طلاق کا افسوس

طلاق کا افسوس 

کالم از: سر جاوید بشیر


میرا دوست میرے سامنے کھڑا تھا۔ وہ بتا رہا تھا کہ نادانی میں، غصے کی حالت میں، اُس نے اپنی بیوی کو دو مرتبہ طلاق کے الفاظ کہہ ڈالے ہیں۔ اُس کی آنکھوں میں خوف، شرمندگی اور بے بسی تھی۔ 

میں نے اُسے فوراً کہا کہ بھائی! فوراً کسی اہلِ علم، کسی مستند مفتی یا عالم سے رابطہ کرو۔ تمہارا مسئلہ اب صرف پریشانی نہیں، یہ ایک دینی اور قانونی مسئلہ بن چکا ہے۔ میرے دوست نے پوچھا: "اب کیا ہو گا؟"

میں نےاُسے بتایا کہ دو طلاقوں کے بعد اگر رجوع (واپس لانا) کرنا ہو تو شرعی طور پر نکاح دوبارہ کرنا پڑتا ہے، اور یہ دوسری شادی ہو گی۔ میں نے اُسے یہ تلخ حقیقت بھی بتائی کہ اب اُس کے پاس صرف ایک طلاق کا حق باقی رہ گیا ہے یعنی، اب اُس کی زندگی ہمیشہ ایک باریک دھاگے پر لٹکی رہے گی، جہاں تیسرا اور آخری لفظ بولا گیا تو حلالہ کے خوفناک چکر میں داخل ہونا پڑے گا۔

 

اُس کی حالت دیکھ کر میرا دِل تکلیف سے بھر گیا۔ یہ سب کچھ کیوں ہوا؟ صرف ایک وجہ سے، لاعلمی کی وجہ سے!

دنیا میں بہت سے رشتے ہیں، مگر میاں بیوی کا رشتہ سب سے الگ، سب سے خوبصورت، اور سب سے مقدس ہے۔ یہ ایک خاندان کی بنیاد ہے، یہ گھر کی چھت ہے، اور یہ سکون کی پہلی دہلیز ہے۔ یہ رشتہ جتنا مضبوط ہے، یہ اُتنا ہی نازُک بھی ہے۔ یہ اتنا نازک ہے کہ اللہ کے آخری رسول ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے حلال کردہ امور میں سب سے ناپسندیدہ چیز طلاق ہے۔


میں نے اپنی زندگی میں بہت سےلوگوں کو دیکھا جنہوں نے غصے میں، یا محض اپنی انا کی تسکین کے لیے طلاق دے ڈالی، اور پھر ساری عمر ہاتھ مَلتے رہے، روتے رہے، اور ٹوٹے ہوئے خوابوں کے ملبے تلے دبے رہے۔ مگر کیا فائدہ؟ جب چڑیا چُگ گئی کھیت۔ ہمارا معاملہ ایسا ہے کہ ہم سونے کا برتن اٹھا کر اسے مٹی کا گلاس سمجھ کر زور سے پٹخ دیتے ہیں، اور جب ٹوٹ جاتا ہے تو کہتے ہیں: "اوہ! یہ تو بہت قیمتی تھا!"

 ہم پاکستانی معاشرے میں زندگی کے ہر معاملے میں ماہرِ کامل ہیں۔

ہمیں پتا ہے کہ امریکہ میں اگلا صدر کون بنے گا، ہمیں پتہ ہے کہ کرکٹ کی سٹریٹجی کیا ہونی چاہیے اور کپتان کو کس کو ٹیم سے نکالنا چاہیے، ہمیں پڑوسی کی آمدنی کا حساب اور اُس کے خرچوں کا بوجھ پتا ہے،

ہمیں سوشل میڈیا پر ہر بے معنی بحث کا آخری جواب معلوم ہے اور ہم پوری دنیا کو مشورے دیتے پھرتے ہیں۔

مگر کمال تو یہ ہے! ہمیں سب کچھ سکھایا جاتا ہے، سوائے کچھ بہت اہم معاملات کے، ہمیں یہ نہیں سکھایا جاتا کہ شادی شدہ زندگی کے وہ کون سے الفاظ ہیں جو میرا پورا گھر ایک سیکنڈ میں گرا سکتے ہیں!

ہم یہ سمجھ کر فارغ ہو جاتے ہیں کہ یہ معاملات صرف مولانا صاحب، مفتی صاحب یا وہ باریش لوگ جو مسجد میں بیٹھے ہیں، انہیں معلوم ہونے چاہئیں، اور ہم اس قانون سے آزاد ہیں۔

یہ سوچ بالکل غلط ہے! یہ کیسی غفلت ہے کہ ہم جس دھماکہ خیز مواد پر اپنا پورا گھر بنا رہے ہیں، ہمیں اس کی وارننگ لیبل پڑھنے کی بھی فرصت نہیں!

طلاق ایک ایسا بنیادی اور خطرناک مسئلہ ہے جس کے قوانین، اس کے الفاظ اور اس کے نتائج کا ہر شادی شدہ مسلمان مرد کو پتا ہونا فرض ہے! 

ہمارے معاشرے میں سب سے بڑا فساد ہے کہ لوگ طلاق کے تین الفاظ ایک ہی سانس میں بول کر خود کو عذاب میں ڈال لیتے ہیں۔

عوام الناس میں یہ غلط فہمی عام ہے کہ "تین بار کہنے سے طلاق پکی ہو جاتی ہے!" وہ سمجھتے ہیں کہ یہ کسی جادوئی منتر کی طرح ہے، کہ اگر ایک بار کہا تو شاید اثر کم ہو گا، اور تین بار کہا تو طاقت بڑھ جائے گی!

افسوس! ہماری نادانی پر! شرعی طور پر ایک بار واضح الفاظ میں طلاق کہہ دینا کافی تھا! لیکن ہماری غصے کی شدت اور لاعلمی نے ہمیں ایسا کیا کہ ہم نے خود ہی اپنے اوپر حرام ہونے کا دروازہ کھول دیا اور ہمیشہ کے لیے واپسی کے تمام راستے بند کر دیے۔

اور پھر جب غصہ ٹھنڈا ہوتا ہے، تب ہوش آتا ہے۔ شوہر مفتی صاحب کے پاس بھاگتا ہے اور کہتا ہے:

"مولانا صاحب! میں نے تو غصے میں کہا تھا!"

"مولانا صاحب! میں تو مذاق کر رہا تھا، میری نیت نہیں تھی!"

یہ سب محض بہانے ہیں! علماء کرام واضح کرتے ہیں کہ طلاق غصے کی حالت میں بھی ہو جاتی ہے، اور مذاق میں بھی ہو جاتی ہے۔ اسلام نے الفاظ کی طاقت کو تسلیم کیا ہے، اور اس کا تعلق نیت سے کم اور الفاظ کی ادائیگی سے زیادہ ہے۔


اس سارے عمل میں عورت کا کیا قصور ہے؟

وہ عورت، جو غصے میں نہیں تھی، وہ عورت جس نے طلاق کے الفاظ نہیں کہے، وہ صرف اپنے شوہر کی جہالت کی سزا بھگتتی ہے۔

ہمارے معاشرے میں نہ جانے کتنے ایسے جوڑے ایک ساتھ رہتے ہیں، جو انجانے میں نہ جانے کتنی مرتبہ طلاق دے چکے ہیں، مگر انہیں پتا ہی نہیں!

جب شوہر کو پتا چلتا ہے کہ طلاق ہو چکی ہے، تو وہ خاندان کی عزت اور بدنامی کے ڈر سے حقیقت کو چھپا لیتا ہے۔

دونوں میاں بیوی علم ہونے کے باوجود دوبارہ نکاح نہیں کرتے۔

اور یوں وہ سالوں تک حرام زندگی گزارتے رہتے ہیں، ان کی اولاد اسی حرام تعلق سے پروان چڑھتی ہے، اور وہ خود کو دیندار سمجھتے ہیں۔

یہ ایمان کی موت ہے! جب آپ کا رشتہ، آپ کے گھر کی بنیاد، ناجائز ہو جائے تو آپ کے سکون، آپ کی دولت، اور آپ کی نمازوں سے برکت کیسے آئے گی؟ 


جب کسی کے گھر شادی ہوتی ہے، تو ہم دلہن کے جوڑے پر مہینوں بات کرتے ہیں۔

ہم شادی ہال کی سجاوٹ پر لاکھوں خرچ کرتے ہیں۔

ہم اس بات پر جھگڑتے ہیں کہ بارات میں کیا کھانا ہو گا اور کن لوگوں کو بُلایا جائے گا۔

ہم رسموں پر کروڑوں خرچ کرتے ہیں۔

لیکن ایک لمحہ بھی ہم اس بات پر خرچ نہیں کرتے کہ یہ نکاح کیا ہے؟ اس کے حقوق کیا ہیں؟ اور اس کی توڑنے کی چابی کس طرح استعمال ہوتی ہے؟

طلاق کا ذکر شادی سے پہلے کرنا ہمارے ہاں بد شگونی سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے گھر کے بزرگ کہتے ہیں: "شادی کی بات کرو، طلاق کی باتیں مت کرو!"

واہ! کیا سمجھداری ہے! ہم آگ کو گھر میں لے آتے ہیں مگر آگ بُجھانے کا طریقہ پوچھنا بُرا سمجھتے ہیں! ہم خود کو جہالت میں رکھتے ہیں اور پھر بربادی کا انتظار کرتے ہیں۔


یاد رکھیں! یہ الفاظ صرف الفاظ نہیں ہیں یہ وہ طاقتور چنگاریاں ہیں جو آپ کا خوشیوں بھرا رشتہ ایک سیکنڈ میں جلا کر راکھ کر دیتی ہیں۔

خدا کے واسطے، میری آپ سے دِل کی گہرائی سے التجا ہے!

شادی سے پہلے طلاق کے قوانین اور اس سے متعلق تمام معاملات کو سمجھیں۔ مرد اور عورت دونوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ طلاق کے الفاظ کیا ہیں اور رجوع کیسے ہوتا ہے۔

آج علم کے حصول میں کوئی عذر نہیں ہے۔ یوٹیوب پر مستند علماء کے بیانات سنیں، یا کوئی کتاب پڑھ لیں۔ اپنے نکاح نامے پر دستخط کرنے سے پہلے جان لیں کہ یہ رشتہ کتنا نازک ہے۔

یاد رکھئیے، یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کی "Undo" نہیں ہے۔ یعنی آپ نے غصے میں یہ الفاظ کہہ دیے، تو اب پچھتانے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا!

اپنے گھروں کو بچائیں! اس لاعلمی سے باہر نکلیں! آپ کے گھر کا سکون آپ کی علمیت سے جڑا ہوا ہے۔

علم حاصل کریں، اور اپنے گھر کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیں۔

تبصرے

  1. Sir g if we take it so it is a very strong relation but also very sensitive which changes our whole life
    A person should get information about this sacred relationship and how to spend life with others person
    If parents tell about this sacred relationship and its important so it can be controlled but regret, parents also suppress separation and build a Taboo relationship 🥹

    جواب دیںحذف کریں
  2. ماشاءاللہ ، بہت اچھا لکھا سر جی آپ نے، اللہ آپ کے علم میں برکت دے

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

"قارئین کی پسند: ہمارے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے کالمز کی فہرست"

Vloggers ka Pakistan, Ducky Bhai, Rajab Butt, Sistrology

Sawal pochna mana hai, swal kyun pocha

Chacha, aur Chacha ka Pakistan!

Law of Karma, Maqfat e Ammal

Ducky Bhai, Rajab Butt aur Nani waly ka Sach, Ducky aik fake hero

Jinnah Ka Adhoora Khwab: Kya Tum Use Poora Karoge? Azadi Ka Asal Matlab: Jinnah Ke Alfaaz Mein