خود کو بدلو
خود کو بدلو
کالم از: سر جاوید بشیر
میرے والد صاحب کا ایک پسندیدہ جملہ تھا، "اللہ پاک ان کی قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے، آمین!" وہ بڑے پیار سے سے کہتے تھے: "دیکھو بیٹے! خود کو بدلو، تمہاری زندگی خود بخود بدل جائے گی۔"
والد صاحب کوئی عالم یا بڑے فلاسفر نہیں تھے۔ وہ تو ایک عام، سیدھے سادے انسان تھے، مگر انہیں زندگی کا سب سے بڑا سچ معلوم ہو گیا تھا۔ یہ جملہ میرے لیے تاریکی میں ایک جلتا ہوا دیا ہے، جو کبھی بجھتا نہیں۔
جب میں اپنے والد صاحب کا چہرہ دیکھتا تھا، تو ان کی آنکھوں میں ایک یقین نظر آتا تھا۔ انہوں نے کبھی مجھے یہ نہیں کہا کہ جا کر باہر کی دنیا سے لڑو، انہوں نے بس یہی سکھایا کہ پہلی جنگ اپنے اندر سے لڑو۔ یہ تبدیلی ایک دن کا کام نہیں، یہ تو روز کی محنت ہے۔ روز اپنی سستی سے لڑو۔
میرا ماننا ہے کہ ہماری قوم کی سب سے بڑی کمزوری یہ نہیں کہ وسائل کم ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم اندر سے کمزور پڑ جاتے ہیں۔ ہم دوسروں کو کوستے ہیں، نظام کو الزام دیتے ہیں، قسمت کو برا بھلا کہتے ہیں، مگر آئینہ سامنے رکھ کر خود پر غور کرنے سے کتراتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جب آپ اپنے اندر چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں لاتے، صبح جلدی اٹھنا، بچت کرنی کی عادت، ہر روز کچھ نہ کچھ سیکھنا، وعدوں کو پورا کرنا، یہ چھوٹی عادات آپ کے کردار کو بدل دیتی ہیں اور پھر آپ کے گھر، آپ کے محلے، آپ کے ادارے، آخر کار معاشرہ بدلنے لگتا ہے۔
میں نے اپنی زندگی میں ایسے سینکڑوں واقعات دیکھے ہیں جب ایک فرد کی محنت نے پورے محلے کا چہرہ بدل دیا۔ ایک استاد نے جب اپنی طرزِ تدریس بدل دی، تو اُس کے شاگردوں نے امتحانوں میں نمبر بڑھائے، پھر اُن میں سے ایک نے گھر والوں کی قسمت بدل دی۔ ایک ایماندار دکاندار نے جب قیمتوں میں شفافیت رکھی تو اُس گلی کے باقی دکانداروں کا رویہ بھی بدل گیا۔ یہ سب چھوٹی مثالیں ہیں مگر پیغام بڑا ہے: تبدیلی باہر نہیں، اندر سے شروع ہوتی ہے۔
اگر آپ واقعی اپنی زندگی بدلنا چاہتے ہیں تو چند سچے اور عملی قدم ہیں جنہیں اپنانا ضروری ہے۔
سب سے پہلے، اپنے اندر ایک ایسا پکا ارادہ لایٔیں، ایک ایسی کمٹمنٹ پیدا کریں کہ بس اب تو خود کو بدلنا ہے! اپنے آپ سے، اپنی روح سے، مکمل ایمانداری کا رشتہ جوڑ لیں۔
بس ایک ہی بات ذہن میں بٹھا لیں: "اب نہیں، تو کبھی نہیں!"
جب آپ اس عہد پر ڈٹ جائیں گے، ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے، تو پھر دیکھئے گا کہ آپ کی زندگی میں کیسے کرشمے ہونا شروع ہوتے ہیں۔
دوسری اہم بات جو یاد رکھنی ہے، وہ ہے اپنے علم (Education) کو مسلسل تازہ کرتے رہنا۔
اگر آپ روزانہ صرف ایک گھنٹہ بھی نکال کر کوئی نئی اور اچھی بات سیکھ لیتے ہیں تو یقین کریں، آپ دراصل خاموشی سے خود کو بدل رہے ہوتے ہیں۔
یہ علم ہی ہے جو آپ کے اندر پکا یقین اور اعتماد پیدا کرتا ہے۔ اور خود اعتمادی ہی وہ زبردست طاقت ہے جو انسان کو زندگی کے بڑے سے بڑے طوفانوں اور حالات کے سامنے پہاڑ کی طرح مضبوط کھڑا کر دیتی ہے!
یاد رکھیں: سیکھنے والا انسان کبھی ناکام نہیں رہتا، وہ ہمیشہ وقت سے آگے ہوتا ہے!
تیسرا، اپنے اندر نظم و ضبط لے آئیں۔ نظم و ضبط کا مطلب سختی یا جبر نہیں، بلکہ پلاننگ ہے۔ ہر صبح چھوٹے چھوٹے کاموں کی فہرست بنائیں، اور اُنہیں پورا کریں۔ یہ فہرست آپ کے دن کو مقصد دیتی ہے، اور مقصد آپ کو توجہ میں رکھتا ہے۔ جب آپ مسلسل چھوٹی چیزیں پورا کریں گے تو بڑی کامیابیاں اپنے آپ نمودار ہوں گی۔
چوتھا، نرم دلی، رحم اور ہمدردی کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔ ایک مسکراہٹ، ایک مدد، ایک چھوٹی بات سننا، یہ سب انسانی تعلقات کو مضبوط کرتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں اکثر ہم دوسروں کے دکھ کو نظرانداز کر دیتے ہیں کیونکہ ہم اپنی زندگی میں مصروف ہیں۔ مگر یاد رکھیں، جب آپ دوسروں کے دکھ کو سمجھنے کی کوشش کریں گے، تو آپ کے اندر ایک اندرونی سکون آئے گا جو آپ کی زندگی بدل دے گا۔
پانچواں، اپنے غرور کو شکست دیں۔ اکثر غرور ہمیں سست اور خودپسند بنا دیتا ہے۔ جب آپ اپنے غرور کو کم کریں گے، تو آپ سیکھنے کے لیے زیادہ کھلے ہوں گے۔ ایک بڑا انسان وہ ہے جو غلطی مان لے، معافی مانگے، اور نیا راستہ اپنائے۔
اب میں آپ سے ایک سبق شیئر کروں گا، یہ زندگی کے بہترین اسباق میں سے ایک ہے۔یاد رکھیں، زندگی میں جتنا درد ملتا ہے، اتنے ہی مواقع بھی چھپے ہوتے ہیں۔ جو لوگ دکھ اور ناکامی سے فرار ہو جاتے ہیں وہ ترقی کی راہ بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ میں نے اپنی آنکھوں سے ایسے لوگ دیکھے ہیں جو ایک ناکامی کے بعد خود کو کمتر سمجھ بیٹھے، اور پھر زندگی کی خوبصورتی کو کھو بیٹھیے۔ کامیابی کا راستہ ہمیشہ ہموار نہیں ہوتا، مگر جو لوگ صبر اور محنت کے ساتھ چلتے ہیں وہ آخر کار منزل پاتے ہیں۔
میں آج آپ کی خدمت میں ایک چھوٹی سی، مگر قسمت بدل دینے والی آزمائش پیش کر رہا ہوں۔
آپ اگلے صرف 30 دن... اپنی زندگی کی کسی ایک عادت کو پکڑ لیجیے!
مثال کے طور پر، روزانہ پوری توجہ سے مطالعہ کرنے کا عہد، یا کوئی نیا آن لائن ہنر سیکھنے کا پکا ارادہ۔
بس! اس کام کو روزانہ، ایک ہی مقررہ وقت پر، بغیر کسی ناغے کے مسلسل 30 دن تک کیے جائیے!
اپنی پوری لگن، اپنا پورا یقین اس ایک عادت کو وقف کر دیجیے۔
میں آپ کو یقین دلاتا ہوں! جب یہ 30 دن مکمل ہوں گے، تو آپ کو اپنی ذات میں ایک انقلابی تبدیلی محسوس ہو گی!
آپ دیکھیں گے کہ آپ کی زندگی میں کیسی مثبت تبدیلیاں آتی ہیں، آپ کا خود اعتمادی کا محل کیسے مضبوط ہوتا ہے، اور آپ خود کو کیسی نئی کامیابیوں پر کھڑا پائیں گے!
یہ سنہری اصول یاد رکھیں! بڑی کامیابیاں کسی ایک لمحے میں نہیں ملتیں، بلکہ چھوٹے اور مسلسل عمل سے حاصل ہوتی ہیں! آپ اگر ایک عادت بدلیں گے تو آپ کی پوری زندگی بدل جائے گی!
اب ایک لمحے کے لیے اپنے آپ سے سچ بولیں، کیا آپ واقعی بدلنے کے لیے تیار ہیں؟ بدلنا آسان نہیں، مگر جب آپ نے اپنے اندر تبدیلی لانے کا عہد کر لیا، تو آپ کے اندر ایک نئی روشنی پیدا ہوگی۔ یہ روشنی آپ کو چیلنجوں میں رہنمائی دے گی۔ کئی بار میں نے دیکھا کہ لوگ پہلا دن تو بہت جوش کے ساتھ شروع کر دیتے ہیں مگر پھر آدھے راستے میں ہمت ہار جاتے ہیں۔ اگر آپ نے خود کو بدلنے کا پکا عہد کر لیا ہے، تو پھر اب رُکیے گا نہیں!
اگر آپ ایک بار رُک گئے، اگر آپ نے ایک دن بھی سُستی کی، تو یہ سفر دوبارہ شروع کرنا مشکل ہو جائے گا!
آج اپنے دِل سے یہ وعدہ کریں کہ: "چاہے کچھ بھی ہو جائے، میں خود کو بدلنے کا یہ سفر روز جاری رکھوں گا!"
اگر آپ کی دنیا بدل گئی، تو یاد رکھیں! آپ سے جُڑے ہوئے تمام لوگوں کی دنیا بدل جائے گی! آپ کا ایک قدم، سینکڑوں لوگوں کا راستہ آسان کر دے گا۔
خود کو بدلنا ہی اصل میں سب سے بڑی، سب سے سچی کامیابی ہے! اور یہی بات تو میرے والد صاحب (اللہ اُن پر رحمت کرے) سیکھ گئے تھے! وہ جانتے تھے کہ سب سے بڑی جنگ اپنے اندر لڑی جاتی ہے!
آخر میں، میں آپ سے یہ کہنا چاہتا ہوں، آپ اکیلے نہیں ہیں۔ تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ ایک انسان کی ہمت پوری قوم بدل دیتی ہے۔ آپ کے اندر بھی وہ ہمت ہے۔ آج سے پہلے شاید آپ نے انتظار کیا ہو، مگر انتظار کو ختم کریں۔ اٹھیں، اپنے اندر کی کمزوریوں کو پہچانیں، انہیں قبول کریں، اور ہر دن ایک چھوٹی سی محنت کریں۔ یہی وہ عمل ہے جو ایک عام انسان کو عظیم انسان بنا دیتا ہے۔
اللہ آپ کی راہ میں آسانیاں ڈالے، اور آپ کو وہ عزم دے جو دنیا بدلنے کے قابل بنا دے۔ آمین۔
جو الفاظ میں نے شروع میں اپنے والد صاحب کے آپ تک پہنچائے تھے، انہیں اپنے دِل کے اندر بسا لیں۔ انہیں اپنے سب سے قیمتی خزانے کی طرح سنبھال کر رکھیں۔
جب بھی آپ ہار محسوس کریں، جب بھی آپ کا دِل ٹوٹ جائے، جب بھی آپ کو لگے کہ اب مزید ہمت نہیں ہے... تو آپ وہ الفاظ پوری طاقت سے دہرائیں، "خود کو بدلو، دنیا خود بدل جائے گی!"
اب بس! ایک لمحہ بھی ضائع مت کیجیے!
اُٹھیں! کیونکہ آج سے آپ کی ہار کی پرانی کہانی ختم ہو چکی، اور آپ کی شاندار کامیابی کا سفر اب شروع ہوتا ہے!
آپ ہی تو وہ واحد انسان ہیں، آپ ہی وہ اُمید ہیں، جس کا انتظار آپ کی دنیا، آپ کے گھر، آپ کے خواب کر رہے ہیں۔
یاد رکھیں! اپنے آپ کو بدلنے کی یہ کوشش جو آپ کر رہے ہیں، یہ صرف کوشش نہیں ہے! آپ کا بدلنا ہی،
آپ کی زندگی کی سب سے بڑی اور سب سے سچی جیت ہے
Changing is a deep word it has a lot of secret if we try to understand it.
جواب دیںحذف کریںYes sir g we can change ourselves if try to change ourselves daily it needs some practice because Allah Almighty always sees our intentions.
Yes if we do one work daily then our mind also makes us remember that you have to do this because Allah Almighty always helps by seeing our efforts.
Taking step daily is a ladder if we daily move towards one step then one day we reach at our destination ☺️
...Never be afraid of change
جواب دیںحذف کریںJust woww daddy
جواب دیںحذف کریںChanging is a part of our life but we always want that other person change their self not us
But we all should to change and be humble polite for everyone ☺️
My Super Daddy Heroo You're geneous Never body can hits you because you're Apex
I never saw a Person in my life like you 😭♥️✨
Jazak Allah
جواب دیںحذف کریںAmazing words this Column is motivated really insaan ko khud ko badalny ki need hai jb hum me changing ati h automatically Baki sb b change ho jata hai insaan ko apna ap badalny ki zrurt hai
جواب دیںحذف کریںماشااللہ جاوید صاحب آپ نے کمال کر دیا کیسی خوبصورتی کے ساتھ آپ گزری ہوئی زندگی میں لے گۓ
جواب دیںحذف کریںوالد محترم فرماتے تھے اللہ رب العزت انہیں جنت میں اعلی مقام عطا فرماۓ پتر اپنے آپ نوں بدل باقی تبدیلی آپے آجاۓ گی
یہ خوبصورت الفاظ ابھی تک کانوں میں رس گھولتے ہیں
سر جاوید صاحب آپ کے سارے نقطے زبردست ہیں ان میں خود احتسابی بھی ایک عمل ہے کہ میں نے آج کیا کیا اپنے کردار کے دفاع میں دوسروں پر الزام
آپ کو ہمیشہ اپنے آپ سے سچ بولنا ہوگا پھر ہی آپ اپنا احتساب کر سکیں گے
آپ کا رویہ منفی سوچ آپ وقت کوضائع کررہے ہیں یا اپنے علم میں اضافہ کررہے ہیں
آپ کی سوچ ہونی چاہئے کہ مجھے کچھ کرنا ہے کچھ بڑا کرنا ہے زندگی بہت تھوڑی ہے وقت کم ہے کم وقت میں ذیادہ کام کرنا ہے مطلب مثبت محنت تبھی آپ ایک کامیاب فرد بن سکتے ہیں
اگر آپ خود کو بدلنے کیلیے گرتے ہیں تو اٹھیں دنیا آپ کو اپنا ہیرو مانے گی
بس ناکامی سے گھبرانا نہیں ڈرنا نہیں
جو ڈر گیا وہ مر گیا
اللہ تعالی آپ کو مذید کامیابیاں عطا کرے
آمین یا رب العالمین