اشاعتیں

دسمبر, 2025 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

روحانیت کا سفر 19

  روحانیت کا سفر 19 کالم از: سر جاوید بشیر  ہم اکثر خود کو تنہا محسوس کرتے ہیں، ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے ساتھ ہی ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ کیوں ہماری قسمت میں ہی اتنے دکھ لکھے ہیں؟ یہ وہ سوال ہیں جو اس وقت دل کے اندر اٹھتے ہیں جب انسان اس مقام پر پہنچ جاتا ہے، جب اس کے پاس کھونے کو کچھ نہیں بچتا، جب زمین اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود تنگ ہو جاتی ہے، اور جب آسمان کی طرف دیکھ کر صرف ایک ہی سوال لبوں پر آتا ہے: "یا اللہ! کیا میں اکیلا رہ گیا ہوں؟" میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا۔ میری زندگی کا وہ سیاہ ترین باب، وہ ٹراما (Trauma) جس نے میری روح کی دھجیاں اڑا دی تھیں، وہ میری شریکِ حیات، میری زندگی کی ساتھی کی رخصتی تھی۔ صرف 32 سال کی عمر میں، کینسر جیسی موذی بیماری سے لڑتے لڑتے، وہ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملی۔ تصور کیجیے! وہ انسان جس کے ساتھ آپ نے زندگی کے ہزاروں خواب دیکھے ہوں، جس کے ساتھ آپ نے اپنے کل کی تصویر بنائی ہو، وہ آپ کے ہاتھوں میں دم توڑ دے۔ وہ 32 سال کی وہ کلی جسے ابھی کھلنا تھا، جس نے ابھی دنیا دیکھنی تھی، وہ مرجھا کر مٹی تلے جا سوئے۔ اس وقت میں کیا تھا؟ میں ایک زندہ لاش تھ...

قائد کا خط 2

  قائد کا خط 2 کالم از: سر جاوید بشیر آج 25 دسمبر ہے۔ آج میرا یومِ پیدائش ہے۔ میں کیک کاٹنے، نعرے سننے یا تصویروں میں مسکرانے کے لیے آپ کے سامنے نہیں آیا۔ میں آج آپ کے ضمیر کے سامنے کھڑا ہوں۔ میں آج آپ کے دل کے دروازے پر دستک دینے آیا ہوں۔ آج اگر میں زندہ ہوتا تو شاید کوئی اسٹیج مجھے مبارک باد دینے کے لیے سجاتا، مگر میں اس اسٹیج پر کھڑا ہو کر آپ سے ایک ہی سوال پوچھتا: کیا آپ وہ پاکستانی بن سکے جس کا وعدہ آپ نے اپنے شہیدوں سے کیا تھا؟ میں نے آنکھ ایک ایسے گھر میں کھولی جہاں نظم و ضبط، سچ اور قانون عبادت سمجھے جاتے تھے۔ میری ماں نے مجھے سکھایا کہ عزت دولت سے نہیں، کردار سے آتی ہے۔ میرے باپ نے مجھے بتایا کہ وعدہ وہ قرض ہے جو پوری قوم پر بوجھ بن جاتا ہے اگر ادا نہ ہو۔ اسی تربیت نے مجھے محمد علی جناح بنایا، ورنہ اس مٹی میں میرے جیسے ہزار بچے پیدا ہوئے تھے۔ فرق صرف نیت اور نظم کا تھا۔ میں نے اپنی زندگی کے قیمتی سال لندن میں گزارے۔ میں نے وہاں یہ سیکھا کہ قومیں جذبات سے نہیں، اصولوں سے چلتی ہیں۔ میں نے دیکھا کہ وہاں قانون کمزور کی ڈھال ہوتا ہے اور طاقتور کی زنجیر۔ اسی لیے جب میں واپس آیا...

غلط راستے اور پچھتاوے 3

 غلط راستے اور پچھتاوے 3 کالم از: سر جاوید بشیر اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے مجھے تدریس کے مقدس پیشے سے نوازا۔ تقریباً بیس برس ہو گئے، کلاس روم کی خوشبو میرے وجود میں رچ بس گئی ہے۔ میں نے تین نسلیں دیکھیں، تین زمانے دیکھے۔ پہلی نسل جو میرے سامنے بیٹھتی تھی، اس کی آنکھوں میں کتابوں کی پیاس تھی۔ دوسری نسل کے ہاتھوں میں موبائل فون آیا، توجہ تھوڑی بٹی مگر دل میں عزت تھی۔ مگر آج کی یہ تیسری نسل۔۔۔ میری آنکھیں دیکھتی ہیں اور میرا دل اداس ہو جاتا ہے۔ آج کا کالم نوحہ ہے۔ یہ وہ نوحہ ہے جو ہر اس پاکستانی کے دل سے نکل رہا ہے جو اپنی جوان نسل کو ایک ایسی اندھی کھائی میں گرتے دیکھ رہا ہے، جہاں سے واپسی کا راستہ ہر گزرتے دن کے ساتھ دھندلا ہوتا جا رہا ہے۔ میں آج تیسری نسل کو پڑھا رہا ہوں۔ میں نے بہت کچھ بدلتے دیکھا ہے، اور یقین مانیے، یہ نسل بہت آگے جا سکتی تھی، بہت کچھ کر سکتی تھی، لیکن آج کے دور میں ان کے دو مسئلے ہیں، میں کافی عرصے سے ان باتوں پر سوچ رہا تھا، لیکن کچھ ایسے واقعات نے مجھے فوراً لکھنے پر مجبور کر دیا، کہ میں مزید خاموش نہیں رہ سکا۔ ہم نے اپنے بچوں کی آنکھوں میں مستقبل کے خو...

روحانیت کا سفر 18

 روحانیت کا سفر 18 کالم از: سر جاوید بشیر الحمد للہ، آج میرے روحانیت کے سفر کا یہ اٹھارہواں کالم ہے، اور آج ہم اس سفر میں وہ چراغ جلانے والے ہیں جو ہماری زندگیوں کو نور سے بھر دے گا۔ مجھے معلوم ہے، ، کہ آپ کا دن کیسا گزرا ہوگا۔ میں جانتا ہوں کہ ، جب آپ بس کے پیچھے بھاگتے ہیں، تو آپ کے قدموں میں کتنی تھکن اتر آتی ہے۔ میں اس احساس سے بھی واقف ہوں جب بجلی کا بھاری بل آپ کے ہاتھ میں آتا ہے، اور جیب کا خالی پن آپ کے سینے میں ایک عجیب سی گھٹن بھر دیتا ہے۔ میں اس ماں کے کرب کو بھی محسوس کر سکتا ہوں جو سارا دن کچن کے دھویں اور بچوں کے شور میں خود کو بھول جاتی ہے، اور جب شام کو تھکی ہاری آئینے میں دیکھتی ہے، تو اسے اپنی آنکھوں میں صرف تھکن اور بے بسی نظر آتی ہے لیکن روحانیت سب کچھ بدل سکتی ہے۔ روحانیت کا سفر کسی پہاڑ پر جا کر بیٹھنے کا نام نہیں۔ یہ سفر کسی مخصوص لباس یا الفاظ کا محتاج نہیں۔ یہ سفر تو اسی گلی سے شروع ہوتا ہے جہاں آپ رہتے ہیں۔ اسی کمرے سے شروع ہوتا ہے جہاں آپ تھکے ہارے بیٹھتے ہیں۔ اسی دل سے شروع ہوتا ہے جہاں اکثر سوال اٹھتا ہے کہ کیا بس یہی زندگی ہے۔ پاکستانی معاشرے میں ایک ع...

غلط راستے اور پچھتاوے 2

 غلط راستے اور پچھتاوے2 کالم از: سر جاوید بشیر میں جب آج کے نوجوان کو دیکھتا ہوں تو دل بوجھل ہو جاتا ہے۔ میں اُن ماں باپ کے چہرے دیکھتا ہوں جو خاموشی سے اپنی اولاد کے لیے جیتے ہیں، اور اُن بچوں کو دیکھتا ہوں جو لاشعوری طور پر اپنی زندگی کا قتل کر رہے ہیں۔ میں یہ کالم کسی کو ڈرانے کے لیے نہیں لکھ رہا، میں یہ کالم اس لیے لکھ رہا ہوں کہ شاید یہ الفاظ کسی ایک دل تک پہنچ جائیں، اور وہ دل اپنی سمت بدل لے۔ ہم ایک ایسی قوم بن چکے ہیں جہاں جوانی حسرت بن رہی ہے۔ جہاں پچیس سال کی عمر میں انسان اندر سے تھک جاتا ہے۔ جہاں تیس سال کا نوجوان کہتا ہے کاش میں نے اُس وقت کو ضائع نہ کیا ہوتا۔ اور سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ ہم اس پچھتاوے کو قسمت کا نام دے دیتے ہیں، حالانکہ یہ قسمت نہیں، ہماری اپنی غلطیوں کا نتیجہ ہوتا ہے۔ میں اپنی زندگی کے برسوں کے تجربے کے بعد پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ پاکستانی نوجوان چار بڑی خاموش غلطیاں کر رہا ہے۔ یہ غلطیاں چیختی نہیں ہیں، یہ آہستہ آہستہ انسان کو اندر سے کھا جاتی ہیں۔ اور جب انسان کو احساس ہوتا ہے تو بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ سب سے پہلی غلطی وقت کا بے رحمانہ ضیاع ہ...

روحانیت کا سفر 17

 روحانیت کا سفر 17 کالم از: سر جاوید بشیر  اللہ کا کرم ہے کہ آج میں روحانیت کے اس سفر میں ایک اور قدم بڑھا رہا ہوں۔ یہ میرا سترھواں کالم ہے، اور آج ہم ایک ایسے موضوع پر بات کریں گے جو ہم سب کی زندگیوں میں گہرا اثر ڈالتا ہے۔ یہ وہ خاموش دشمن ہے جو ہمیں اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔ کیا آپ نے کبھی ایسا محسوس کیا ہے کہ آپ جسمانی طور پر تو بالکل آزاد ہیں، پر آپ کا دل و دماغ جیسے کسی انجانی زنجیر میں جکڑا ہوا ہو؟ یہ احساس بہت عام ہے، خاص طور پر آج کی تیز رفتار زندگی میں۔ آج میں آپ کو ایک ایسے دشمن کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں جو گناہ سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ دشمن ہمیں براہِ راست گناہ کی طرف نہیں لے جاتا، بلکہ یہ ہمیں مسلسل بے چینی، شک اور شرمندگی کے ایک ایسے دلدل میں دھکیلتا رہتا ہے کہ ہم خود ہی اللہ کی رحمت سے بھاگنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس اندیکھے دشمن کا نام ہے: وَسوَسَہ۔ یہ وسوسہ ہے کیا؟ یہ وہ نہ رکنے والا، مسلسل آنے والا خیال ہے جو ہماری مرضی کے خلاف، ہماری اجازت کے بغیر ہمارے ذہن میں داخل ہو جاتا ہے۔ یہ ہمارے دل و دماغ میں ایسی جڑیں پکڑ لیتا ہے کہ ہماری روحانی ترقی، ہ...

روحانیت کا سفر 16

  کالم از: سر جاوید بشیر روحانیت کا سفر 16 الحمدللہ! آج میرا روحانیت کے سفر پر 16 واں کالم ہے، آج میں روحانیت کی اس چابی کا ذکر کروں گا جو آپ کے سکون کے دروازے کھولتی چلی جائے گی اور آپ کا روحانیت کا سفر آسان سے آسان تر ہوتا چلا جائے گا. یہ کنجی ہے گناہ کا اعتراف، شیطان کے خلاف سب سے پر اثر ہتھیار...  کیا کبھی آپ نے محسوس کیا ہے کہ آپ کے دل پر کوئی بہت بھاری چیز رکھی ہوئی ہے؟ وہ صرف جسمانی تھکن نہیں، یہ کچھ اور ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب آپ دوستوں میں بیٹھے ہوتے ہیں، ہنسی مذاق کا ماحول ہوتا ہے، مگر اندر کہیں ایک کونے میں ایک چُبھن سی محسوس ہوتی ہے۔ شاید کوئی ایسی بات جو آپ نے کی ہو، یا کسی سے کہی ہو، جو آپ کو آج بھی اندر ہی اندر بے چین کر رہی ہے۔ کبھی ایسا ہوا ہے کہ رات کی نیند اچانک کسی پرانی یاد سے ٹوٹ گئی ہو، کوئی ایسا گناہ، کوئی ایسی غلطی جو آپ نے اپنے اندر چھپا رکھی ہو، جس کا خیال آتے ہی آپ کا دل بیٹھ جاتا ہو؟ یہ جو بوجھ آپ محسوس کرتے ہیں، یہ کوئی پتھر یا پہاڑ نہیں ہے۔ یہ دراصل آپ کے گناہ ہیں۔ یہ وہ غلطیاں ہیں جو میں نے، اور آپ نے، سب سے چھپا کر کی ہیں۔ ہم دنیا کے سامنے تو...

طلاق کا افسوس

طلاق کا افسوس  کالم از: سر جاوید بشیر میرا دوست میرے سامنے کھڑا تھا۔ وہ بتا رہا تھا کہ نادانی میں، غصے کی حالت میں، اُس نے اپنی بیوی کو دو مرتبہ طلاق کے الفاظ کہہ ڈالے ہیں۔ اُس کی آنکھوں میں خوف، شرمندگی اور بے بسی تھی۔  میں نے اُسے فوراً کہا کہ بھائی! فوراً کسی اہلِ علم، کسی مستند مفتی یا عالم سے رابطہ کرو۔ تمہارا مسئلہ اب صرف پریشانی نہیں، یہ ایک دینی اور قانونی مسئلہ بن چکا ہے۔ میرے دوست نے پوچھا: "اب کیا ہو گا؟" میں نےاُسے بتایا کہ دو طلاقوں کے بعد اگر رجوع (واپس لانا) کرنا ہو تو شرعی طور پر نکاح دوبارہ کرنا پڑتا ہے، اور یہ دوسری شادی ہو گی۔ میں نے اُسے یہ تلخ حقیقت بھی بتائی کہ اب اُس کے پاس صرف ایک طلاق کا حق باقی رہ گیا ہے یعنی، اب اُس کی زندگی ہمیشہ ایک باریک دھاگے پر لٹکی رہے گی، جہاں تیسرا اور آخری لفظ بولا گیا تو حلالہ کے خوفناک چکر میں داخل ہونا پڑے گا۔   اُس کی حالت دیکھ کر میرا دِل تکلیف سے بھر گیا۔ یہ سب کچھ کیوں ہوا؟ صرف ایک وجہ سے، لاعلمی کی وجہ سے! دنیا میں بہت سے رشتے ہیں، مگر میاں بیوی کا رشتہ سب سے الگ، سب سے خوبصورت، اور سب سے مقدس ہے۔ یہ ایک خاندان ...