روحانیت کا سفر 16
کالم از: سر جاوید بشیر
روحانیت کا سفر 16
الحمدللہ! آج میرا روحانیت کے سفر پر 16 واں کالم ہے، آج میں روحانیت کی اس چابی کا ذکر کروں گا جو آپ کے سکون کے دروازے کھولتی چلی جائے گی اور آپ کا روحانیت کا سفر آسان سے آسان تر ہوتا چلا جائے گا.
یہ کنجی ہے گناہ کا اعتراف، شیطان کے خلاف سب سے پر اثر ہتھیار...
کیا کبھی آپ نے محسوس کیا ہے کہ آپ کے دل پر کوئی بہت بھاری چیز رکھی ہوئی ہے؟ وہ صرف جسمانی تھکن نہیں، یہ کچھ اور ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب آپ دوستوں میں بیٹھے ہوتے ہیں، ہنسی مذاق کا ماحول ہوتا ہے، مگر اندر کہیں ایک کونے میں ایک چُبھن سی محسوس ہوتی ہے۔ شاید کوئی ایسی بات جو آپ نے کی ہو، یا کسی سے کہی ہو، جو آپ کو آج بھی اندر ہی اندر بے چین کر رہی ہے۔ کبھی ایسا ہوا ہے کہ رات کی نیند اچانک کسی پرانی یاد سے ٹوٹ گئی ہو، کوئی ایسا گناہ، کوئی ایسی غلطی جو آپ نے اپنے اندر چھپا رکھی ہو، جس کا خیال آتے ہی آپ کا دل بیٹھ جاتا ہو؟
یہ جو بوجھ آپ محسوس کرتے ہیں، یہ کوئی پتھر یا پہاڑ نہیں ہے۔ یہ دراصل آپ کے گناہ ہیں۔ یہ وہ غلطیاں ہیں جو میں نے، اور آپ نے، سب سے چھپا کر کی ہیں۔ ہم دنیا کے سامنے تو بڑے پردہ دار، بڑے نیک نظر آنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم اس گناہ کو، اس غلطی کو، اپنے مالک سے بھی چھپانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ ہم شاید یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم اس غلطی کو دبا دیں گے، تو وہ ختم ہو جائے گی۔ افسوس! یہ غلطی ختم نہیں ہوتی، بلکہ یہ ہمارے دل میں جڑ پکڑ لیتی ہے اور زنگ کی طرح ہماری پوری روح کو کھا جاتی ہے۔ یہ گناہ کا زنگ ہی ہمیں ہمارے رب سے دور کر دیتا ہے۔
جس انسان کے دل پر گناہوں کا اتنا بھاری بوجھ ہو، اس کے لیے روحانیت کا سفر طے کرنا کتنا مشکل ہو گا، ذرا تصور کیجئے۔ غور کیجئے، جب میں نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہوں، تو میرا ذہن کہاں بھٹکتا ہے؟ وہی غلطیاں، وہی بے باکی، وہی لغزش۔ جب میں دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتا ہوں، تو دل میں یہ احساس سر اٹھاتا ہے کہ کیا میں واقعی اس قابل ہوں کہ میرا رب میری سنے؟ وہ مالک جس کے سامنے میں نے جھوٹ بولا، جس سے میں نے گناہ چھپایا، کیا وہ میری سنیں گے؟ یہ احساس کہ میں کچھ چھپا رہا ہوں، مجھے ایک قیدی بنا دیتا ہے۔ میری روح آزاد ہونا چاہتی ہے، مگر میں نے اسے شرمندگی اور گناہ کی زنجیروں میں جکڑ رکھا ہے۔
اور جب گناہ کا بوجھ دل پر ہو، تو رحمت اور برکت کی بارش تو آسمان سے آ رہی ہوتی ہے، مگر یہ بوجھ ایک موٹے پردے کی طرح بیچ میں حائل ہو جاتا ہے اور وہ رحمت ہم تک پہنچ ہی نہیں پاتی۔ دعائیں ایسی لگتی ہیں جیسے کسی خالی کمرے سے آواز آ رہی ہو۔ ہمیں خود یقین نہیں آتا کہ دعا قبول ہو گی، کیونکہ دل کا ایک حصہ مسلسل کہہ رہا ہوتا ہے: "تم جھوٹے ہو! تم نے ایسا کیا، اور اب تم مانگ رہے ہو!" یہ قیدی کی زندگی ہے۔
مگر روحانیت کا سب سے آسان، سب سے سادہ دروازہ 'توبہ' اور 'سچا اعتراف' ہے۔ اب آپ پوچھیں گے کہ سچا اعتراف کیا ہے؟ کیا یہ لوگوں کے سامنے مائک پر کھڑے ہو کر سب کو بتانا ہے؟ ہرگز نہیں۔ یہ تو اور بھی بڑا گناہ ہوگا۔ سچا اعتراف تو صرف اور صرف آپ کے اور آپ کے مالک کے درمیان کا وہ خاموش رشتہ ہے، وہ راز ہے جو صرف آپ جانتے ہیں اور آپ کا رب۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب آپ اکیلے بیٹھ کر، پوری ایمانداری کے ساتھ، اس یقین کے ساتھ کہ میرا مالک مجھے دیکھ رہا تھا، میری ہر حرکت جانتا تھا، اور وہ اب بھی میری طرف لوٹ آنے کا انتظار کر رہا ہے، آپ یہ سب کچھ اس کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔
اس سچے اعتراف کے صرف چار نہایت سادہ مرحلے ہیں۔
سب سے پہلے، اپنے دل سے، پوری ایمانداری کے ساتھ کہیں کہ "ہاں، یا اللہ! میں نے غلطی کی۔ میں نے خود پر ظلم کیا۔" اس میں کوئی بہانہ نہ بنائیں، کوئی صفائی پیش نہ کریں، بس سچ بولیں۔
ندامت محسوس کریں، دل میں ایک سچی، گہری چُبھن پیدا کریں کہ "کاش میں نے یہ نہ کیا ہوتا! میں نے اپنے رب کو ناراض کیا۔" یہ وہ احساس ہے جو دل کو اندر سے دھو دیتا ہے۔ یہ وہ آنسو ہوتے ہیں جو گناہوں کے زنگ کو صاف کرتے ہیں۔
معافی کی التجا کریں،پورے بھروسے کے ساتھ، اپنے رب سے معافی مانگیں۔ یہ بھروسہ کہ وہ 'غفور' ہے، 'رحیم' ہے، وہ ضرور معاف کرے گا۔ یقین رکھیں کہ آپ کا رب آپ کی آواز سننے کے لیے بے تاب ہے۔
پکا ارادہ کریں، یہ وعدہ کریں، اپنے رب سے، کہ "یا اللہ! میں پوری کوشش کروں گا کہ آئندہ یہ غلطی مجھ سے سرزد نہ ہو۔" یہ ارادہ آپ کی واپسی کا راستہ مضبوط کرتا ہے۔
یہ عمل جتنا سادہ ہے، یہ اتنا ہی طاقتور ہے۔ یہ صرف ایک لمحے میں آپ کے دل کا سارا بوجھ اتار پھینکتا ہے۔ یہ عمل سزا دینے والے سے نہیں، بلکہ سب سے زیادہ محبت کرنے والے سے جوڑتا ہے۔ آپ سوچئے، ایک مالک جو اپنی مخلوق سے اتنی محبت کرتا ہے، وہ کب تک آپ کو اس بوجھ میں دیکھتا رہے گا؟
جب آپ سچا اعتراف کر لیتے ہیں، تو ایک معجزہ ہو جاتا ہے۔ آپ کا دل ہلکا ہو جاتا ہے۔ وہ بوجھ جو سالوں سے اٹھا رہے تھے، وہ اتر جاتا ہے۔ آپ کو ایسا لگتا ہے جیسے آپ نے ایک پہاڑ اپنے کندھوں سے اتار پھینکا ہے۔
پھر آپ کی نماز بدل جاتی ہے۔ جب آپ نماز پڑھنے کھڑے ہوتے ہیں، تو آپ کا دل حاضر ہوتا ہے۔ آپ کو خوشی محسوس ہوتی ہے۔ آپ کو لگتا ہے کہ اب میں اپنے رب سے بات کر رہا ہوں۔ اب کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔
آپ کی دعائیں قبول ہونے لگتی ہیں۔ آپ مانگتے ہیں، اور آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی آواز سنی جا رہی ہے۔ آپ کے کاموں میں برکت آتی ہے۔ آپ کی کمائی میں اضافہ ہوتا ہے۔ آپ کے گھر میں سکون آتا ہے۔ یہ سب اس لیے ہوتا ہے کہ اب آپ کے دل اور آپ کے رب کے درمیان کوئی پردہ نہیں رہا۔
آج وہ دن ہے، وہ دن جب آپ کو اس گناہ کے بوجھ کو اُتار پھینکنا ہے۔ یاد رکھیے، آپ کے رب نے آپ کو کسی مولوی، کسی پیر، یا کسی انسان کے سامنے شرمندہ ہونے کا حکم نہیں دیا۔ اس نے صرف اتنا کہا ہے کہ "میرے سامنے آؤ، اور جو ہوا وہ سچ سچ بتا دو۔ میں نے تمہیں پہلے ہی معاف کر دیا ہے، بس تم اعتراف تو کرو!"
ہماری روحانیت کا سفر اسی دن شروع ہوتا ہے جب ہم یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ اب میں آزاد رہوں گا، اب میں دل کا بوجھ اُتار کر، خالی دل سے زندگی گزاروں گا۔ میں اپنے رب سے اپنے تعلق کو مضبوط کروں گا۔
یاد رکھیے! جس دل میں سچا اعتراف ہوتا ہے، اسی دل میں ہی رب کی محبت کی سب سے خوبصورت جگہ بنتی ہے۔ وہ دل جو گناہوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہو، وہ محبت کیسے محسوس کرے گا؟
آج ہی اس بوجھ کو اُتاریں، اور اس عظیم، خوبصورت، اور آسان روحانی سفر کا آغاز کریں۔ آپ کا رب آپ کا منتظر ہے۔ بس ایک قدم بڑھانے کی دیر ہے، وہ آپ کے لیے سب کچھ آسان کر دے گا۔
Yes sir g Allah Almighty loves with us more than 70. Mothers.
جواب دیںحذف کریںHe always see us when we regret and move towards Allah Almighty
May Allah almighty give us right path
Ameen 💗
Jazak Allah
جواب دیںحذف کریںSach ma sir g asy e hota ha jab hum. Khud ap ni galti maan ley or khud ko b smjhaye k asa ni kry gy
جواب دیںحذف کریںOr jiska dil dukhaya ho os sy maafi maang ly to pur sakoon mehsoos krty ha
Sb sy phly insan ko yehi souchna chahiye k humy kisi ka dil ni dukhana kisi ki ankh ma hmari waja sy nasu na aye ku k agy ik ansu ka b hisab lia jae ga
Tab insan kafi koshish kry ga k oski wja sy kisi ka dil na dukhy