انسان اکیلا نہیں جی سکتا
انسان اکیلا نہیں جی سکتا
کالم از: سر جاوید بشیر
بطورِ استاد، میں نے اپنی پوری زندگی میں اپنے شاگردوں کو یہ ایک فقرہ لاکھوں بار سکھایا: ارسطو نے کہا تھا: "انسان ایک سماجی حیوان ہے (Human is a Social Animal)۔"
مگر میرا یقین مانیں! یہ بات صرف کتابی نہیں، یہ ہماری زندگی کا سب سے میٹھا سچ ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان اکیلا نہیں جی سکتا۔
ہمیں لگتا ہے کہ اگر ہمارے پاس پیسہ ہے، اچھا گھر ہے، اور آزادی ہے، تو ہم خوش رہ لیں گے۔ مگر یاد رکھیں! ایک خالی گھر، چاہے کتنا ہی خوبصورت کیوں نہ ہو، ہمیشہ ویران ہی رہتا ہے۔
ہمیں اپنے دُکھ بانٹنے کے لیے ایک کان چاہیے۔
ہمیں اپنی خوشی کا جشن منانے کے لیے ایک آواز چاہیے۔
اور سب سے بڑھ کر، ہمیں کوئی ایسا چاہیے جو ہمارے گرنے پر ہماری کمر تھام لے۔
انسانی روح کو "دوسرے انسان" کی ضرورت ہوتی ہے، بالکل اُسی طرح جیسے جسم کو سانس کی۔
آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ پرندے اکیلا اڑتا ہے مگر گھونسلا بناتے وقت ساتھی ڈھونڈتا ہے؟ درخت اکیلا کھڑا ہوتا ہے مگر جڑیں زمین سے لگی ہوتی ہیں۔ انسان کی فطرت بھی یہی ہے۔ ہم پیدا ہوتے ہی ماں کی گود میں پلتے ہیں، باپ کے سائے میں بڑے ہوتے ہیں، بہن بھائیوں کے ساتھ کھیلتے ہیں۔ پھر زندگی ہمیں کہاں لے جاتی ہے؟ ہم اپنے ہی بنائے ہوئے پنجرے میں قید ہو جاتے ہیں۔
آج کل کے دور میں ہم نے خود کو مصنوعی روشنیوں میں گم کر لیا ہے۔ موبائل کی سکرین ہمیں دوسروں سے جوڑتی نظر آتی ہے مگر حقیقت میں ہمیں سب سے کاٹ دیتی ہے۔ آپ رات کو سونے سے پہلے اپنے کمرے میں بیٹھ کر سوچیں۔ کیا آپ کو وہ دن یاد ہے جب آپ چھوٹے تھے؟ رات کو کھانا کھانے کے بعد سارا خاندان چھت پر بیٹھتا تھا۔ چاند تارے دیکھتے تھے۔ بڑے بوڑھوں کے قصے سنتے تھے۔ چچا کی کوئی بات، پھوپھی کی کوئی بات، ماموں کا کوئی لطیفہ۔ وہ رشتے کہاں چلے گئے؟ وہ بے تکلفی کہاں گئی؟ آج ہم ایک ہی گھر میں رہتے ہیں مگر ایک دوسرے سے انجان ہیں۔ باپ بیٹے سے بات کرتا ہے تو وہ موبائل میں مصروف ہے۔ بیٹی ماں سے بات کرتی ہے تو اس کی نظر موبائل پر ہوتی ہے۔
ہم نے رشتوں کو بھی کاروبار بنا دیا ہے۔ ہر تعلق میں فائدہ دیکھتے ہیں۔ اگر فائدہ نہیں تو تعلق نہیں۔ یہ سوچ ہمیں اندر سے کھوکھلا کر رہی ہے۔ آپ جانتے ہیں، انسان کا دل ایک نازک شیشے کی مانند ہوتا ہے۔ جب آپ اسے پیار سے سنبھالتے ہیں تو وہ چمکتا ہے۔ جب آپ اسے نظر انداز کرتے ہیں تو وہ دھندلا جاتا ہے۔ اور جب آپ اسے ٹھوکر مارتے ہیں تو وہ چکناچور ہو جاتا ہے۔
ہماری زندگی میں کتنے ہی رشتے ہیں۔ ماں باپ، بیوی بچے، بہن بھائی، دوست احباب۔ مگر ہم میں سے اکثر ان رشتوں کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ تو ہمارے ساتھ ہمیشہ رہیں گے۔ مگر زندگی کا سب سے بڑا سچ یہ ہے کہ یہ رشتے ہمیشہ نہیں رہتے۔ ایک دن ماں کی دعائیں ختم ہو جاتی ہیں۔ ایک دن باپ کا سایہ سر سے اٹھ جاتا ہے۔ ایک دن وہ بہن جو آپ کے لیے روتی تھی، وہ دور چلی جاتی ہے۔ ایک دن وہ دوست جو آپ کا ہاتھ تھامتا تھا، وہ راستہ بدل لیتا ہے۔
ہم میں سے ہر ایک کے اندر ایک بچہ ہے جو پیار چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ کوئی اس کے سر پر ہاتھ رکھے۔ کوئی اس کی پریشانی سنے۔ کوئی اس کے دکھ میں اس کے ساتھ بیٹھے۔ مگر ہم نے اس بچے کو مار دیا ہے۔ ہم نے اپنے آپ کو مضبوط بنانے کے چکر میں اپنے دل کو پتھر کا بنا لیا ہے۔ ہم رو نہیں سکتے، ہم دکھ نہیں بتا سکتے، ہم کمزوری نہیں دکھا سکتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ہماری بڑائی ہے۔ مگر حقیقت میں یہ ہماری سب سے بڑی کمزوری ہے۔
کسی بزرگ سےسوال پوچھیں کہ زندگی کا سب سے بڑا سبق کیا ہے؟ وہ کہیں گے: "رشتے نبھاؤ، کیونکہ یہی تمہاری اصل پونجی ہیں۔" لیکن ہم نے یہ پونجی کھو دی ہے۔ ہم نے رشتوں کو توڑا ہے، دل دکھائے ہیں، انا کی دیواریں کھڑی کی ہیں۔ نتیجہ کیا نکلا؟ ہم سب کے پاس بہت کچھ ہے مگر ہم خوش نہیں ہیں۔ ہماری آنکھوں میں نیند نہیں، ہمارے چہروں پر مسکراہٹ نہیں، ہمارے دلوں میں سکون نہیں۔
میں آپ سے ایک اور بات کہنا چاہتا ہوں۔ ہمارے ہاں ایک رسم ہے کہ جب کوئی مر جاتا ہے تو ہم اس کے جنازے پر جاتے ہیں۔ اس کے گھر والوں کے ساتھ بیٹھتے ہیں۔ انہیں تسلی دیتے ہیں۔ مگر کیا آپ نے کبھی سوچا کہ جب وہ زندہ تھا تو ہم نے اسے کب تسلی دی تھی؟ جب وہ بیمار تھا تو ہم میں سے کتنے اسے دیکھنے گئے تھے؟ جب وہ پریشان تھا تو ہم میں سے کس نے اس کا ہاتھ تھاما تھا؟ ہم مردوں کو تو یاد کرتے ہیں مگر زندوں کو بھول جاتے ہیں۔
یہاں ایک اور بات بہت اہم ہے۔ رشتے صرف خون کے نہیں ہوتے۔ رشتے دل کے بھی ہوتے ہیں۔ وہ ہمسایہ جو آپ کے بچپن میں آپ کو گھر سے اسکول چھوڑنے آتا تھا۔ وہ استاد جو آپ کو زندگی کے سبق سکھاتا تھا۔ وہ دوست جو آپ کے غم میں آپ کے ساتھ بیٹھتا تھا۔ یہ سب رشتے ہیں۔ انہیں نبھانا بھی ضروری ہے۔
آج کے مصروف دور میں ہم نے وقت کو سب سے قیمتی بنا لیا ہے۔ مگر ہم وہ وقت رشتوں پر کیوں نہیں لگاتے؟ ہم اپنے کام کے لیے تو وقت نکال لیتے ہیں، اپنے دوستوں کے ساتھ پارٹی کے لیے وقت نکال لیتے ہیں، مگر اپنے والدین کے ساتھ بیٹھنے کے لیے وقت نہیں نکال پاتے۔ کیا یہ خود غرضی نہیں ہے؟
میں آپ سے گزارش کروں گا کہ آج ہی اپنے گھر جائیں۔ اپنی ماں کے ہاتھ چومیں۔ اپنی بیوی کا ہاتھ تھامیں۔ اپنے بچوں کو گلے لگائیں۔ اپنے بہن بھائیوں سے ملیں۔ ان سے کہیں کہ آپ ان سے پیار کرتے ہیں۔ یہ الفاظ کہنے میں شرم محسوس نہ کریں۔
اگر آپ کے کسی سے تعلقات خراب ہیں تو آپ ہی پہل کریں۔ معافی مانگنے میں کوئی برائی نہیں ہے۔ یہ آپ کو چھوٹا نہیں بناتی، بلکہ بڑا بناتی ہے۔ اپنی انا کو ایک طرف رکھ دیں۔ دل سے معافی مانگیں۔ آپ دیکھیں گے کہ رشتے پہلے سے زیادہ مضبوط ہو جائیں گے۔
آخر میں، میں آپ کو ایک بات یاد دلاتا چلوں۔ زندگی بہت مختصر ہے۔ یہاں ہر چیز عارضی ہے۔ دولت آئے گی اور چلی جائے گی۔ عہدہ آئے گا اور چلا جائے گا۔ شہرت آئے گی اور چلی جائے گی۔ مگر رشتے ہیں جو آپ کے ساتھ رہتے ہیں۔ یہی آپ کی اصل طاقت ہیں۔ یہی آپ کا سہارا ہیں۔ انہیں سنبھال کر رکھیں۔ انہیں عزیز رکھیں۔ انہیں پیار دیں۔
آج ہی فیصلہ کریں کہ آپ اپنے رشتوں کو مضبوط کریں گے۔ آپ اپنے پیاروں کے قریب ہوں گے۔ آپ ان کے دکھ سکھ میں شریک ہوں گے۔ میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اگر آپ نے ایسا کیا تو آپ کی زندگی بدل جائے گی۔ آپ کو وہ سکون ملے گا جو آج تک آپ نے محسوس نہیں کیا۔ اگر آپ خوشی اور سکون سے رہنا چاہتے ہیں، تو اپنے رشتوں کو مضبوط کریں۔ وہ کندھا صرف جنازے کے وقت نہیں، آپ کی پوری زندگی کے لیے ضروری ہے!
خدا آپ کے تمام رشتوں میں محبت اور پیار بھر دے۔ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے۔ آمین۔
Indeed
جواب دیںحذف کریں❤️💕💕
جواب دیںحذف کریںSir this is realty of our life .
جواب دیںحذف کریںYes sir.in the achievement of life we forget our real happiness which is behind us,our relation our beloved. We only on focus our achievements not our relationship. These relation give us power,strength and dua.Allah grants us the ability to realize our real happiness. Thanks for guidance.
جواب دیںحذف کریںReally sir g,
جواب دیںحذف کریںMan is a social animal;
We can't live alone in this world we always think that If I would alone so what a good thing or idea but one moment comes when we live alone and feel too much sad but we blame on others that our relatives or siblings have left us ,
Actually we do all this but make others responsible
The true is that Allah Almighty grants us the greatest blessing in the form of parents siblings and relatives but we always reject them and dislike them that they are responsible for our failure or sadness 🥺
If we try to live happy with them listed them and share our ideas then our life totally changes and enjoyable life.
Jazak Allah
جواب دیںحذف کریں