غلط راستے اور پچھتاوے 3
غلط راستے اور پچھتاوے 3
کالم از: سر جاوید بشیر
اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے مجھے تدریس کے مقدس پیشے سے نوازا۔ تقریباً بیس برس ہو گئے، کلاس روم کی خوشبو میرے وجود میں رچ بس گئی ہے۔ میں نے تین نسلیں دیکھیں، تین زمانے دیکھے۔ پہلی نسل جو میرے سامنے بیٹھتی تھی، اس کی آنکھوں میں کتابوں کی پیاس تھی۔ دوسری نسل کے ہاتھوں میں موبائل فون آیا، توجہ تھوڑی بٹی مگر دل میں عزت تھی۔ مگر آج کی یہ تیسری نسل۔۔۔ میری آنکھیں دیکھتی ہیں اور میرا دل اداس ہو جاتا ہے۔
آج کا کالم نوحہ ہے۔ یہ وہ نوحہ ہے جو ہر اس پاکستانی کے دل سے نکل رہا ہے جو اپنی جوان نسل کو ایک ایسی اندھی کھائی میں گرتے دیکھ رہا ہے، جہاں سے واپسی کا راستہ ہر گزرتے دن کے ساتھ دھندلا ہوتا جا رہا ہے۔ میں آج تیسری نسل کو پڑھا رہا ہوں۔ میں نے بہت کچھ بدلتے دیکھا ہے، اور یقین مانیے، یہ نسل بہت آگے جا سکتی تھی، بہت کچھ کر سکتی تھی، لیکن آج کے دور میں ان کے دو مسئلے ہیں، میں کافی عرصے سے ان باتوں پر سوچ رہا تھا، لیکن کچھ ایسے واقعات نے مجھے فوراً لکھنے پر مجبور کر دیا، کہ میں مزید خاموش نہیں رہ سکا۔
ہم نے اپنے بچوں کی آنکھوں میں مستقبل کے خواب دیکھنے تھے، ان کے ہاتھوں میں قلم اور کتابیں دیکھنی تھیں، جن سے وہ علم کا نور پھیلائیں۔ ہم نے دیکھا تھا کہ وہ بڑے ہو کر ہمارے ملک کا نام روشن کریں گے، وہ معاشرے کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالیں گے۔ لیکن آج مجھے کیا نظر آ رہا ہے؟
یونیورسٹیوں، کالجوں، بلکہ اسکولوں کے باہر ہر جگہ، آپ کو ہمارے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں نظر آئیں گے جو ایک چھوٹی سی، رنگین سی مشین سے دھواں اڑا رہے ہیں۔ وہ اسے فخر سے "پوڈ" (Pod) یا "ویپ" (Vape) کہتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ وہ بہت "ماڈرن" اور "فیشنیبل" لگ رہے ہیں۔ وہ اپنے کمروں کی تنہائی میں، اکیلے بیٹھ کر، اسکرینوں پر وہ "ڈیجیٹل غلاظت" دیکھ رہے ہیں جو ان کے معصوم ذہنوں کو مفلوج کر رہی ہے، ان کے احساسات کو مردہ بنا رہی ہے، اور ان کی روح کو گہن لگا رہی ہے۔
یہ صرف فیشن نہیں، یہ محض ایک شوق نہیں، بلکہ یہ ایک نسل کشی ہے، ایک خاموش اور مہلک جنگ ہے جو ہمارے بچوں کے خلاف لڑی جا رہی ہے۔ اور یہ وبا صرف امیروں کے بڑے گھروں یا پوش علاقوں تک محدود نہیں ہے۔ یہ زہر تو اب گلی محلوں کے چھوٹے گھروں میں بھی پہنچ چکا ہے۔ آج کے اس کالم میں، ہم ان تلخ حقائق کا پوسٹ مارٹم کریں گے، ہم اس دلدل کی تہہ تک جائیں گے، اور سب سے اہم بات، ہم وہ عملی راستہ تلاش کریں گے جو ہمیں اس جہنم سے نکال کر دوبارہ زندگی، خوشی اور سکون کی طرف لے جا سکے۔
آج کل کے نوجوانوں میں ایک بہت بڑی غلط فہمی پھیلا دی گئی ہے، ایک جھوٹ کا جال بچھایا گیا ہے کہ یہ "پوڈ" یا "ویپ" سگریٹ سے "محفوظ" ہے۔ یہ ایک بہت بڑا، بہت بڑا جھوٹ ہے جسے ان مارکیٹنگ کمپنیوں نے ہمارے بچوں کی جیبیں خالی کرنے اور ان کی زندگیوں کو برباد کرنے کے لیے گھڑا ہے۔
ہمارے لڑکے اور لڑکیاں اسے ایک "سٹیٹس سمبل" (Status Symbol) سمجھ کر استعمال کرتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ ہاتھ میں وہ رنگین سی مشین، جس سے نت نئے ذائقوں (Flavours) کی خوشبو آتی ہے، انہیں بہت "کول" اور "ماڈرن" بنا رہی ہے۔ لیکن حقیقت کا رخ کیا ہے؟ کیا آپ جانتے ہیں؟
ایک عام پوڈ کے اندر نکوٹین کی اتنی خطرناک اور بھاری مقدار ہوتی ہے، جو شاید بیس سے تیس سگریٹوں کے برابر ہو سکتی ہے۔ یہ نکوٹین براہ راست نوجوان کے دماغ پر حملہ کرتی ہے۔ یہ اسے بے چین، مضطرب بناتی ہے اور رفتہ رفتہ اسے اپنا غلام بنا لیتی ہے۔ وہ اس کا عادی ہو جاتا ہے، اور پھر اس کے بغیر رہنا اسے ناممکن لگتا ہے۔
یہ وہ عمر ہوتی ہے جب بچے کو نئی چیزیں سیکھنی ہوتی ہیں، نئے ہنر اپنانے ہوتے ہیں، جس سے ان کا دماغ مضبوط اور تیز تر ہو۔ لیکن نکوٹین کے مسلسل اثر سے ان کا دماغ سست ہو جاتا ہے۔ ان کی توجہ (Focus) ختم ہو جاتی ہے، انہیں کسی کام میں دل نہیں لگتا، وہ ہر وقت چڑچڑے رہتے ہیں، اور ان کا حافظہ بھی کمزور ہونے لگتا ہے۔ وہ سبق بھول جاتے ہیں، چیزیں یاد نہیں رہتیں۔
یہ "ڈیجیٹل سگریٹ" بچے کے جسم کو اندر سے کھوکھلا کر رہی ہے۔ ان کے پھیپھڑوں میں پانی بھر سکتا ہے، سانس کی دائمی بیماریاں انہیں گھیر سکتی ہیں، اور ان کے دل کی دھڑکن غیر متوازن ہو سکتی ہے۔ یہ وہ تحفے ہیں جو یہ چمک دمک والی مشین بچے کو دے رہی ہے۔
یہ تو تھی پوڈ کی بات۔ اب آتے ہیں دوسری بڑی الجھن پر، وہ خطرناک غلط راستہ جو آج کل ہر دوسرا نوجوان اختیار کر رہا ہے، جو ہے انٹرنیٹ پر موجود غیر اخلاقی مواد اور ویڈیوز کی لت۔ یہ ایک ایسی دلدل ہے کہ اگر آپ کا پاؤں اس میں ایک بار پھنس گیا، تو نکلنا ناممکن لگتا ہے۔
آپ سوچتے ہوں گے کہ یہ تو بس ایک "دیکھنے" کی بات ہے، اس سے کیا ہو گا؟ لیکن اس کے اثرات اتنے گہرے اور نقصان دہ ہیں کہ آپ سن کر کانپ اٹھیں گے۔
ہمارے دماغ میں ایک قدرتی ہارمون ہوتا ہے جسے 'ڈوپامین' (Dopamine) کہتے ہیں۔ یہ ہمیں خوشی کا احساس دلاتا ہے۔ جب کوئی نوجوان مسلسل یہ غیر اخلاقی ویڈیوز دیکھتا ہے، تو اس کا دماغ اس ڈوپامین کا عادی ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد، زندگی کی عام چھوٹی چھوٹی خوشیاں، جیسے خاندان کے ساتھ بیٹھ کر گپ شپ کرنا، اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلنا، یا پڑھائی میں دل لگانا، سب اسے بے معنی اور بورنگ لگنے لگتی ہیں۔ اس کی دنیا اسکرین تک محدود ہو جاتی ہے۔
یہ مواد آپ کے بچے کے ذہن میں رشتوں، محبت، اور خاص طور پر صنفِ مخالف کے بارے میں ایک ایسا غلط، گھناؤنا اور غلیظ تصور پیدا کر دیتا ہے جو حقیقی زندگی میں کہیں موجود ہی نہیں۔ جب ایسے بچوں کی شادی ہوتی ہے، تو وہ اپنی ازدواجی زندگی میں کبھی خوش نہیں رہ پاتے، کیونکہ ان کے ذہن میں تو وہی "فلمی غلاظت" اور تصورات گھوم رہے ہوتے ہیں جنہیں انہوں نے انٹرنیٹ پر دیکھا ہے۔ حقیقت ان کے لیے ناقابلِ قبول ہو جاتی ہے۔
ہر بار جب کوئی نوجوان یہ گناہ کرتا ہے، تو اس کے دل پر ایک بوجھ پڑتا ہے۔ وہ شدید احساسِ جرم میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ وہ خود کو گندا، ناپاک محسوس کرتا ہے۔ اس کا خود اعتمادی ختم ہو جاتا ہے۔ وہ معاشرے کا سامنا کرنے سے ڈرتا ہے، لوگوں سے نظریں چرانے لگتا ہے۔ وہ تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے، اور یہ تنہائی اسے مزید گناہ کی طرف دھکیلتی ہے۔ یہ ایک ایسا چکر ہے جس سے نکلنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ اور سب سے بڑی تباہی یہ ہوتی ہے کہ وہ خدا سے دور ہو جاتا ہے، اور شیطان کے قریب۔ اسے گناہ اور ثواب کا فرق سمجھ آنا بند ہو جاتا ہے۔ اس کے دل پر مہر لگ جاتی ہے۔ وہ نیکی سے متنفر اور برائی کا خوگر بن جاتا ہے۔ اس کی روح گناہوں کے بوجھ تلے دب جاتی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اس ساری تباہی کا ذمہ دار کون ہے؟ اس گندگی کا اصل سبب کیا ہے؟ سچ کہوں تو، اس تباہی کے پیچھے تین بڑے محرکات ہیں جن کا اعتراف کرنا شاید ہمیں کڑوا لگے، لیکن یہ جاننا اور ماننا نہایت ضروری ہے۔
ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ نے فرمایا ہے کہ "انسان اپنے دوستوں کے دین پر ہوتا ہے۔" جب ہمارا بچہ ایسے گروپ میں شامل ہوتا ہے جہاں پوڈ پینا، گندی ویڈیوز شیئر کرنا، یا فحش باتیں کرنا "بہادری" یا "فیشن" سمجھا جاتا ہے، تو وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اس کا حصہ بن جاتا ہے۔ وہ "دباؤ" میں آ کر یہ سب شروع کرتا ہے، صرف اس لیے کہ وہ اپنے دوستوں کے گروہ سے الگ نہ لگے۔ وہ یہ نہیں سمجھتا کہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی کو بھی برباد کر رہا ہے۔
آج کے والدین نے اپنے بچوں کو شاید مہنگے فون، لیپ ٹاپ، اور انٹرنیٹ تو دے دیا، لیکن وہ انہیں اپنا "وقت" نہیں دے سکے۔ جب گھر کا ماحول مکالمے سے خالی ہو جاتا ہے، جب والدین بچوں کی زندگیوں میں دلچسپی نہیں لیتے، تو بچہ باہر سکون اور توجہ تلاش کرتا ہے۔ والدین کا بچوں کی سرگرمیوں سے بے خبر رہنا، ان کے دوستوں کو نہ جاننا، ان کے موبائل فون چیک نہ کرنا، یہ سب سے بڑی مجرمانہ غفلت ہے۔ آپ کا وقت، آپ کی توجہ، آپ کی بات چیت ہی آپ کے بچے کا سب سے بڑا سہارا ہے۔
ہمارے تعلیمی ادارے آج کل صرف ڈگریاں بانٹنے والی فیکٹریاں بن گئے ہیں۔ یہاں کردار سازی اور اخلاقی تربیت کا پہلو بالکل غائب ہو چکا ہے۔ استاد اب صرف سلیبس پورا کروانے اور امتحان پاس کروانے کا ذرائع بن گیا ہے۔ وہ بچے کی آنکھوں میں چھپی بے چینی، اس کے دل کا بوجھ، اس کی پریشانی کو نہیں پڑھ پاتا۔ کہاں گئی وہ معلمی جو بچے کی روح کی تربیت بھی کرتی تھی؟
اگر آپ یا آپ کے بچے اس غلط راستے پر چل پڑے ہیں، تو یاد رکھیں، پچھتاوا، احساسِ جرم، یہ توبہ کا پہلا قدم ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس زنجیر کو توڑا جائے، اور یقین مانیے، یہ ممکن ہے۔ آپ کے اندر وہ طاقت ہے، وہ ہمت ہے کہ آپ اس دلدل سے نکل سکتے ہیں۔
اپنے ٹرگرز کو پہچانیں، آپ پوڈ کب پیتے ہیں؟ آپ وہ گندی ویڈیوز کب دیکھتے ہیں؟ کیا جب آپ تنہا ہوتے ہیں؟ جب آپ پریشان ہوتے ہیں؟ جب آپ کے پاس آپ کا موبائل فون ہوتا ہے؟ ان وجوہات، ان "ٹرگرز" کو ختم کریں۔ رات کو اپنا موبائل فون اپنے کمرے سے باہر رکھیں۔ تنہائی سے بچیں، اور خود کو کسی نہ کسی اچھے کام میں مصروف رکھیں۔ کوئی کتاب پڑھیں، کوئی کھیل کھیلیں، اپنے دوستوں سے ملیں (اچھے دوستوں سے!)، یا گھر کے کاموں میں مدد کریں۔
اگر آپ کے دوست آپ کو گناہ کی طرف، غلط راستے کی طرف بلاتے ہیں، تو یاد رکھیں، وہ آپ کے سچے دوست نہیں، وہ آپ کے دشمن ہیں۔ وہ آپ کی زندگی کو برباد کر رہے ہیں۔ ایسے لوگوں سے فوراً کنارہ کشی اختیار کر لیں۔ اچھے، تعمیری سوچ رکھنے والے، دیندار اور سمجھدار لوگوں کے قریب جائیں۔ ان کی صحبت اختیار کریں، ان سے سیکھیں، ان کی طرح بننے کی کوشش کریں۔
نکوٹین کی لت یا کسی بھی قسم کی ڈیجیٹل لت کو "آہستہ آہستہ" چھوڑنے کا فلسفہ اکثر ناکام ہو جاتا ہے۔ یہ دھوکہ ہے۔ آج ہی، اسی لمحے، فیصلہ کر لیں۔ اگر آپ کے پاس پوڈ ہے، تو اسے توڑ کر کچرے میں پھینک دیں۔ اگر آپ کے موبائل میں گندی ہسٹری، یا وہ اکاؤنٹس ہیں، تو انہیں فوراً ڈیلیٹ کر دیں۔ یہ "ایک بار کا فیصلہ"، یہ آپ کا اٹل ارادہ، آپ کی زندگی بدل سکتا ہے۔ یہ آپ کا پہلا قدم ہوگا آزادی کی طرف۔
ورزش آپ کے دماغ میں وہی خوشی اور سکون پیدا کرتی ہے جو یہ نشے اور گناہ عارضی طور پر دیتے ہیں۔ دوڑیں، جم جائیں، سائیکل چلائیں، یا کوئی کھیل کھیلیں جو آپ کو پسند ہو۔ ورزش سے آپ کا جسم صحت مند رہے گا اور آپ کا دماغ اپنی قدرتی، صحت مند حالت میں واپس آ جائے گا۔
اپنے بچوں کے جاسوس بننے کی بجائے ان کے سچے دوست بنیں۔ ان سے پوچھیں کہ وہ کیوں پریشان ہیں؟ ان کے دل کی بات سنیں۔ انہیں اتنا وقت دیں، ان سے اتنی محبت اور توجہ دیں کہ انہیں کسی نشے، کسی غلط لت کی ضرورت ہی محسوس نہ ہو۔
ان کے کمروں کے دروازے ہمیشہ بند نہ رہنے دیں۔ ان کے ڈیجیٹل آلات، ان کے فون، ان کے کمپیوٹر پر کڑی نظر رکھیں، لیکن اس طرح نہیں کہ انہیں لگے کہ ان کی جاسوسی ہو رہی ہے۔ ان پر اعتماد کریں، لیکن شک کی نگاہ بھی رکھیں، تاکہ وقت سے پہلے خطرے کو بھانپا جا سکے۔ ان سے ان کی دوستیاں، ان کی دلچسپیاں، ان کی مشکلات کے بارے میں بات کریں۔
یہ زندگی بہت قیمتی ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک انمول تحفہ ہے۔ یہ پوڈ کے دھوئیں میں اڑانے کے لیے نہیں ہے، نہ ہی یہ اسکرین پر غلاظت دیکھ کر ضائع کرنے کے لیے ہے۔ آپ کی آنکھوں میں جو نور ہے، جو صلاحیت ہے، جو مستقبل ہے، اسے بجھنے نہ دیں۔ آپ کے والدین نے، آپ کے لیے، اپنا پیٹ کاٹ کر، دن رات محنت کر کے آپ کو پڑھایا ہے، ان کے خوابوں کا خون نہ بہائیں۔
پچھتاوے کی زندگی گزارنے سے بہتر ہے کہ آج ہی، اسی لمحے، اپنے نفس سے جنگ لڑیں۔ اپنے دل کی آواز سنیں، جو آپ کو نیکی کی طرف بلا رہی ہے۔ آپ کے اندر وہ طاقت موجود ہے، وہ ہمت ہے کہ آپ ہر لت، ہر برائی کو شکست دے سکتے ہیں۔ آپ اللہ کی تخلیق کا بہترین نمونہ ہیں۔
یاد رکھیں! آج کا ایک چھوٹا سا غلط فیصلہ، ایک غلط قدم، آپ کی پوری زندگی کا پچھتاوا بن سکتا ہے۔ اور آج کی ایک چھوٹی سی ہمت، ایک صحیح فیصلہ، آپ کو ایک شاندار، روشن اور باعزت مستقبل دے سکتا ہے۔
Jazak Allah
جواب دیںحذف کریںAmazing and informative Column! I really appreciate you 💖
جواب دیںحذف کریںWow wow wow what a column sir g
جواب دیںحذف کریںReally our elders didn't talk this type of problems but you talked it openly
And 10000 it's happening our surroundings i also took soo much puffs from pods and really mind said its less harmful from cigarettes but we're wrong
And 2nd thing really appreciated you that's you talk about it and taught us in a right way what is wrong and what is right
May Allah Bless you morreee health welath and happiness and you spend your life without sorrows and tension
Our Apex Sir
Thank uh soo much for make that columns for us ❤❤✨✨
I really appreciate you sir g about to write this column
جواب دیںحذف کریںThis is a bitter reality of our youth who is busy in these so called works and they have forgotten their dream of life 🥹
We should do something for ourselves and our parents