روحانیت کا سفر 18
روحانیت کا سفر 18
کالم از: سر جاوید بشیر
الحمد للہ، آج میرے روحانیت کے سفر کا یہ اٹھارہواں کالم ہے، اور آج ہم اس سفر میں وہ چراغ جلانے والے ہیں جو ہماری زندگیوں کو نور سے بھر دے گا۔
مجھے معلوم ہے، ، کہ آپ کا دن کیسا گزرا ہوگا۔ میں جانتا ہوں کہ ، جب آپ بس کے پیچھے بھاگتے ہیں، تو آپ کے قدموں میں کتنی تھکن اتر آتی ہے۔ میں اس احساس سے بھی واقف ہوں جب بجلی کا بھاری بل آپ کے ہاتھ میں آتا ہے، اور جیب کا خالی پن آپ کے سینے میں ایک عجیب سی گھٹن بھر دیتا ہے۔ میں اس ماں کے کرب کو بھی محسوس کر سکتا ہوں جو سارا دن کچن کے دھویں اور بچوں کے شور میں خود کو بھول جاتی ہے، اور جب شام کو تھکی ہاری آئینے میں دیکھتی ہے، تو اسے اپنی آنکھوں میں صرف تھکن اور بے بسی نظر آتی ہے لیکن روحانیت سب کچھ بدل سکتی ہے۔
روحانیت کا سفر کسی پہاڑ پر جا کر بیٹھنے کا نام نہیں۔ یہ سفر کسی مخصوص لباس یا الفاظ کا محتاج نہیں۔ یہ سفر تو اسی گلی سے شروع ہوتا ہے جہاں آپ رہتے ہیں۔ اسی کمرے سے شروع ہوتا ہے جہاں آپ تھکے ہارے بیٹھتے ہیں۔ اسی دل سے شروع ہوتا ہے جہاں اکثر سوال اٹھتا ہے کہ کیا بس یہی زندگی ہے۔
پاکستانی معاشرے میں ایک عام انسان کی زندگی جدوجہد کا دوسرا نام ہے۔ یہاں طالب علم فیسوں کے بوجھ تلے دبے ہوتے ہیں۔ یہاں ماں اپنے شوق بچوں کے بستوں میں رکھ دیتی ہے۔ یہاں باپ اپنی خواہشات بچوں کے جوتوں میں قربان کر دیتا ہے۔ یہاں نوجوان اپنی جوانی نوکری کے انتظار میں گزار دیتے ہیں۔ اور پھر بھی دل میں ایک خلش رہتی ہے کہ اتنی محنت کے باوجود سکون کیوں نہیں ملتا۔
اصل مسئلہ محنت نہیں ہے۔ اصل مسئلہ نیت ہے۔ وہ نیت جو زندگی کو بوجھ بھی بنا سکتی ہے اور عبادت بھی۔ وہ نیت جو انسان کو ٹوٹا ہوا بھی رکھ سکتی ہے اور رب کے قریب بھی لے جا سکتی ہے۔
روحانیت یہی سکھاتی ہے کہ اللہ آپ کی تھکن نہیں دیکھتا، وہ آپ کا دل دیکھتا ہے۔ وہ آپ کے ہاتھوں کے چھالے نہیں گنتا، وہ آپ کے ارادوں کو جانچتا ہے۔ آپ کہاں کام کر رہے ہیں یہ اتنا اہم نہیں جتنا یہ اہم ہے کہ آپ کیوں کام کر رہے ہیں۔
ذرا ایک طالب علم کو دیکھ لیجیے۔ ایک عام سا طالب علم جو کبھی لائبریری کی خاموشی میں بیٹھا ہوتا ہے اور کبھی شور مچاتی بس میں کھڑا ہوتا ہے۔ اس کے کندھے پر بیگ بھی ہوتا ہے اور گھر والوں کی امیدیں بھی۔ وہ پڑھتا ہے، رٹتا ہے، تھکتا ہے۔ مگر دل کے کسی کونے میں یہ سوال رہتا ہے کہ اس سب کا فائدہ کیا ہوگا۔
آپ جو روز کتابیں اٹھا کر گھر سے نکلتے ہیں، جو امتحان کی فکر میں راتوں کی نیند قربان کرتے ہیں، جو کبھی فیس کے بوجھ سے گھبرا جاتے ہیں اور کبھی مستقبل کے خوف سے خاموش ہو جاتے ہیں، ذرا ایک لمحے کے لیے رک کر اپنی نیت کو دیکھ لیجیے۔ اگر آپ پڑھ رہے ہیں صرف نمبر لینے کے لیے، صرف ڈگری کے لیے، صرف نوکری کے لیے، تو یہ سفر تھکا دینے والا رہے گا۔ مگر جس دن آپ دل میں یہ نیت باندھ لیں کہ یا اللہ میں یہ علم اس لیے حاصل کر رہا ہوں کہ میں تیرے بندوں کے کام آ سکوں، میں اس لیے پڑھ رہا ہوں کہ میں حق کو پہچان سکوں، میں اس لیے محنت کر رہا ہوں کہ میں اپنے والدین کی دعاؤں کا حق ادا کر سکوں، اسی دن آپ کی زندگی بدلنے لگے گی۔ پھر وہ کتاب جو بوجھ لگتی تھی عبادت بن جائے گی، وہ رات کی جاگ جو اذیت لگتی تھی نور بن جائے گی، وہ امتحان جو خوف بن کر آتا تھا اللہ سے قرب کا ذریعہ بن جائے گا۔ نیت کی یہ ایک تبدیلی آپ کے علم کو روحانیت سے جوڑ دے گی، اور آپ کا پڑھنا لکھنا محض دنیا کا سفر نہیں رہے گا بلکہ اللہ کی رضا کی طرف چلنے والا ایک مقدس سفر بن جائے گا۔
پاکستانی گھروں میں ماؤں کی کہانیاں سب سے زیادہ خاموش ہوتی ہیں۔ وہ سارا دن بولتی رہتی ہیں مگر ان کے دل کی بات کوئی نہیں سنتا۔ وہ کچن کی گرمی میں کھڑی ہوتی ہیں۔ وہ بچوں کے شور میں اپنی آواز کھو دیتی ہیں۔ وہ آئینے میں خود کو دیکھتی ہیں تو اپنی عمر نظر نہیں آتی، صرف تھکن نظر آتی ہے۔
اگر وہ ماں یہ جان لے کہ اس کا ہر کام عبادت بن سکتا ہے تو اس کی دنیا بدل سکتی ہے۔ جب وہ کھانا پکاتے ہوئے دل میں یہ نیت کر لے کہ یا اللہ میں تیرے بندوں کو طاقت دینے کے لیے یہ سب کر رہی ہوں۔ میں اس گھر کو اس لیے سنوار رہی ہوں تاکہ یہاں سکون ہو۔ میں اس لیے تھک رہی ہوں تاکہ میرے بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ ہو۔
اس نیت کے ساتھ اس کی ہنڈیا بھی عبادت بن جاتی ہے۔ اس کی صفائی بھی عبادت بن جاتی ہے۔ اس کی تھکن بھی عبادت بن جاتی ہے۔ اور وہ آنسو جو وہ چھپ کر بہاتی ہے، وہ رب کے ہاں محفوظ ہو جاتے ہیں۔
اب ذرا اس باپ کو دیکھیے جو صبح اندھیرے میں گھر سے نکلتا ہے اور شام اندھیرے میں واپس آتا ہے۔ جس کے ہاتھوں میں محنت کی سختی ہے اور آنکھوں میں بچوں کے خواب۔ وہ شاید زیادہ بات نہیں کرتا۔ وہ شاید اپنی پریشانی ظاہر نہیں کرتا۔ مگر اس کے دل میں سوال ہوتا ہے کہ کب یہ دوڑ ختم ہوگی۔
اگر وہ باپ یہ نیت کر لے کہ میں یہ سب اپنے رب کی رضا کے لیے کر رہا ہوں۔ میں یہ سب اس لیے کر رہا ہوں تاکہ میرے بچے کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلائیں۔ میں یہ سب اس لیے کر رہا ہوں تاکہ میرے گھر میں حلال کا چراغ جلتا رہے۔
تو اس کی موٹر سائیکل بھی عبادت بن جاتی ہے۔ اس کا دفتر بھی عبادت بن جاتا ہے۔ اس کی مشقت بھی عبادت بن جاتی ہے۔ اور جب وہ شام کو تھکا ہوا گھر آتا ہے تو فرشتے اس کے پسینے کا استقبال کرتے ہیں۔
پاکستان کا نوجوان سب سے زیادہ بے چین ہے۔ اس کے پاس ڈگری بھی ہے اور پریشانی بھی۔ اس کے پاس خواب بھی ہیں اور راستے کم بھی۔ وہ در در کی ٹھوکریں کھاتا ہے۔ وہ انٹرویوز میں رد ہوتا ہے۔ وہ خود کو ناکام سمجھنے لگتا ہے۔
اگر وہ نوجوان یہ نیت کر لے کہ میں یہ سب اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہوئے کر رہا ہوں۔ میں یہ سب اس لیے کر رہا ہوں تاکہ میں اپنے والدین کا سہارا بن سکوں۔ میں یہ سب اس لیے کر رہا ہوں تاکہ میں کسی کا محتاج نہ بنوں۔
تو اس کی ٹھوکریں بھی عبادت بن جاتی ہیں۔ اس کی ناکامیاں بھی عبادت بن جاتی ہیں۔ اس کا انتظار بھی عبادت بن جاتا ہے۔ اور پھر رب اس کے لیے وہاں سے راستہ کھولتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔
نیت کا کمال یہ ہے کہ وہ زندگی کی شکل بدل دیتی ہے۔ وہ شکایت کو شکر میں بدل دیتی ہے۔ وہ بے سکونی کو اطمینان میں بدل دیتی ہے۔ وہ تھکن کو نور میں بدل دیتی ہے۔
جب انسان یہ جان لیتا ہے کہ وہ جو کچھ کر رہا ہے وہ رب کے لیے ہے تو پھر اس کی زندگی ہلکی ہو جاتی ہے۔ پھر وہ یہ نہیں کہتا کہ میں کیوں پھنس گیا ہوں۔ وہ کہتا ہے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں روحانیت جنم لیتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان دنیا میں رہتے ہوئے بھی رب کے قریب ہو جاتا ہے۔
آپ کو سب کچھ چھوڑنے کی ضرورت نہیں۔ آپ کو بس اپنی نیت بدلنے کی ضرورت ہے۔ آپ وہی کام کریں جو آپ کر رہے ہیں۔ بس دل میں یہ احساس لے آئیں کہ یا اللہ یہ تیرے لیے ہے۔
دیکھیے گا، زندگی کا بوجھ ہلکا ہونے لگے گا۔ دل کا شور کم ہونے لگے گا۔ آنکھوں میں سکون اترنے لگے گا۔ اور پھر آپ محسوس کریں گے کہ آپ اکیلے نہیں ہیں۔ آپ کا رب آپ کے ساتھ ہے۔
یہی روحانیت ہے۔ یہی اصل کامیابی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ایک عام کو بھی خاص بنا دیتا ہے۔
جزاک اللّٰہ
جواب دیںحذف کریںSir g I like your columns really you write top columns
جواب دیںحذف کریںAnd our spirituality journey is very beautiful and knowledgeable
We should make our work in worship by changing our thoughts
If we do or start every work try to make our intention good 😊
What a beautiful and thought-provoking article!Spirituality is about infusing our daily actions and responsibilities with a deeper sense of purpose, intention, and connection to our values and faith.
جواب دیںحذف کریں