، جو زندگی کی ضرورت کو پورا کرتا، جب بھی ضرورت پڑتی، وہ چلتا اور شفاف پانی کی دھار ابل پڑتی۔ گھر تھا تو سادہ، مگر اس سادگی میں ایک عجیب سی صفائی تھی، ایک طمانیت تھی جو آج کی پالش کی ہوئی دنیا میں کہاں ملتی ہے۔


اسی صحن میں، چولہے کے پاس، ایک اماں جی بیٹھی تھیں، جن کے چہرے پر زندگی کی ہزاروں کہانیاں رقم تھیں۔ ان کے پاس دو بچے بیٹھے تھے، ان کے پوتے، جن کی آنکھوں میں حیرت اور معصومیت کا بسیرا تھا۔ وہ اماں جی سے پوچھ رہے تھے، "دادی اماں، آپ ہمیں کبھی آٹا کیوں نہیں دکھاتیں؟ آپ ہمیشہ کہتی ہیں کہ گھر میں بہت زیادہ کھانا ہے، اور کھانا ختم ہی نہیں ہوتا۔ آپ ہمیں بتائیں نا، دادی، ایسا کیوں ہے؟"


اماں جی مسکرائیں، وہ مسکراہٹ جس میں علم کی گہرائی اور تجربے کی پختگی تھی۔ انہوں نے ان کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا اور کہا، "میرے بچو، اگر میں تمہیں یہ آٹا دکھا دوں، تو تم اسے دیکھ کر سوچو گے کہ یہ تو تھوڑا سا ہے تو وہ جو اللہ کی طرف سے دی گئی برکت ہے، وہ اڑ جائے گی۔ یاد رکھو، میرے بچو، کم کہنے سے برکت بھی اڑ جاتی ہے۔ برکت اللہ کا دیا ہوا وہ تحفہ ہے جو تھوڑی چیز کو بہت بنا دیتا ہے۔ جب برکت ہو، تو تھوڑے سے پیسے میں سارا مہینہ گزر جاتا ہے۔ سادے کھانے سے بھی صحت بنتی ہے، اور دل کو سکون ملتا ہے۔ دن کے چند گھنٹے بھی قیمتی ہو جاتے ہیں اور رشتوں میں وہ پیار، وہ اپنائیت، وہ برداشت، کہ چھوٹے موٹے جھگڑوں کے باوجود دل صاف رہتے ہیں۔"

وہ بچے تو شاید دادی کی باتوں میں چُھپی گہرائیوں کو نہ سمجھ سکے ہوں، مگر آج ہم اُن کی باتوں کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔


ہمارے پاس آج وسائل پہلے سے کہیں زیادہ ہیں۔ ہمارے گھروں میں اے سی ہیں، گاڑیاں ہیں، ٹی وی، فریج، اور وہ تمام سہولیات ہیں جن کا تصور بھی ہمارے بزرگوں نے کبھی نہیں کیا ہوگا۔ مگر کیا ان سب کے باوجود ہم واقعی خوش ہیں؟ کیا ہماری زندگیوں میں وہ سکون ہے جو ہمارے دادی اماں کے مٹی کے گھروں میں تھا۔؟


یہی وہ کڑوی سچائی ہے جو ہمارے دلوں کو چیرتی ہے، کہ ہماری زندگیوں سے وہ انمول خزانہ، 'برکت'، کہیں گم ہو گیا ہے۔


آج ہمارے پاس پیسہ پہلے سے بہت زیادہ ہے، مگر پھر بھی ہم کہتے ہیں "گزارا نہیں ہو رہا۔" کیا آپ نے کبھی غور کیا؟ جیسے ہی کوئی چیز خریدتے ہیں، اگلے ہی لمحے ہمیں احساس ہوتا ہے کہ وہ شاید کافی نہیں ہے۔ ایک نیا فون خریدا، مگر کل وہ پرانا ہو گیا۔ ایک نیا لباس خریدا، مگر دل میں خواہش ہے کہ کاش اس سے بہتر مل جاتا۔ یہ کیا ہے؟ یہ پیسے کی کمی نہیں، یہ ہماری خواہشات کا نہ ختم ہونے والا طوفان ہے۔ ہم نے دولت تو کما لی، مگر اس دولت کو استعمال کرنے کا طریقہ، اس دولت سے سکون حاصل کرنے کا فن، وہ بھلا بیٹھے۔ وہ تھوڑے سے پیسے جو ہمارے بزرگوں کے لیے پورے مہینے کا کفیل ہوتے تھے، ان میں وہ 'برکت' تھی کہ ان کی ضروریات پوری ہو جاتی تھیں، اور بچت بھی ہو جاتی تھی۔ 


آج ہمارے پاس وقت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ تیز رفتار گاڑیاں، انٹرنیٹ، موبائل فونز، یہ سب کچھ وقت بچانے کے لیے بنایا گیا ہے۔ مگر حقیقت کیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ آج ہمیں وقت کی سب سے زیادہ کمی محسوس ہوتی ہے۔ ہمارے بزرگوں کے پاس اتنی سہولیات نہ تھیں، مگر وہ اپنے کام وقت پر کیسے کر لیتے تھے؟ ان دنوں میں وہ 'برکت' تھی کہ چند گھنٹوں میں وہ اتنے کام کر لیتے تھے جتنے آج کل کے پورے دن میں بھی نہیں ہوتے۔ آج ہمارے پاس وقت کی کمی کا رونا ہے، ہم کہتے ہیں "وقت کہاں ہے؟" "وقت کتنا تیز ہو گیا ہے!" یہ الفاظ، یہ شکایتیں، دراصل ہماری زندگی سے وقت کی برکت کو اُڑا رہی ہیں۔


آج ہمارے دسترخوانوں پر وہ سب کچھ موجود ہے جو کبھی ہمارے بزرگوں کے لیے خواب ہوتا تھا۔ طرح طرح کے پکوان، مہنگے ترین کھانے، مگر پھر بھی ہم اکثر یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ "آج دل نہیں بھرا۔" یا "کھانے میں وہ لذت نہیں رہی۔" پیٹ تو بھر جاتا ہے، مگر روح کو تسکین نہیں ملتی۔ وہ سادگی، وہ اصلی ذائقہ، وہ سکون جو کسی سادہ سی دال روٹی میں ہوتا تھا، وہ کہیں گم ہو گیا۔ ہم نے کھانے کو ایک ضرورت سے بڑھا کر ایک فیشن بنا دیا ہے۔ کھانے کو ضائع کرنا، یا اس کی ناقدری کرنا، یہ سب اس برکت کے دشمن ہیں جو اللہ نے ہمارے رزق میں رکھی ہے۔


 سوچئے ذرا، ہماری زندگی کا ہر لمحہ اس کی رحمتوں کا مظہر ہے۔ رزق، سکون، اور وقت یہ وہ تین ستون ہیں جن پر ہماری زندگی کی عمارت کھڑی ہے۔ مگر آج ہم دیکھتے ہیں کہ ہر جگہ، ہر زبان پر صرف ایک ہی صدا بلند ہوتی ہے، "کمی ہے!"


امیر ہو یا غریب، ہر شخص یہی کہتا نظر آتا ہے کہ "گزارا نہیں ہو رہا۔" وہ مہنگائی کا رونا روتے ہیں، حالات کی دہائی دیتے ہیں۔ یہ سب الفاظ، یہ "کمی" کے نعرے، دراصل برکت کے دشمن ہیں۔ ہم خود اپنی زندگیوں سے اللہ کی دی ہوئی برکت کو بھگا رہے ہوتے ہیں، اور پھر کہتے ہیں کہ برکت نہیں رہی۔" ہر طرف بس یہی شور مچا ہے۔



اور جب بات آتی ہے سکون کی، تو یہاں بھی ہمیں وہی صدا سنائی دیتی ہے۔ "آج کل تو سکون ختم ہو گیا ہے۔" "کہیں آرام ہی نہیں ہے۔" "مجھے تو یہ شہر، یہ ملک ہی اچھا نہیں لگتا۔"


جب ہم ایسی باتیں کرتے ہیں، جب ہم اپنی زندگیوں سے، اپنے آس پاس سے، اور اپنے وطن سے نا شکری اور مایوسی کا اظہار کرتے ہیں، تو سکون کی برکت روٹھ کر کہیں اور بسیرا کر لیتی ہے۔ سکون کوئی ایسی چیز نہیں جو بازار سے خریدی جا سکے۔ یہ تو دل کی وہ کیفیت ہے جو اللہ کی رضا اور شکر گزاری سے ملتی ہے۔ جب ہم ہر حال میں شکر ادا کرتے ہیں، تو اللہ دل میں سکون اتار دیتا ہے۔


اور جناب، جب ہم وقت کی بات کرتے ہیں، تو بحیثیتِ قوم ہم وقت کی کمی کا رونا روتے نظر آتے ہیں۔ ہم اکثر یہ سنتے ہیں، "وقت میں برکت ختم ہو گئی ہے۔" "وقت کتنا تیز ہو گیا ہے۔" "وقت کا تو پتہ ہی نہیں چلا۔"



ذرا سوچئے، پہلے کے لوگ، ان کے پاس نہ رزق کی کمی تھی، نہ سکون کی، اور نہ ہی وقت کی۔ ان کے پاس سب کچھ وافر تھا، اور وہ اللہ کے شکر گزار تھے۔ ان کی زندگیوں میں وہ برکت تھی جو آج ہم ترس رہے ہیں۔ یہ اللہ رب العزت کے انمول انعامات ہیں، مگر ان تینوں کی برکت آج ہم سے روٹھ گئی ہے۔



اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی زندگی میں برکت لوٹ آئے، تو آج سے ہی "کمی" کہنا بند کر دیں۔ اس کی جگہ "شکر" لائیں۔ زبان پر شکر کا ورد جاری رکھیں۔ ہمیشہ کہیں، "اللہ پاک کا شکر ہے، اس نے بہت نوازا ہے۔" پھر دیکھیں کمال!


آپ کی زندگی میں انقلاب آنا شروع ہو جائے گا۔ آپ کی روزی میں، آپ کے سکون میں، آپ کے وقت میں، سب میں برکت ہی برکت نظر آئے گی۔


کثرت مت مانگئیے، برکت مانگئیے۔


یہی زندگی کا راز ہے۔ یہی وہ سچائی ہے جسے اماں جی نے اپنے پوتوں کو سکھایا تھا، اور یہی وہ سچائی ہے جسے آج ہمیں خود کو اور اپنی آنے والی نسلوں کو سکھانا ہے۔ شکر ہے، بس شکر ہے۔

اللہ رب العزت ہم سب کی زندگیوں میں اپنی برکتیں بھر دے۔

تبصرے

  1. Allah gives you all happiness of life.you really write a superb column. I really like.now a days i think about this word. Exactly we are not thankful to Allah Almighty and people. We only say we miss something. I agree with you.Allah Almighty grant us to say by heart thanks. Thanks for such a great column.

    جواب دیںحذف کریں
  2. Great sir g, Gratitude can change the life it has a lot of power but today we have far from it everyone using bad words about country or even for its life when people see the results they always say we are right others are wrong because which words we say these are all correct. First people read book write books and got the life lessons; today people get lesson from vloggers and try to make videos like them, they have forgotten the life rules.
    If today we ask the youth "what is your plan?"
    So, 85% person say that in Pakistan here is no plan for doing we will go to the abroad some are depressed from families they also want to go abroad then resources finish for them 🥺
    Gratitude and words uttering effect on our life✨

    جواب دیںحذف کریں
  3. Wow wow great sir g
    Same like this its happening
    Even we also doing this too much
    We don't say thank to Allah Almighty we always say i want this i want this if i will get this thing I'll be happy but when we get then again become unthankful and thinking about the next things
    May Allah grant us the power of thankful

    جواب دیںحذف کریں
  4. bitter reality of this virtual world

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

"قارئین کی پسند: ہمارے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے کالمز کی فہرست"

Vloggers ka Pakistan, Ducky Bhai, Rajab Butt, Sistrology

Sawal pochna mana hai, swal kyun pocha

Chacha, aur Chacha ka Pakistan!

Law of Karma, Maqfat e Ammal

Ducky Bhai, Rajab Butt aur Nani waly ka Sach, Ducky aik fake hero

Jinnah Ka Adhoora Khwab: Kya Tum Use Poora Karoge? Azadi Ka Asal Matlab: Jinnah Ke Alfaaz Mein