میں کیوں سوری بولوں؟
میں کیوں سوری بولوں؟
کالم از: سر جاوید بشیر
میں نے بچپن میں سنا تھا، "غلطی انسان سے ہی ہوتی ہے۔" مگر یہ بات ادھوری تھی۔
اصل جملہ یوں ہونا چاہیے تھا، "غلطی انسان سے ہوتی ہے، اور عظمت اُس انسان کی ہوتی ہے جو اپنی غلطی مان لیتا ہے۔"
یہ حقیقت ہے کہ کوئی بھی انسان غلطی سے پاک نہیں۔
مگر اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ہم غلطیاں کرتے ہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنی غلطی کو تسلیم نہیں کرتے۔
ہم اپنی انا، ضد اور خود پسندی کے قیدی بن کر رہ جاتے ہیں۔
اور یہی ضد یہی انا ہماری زندگیاں برباد کر دیتی ہے،ہمارے رشتے توڑ دیتی ہے، اور ہمارے دلوں کو سخت کر دیتی ہے۔
یہ دنیا صرف "سوری" نہ کہنے کی وجہ سے
ویران دلوں اور ٹوٹے رشتوں سے بھری پڑی ہے۔
ہزاروں گھروں کی دیواروں میں آج بھی
ایک نہ کہا گیا “سوری” گونج رہا ہے۔
یہ وہ لفظ ہے جو بول دیا جاتا تو شاید نہ کوئی گھر ٹوٹتا،نہ کوئی دل اداس ہوتا، نہ کوئی آنکھ نم رہتی۔
“سوری” ایک چھوٹا سا لفظ ہے، لیکن اس میں بے پناہ طاقت ہے۔
“سوری” صرف پانچ حروف کا لفظ ہے، لیکن اس کے اندر انسانی رشتوں کو زندہ کرنے کی طاقت ہے۔ یہ زخموں پر مرہم رکھتا ہے، یہ دلوں کو نرم کرتا ہے، یہ فاصلے مٹاتا ہے، اور سب سے بڑھ کر یہ انا کو توڑتا ہے۔
مگر ہم یہ لفظ بولنے سے کیوں گھبراتے ہیں؟ کیوں ہمیں لگتا ہے کہ “سوری” بولنے سے ہماری عزت کم ہو جائے گی؟
کیا معافی مانگنا واقعی کمزوری ہے؟
یا یہ ہمارے اندر چھپی ہوئی جھوٹی انا کا نتیجہ ہے؟
ہم میں سے اکثر لوگ اس لیے “سوری” نہیں کہتے کیونکہ ہمیں اپنی انا سے بہت محبت ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے معافی مانگ لی
تو ہم ہار جائیں گے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ
“سوری” کہنے والا کبھی نہیں ہارتا، وہ جیت جاتا ہے، دلوں کو جیت لیتا ہے۔
یہی انا ہے جو شوہروں کو بیوی سے “سوری” بولنے سے روکتی ہے،
یہی انا ہے جو بیوی کو اپنے شوہر کے سامنے نرم نہیں ہونے دیتی،
یہی انا ہے جو والدین اور اولاد کے درمیان فاصلہ بڑھاتی ہے۔
ہم سب اپنے دل میں جانتے ہیں کہ غلطی ہماری تھی، مگر ہم “میں کیوں سوری بولوں؟” کے شکنجے میں پھنسے رہتے ہیں۔
ہمارے گھروں میں، ہمارے تعلیمی اداروں میں
بچوں کو یہ نہیں سکھایا جاتا کہ غلطی ماننا بہادری ہے۔ بلکہ ہمیں یہ سکھایا جاتا ہے کہ
“ہمیشہ اپنی بات پر ڈٹے رہو” چاہے وہ بات غلط ہی کیوں نہ ہو۔
یہی ضد، یہی تربیت وقت کے ساتھ انا میں بدل جاتی ہے۔ اور پھر ہم بڑے ہو کر “سوری” سے دور ہو جاتے ہیں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے “سوری” کہہ دیا
تو سامنے والا جیت جائے گا۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ رشتہ کوئی جنگ نہیں ہوتا جہاں ایک جیتے اور دوسرا ہارے۔ رشتہ وہ بندھن ہے جہاں دونوں کی جیت ہوتی ہے۔
بعض لوگ “سوری” اس لیے نہیں بولتے
کیونکہ وہ اندر ہی اندر دوسرے سے ناراضی پال لیتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ اگر وہ معافی مانگ لیں گے تو ان کے اندر کا غصہ ختم ہو جائے گا۔ اور شاید وہ یہی نہیں چاہتے۔ وہ اپنی “خاموش دشمنی” سے ایک عجیب سا سکون محسوس کرتے ہیں، جو دراصل ان کے دل کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہوتا ہے۔
“سوری” بولنا کمزوری نہیں، یہ تو اپنی انا کو شکست دینے کا سب سے خوبصورت عمل ہے۔
جو شخص اپنی غلطی مان لیتا ہے، وہ دراصل اپنے اندر کے بڑے پن کا ثبوت دیتا ہے۔
حضرت علی کا قول ہے:
"جو اپنی غلطی تسلیم کر لیتا ہے،
اللہ تعالیٰ اس کی عزت میں اضافہ فرما دیتا ہے۔"
سوچئے، اگر “سوری” کہنے سے
آپ کی عزت اللہ کے نزدیک بڑھتی ہے، تو پھر یہ لفظ نہ کہنے کی وجہ کیا ہے؟
جب آپ “سوری” کہتے ہیں، تو آپ صرف دوسروں کو سکون نہیں دیتے، بلکہ آپ خود کو بھی آزاد کرتے ہیں۔ دل میں جو بوجھ، جو گِلہ، جو شرمندگی بیٹھ جاتی ہے، وہ ایک سچے “سوری” سے ختم ہو جاتی ہے۔
“سوری” صرف زبان سے نہیں، دل سے نکلنی چاہیے۔ یہ لفظ جب خلوص کے ساتھ بولا جاتا ہے، تو سامنے والا چاہے کتنا ہی سخت دل کیوں نہ ہو، پگھل جاتا ہے۔
خلوص سے بولیں، “مجھے افسوس ہے کہ میری بات سے آپ کو دکھ پہنچا”
“مجھے احساس ہے کہ میری حرکت سے آپ کو تکلیف ہوئی۔”
یہ کہنا کہ “میں آئندہ خیال رکھوں گا”
بڑا اعتماد پیدا کرتا ہے۔ یہ رشتہ دوبارہ مضبوط کر دیتا ہے۔
ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں لوگ جھگڑنے میں جلدی کرتے ہیں مگر ماننے میں نہیں۔ ہم چھوٹی باتوں کو انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔
دو بھائی جھگڑے میں برسوں ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے۔
پڑوسی ایک دیوار کے سائے پر دشمن بن جاتے ہیں۔
خاوند بیوی سے معمولی بات پر الگ رہنے لگتا ہے۔ اولاد والدین سے رنجیدہ ہو جاتی ہے،
اور والدین بیٹے یا بیٹی سے بات چیت ختم کر دیتے ہیں۔ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ان تمام رشتوں میں صرف ایک لفظ سب کچھ بدل سکتا تھا ، “سوری”
دوسروں کو معاف کرنے والا، اور اپنی غلطی پر جھکنے والا، اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے دل میں نرم گوشہ رکھتے ہیں، جو دوسروں کی تکلیف کو سمجھتے ہیں۔
میں نے خود دیکھا ہے، ایک شخص جو برسوں اپنی ماں سے ناراض رہا، صرف ایک چھوٹی سی بات پر۔
ماں دنیا سے چلی گئی،
اور بیٹا آج بھی قبر پر جا کر روتا ہے۔
وہ کہتا ہے: “کاش میں ایک بار کہہ دیتا امی، سوری۔”
یہ لفظ اب اس کے دل میں دفن ہو چکا ہے،
اور شاید قیامت تک اسے سکون نہ ملے۔
ایک لمحہ سوچئے…
کیا آپ کے دل میں کوئی ایسا شخص نہیں
جسے آپ نے تکلیف پہنچائی ہو؟
کوئی ایسا رشتہ نہیں جو آپ کی خاموشی کی وجہ سے دور ہو گیا ہو؟
آپ کے پاس اب بھی وقت ہےکہ آپ جا کر کہہ سکیں "مجھے افسوس ہے، میں نے غلطی کی تھی۔"
کیونکہ "سوری" کہنے میں دیر کر دینے سے
کبھی کبھی پوری زندگی پچھتاوا بن جاتی ہے۔
زندگی بہت مختصر ہے۔ رنجشوں، ضدوں اور انا میں اسے ضائع نہ کریں۔
آج جسے آپ ناراض چھوڑ رہے ہیں، شاید کل وہ دنیا میں نہ ہو، یا آپ نہ رہیں۔ “سوری” کہنے سے نہ صرف آپ رشتہ بچاتے ہیں، بلکہ اپنی روح کو بھی سکون دیتے ہیں۔
اللہ ہمیں وہ بڑا دل عطا فرمائے جو غلطی پر جھکنا جانتا ہو اور دوسروں کو معاف کرنا بھی۔
یاد رکھیں، “سوری” کہنا آپ کو چھوٹا نہیں کرتا، یہ آپ کو عظیم بنا دیتا ہے۔ جو “سوری” کہتا ہے، وہ کبھی نہیں ہارتا، وہ جیتتا ہے، دل اور رب دونوں۔
میں آپ سے ایک بات دل سے کہتا ہوں،
اگر آج آپ کے دل میں کسی کے لیے ناراضی ہے،
اگر آپ نے کسی کو دکھ دیا ہے، اگر آپ جانتے ہیں کہ آپ نے زیادتی کی تھی،
تو ابھی، اسی وقت، فون اٹھائیں،
یا جا کر اس کے سامنے بیٹھ جائیں، اور کہیں،
"مجھے افسوس ہے۔ میری غلطی تھی۔" آپ دیکھیں گے، سامنے والا حیران رہ جائے گا۔
پھر اس کےدل میں نرمی آ جائے گی۔
پھر آپ دونوں کے بیچ وہ
خاموشی ٹوٹ جائے گی جو سالوں سے بولنے نہیں رہی تھی۔
یہی لمحہ اصل زندگی ہے۔
یہی لمحہ اصل جیت ہے۔
السلام علیکم
جواب دیںحذف کریںماشااللہ جاوید صاحب آپ نے دلوں کو جوڑنے کیلئے کمال کر دیا
آپ کا ہر لفظ ہمیں جھکنے کا درس دے رہا ھے جیسی آپ نے لفظوں کے ساتھ عکاسی کی ھے اس کے بعد کوئی وجہ نہیں رہتی کہ وہ سوری نہ بولے
سراہی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ
مطلب جس برتن میں پانی ہوتا ہے پینے کیلئے اس کو جھکایا جاتا ہے
تو پیاسا سراب ہوتا ہے
ہمیں اپنی جھوٹی انا کے خول سے نکلنا ہوگا خوش و خرم زندگی گزارنے کیلئے
ورنہ پچھتاوہ ہمارا مقدر بن جاۓ گا
اور محروم زندگی گزارنے پر مجبور ہوجائنگے عاجزی رب کائنات کو بہت پسند ہے یہی وہ عمل ہے رب کو رب اور بندے کو بندے کا فرق بتاتا ہے کیوں خالق کائنات عاجز نہیں ہےسب بڑأئیاں اسی کیلئے ہیں
اللہ کے حضور ہماری بہت عزت ہے اگر ہم انا سے پاک ہیں تو ورنہ ھم زیادہ تر شیطان کے پیرو کار ہیں کیوں کہ شیطان ہی ہمیں اکڑنے کا درس دیتا ہے
اللہ رب العزت ہمیں شیطان کے شر سے محفوظ رکھے
اور ایک دوسرے کی غلطیوں کو نظرانداز کرنے کی توفیق عطا فرماۓ
اور اپنی غلطی پر سوری کہنے میں ہم عار محسوس نہ کریں
آمین یا رب العالمین
Yes sir g today no one is happy in its life due to selfishness it is eating the love of parents siblings or husband and wife , they can leave someone make some bad words for someone but don't want to say sorry 😐
جواب دیںحذف کریںToday where we see the hearta are full of hate even they are siblings or husband and wife,
This selfishness is making our youth aggressive it's becoming obstinate; but where it's going no one Knows about it, that's why our youth is aim less 🥹
A student can raise the hand on the teacher for its selfishness but doesn't want to say sorry 😔 now, where we are standing everyone can see 🥺
Our beloved prophet Hazrat Muhammad said:
"If apologizing diminishes your honor, then take it from me on the Day of Judgment"
So what to remain.....
These are not words these are lesson for us the proud for us,that we become upper not less.
We need to say sorry whatever it's our mistake or not then see the results in your life.
I want to praise you also sir g you don't think, that it is younger than me you always use the words "sorry and thank you 😊"
I also learnt these words from you that "sorry"doesn't make us less than others, rather it increases our respect 😊
Sorry is a most powerful word it has a power to heal emotional wounds
جواب دیںحذف کریںYou choose a great topic for us thank you so much
Maafi mangna sa koi chota bara nahi hota izaat ur zilat dono Allah ka hath ma hain yahan duniya ki izaat ko dakhta howa hama maafi mangna sa nahi kabhrna chahiya kiyka asal izaat to wo ha jo allah ka samna ho . Allah ham sabko ya column prhna ur sae smjhna ki toofiq da . Allah sir javed sa razi ho ur un sab sa jo maafi mangna ma hi khush hota hain .sir meri aik request ha ap is cheez pr likha ka hama kisi ka khelona nahi bnana chahiya ka koi bhi hama dosti ki ya mohabat ki kasm da ka galat kam bhi krwa ly jis sa kisi ka dil toot jaye Shukriya hama sirf is baat ko smjh jaye ka dil allah ka ghr ha to kabhi kisika dil hi na torein.
جواب دیںحذف کریںExcellent topic. We don't matter what we do .our words hurt others?our behavior,our face expression .in this Era we only enjoy our lives,make fun other ,taunt others but don't use the word sorry.We think its just a fun.we should avoid these things and if someone hurts from our be behavior,say sorry in a good manner. We all do mistakes ,its good to accept our mistake and say sorry.
جواب دیںحذف کریںWow wow wow sir mazydaar topic
جواب دیںحذف کریںReally our surrounding people thaught if I'll say sorry then I'll make less from others
But people didn't understand this it's a smallest word can heal another heart can make someone happy can create love in the other heart can make a smile on other face
Allah pak loves that person who says sorry
Sir g when i came your academy i taught one thing from you
No matter who's elder or younger you said sorry and thank you always in a single in a smallest things
And i made it my habit to say thank you and sorry in every condition
Sometimes same like i started to say sorry of my attitude why always i say
Now other person say this to me
But from now I'll Always use this
Sir g you're great person
Tusiii great oo jiii tada koi mukabla nai⭐♥️
My super Daddy ♥️💫