غیر ضروری خواہشات سے کیسے بچیں؟
غیر ضروری خواہشات سے کیسے بچیں؟
کالم از: سر جاوید بشیر
یہ ایک فرماشی کالم ہے، اور شاید آپ سب کی دل کی آواز بھی۔ کئی بار مجھ سے یہ سوال پوچھا گیا کہ انسان اپنی زندگی میں بے شمار غیر ضروری خواہشات سے کیسے آزاد ہو سکتا ہے؟ یہ خواہشات جو ہمیں ایک لمحے کے لیے پرکشش لگتی ہیں، لیکن درحقیقت ہماری اصل زندگی، ہماری منزل اور ہمارے سکون کو نگل لیتی ہیں۔
میں نے بھی زندگی میں یہ سب قریب سے دیکھا ہے۔ انسان کے سامنے روزانہ کئی راستے آتے ہیں۔ کچھ خواب ایسے لگتے ہیں جیسے اگر یہ پورے نہ ہوئے تو زندگی بیکار ہے۔ کبھی کوئی چیز دل کو لبھاتی ہے، کبھی کوئی رشتہ، کبھی کوئی مقام اور کبھی کوئی شہرت۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ انسان اکثر ان خواہشوں میں الجھ کر اپنا اصل مقصد بھول جاتا ہے۔ یہ خواہشات جال کی طرح ہیں۔ ایک بار ان میں پھنس جائیں تو نکلنا مشکل لگتا ہے، اور انسان اپنی زندگی کے قیمتی سال اس اندھے پن میں ضائع کر دیتا ہے۔
انسان فطرتاً "کمی" کا شکار ہے۔ جو پاس ہے وہ چھوٹا لگتا ہے، اور جو نہیں ہے وہ سب سے ضروری محسوس ہوتا ہے۔
یک طالب علم سوچتا ہے، موبائل ہر چیز سے زیادہ ضروری ہے۔
ایک نوجوان سوچتا ہے کہ اگر مجھے وہ رشتہ یا وہ محبت نہ ملی تو میری زندگی ادھوری ہے۔
ایک ماں کو لگتا ہے کہ اگر اس کا بچہ بہترین اسکول یا یونیورسٹی نہ جائے تو سب کچھ ختم ہے۔
ایک انسان سوچتا ہے کہ اگر میں امیر نہ ہو گیا تو میں ناکام ہوں۔
یعنی ہم سب اپنی اپنی جگہ پر خواہشات کے غلام ہیں۔ لیکن یہ غلامی صرف وقت، توانائی اور سکون ضائع کرتی ہے۔
میں ہمیشہ کہتا ہوں اور ہمیشہ کہتا رہوں گا کہ انسان کی زندگی میں سب سے ضروری چیز مقصدِ حیات ہے۔ اگر آپ نے اپنا مقصد تلاش کر لیا اور اس کے لیے جدوجہد شروع کر دی تو آپ دنیا کے خوش نصیب ترین انسان ہیں۔
آپ سوچیں، جب آپ کے سامنے ایک واضح منزل ہو تو پھر چھوٹی موٹی خواہشات آپ کو روک نہیں سکتیں۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے کوئی شخص لمبے سفر پر جا رہا ہو، راستے میں چھوٹے چھوٹے کھلونے دیکھے، مگر اسے یاد رہے کہ اس کا اصل مقصد کسی قیمتی خزانے تک پہنچنا ہے۔ جو انسان اپنے Why (کیوں) کو جان لیتا ہے، وہ کبھی پیچھے نہیں ہٹتا۔
ہر بار جب کوئی کشش یا غیر ضروری خواہش آپ کے سامنے آئے، خود سے سوال کریں, کیا یہ چیز یا یہ شخص میری زندگی کے اصل مقصد کے لیے اتنا ہی ضروری ہے کہ اس کے لیے سب کچھ چھوڑ دوں؟
کیا یہ خواہش میری روح کو سکون دے گی یا صرف لمحاتی خوشی؟
کیا یہ چیز میرے مقصد میں اضافہ کرے گی یا مجھے راستے سے بھٹکائے گی؟
یقین کریں، ہر سوال کا جواب آپ کے دل میں پہلے سے موجود ہے۔ صرف ایک لمحے کے لیے رکنا اور سوچنا ضروری ہے۔
اب میں وہ عملی طریقے بتاتا ہوں جن سے آپ اپنی زندگی کو ان خواہشات سے بچا سکتے ہیں۔
روزانہ خود کو یاد دلائیں کہ آپ کا مقصد کیا ہے۔ ایک ڈائری میں لکھیں اور ہر دن اس پر نظر ڈالیں۔ جب مقصد سامنے ہوگا تو خواہشات کی کشش کم ہو جائے گی۔
اپنے دل کو سمجھائیں کہ ہر خواہش ضرورت نہیں ہوتی۔ نئے کپڑے، نیا فون، یا کسی خاص شخص کی توجہ… یہ سب وقتی چیزیں ہیں۔ ضرورت صرف وہ ہے جو آپ کی زندگی کو سنوارے اور آپ کے مقصد کے قریب کرے۔
جو کچھ اللہ نے دیا ہے اس پر شکر کریں۔ جب آپ دل سے شکر ادا کرتے ہیں تو غیر ضروری خواہشات کا زور ٹوٹ جاتا ہے۔ شکرگزاری دل کو خوش اور سکون میں رکھتی ہے۔
ہماری سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کا دوسروں سے موازنہ کرتے ہیں۔ فلاں کے پاس یہ ہے، فلاں کے پاس وہ ہے… تو مجھے بھی چاہیے۔ نہیں! اپنے آپ سے مقابلہ کریں، کل آپ کہاں تھے اور آج کہاں ہیں۔
غیر ضروری خواہشات زیادہ تر وقت ضائع کرتی ہیں۔ اگر آپ کو لگے کہ کوئی خواہش آپ کا وقت لے رہی ہے، فوراً رک جائیں۔ وقت ایک بار چلا جائے تو واپس نہیں آتا۔
اگر آپ ایسے لوگوں میں رہتے ہیں جو ہمیشہ دکھاوا کرتے ہیں، ہر وقت چیزوں کی بات کرتے ہیں، تو آپ بھی متاثر ہوں گے۔ اپنے اردگرد کا حلقہ بدلیں۔ ایسے لوگوں کے قریب رہیں جو مقصد والے ہوں، جو مثبت بات کریں۔
یاد رکھیں ہر خواہش پوری نہیں ہوگی
یہ کائنات اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ بعض خواہشیں پوری نہ ہونا بھی ایک رحمت ہے۔ ہم اکثر بعد میں سمجھتے ہیں کہ جو نہیں ملا وہ ہمارے لیے بہتر تھا۔
سب سے بڑا سکون یہ ہے کہ ہم اللہ پر یقین رکھیں۔ وہ جانتا ہے ہمارے لیے کیا بہتر ہے۔ ہر دعا قبول ہو یہ ضروری نہیں، لیکن ہر دعا کا جواب ضرور آتا ہے۔
میں نے ایک ماں کو دیکھا، جس کے بیٹے نے ضد کی کہ اسے مہنگی بائیک چاہیے۔ ماں نے گھر کے برتن تک بیچ ڈالے تاکہ بیٹے کو خوش کر سکے۔ بائیک تو آ گئی، مگر چند دن بعد وہی بیٹا ایک حادثے میں جان سے گیا۔ اس دن میں نے سوچا، اگر ماں نے بیٹے کو سمجھایا ہوتا کہ غیر ضروری خواہشات زندگی سے قیمتی نہیں ہوتیں، تو شاید آج کہانی مختلف ہوتی۔
اسی طرح میں نے ایک غریب لڑکے کو دیکھا جو اپنے دوستوں کو دیکھ کر نئی چیزوں کی خواہش میں جلتا رہتا تھا۔ لیکن جب اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی تعلیم پر توجہ دے گا، محنت کرے گا، اور وقت ضائع نہیں کرے گا، تو چند سال بعد وہ اپنی کلاس کا سب سےکامیاب بن گیا۔
اصل سکون چیزوں یا غیر ضروری خواہشات میں نہیں، بلکہ مقصد، قناعت اور اللہ پر یقین میں ہے۔
جب آپ دل سے مان لیں گے کہ اللہ نے جو دیا ہے وہی بہترین ہے، تب خواہشات کے جال ٹوٹنے لگیں گے۔
یاد رکھیں خواہشات کبھی ختم نہیں ہوتیں۔ جو آج چاہتے ہیں، کل مل جائے تو کوئی اور چیز دل میں گھر کر لے گی۔ لیکن جس نے اپنا مقصد پکڑ لیا، اس کی نظر چھوٹی چھوٹی چیزوں پر نہیں جاتی۔
اب میں آپ کو ایک اپنا ذاتی طریقہ بتاتا ہوں جو آپ کی پوری زندگی بدل کر رکھ دے گا۔
جب بھی آپ کو کسی چیز کی طرف کشش یا خواہش محسوس ہو، تو بس اپنے دِل سے ایک دعا مانگیں۔ بہت سادگی سے، مگر پوری یقین کے ساتھ کہیں "اے اللہ! اگر یہ چیز میرے لیے اور میری آخرت کے لیے بہتر ہے، تو مجھے عطا فرما دے۔ اور اگر یہ چیز میرے لیے اور میری آخرت کے لیے بہتر نہیں ہے، تو پھر اپنی رحمت سے مجھے اس سے کہیں بہتر عطا فرما دے۔ آمین!"
اور یہ دعا مانگنے کے بعد تین بار شکر ادا کریں
شُکر ہے میرے پروردگار کا، شُکر ہے میرے پروردگار کا، شُکر ہے میرے پروردگار کا!
یقین کریں! اس عمل سے آپ کو ایک ایسا سکون، ایک ایسی راحت ملے گی کہ آپ حیران رہ جائیں گے۔ پھر آپ خود دیکھیں گے کہ کیسے آپ کی زندگی میں معجزے ہوتے ہیں اور اللہ کی طرف سے بہترین چیزیں آپ کی طرف کھنچی چلی آتی ہیں۔
یہ دعا صرف الفاظ نہیں، یہ دِل کا وہ بھروسہ ہے جو آپ کو کبھی ٹوٹنے نہیں دے گا۔
اور آخر میں، میں یہی کہوں گا اگر آپ اپنی زندگی کو سکون، خوشی اور کامیابی سے بھرنا چاہتے ہیں تو غیر ضروری خواہشات کے جال سے باہر نکلیں۔ اپنی آنکھوں کو مقصد کی روشنی سے منور کریں۔ اپنے دل کو شکرگزاری سے بھر دیں۔ اور اپنے قدموں کو اللہ کے بھروسے پر آگے بڑھائیں۔
Well said 😄
جواب دیںحذف کریںBeshak Dilo ko sakoon Allah pak ki yad sa hi mil sakta hai
جواب دیںحذف کریںDuniya ka pichy jitna bhi bag lyn besakoon or bechaini ka siwa kuch ni mil sakta ha
السلام علیکم
جواب دیںحذف کریںآج آپ کا کالم مخلوق کی زندگی بدلنے کیلئے کافی ھے
جواب دیںحذف کریںجاوید صاح آپ نے لکھا کہ غیر ضروری خواہشات
میرے کہنا چاہتا ہوں کہ زندگی گزارنے کیلئے زندہ رہنے کیلئے
خواہش ہونی چاہئے کیوں کہ انسان کو واپس جانا ھے آگ میں یا باغ میں پھر وہی رہنا ہے سب کو معلوم ہے کہ آخر مرنا ہے
اس کے باوجود ہماری خواہشیں اختتام پزیر نہیں ہوتی
آسائشیں سب عارضی ہیں لیکن کون سوچتا ہے دنیا کی لذتوں میں ہم محسور ہوکر رہ گئے ہیں
اے میرے پرور دگار ہمیں دنیاوی لذتوں کی خواہشوں سے محفوظ رکھ
آپ نے یو کالم لکھ کر ھم سب کی اصلاح کی ہے اللہ رب العزت آپ کو جزاۓ خیر عطا کرے آمین یا رب العالمین
Wow sir such a nice column we all need this
جواب دیںحذف کریںYeh bat dil pyagi k jo chez mery haq ma behtar ha wo ata kry or jo chez nahi os sy behtar ata kry or sb sy bhar kr sabar dy
Ku k Allah ny khud kaha sabar kro ma behtareen ata kro ga
MashaAllah MashaAllah sir great column same like you♥️⭐
Jazak Allah*
جواب دیںحذف کریں