روحانیت کا سفر 19
روحانیت کا سفر 19 کالم از: سر جاوید بشیر ہم اکثر خود کو تنہا محسوس کرتے ہیں، ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے ساتھ ہی ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ کیوں ہماری قسمت میں ہی اتنے دکھ لکھے ہیں؟ یہ وہ سوال ہیں جو اس وقت دل کے اندر اٹھتے ہیں جب انسان اس مقام پر پہنچ جاتا ہے، جب اس کے پاس کھونے کو کچھ نہیں بچتا، جب زمین اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود تنگ ہو جاتی ہے، اور جب آسمان کی طرف دیکھ کر صرف ایک ہی سوال لبوں پر آتا ہے: "یا اللہ! کیا میں اکیلا رہ گیا ہوں؟" میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا۔ میری زندگی کا وہ سیاہ ترین باب، وہ ٹراما (Trauma) جس نے میری روح کی دھجیاں اڑا دی تھیں، وہ میری شریکِ حیات، میری زندگی کی ساتھی کی رخصتی تھی۔ صرف 32 سال کی عمر میں، کینسر جیسی موذی بیماری سے لڑتے لڑتے، وہ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملی۔ تصور کیجیے! وہ انسان جس کے ساتھ آپ نے زندگی کے ہزاروں خواب دیکھے ہوں، جس کے ساتھ آپ نے اپنے کل کی تصویر بنائی ہو، وہ آپ کے ہاتھوں میں دم توڑ دے۔ وہ 32 سال کی وہ کلی جسے ابھی کھلنا تھا، جس نے ابھی دنیا دیکھنی تھی، وہ مرجھا کر مٹی تلے جا سوئے۔ اس وقت میں کیا تھا؟ میں ایک زندہ لاش تھ...