روحانیت کا سفر 17

 روحانیت کا سفر 17


کالم از: سر جاوید بشیر



 اللہ کا کرم ہے کہ آج میں روحانیت کے اس سفر میں ایک اور قدم بڑھا رہا ہوں۔ یہ میرا سترھواں کالم ہے، اور آج ہم ایک ایسے موضوع پر بات کریں گے جو ہم سب کی زندگیوں میں گہرا اثر ڈالتا ہے۔ یہ وہ خاموش دشمن ہے جو ہمیں اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔


کیا آپ نے کبھی ایسا محسوس کیا ہے کہ آپ جسمانی طور پر تو بالکل آزاد ہیں، پر آپ کا دل و دماغ جیسے کسی انجانی زنجیر میں جکڑا ہوا ہو؟ یہ احساس بہت عام ہے، خاص طور پر آج کی تیز رفتار زندگی میں۔ آج میں آپ کو ایک ایسے دشمن کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں جو گناہ سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ دشمن ہمیں براہِ راست گناہ کی طرف نہیں لے جاتا، بلکہ یہ ہمیں مسلسل بے چینی، شک اور شرمندگی کے ایک ایسے دلدل میں دھکیلتا رہتا ہے کہ ہم خود ہی اللہ کی رحمت سے بھاگنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس اندیکھے دشمن کا نام ہے: وَسوَسَہ۔


یہ وسوسہ ہے کیا؟ یہ وہ نہ رکنے والا، مسلسل آنے والا خیال ہے جو ہماری مرضی کے خلاف، ہماری اجازت کے بغیر ہمارے ذہن میں داخل ہو جاتا ہے۔ یہ ہمارے دل و دماغ میں ایسی جڑیں پکڑ لیتا ہے کہ ہماری روحانی ترقی، ہماری اللہ سے قربت، سب کچھ متاثر ہونے لگتا ہے۔ آج کل ہمارے نوجوان سب سے زیادہ اس نفسیاتی اور روحانی حملے کا شکار ہیں۔ وہ اکثر بے بسی سے سوچتے ہیں، "میں نماز پڑھتا ہوں، مگر میرا دھیان ہی نہیں لگتا۔ کیا اللہ میری سنتا بھی ہے؟ کیا مجھ سے کوئی ایسا گناہ ہو گیا ہے جس کی وجہ سے میرا ایمان کمزور ہو گیا ہے؟" یہ وہ سوالات ہیں جو ہمارے دل میں شک پیدا کرتے ہیں۔ یہ خیالات دراصل ہمیں اللہ سے دور نہیں کرتے، بلکہ یہ ہمیں اللہ کی لامحدود رحمت سے مایوس کر دیتے ہیں۔ اور یاد رکھیے، مایوسی، رب کی رحمت سے مایوسی، یہ سب سے بڑا گناہ ہے۔


آج کا دور، جس میں ہم جی رہے ہیں، وہ وسوسوں کے حملوں کا ایک بڑا میدان بن چکا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ہماری جدید زندگی کا وہ خوفناک خالی پن ہے جس میں ہم خود کو مبتلا کر چکے ہیں۔ ذرا غور کیجیے! ہم گھنٹوں سوشل میڈیا پر گزار دیتے ہیں۔ ہر وقت کانوں میں ہینڈز فری لگی ہوتی ہے، دنیا بھر کا شور ہمارے اندر گونج رہا ہوتا ہے۔ مگر یہ سب بیرونی شور ہے۔ اندر سے، ہمارے دل و دماغ ایک خوفناک سناٹے کا شکار ہیں۔ ہم خود کو کاموں میں اتنا مصروف کر لیتے ہیں کہ ہمارے پاس خود سے، اپنے ضمیر سے بات کرنے کا وقت ہی نہیں بچتا۔


یہی خالی جگہ، یہی وقت جس میں ہم خود کو تنہا محسوس کرتے ہیں، شیطان کو سب سے زیادہ پسند ہے۔ وہ فوراً ہمارے دل و دماغ پر قبضہ کر لیتا ہے۔ جب ہم فارغ بیٹھے ہوتے ہیں، تو وہ ہمیں ایسی ایسی باتیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے جو نہ تو حقیقت ہیں، نہ ہماری ضرورت۔


مایوسی کا حملہ، "تم جتنی بھی عبادت کر لو، تم کبھی بھی سدھر نہیں سکتے۔" "تم سے وہ غلطی ہو گئی تھی، اب توبہ کرنے کا کیا فائدہ؟"

شک کا حملہ سب سے خطرناک وسوسہ ہوتا ہے جب وہ ہمارے ایمان، ہمارے اللہ کے وجود پر ہی شک پیدا کرنے لگتا ہے۔

مقابلے کا حملہ، دیکھو وہ فلاں کتنا کامیاب ہے، تم تو زندگی میں کچھ کر ہی نہیں پائے!"

غصے کا حملہ، "فلاں نے تمہارے ساتھ اتنا برا کیا تھا، اسے کبھی معاف نہ کرنا!"


یہ مسلسل حملے ہمیں بے چینی ، اداسی اور سب سے بڑھ کر اللہ سے دوری کی طرف لے جاتے ہیں۔ ہمارے نوجوان، جو اکثر اس بوجھ کو برداشت نہیں کر پاتے، تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ شاید وہ اب زندگی میں کچھ نہیں کر سکتے، کہ وہ برباد ہو چکے ہیں۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ وسوسہ صرف ہمارے ذہن کا ایک دھوکہ ہے، ایک چال ہے۔


روحانیت کا اہم سبق یہ ہے کہ ہمیں اپنے اندر دو آوازوں میں فرق کرنا سیکھنا ہوگا۔


آپ کی روح کی آواز، یہ وہ نرم، پر سکون اور واضح آواز ہے جو ہمیں نیکی کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ جب ہم کوئی غلطی کرتے ہیں تو یہی آواز ہمیں شرمندہ کرتی ہے، ہمیں معافی مانگنے پر مجبور کرتی ہے، اور سب سے بڑھ کر، یہ آواز ہمیں اللہ کی طرف کھینچتی ہے۔ یہ آواز ہمیشہ خیر کی ہوتی ہے۔


شیطان کا وسوسہ، یہ وہ آواز ہے جو اچانک، تیز، اور اکثر خوفناک انداز میں ہمارے ذہن میں آتی ہے۔ اس کا مقصد صرف دو چیزیں ہیں، ہمیں الجھن میں ڈالنا اور ہمیں مایوس کرنا۔ جب ہمیں نماز میں شک ہو کہ ہم نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں، جب ہمیں بار بار یہ احساس ہو کہ ہم ناپاک ہیں اور ہم بار بار وضو کرتے رہتے ہیں، یا جب ہمیں اپنے ایمان پر ہی شک ہونے لگے، تو یاد رکھیے یہ آپ کی آواز نہیں ہے۔ یہ ایک باہر کی آواز ہے، جو آپ کے دل کے دروازے پر دستک دے رہی ہے۔


وسوسہ کوئی معمولی نفسیاتی بیماری نہیں ہے جس کا علاج صرف دواؤں سے ہو جائے۔ وسوسہ دراصل ایک روحانی بیماری ہے، اور اس کا علاج صرف اور صرف روحانی طاقت سے ہی ممکن ہے۔ ہمیں اپنے اندر ایک ایسی مضبوط روحانی دیوار کھڑی کرنی ہوگی جو ان وسوسوں کو ان کے ٹھکانے پر ہی واپس دھکیل دے۔ 


وسوسہ ہمیشہ شک سے جنم لیتا ہے، اور شک کا خاتمہ صرف علم اور پکے یقین سے ہوتا ہے۔ 

 ہمیں یہ پختہ یقین ہونا چاہیے کہ ہمارا رب کتنا مہربان، کتنا رحیم و کریم ہے! وہ ہمارے وسوسوں پر ہمیں پکڑتا نہیں۔ وہ بخوبی جانتا ہے کہ یہ وسوسہ کہاں سے آ رہا ہے، کس کی طرف سے آ رہا ہے۔ ہمیں اپنے رب کی رحمت کا علم ہونا چاہیے کہ وہ ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والا ہے۔ جب یہ یقین دل میں راسخ ہو جاتا ہے، تو وسوسہ خود ہی کمزور پڑنے لگتا ہے۔

ہمیں یہ جاننا چاہیے کہ اسلام میں وسوسے کا حکم کیا ہے؟ ہمارے پیارے نبی حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ دل میں آنے والے برے خیالات پر کوئی گناہ نہیں، جب تک کہ ہم انہیں زبان پر نہ لائیں یا ان پر عمل نہ کریں۔ یہ علم ہمیں سب سے بڑی آزادی بخشتا ہے۔ یہ ہمیں کہتا ہے کہ "کوئی بات نہیں! یہ خیال آ گیا، مگر میں اس کی کوئی پرواہ نہیں کروں گا، میں اس کے پیچھے نہیں لگوں گا!"


وسوسہ ایک خالی، بے خبر دل پر حملہ کرتا ہے۔ دل کو اللہ کے ذکر سے بھرنے کا واحد، سب سے مؤثر طریقہ ذکر ہی ہے۔ روحانیت صرف تسبیح کے دانے گننے کا نام نہیں ہے، بلکہ اپنے دل کو ہر لمحہ اللہ کے نام کی روشنی سے روشن رکھنے کا نام ہے۔ جب شیطان ہمارے دل میں شک کا بیج بونے کی کوشش کرے، تو فوراً ذکر کو اپنی ڈھال بنا لیں۔ 'لا حول ولا قوۃ الا باللہ' ۔ یہ اذکار بہت طاقتور سگنل ہیں جو شیطان کو بھاگنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔


نماز کے لیے اذان سن کر فوراً کھڑے ہو جانا بھی وسوسے کو توڑنے کا ایک مؤثر طریقہ ہے۔ یہ عمل کے ذریعے جواب دینا ہے، جو شیطان کو مایوس کر دیتا ہے۔

جب ہم اللہ کی مقدس کتاب کو صرف رٹا لگانے کی حد تک نہیں، بلکہ اسے سمجھ کر، غور سے پڑھتے ہیں، تو ہمارے دل کی وہ بتی روشن ہو جاتی ہے جو اندھیرے کو دور کر دیتی ہے۔ اور یاد رکھیے، روشنی میں کوئی اندھیرا باقی نہیں رہ سکتا۔


وسوسہ ہمیں آرام سے، فارغ بیٹھنے نہیں دیتا۔ جب ہم کسی مثبت، نیک کام میں مشغول ہوتے ہیں تو وہ خود بخود بھاگ جاتا ہے۔


 اپنے دن کا ایک مکمل، باقاعدہ ٹائم ٹیبل بنائیے اور خود کو نیک، مفید کاموں میں مصروف رکھیے۔ روحانیت کا ایک بہت سادہ اصول ہے، اپنے دماغ کو اچھی، مثبت چیزوں میں مصروف رکھیے، ورنہ شیطان اسے اپنی گندی فیکٹری بنا لے گا!

خود کو اپنی پریشانیوں، اپنے وسوسوں سے نکال کر دوسرے کی خدمت میں لگا دیجیے۔ کسی غریب کی مدد کیجیے، کسی کا ہاتھ بٹائیے۔ یہ عمل ہماری ذہنی الجھنوں سے ہمیں حقیقی آزادی دیتا ہے اور دل کو ایسا سکون ملتا ہے جو دنیا کی کوئی نعمت نہیں دے سکتی۔


 جب آپ کو نماز میں شک ہو کہ آپ نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار، تو فوراً اس پر عمل کریں جو آپ کو زیادہ یقینی معلوم ہو، اور باقی شک کو، باقی وسوسے کو نظر انداز کر دیجیے! جب آپ کو وسوسہ آئے کہ "کہیں میرے کپڑے ناپاک تو نہیں ہو گئے؟" تو فوراً دل میں کہیں: "نہیں! میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے، میں پاک ہوں۔" اور اس خیال کو وہیں ختم کر دیجیے۔


یاد رکھیے! وسوسہ چاہتا ہے کہ آپ اس پر غور کریں، اس پر سوچیں، اس میں الجھیں! جب آپ اس پر غور ہی نہیں کریں گے، تو وہ خود ہی کمزور پڑ کر مر جائے گا۔ شیطان کو اپنی طاقت مت دکھائیں، بلکہ اسے اپنی خاموشی، دکھائیں۔


جب ہم ان اصولوں کو اپنی زندگی میں شامل کر لیتے ہیں، تو ہماری زندگی میں حقیقت میں معجزے ہونے لگتے ہیں۔

 ہمارے دل کا وہ مسلسل شور، وہ بے چینی جو ہمیں ہر وقت پریشان رکھتی تھی، وہ رفتہ رفتہ سکون میں بدل جاتی ہے۔ ہماری دعائیں اب کھوکھلی اور بے اثر نہیں رہتیں۔ ہمیں پختہ یقین ہو جاتا ہے کہ ہمارا رب ہماری بات سن رہا ہے، کیونکہ اب ہمارے اور اس کے درمیان کوئی وسوسے کا پردہ حائل نہیں رہا۔ جب وسوسے کا زور ٹوٹتا ہے تو ہمیں اپنے رب کے ساتھ تعلق کی وہ حقیقی مٹھاس محسوس ہونے لگتی ہے جس کا تصور بھی مشکل تھا۔ نماز پڑھنا اب بوجھ نہیں لگتا، بلکہ راحت اور سکون کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ توبہ کرنے میں شرمندگی نہیں، بلکہ اس کی محبت کا احساس دل میں ابھرتا ہے۔


آج سے ہی یہ بات اپنے دل میں پختہ کر لیجیے۔ آپ کا وسوسہ، آپ کے برباد ہونے کی دلیل نہیں ہے، بلکہ یہ آپ کے ایمان کی دلیل ہے۔ شیطان صرف اسی شخص کے پاس آتا ہے جس کے پاس ایمان کی دولت موجود ہو۔ وہ آپ کے قیمتی خزانے، آپ کے ایمان کو چوری کرنا چاہتا ہے۔ اگر آپ کے پاس کچھ ہوتا ہی نہیں، تو وہ کیوں وقت ضائع کرتا؟


لہٰذا، جب بھی وسوسہ آئے، تو اسے ایک انتباہ سمجھیے، ایک نشانی سمجھیے کہ "میرا ایمان مضبوط ہے، اسی لیے مجھ پر حملہ ہو رہا ہے!" اسے اپنی کمزوری نہیں، بلکہ اپنی طاقت کی دلیل جانیے۔ وسوسے کو نظر انداز کیجیے، اللہ کا ذکر کرتے رہیے، اپنے دل کو ہمیشہ اس کی روشنی سے بھرے رکھیے، اور روحانیت کے ساتھ ایک آزاد، مطمئن اور پر سکون زندگی گزاریے۔

اللہ ہم سب کو اس خاموش، مگر مہلک حملے سے محفوظ رکھے، اور ہمیں صحیح معنوں میں روحانی سکون عطا فرمائے۔ آمین۔

تبصرے

  1. Zabardast Allah pak hm SB p apna karam farmaey.ameen

    جواب دیںحذف کریں
  2. Sir g you wrote a good column and it happens with many people but you told how to fight with it
    When we act upon on good things then gradually we get spirituality and it's very necessary as a good human being 🙂

    جواب دیںحذف کریں
  3. Really sir g its happened many times with me when i start to do obligation then my mind says no your clothes not clean you should to take shower then offer prayer
    You're dirty
    Many times many this type of things happened with me
    But now I'll set my mind that's its a work of devil
    And will act upon. On it In Sha Allah

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

"قارئین کی پسند: ہمارے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے کالمز کی فہرست"

Vloggers ka Pakistan, Ducky Bhai, Rajab Butt, Sistrology

Sawal pochna mana hai, swal kyun pocha

Chacha, aur Chacha ka Pakistan!

Law of Karma, Maqfat e Ammal

Ducky Bhai, Rajab Butt aur Nani waly ka Sach, Ducky aik fake hero

Jinnah Ka Adhoora Khwab: Kya Tum Use Poora Karoge? Azadi Ka Asal Matlab: Jinnah Ke Alfaaz Mein