استاد کا دن
استاد کا دن
کالم از: سر جاوید بشیر
آج میں ایک ایسا کالم لکھنے بیٹھا ہوں جس کے لفظوں میں جذبہ ہے، احساس ہے، اور شکر گزاری کا وہ قرض ہے جو ساری زندگی ادا نہیں ہو سکتا۔
میں آج کسی موضوع پر فلسفہ نہیں جھاڑنا چاہتا، میں آج بس اپنے دل کی بات کہنا چاہتا ہوں۔ کیونکہ آج استاد کا دن ہے وہ دن، جب دنیا اپنے ان محسنوں کو یاد کرتی ہے جنہوں نے انسان تراشے، جنہوں نے جہالت کے اندھیروں میں علم کے چراغ جلائے، اور جن کے قلم سے قوموں کی تقدیریں بدلی۔
میں آج اصل میں آداب و اخلاق پر لکھنے والا تھا، مگر سوشل میڈیا پر ہر طرف “ٹیچرز ڈے مبارک ہو” کی پوسٹس دیکھی، تو دل نے کہا نہیں، آج لکھنا ہی استاد پر ہے۔ کیونکہ جس نے مجھے لکھنا سکھایا، میں اس پر کیسے خاموش رہ سکتا ہوں؟
کہتے ہیں، استاد بادشاہ نہیں ہوتا، مگر بادشاہ بنا دیتا ہے۔
یہ جملہ میں نے بچپن میں صرف سنا تھا، لیکن زندگی نے اسے سچ کر دکھایا۔
میں نے اپنی زندگی میں بے شمار استاد دیکھے
لیکن ایک بات سب میں مشترک تھی انہوں نے مجھے انسان بنایا۔
میں آپ سے ایک بات دل سے کہوں؟
ہم سب خواب دیکھتے ہیں۔ بڑی گاڑی کے، بڑے گھر کے، عہدے کے، عزت کے۔ مگر ان سب خوابوں کی پہلی اینٹ کون رکھتا ہے؟
ہمارا استاد۔
میرا پہلا استاد وہ تھا جس نے مجھے حرف “ا” سکھایا۔ اس دن سے آج تک میں لفظوں کے سفر میں ہوں۔
میں نے سینکڑوں استاد دیکھے کسی نے میری غلطی پہ ڈانٹا، کسی نے میری تعریف کی، مگر آج جب پیچھے دیکھتا ہوں تو لگتا ہے… یہ سب ایک ہی شخص کے مختلف روپ تھے۔
مجھے یاد ہے نائنتھ کلاس کا وہ زمانہ۔ ہمارے اسلامیات کے استاد صاحب، اللہ ان پر اپنی رحمتیں نازل کرے۔ وہ ہر سبق طہارت سے شروع کرتے تھے۔ ان کا پسندیدہ باب ہی “طہارت” تھا۔
میں اُس وقت سمجھ نہیں پاتا تھا کہ وہ روز یہی کیوں پڑھاتے ہیں۔ مگر آج جب زندگی کے میل نے دل کو بوجھل کر دیا ہے، تو ان کی بات سمجھ آئی ہے۔
وہ فرمایا کرتے تھے: “بیٹا، طہارت صرف جسم کی نہیں ہوتی، نیت کی بھی ہوتی ہے۔ اگر نیت پاک ہو تو دل کا ہر اندھیرا مٹ جاتا ہے۔”
آج بھی جب کبھی دل گندا ہو جاتا ہے، تو ان کی آواز گونجتی ہے “نیت صاف رکھو، باقی سب خود بخود صاف ہو جائے گا۔”
پھر ایف ایس سی کے دن یاد آ گئے۔
ایک استاد تھے، جو میرے ہر سوال کا جواب دیتے۔ میں روز درجنوں سوال لے کر ان کے پاس جاتا۔ کبھی وہ مسکراتے، کبھی ہلکا سا ماتھے پر بل لاتے، مگر جواب دیتے ضرور۔
ان کے صبر اور شفقت نے مجھے سکھایا کہ استاد کبھی تھکتا نہیں۔ وہ بس چاہتا ہے کہ شاگرد سوال کرے، جستجو رکھے۔
زندگی آگے بڑھی، مگر استادوں کا سلسلہ ختم نہیں ہوا۔
زندگی میں اور بھی استاد ملتے رہے۔ کچھ نے قلم تھمایا، کچھ نے لفظوں کی حرمت سکھائی۔
اور ان میں سب سے نمایاں نام جناب جاوید چوہدری صاحب کا ہے۔
میں نے ان کا پہلا کالم پڑھا تو لگا جیسے کوئی میرے دل کی بات لفظوں میں کہہ رہا ہو۔
ان کے کالموں نے میرا زاویہ بدل دیا۔ انہوں نے سکھایا کہ الفاظ صرف جملے نہیں ہوتے، یہ دل کی دھڑکنوں کی زبان ہوتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ لکھنے والا اگر درد نہیں جھیلا، تو لفظ کبھی زندہ نہیں رہتے۔
میں ان کا شاگرد بن گیا، چاہے انہوں نے مجھے کبھی دیکھا نہیں۔
اور یہی استاد کی عظمت ہے وہ آپ کو بنا دیتا ہے، چاہے آپ سے ملا بھی نہ ہو۔
میں چاہتا ہوں آج آپ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں کیا آپ کے دل میں کوئی ایسا استاد نہیں جو آج بھی یاد آتا ہے؟
کیا کبھی آپ نے دل ہی دل میں ان کے لیے دعا نہیں کی؟
اگر کی ہے تو آج زبانی بھی کہہ دیجئے “سر، آج جو کچھ بھی ہوں، آپ کی وجہ سے ہوں۔”
اگر وہ زندہ ہیں، تو ایک فون کر لیجیے۔
اگر وہ اس دنیا میں نہیں رہے، تو ان کے لیے فاتحہ پڑھ لیجیے۔
یہی سب سے خوبصورت “ٹیچرز ڈے” کا تحفہ ہوگا۔
ہم بڑے بڑے سیاست دانوں کی بات کرتے ہیں، امیروں کی خبریں سنتے ہیں، مگر کیا کبھی کسی نے اس استاد کی بات کی جو ایک ٹوٹی ہوئی کرسی پر بیٹھ کر نسلیں بنا رہا ہے؟
جو خود سادہ کپڑوں میں آتا ہے مگر بچوں کو خواب دکھاتا ہے؟
جو بیماری میں بھی کلاس نہیں چھوڑتا؟
یہ وہ لوگ ہیں جن کے بغیر قومیں اندھی رہتی ہیں۔
ہم نے استاد کا مقام کھو دیا ہے۔
ہم نے اسے طنز بنا دیا ہے “جب کوئی کام نہ ملا، تو استاد بن گیا!”
ہم نے اس پیشے سے عزت چھین لی۔
ہم نے استاد کو وہ مقام نہیں دیا جس کا وہ حقدار ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے اسکولوں میں علم کم، نمبروں کی دوڑ زیادہ ہے۔
ہم استاد سے علم نہیں مانگتے، گریڈ مانگتے ہیں۔
ہم اپنے بچوں کے آگے استاد کی عزت کم کرتے ہیں، پھر روتے ہیں کہ اولاد میں تربیت نہیں۔
استاد کی تنخواہ وہی رکھ دی جو مزدور کی دیہاڑی ہے۔
کیا یہ انصاف ہے؟
کیا وہ شخص جو آنے والی نسلوں کی بنیاد رکھتا ہے، وہ اتنا بے بس رہے؟
ہماری قوم نے استاد کو عزت نہیں دی، اسی لیے آج ہم تعلیم میں پیچھے ہیں۔
مگر امید ابھی باقی ہے۔ کیونکہ جب تک ایک بھی بچہ“السلام علیکم سر” کہتا ہے، جب تک ایک بھی ماں اپنے بچے سے کہتی ہے “استاد سے اونچی آواز میں بات نہ کرو” تب تک اس قوم کا ضمیر زندہ ہے۔
میں آج کے دن ایک وعدہ لینا چاہتا ہوں ۔ آئیے ہم اپنے استادوں کو وہ عزت واپس دیں جس کے وہ حق دار ہیں۔
جب گلی میں کسی استاد کو دیکھیں تو کھڑے ہو کر سلام کریں۔
اگر کوئی بچہ استاد کے خلاف بولے تو اسے پیار سے سمجھائیں کہ یہ زبان نہیں، یہ گستاخی ہے۔
اگر آپ کے گھر میں کوئی پڑھاتا ہے، تو اسے صرف نوکری کرنے والا نہ سمجھیں، اسے قوم کا معمار سمجھیں۔
میں جانتا ہوں، میرے جیسے ہزاروں لوگ ہوں گے جو آج اپنے دل میں شکر گزاری محسوس کر رہے ہوں گے۔
میں بھی ان سب کے لیے دل سے دعا کرتا ہوں:
“یا اللہ! میرے ہر استاد پر اپنی رحمتیں نازل فرما۔ ان کے درجات بلند کر۔
انہوں نے مجھے وہ بنایا جو میں ہوں۔ میری ہر کامیابی، ہر لفظ، ہر دعا انہی کے نام ہے۔”
آج میرا دل کہتا ہے میں کچھ بھی نہیں تھا، مگر میرے استادوں نے مجھ میں سب کچھ دیکھ لیا۔
انہوں نے مجھے سنبھالا، گرنے نہیں دیا، ڈانٹا، سمجھایا، اور چپ چاپ میری کامیابی کے لیے دعا کی۔
میں ان کے قدموں کی خاک بھی نہیں، مگر ان کے نقش آج بھی میرے دل پر ثبت ہیں۔
شاید اسی لیے، جب میں قلم اٹھاتا ہوں، تو لفظوں میں استاد کی خوشبو آتی ہے۔
اور شاید اسی لیے، جب میں پڑھاتا ہوں، تو لگتا ہے جیسے وہی استاد میرے اندر بول رہا ہے۔
استاد دراصل ایک رشتہ نہیں، ایک دعا ہے جو پوری زندگی ساتھ رہتی ہے۔
اور آج کے دن، میں صرف اتنا کہوں گا “میرے اللہ! میرے تمام استادوں کو سلامت رکھ۔ اگر وہ دنیا میں نہیں رہے، تو ان کی قبروں کو نور سے بھر دے۔
یہی میری دعا ہے، یہی میرا پیغام، اور یہی میری زندگی کی سب سے بڑی کمائی۔
میں استادوں کے قرض میں
ہمیشہ رہوں گا اور شاید یہی قرض وہ ہے، جو ادا نہ ہو تو بھی روح کو سکون دیتا ہے۔
First of all Happy teacher's Day My Daddyy
جواب دیںحذف کریںAnd this column i read from my heart aahh favorite one column from now
You described all this things in very delicious words and your tongue is such a sweet one
May Allah gives uh heath super healthy long life And remain you always Happy Ameennn
Again Happy teacher's Day ♥️⭐
Happy teachers day Allah ne apko aik behtreen teacher bnaya hai mjhy bht Kuch seekhny ko Mila apse zindgi me
جواب دیںحذف کریںHappy teachers day sir g you are the best teacher 💓✨
جواب دیںحذف کریںAmeen mash Allah ❤️
جواب دیںحذف کریںHappy teacher's day sir,these are really true, heart touching words once again happy teacher's day sir
جواب دیںحذف کریںالسلام علیکم
جواب دیںحذف کریںجی جاوید بشیر صاحب آپ ماشااللہ خود بوت اچھے استاد بن گئے ہیں
بچوں نے بہت کچھ سیکھا ھے اور سب بچے بہت خوش ہیں
استاد بچوں کا روحانی باپ ھوتا ھے اور یو وہ باپ ھے جو بچوں کو دنیاوی اور اخروی تعلیم دیتا ھے اگر استاد نہ ھو تو انسان میں اور جانور میں فرق ختم ھوجاۓ
استاد کی دی ھوئی تعلیم میں نکھار آجاتا ھے اگر ہم با ادب بھی بن جائیں تعلیم ہمیں ادب سکھاتی اگر ادب ہی نہ آیا تو تعلیم صرف ذریعہ معاش کیلیے ھی رہ جاتی ھے استاد کی عزت شاگرد کی عبادت ھوتی ھے
اللہ تعالی عزت کرنے والے شاگرد کی تعلیم میں روحانیت پیدا کر دےتاھے
ہمیں چاہئیے کہ ہم اپنے استادوں کی عزت کریں تاکہ دنیا و آخرت میں ہماری عزت ھو
اللہ رب العزت کا قانون ھے اچھا کرو اچھا پاؤ برا کرو برا پاؤ
اللہ تعالی ہمیں اپنے استادوں کی عزت کرنے کی توفیق عطا فرماۓ آمین یا رب العلمین
Happy teacher day sir g Allah apko sehat wali lambi Zindagi dy waqai Sahi baat ki ha boht Kuch sikhny ky Liya mila😊💕
جواب دیںحذف کریں