غلط راستے اور پچھتاوے 2
غلط راستے اور پچھتاوے2
کالم از: سر جاوید بشیر
میں جب آج کے نوجوان کو دیکھتا ہوں تو دل بوجھل ہو جاتا ہے۔ میں اُن ماں باپ کے چہرے دیکھتا ہوں جو خاموشی سے اپنی اولاد کے لیے جیتے ہیں، اور اُن بچوں کو دیکھتا ہوں جو لاشعوری طور پر اپنی زندگی کا قتل کر رہے ہیں۔ میں یہ کالم کسی کو ڈرانے کے لیے نہیں لکھ رہا، میں یہ کالم اس لیے لکھ رہا ہوں کہ شاید یہ الفاظ کسی ایک دل تک پہنچ جائیں، اور وہ دل اپنی سمت بدل لے۔
ہم ایک ایسی قوم بن چکے ہیں جہاں جوانی حسرت بن رہی ہے۔ جہاں پچیس سال کی عمر میں انسان اندر سے تھک جاتا ہے۔ جہاں تیس سال کا نوجوان کہتا ہے کاش میں نے اُس وقت کو ضائع نہ کیا ہوتا۔ اور سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ ہم اس پچھتاوے کو قسمت کا نام دے دیتے ہیں، حالانکہ یہ قسمت نہیں، ہماری اپنی غلطیوں کا نتیجہ ہوتا ہے۔
میں اپنی زندگی کے برسوں کے تجربے کے بعد پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ پاکستانی نوجوان چار بڑی خاموش غلطیاں کر رہا ہے۔ یہ غلطیاں چیختی نہیں ہیں، یہ آہستہ آہستہ انسان کو اندر سے کھا جاتی ہیں۔ اور جب انسان کو احساس ہوتا ہے تو بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔
سب سے پہلی غلطی وقت کا بے رحمانہ ضیاع ہے۔
میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ ایک غریب گھر کا لڑکا بھی موبائل میں گھنٹوں لگا رہتا ہے، اور ایک امیر گھر کا لڑکا بھی۔ وقت کوئی کھلونا نہیں۔ وقت اللہ کی سب سے قیمتی امانت ہے۔ جو قوم وقت کی قدر نہیں کرتی، وقت اُس قوم کو روند کر آگے نکل جاتا ہے۔
میں جب نوجوان لڑکوں کو دیکھتا ہوں تو دل کانپ جاتا ہے۔ وہ گھنٹوں گیم کھیل سکتے ہیں، گھنٹوں فضول بحثیں کر سکتے ہیں، گھنٹوں موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کی ویڈیوز دیکھ سکتے ہیں، مگر وہ روز آدھا گھنٹہ اپنے مستقبل کے لیے نہیں نکال سکتے۔ انہیں لگتا ہے کہ ابھی بہت وقت ہے۔ یہی سب سے بڑا دھوکہ ہے۔
اور میں جب نوجوان لڑکیوں کو دیکھتا ہوں تو دل اور زیادہ دکھتا ہے۔ ان کا قیمتی وقت ریلز، ڈراموں اور دوسروں کی زندگیوں کو دیکھنے میں گزر جاتا ہے۔ وہ اپنی زندگی کو دوسروں کی جھوٹی زندگیوں سے موازنہ کرتی ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ خوشی صرف مہنگے گھروں، برانڈز اور تصویروں میں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب ایک سراب ہے۔ جب حقیقت سامنے آتی ہے تو دل ٹوٹ جاتا ہے، ذہن بوجھل ہو جاتا ہے، اور زندگی مشکل لگنے لگتی ہے۔
جوانی میں انسان سمجھتا ہے کہ یہ سب بعد میں بھی ہو سکتا ہے۔ مگر بعد میں شادی ہوتی ہے، ذمہ داریاں آتی ہیں، قرض آتا ہے، کام کا دباؤ آتا ہے، اور پھر وہ وقت نہیں ملتا جو آج مفت میں مل رہا ہے۔ یہی وہ وقت ہے جس پر بعد میں آنسو بہائے جاتے ہیں۔
دوسری بڑی غلطی ماں باپ کے اعتماد کو ضائع کرنا ہے۔
میں یہ بات بہت دکھ کے ساتھ لکھ رہا ہوں۔ پاکستانی نوجوان اکثر یہ بھول جاتا ہے کہ اس کی ہر سہولت کے پیچھے کسی باپ کی ٹوٹی ہوئی کمر اور کسی ماں کی خاموش دعائیں ہوتی ہیں۔
جب کوئی لڑکا والدین سے فیس کے نام پر پیسے لے کر انہیں اپنی عیاشیوں میں اڑا دیتا ہے، تو وہ صرف پیسہ نہیں اڑاتا، وہ اپنے والد کا یقین توڑ دیتا ہے۔ وہ اپنی ماں کی امیدوں کو کچل دیتا ہے۔
اور جب کوئی لڑکی والدین کے اعتماد کو غلط صحبتوں پر قربان کرتی ہے، تو وہ صرف اپنی زندگی کو خطرے میں نہیں ڈالتی، وہ اپنے پورے گھر کی عزت کو داؤ پر لگا دیتی ہے۔
دنیا کے سارے لوگ چھوڑ سکتے ہیں، مگر ماں باپ نہیں چھوڑتے۔ مگر یاد رکھیں، ان کا دل بھی ٹوٹتا ہے۔ وہ رو کر نہیں دکھاتے، وہ بددعا نہیں دیتے، مگر ان کی خاموشی اللہ کے ہاں بہت وزنی ہوتی ہے۔
جب وہی والدین بوڑھے ہو جاتے ہیں اور ہم ان کی آنکھوں میں تھکن دیکھتے ہیں، تب دل کہتا ہے کاش میں نے ان کے پیسے اور اعتماد کو ضائع نہ کیا ہوتا۔ مگر اُس وقت پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں بچتا۔
تیسری بڑی غلطی دکھاوے کی بیماری ہے۔
یہ بیماری خاص طور پر ہمارے درمیانے طبقے کو کھا رہی ہے۔ ہم وہ بننے کی کوشش کرتے ہیں جو ہم ہیں ہی نہیں۔ ہم اپنی چادر سے زیادہ پاؤں پھیلا لیتے ہیں، صرف اس لیے کہ لوگ ہمیں کامیاب سمجھیں۔
قسطوں پر موبائل، قسطوں پر گاڑی، فضول دعوتیں، غیر ضروری تقریبات، اور پھر ساری زندگی قرض کا بوجھ۔
میں نے ایسے نوجوان دیکھے ہیں جو مہنگا موبائل جیب میں ڈال کر خود کو بڑا سمجھنے لگتے ہیں، مگر ان کے پاس ہنگامی ضرورت کے لیے بھی پیسے نہیں ہوتے۔ میں نے ایسی شادیاں دیکھی ہیں جہاں والدین نے اپنی زندگی بھر کی کمائی صرف اس لیے لٹا دی کہ رشتہ دار باتیں نہ کریں۔ اور چند مہینوں بعد وہی گھر مالی پریشانیوں میں ڈوب جاتا ہے۔
دکھاوا کبھی سکون نہیں دیتا۔ سکون ہمیشہ سادگی میں ہوتا ہے۔ جو بات ہم جوانی میں نہیں سمجھتے، وہ بات ہمیں بڑھاپے میں رُلا دیتی ہے۔
چوتھی اور سب سے خطرناک غلطی اخلاقی سمجھوتہ ہے۔
یہ وہ زہر ہے جو آہستہ آہستہ انسان کی روح کو مار دیتا ہے۔ چھوٹا جھوٹ، چھوٹی بے ایمانی، چھوٹا شارٹ کٹ۔ انسان خود کو تسلی دیتا ہے کہ سب ہی ایسا کر رہے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر غلطی انسان کے اندر ایک دراڑ ڈال دیتی ہے۔
جب کوئی نوجوان جھوٹ کے سہارے آگے بڑھتا ہے تو وہ بظاہر کامیاب نظر آتا ہے، مگر اندر سے کھوکھلا ہو جاتا ہے۔ اس کی راتوں کی نیند ختم ہو جاتی ہے۔ اس کے دل میں ہمیشہ ایک خوف رہتا ہے۔ اور سب سے بڑی سزا یہ ہے کہ وہ خود اپنی نظروں میں گر جاتا ہے۔
میں یہ سب لکھ کر آپ کو مایوس نہیں کرنا چاہتا۔ میں آپ کو جگانا چاہتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ یہ کالم پڑھ کر آپ کی آنکھیں نم ہوں، مگر دل مضبوط ہو جائے۔
اگر آپ کو لگتا ہے کہ وقت ضائع ہو چکا ہے، تو یاد رکھیں جب تک سانس ہے، دروازہ بند نہیں ہوا۔ اصل مسئلہ وقت کا گزر جانا نہیں، اصل مسئلہ غلطی کو نہ ماننا ہے۔
جس دن آپ نے دل سے کہہ دیا کہ ہاں میں نے غلطی کی، مگر اب میں نہیں کروں گا، اُس دن آپ آزاد ہو جائیں گے۔
میں آپ سے ہاتھ جوڑ کر کہتا ہوں، آج اپنے موبائل کو نہیں، اپنے دل کو سنیں۔ آج لوگوں کی باتوں کو نہیں، اپنی روح کی آواز کو سنیں۔ آج فیصلہ کریں کہ آپ اپنی زندگی کو حسرت نہیں بننے دیں گے۔
یہ کالم ختم ہو رہا ہے، مگر آپ کی زندگی نہیں۔
اگر آپ نے آج ایک چھوٹا سا قدم بھی درست سمت میں
اٹھا لیا، تو آنے والے سال آپ کو دعائیں دیں گے۔
Yeh ik haqeeqat ha sir g
جواب دیںحذف کریںBhttt sy khwab ha jo hum bhulaye bethy ha jab os jaga kisi or ko dekhty ha to pashtawa hota h
K kash os time mny yeh kar lia hota
Kuch din phly e mery sath same yehi hua or same many b kismat ka keh kr bt khtm krdi k tb kismat ma nhi tha
Allah hum sb ko hadayat dey or Kabi koi b ulaad maa baap ko koi dukh na dey
Or Allah hr insan ko dikhavy sy bchaye yeh bht buri chez ha pora ghr ujaar deta ha
Jazak Allah
جواب دیںحذف کریںLife is very beautiful with so many things but we make it sad and hard by wasting our time.
جواب دیںحذف کریںIf today we'll invest then next day we'll receive the fruit
We should never waste our time
In sha Allah I'll never waste my time again
We should think about our deeds and try to rectify by saying sorry to others and ourselves
Thank you sir g you guiding nes things by writing columns 😊