ماہرِ اعظم
ماہرِ اعظم
کالم از: سر جاوید بشیر
کیا آپ نے کبھی اپنے ارد گرد دیکھا ہے، اپنی گلی میں، اپنے محلے میں، یا شاید اپنے ہی گھر کے اندر؟یہ ایک عادت ہے جو ہر پاکستانی کی زندگی میں رچ بس گئی ہے، ایک ایسی عادت جو اب ہمارے خون میں شامل ہو چکی ہے، اور وہ ہے مشورہ دینے کی عادت۔
ہم سب، ہر وقت، ہر جگہ، کسی نہ کسی کو مشورہ دینے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ چاہے کوئی ہم سے پوچھے یا نہ پوچھے، ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری رائے سب سے اہم ہے، ہمارا تجربہ سب سے بہتر ہے، اور ہم جو کہیں گے، وہی درست ہو گا۔
یہ عادت بظاہر محبت اور خیر خواہی میں لپٹی ہوئی لگتی ہے، لیکن کبھی کبھی یہ دلوں میں فاصلہ پیدا کر دیتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم مدد کر رہے ہیں، مگر اکثر اوقات ہم دوسروں کے زخموں پر نمک چھڑک دیتے ہیں۔ کوئی دکھ بیان کرے تو ہم فوراً کہتے ہیں، “ارے، میں بتاتا ہوں، تم یہ کرو، وہ کرو”، جیسے زندگی کے سارے مسئلے ایک مشورے سے حل ہو سکتے ہیں۔
یہی وہ مزاج ہے جو ہمیں ہر محفل، ہر موقع، ہر گفتگو میں ایک "ماہرِ اعظم" بنا دیتا ہے۔ ہم سیاست پر بھی رائے دیتے ہیں، طب پر بھی، تعلیم پر بھی، اور رشتوں پر بھی۔ ہمیں بس موقع چاہیے، اور ہم اپنی رائے کا خزانہ کھول دیتے ہیں۔
اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مشورہ دینے کی عادت کے لیے کسی ڈگری یا تجربے کی ضرورت نہیں۔
بس دل میں ایک یقین ہونا چاہیے کہ "مجھے سب آتا ہے!"
چاہے معاملہ کسی کے رشتے کا ہو، کاروبار کا، یا دل کے زخموں کا ہر پاکستانی اپنے آپ کو "ماہرِ اعظم" سمجھتا ہے۔
کبھی لگتا ہے جیسے ہم سب پیدائشی مشیر ہیں، جنہیں بس موقع چاہیے ہوتا ہے کہ کسی کی بات کاٹ کر اپنی دانش کی مشعل روشن کر دیں۔
آپ ذرا غور کیجیے، آپ کے آس پاس ایک نہ ایک ڈاکٹرِ اعظم ضرور موجود ہو گا۔
ایسا ڈاکٹر جو بغیر سٹیتھوسکوپ کے صرف آپ کی آواز سن کر تشخیص کر لیتا ہے کہ آپ کو کون سی بیماری ہے، کون سی دوا لینی چاہیے، اور کون سا ڈاکٹر "فضول پیسے لیتا ہے"۔
یہ وہ ہستی ہیں جو بازار سے گزرتے ہوئے کسی کھانسنے والے کو دیکھ کر فوراً فرماتے ہیں: "یہ تو الرجی ہے، بھئی، دوا نہیں، دودھ بند کرو!"
ان کے لیے ہسپتال ایک غیر ضروری جگہ ہے،
پھر آتے ہیں ہمارے ماہرِ معیشتِ محلہ، جو چائے کے کپ کے ساتھ یہ راز افشا کرتے ہیں کہ ملک کا قرضہ کیسے ایک ہفتے میں اتارا جا سکتا ہے۔
اتنی سادگی سے سمجھاتے ہیں جیسے قرضہ نہیں، بلکہ کسی محلے کی کمیٹی کا حساب ہو۔
ایک سگریٹ کے کش اور دو جملوں کے درمیان وہ ملکی معیشت کے وہ نسخے پیش کرتے ہیں جن پر دنیا حیران ہو جائے بس بدقسمتی سے کوئی ان کی بات سنتا نہیں۔
اور اگر آپ تھوڑا آگے بڑھیں تو وہاں ملے گا ایک ذاتی کوچ و مشیرِ خاص۔
یہ صاحب ہر درد، ہر الجھن، اور ہر رشتے کے ماہر ہیں۔
آپ کی ازدواجی زندگی ہو، تو وہ بتائیں گے کہ "بیوی کو سمجھانے کا اصل طریقہ کیا ہے" حالانکہ خود کبھی کامیاب نہیں ہوئے۔
آپ کے بچوں کی تعلیم پر مشورہ دیں گے کہ "بچے کو ڈاکٹر بناؤ، یہی اصل کامیابی ہے" چاہے خود اسکول کے گیٹ تک ہی محدود رہے ہوں۔
کاروبار کی بات آئے تو اتنے اعتماد سے فرمائیں گے کہ "بس یار، تھوڑا دماغ لگاؤ، پیسہ خود آئے گا" جیسے قسمت نہیں، ایک بٹن ہو جو وہ دبانے والے ہیں۔
یہ سب کردار ہمارے ارد گرد ایسے بکھرے ہیں جیسے ہوا میں ذرات۔
ہر ایک کے پاس ایک رائے، ایک نسخہ، ایک فلسفہ ہے اور سب کے سب دل کے بہت خیر خواہ بھی ہیں۔
یہ "خوبی" ہمارے اندر اتنی بری طرح سے سرایت کر چکی ہے کہ ہمیں اس کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ ہم دوسروں کی زندگیوں میں کتنی بڑی مداخلت کر رہے ہیں، اور ان پر کس قدر بوجھ ڈال رہے ہیں۔
ذرا تصور کیجیے، آپ اپنے کسی دوست کے پاس کمر کے درد کی شکایت لے کر پہنچتے ہیں۔ وہ فوراً آپ کا "ڈاکٹر" بن جائے گا اور فرمائے گا: "ارے یار! یہ تو بس وٹامن ڈی کی کمی کا مسئلہ ہے۔ کسی ڈاکٹر کے پاس جا کر فیس برباد کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ میں تمہیں ایک ایسا سستا اور مؤثر ٹیکہ بتاتا ہوں، بس وہی لگوا لو۔" آپ ابھی اس سے اپنی گردوں کی تکلیف بیان کر ہی رہے ہوتے ہیں کہ وہ آپ کے گردوں کے مسئلے کو بھی یوں ہی، پلک جھپکتے، حل کرنے کی جانب بڑھتا ہے اور فوراً گھر کے کچن میں موجود کسی دیسی نسخے کی طرف اشارہ کر دیتا ہے۔ وہ اس قدر تیزی سے آپ کے اصل ڈاکٹر، جو شاید برسوں کی محنت اور تعلیم کے بعد اس مقام پر پہنچا ہے، کی ساری باتوں کو جھوٹا ثابت کر دیتا ہے، گویا وہ سب کچھ بے کار تھا۔
اور اگر آپ کسی جذباتی پریشانی میں مبتلا ہوں؟ آپ کسی دوست یا رشتے دار کے پاس اپنا دل ہلکا کرنے پہنچ جائیں؟ تو کیا ہوگا؟ فوراً آپ کا وہ دوست یا رشتہ دار آپ کا "ماہرِ نفسیات" بن جائے گا۔ آپ کی پوری کہانی ختم ہونے سے پہلے ہی وہ اپنا حتمی فیصلہ سنا دے گا: "تمہاری ساری پریشانی کی جڑ تمہاری بیوی (یا شوہر) ہے! اسے فوراً بتاؤ کہ تم کیا چاہتے ہو، اور اس کے سامنے سخت بن جاؤ!" وہ اس بات پر غور ہی نہیں کرے گا کہ شاید آپ صرف اپنا بوجھ ہلکا کرنے، یا صرف اپنی بات کہنے آئے تھے، نہ کہ کسی مشورے یا فیصلے کے لیے۔ مگر آپ کی اس مداخلت نے، اور اس کے فیصلے نے، اس کے بوجھ کو کم کرنے کی بجائے، اس پر مزید اذیت کا اضافہ کر دیا۔
اکثر اوقات ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ "صرف ہم ہی سچ جانتے ہیں"۔ ہم نے زندگی میں جو کچھ حاصل کیا ہے، یا جو راستہ اختیار کیا ہے، وہ ہمیں صحیح لگتا ہے۔ "میں تو کامیاب ہوا ہوں، لہذا میرا طریقہ ہی درست ہے۔" یہ غرور ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے روکتا ہے کہ ہر انسان کا راستہ، اس کا سفر، اور اس کا مقدر جدا ہوتا ہے۔
ہمیں خاموش رہنا نہیں آتا۔ ہمیں یہ خوف رہتا ہے کہ اگر ہم نے کسی مسئلے پر کوئی مشورہ نہیں دیا، تو سامنے والا شاید یہ سمجھے گا کہ ہمیں اس معاملے کا علم ہی نہیں ہے۔ ہم خاموشی کو کمزوری سمجھتے ہیں۔
کئی بار ہم مشورہ اس لیے دیتے ہیں کہ شاید سامنے والا ہمارا احسان مند رہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اگر اس کا مسئلہ حل ہو جائے، تو وہ کہے: "یہ سب آپ کی وجہ سے ہوا!" یہ ایک غیر شعوری خواہش ہوتی ہے جو ہمیں دوسروں کی زندگی میں دخل دینے پر اکساتی ہے۔
ایک بات ہمیشہ یاد رکھیے گا: کسی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے سہارا دینا اور اسے مشورہ دینا، یہ دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔ کندھے پر ہاتھ رکھنا محبت کی علامت ہے، لیکن مشورہ دینا، اکثر اوقات، غرور کی نشانی ہوتا ہے۔
اگر آپ اپنی اس عادت سے نجات پانا چاہتے ہیں اور اپنے رشتوں کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں، تو پہلے سُنیں، پھر سُنیں، اور پھر بھی سُنیں اگر کوئی انسان اپنا دکھ، اپنا درد، اپنا مسئلہ لے کر آپ کے پاس آئے، تو نوے فیصد امکان یہی ہوتا ہے کہ اسے صرف ایک ایسے کان کی ضرورت ہے جو اسے بنا کسی فیصلے، بنا کسی تنقید کے، خاموشی سے سُن سکے۔
سوال پوچھیں، مگر جب تک سامنے والا خود آپ سے پورے یقین سے یہ نہ کہہ دے کہ "اب آپ ہی بتائیں، میں کیا کروں؟" تب تک اپنا قیمتی، اپنا "ماہرانہ" مشورہ، اپنی زبان کے پیچھے ہی محفوظ رکھیں۔
جب آپ دوسروں کی زندگیوں میں دخل اندازی کرنا چھوڑ دیتے ہیں، جب آپ ان کے مسائل کو ان کا اپنا مسئلہ سمجھ کر انہیں خود حل کرنے کا موقع دیتے ہیں، تو آپ کی عزت اور آپ کی قدر خود بخود بڑھ جاتی ہے۔ لوگ آپ کو سکون کا ذریعہ سمجھنے لگتے ہیں، نہ کہ بوجھ کا۔
ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں! زندگی کا ہر مسئلہ، ہر پریشانی، ہمارا اپنا مسئلہ نہیں ہوتی۔ ہمیں دوسروں کو ان کی اپنی جنگیں، ان کی اپنی مشکلات، خود لڑنے کا موقع دینا چاہیے۔ ہمارا کام صرف اتنا ہے کہ ہم ان کے پیچھے، خاموشی سے، اور مکمل حمایت کے ساتھ، کھڑے رہیں۔
آج، ابھی، اسی وقت، مجھ سے اور خود سے ایک وعدہ کیجیے۔ اپنی اس "قیمتی رائے" کو، اپنے اس "ماہرانہ مشورے" کو، تھوڑی دیر کے لیے، سنبھال کر رکھ لیں۔ اور لوگوں کے لیے صرف ایک خاموش، پُرسکون، اور بے پناہ محبت بھرا "سُننے والا کان" بن جائیں۔ آپ دیکھیں گے، آپ کے تعلقات میں، آپ کی زندگی میں، وہ برکت اور وہ سکون آئے گا جس کا آپ نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔
کیا آپ آج، اپنی زندگی میں، کسی ایک ایسے دوست کے لیے، صرف اور صرف، بغیر کسی مشورے کے، محض ایک "سُننے والے کان" بننے کا عہد کریں گے؟ یہ ایک چھوٹا سا قدم، آپ کی زندگی میں بہت بڑی تبدیلی لا سکتا ہے۔
A good column today I learn new things by this column thank you sir g
جواب دیںحذف کریںI'll try to adopt it☺️
Wow sir different column from others
جواب دیںحذف کریںWe should to change ourselves to improve our personalities
But your chayee wala Hahaha
Jazak Allah
جواب دیںحذف کریںبہت اچھا موضوع ہے اور معاشرے کی حقیقت یہ ہی سچ ہے کہ کوئی بھی سامع بننے کو تیار نہیں لیکن مشورے دینا ہر بندہ اپنا فرض سمجھتا ہے
جواب دیںحذف کریں