قائد کا خط 2
قائد کا خط 2
کالم از: سر جاوید بشیر
آج 25 دسمبر ہے۔
آج میرا یومِ پیدائش ہے۔
میں کیک کاٹنے، نعرے سننے یا تصویروں میں مسکرانے کے لیے آپ کے سامنے نہیں آیا۔ میں آج آپ کے ضمیر کے سامنے کھڑا ہوں۔ میں آج آپ کے دل کے دروازے پر دستک دینے آیا ہوں۔
آج اگر میں زندہ ہوتا تو شاید کوئی اسٹیج مجھے مبارک باد دینے کے لیے سجاتا، مگر میں اس اسٹیج پر کھڑا ہو کر آپ سے ایک ہی سوال پوچھتا:
کیا آپ وہ پاکستانی بن سکے جس کا وعدہ آپ نے اپنے شہیدوں سے کیا تھا؟
میں نے آنکھ ایک ایسے گھر میں کھولی جہاں نظم و ضبط، سچ اور قانون عبادت سمجھے جاتے تھے۔ میری ماں نے مجھے سکھایا کہ عزت دولت سے نہیں، کردار سے آتی ہے۔ میرے باپ نے مجھے بتایا کہ وعدہ وہ قرض ہے جو پوری قوم پر بوجھ بن جاتا ہے اگر ادا نہ ہو۔ اسی تربیت نے مجھے محمد علی جناح بنایا، ورنہ اس مٹی میں میرے جیسے ہزار بچے پیدا ہوئے تھے۔ فرق صرف نیت اور نظم کا تھا۔
میں نے اپنی زندگی کے قیمتی سال لندن میں گزارے۔ میں نے وہاں یہ سیکھا کہ قومیں جذبات سے نہیں، اصولوں سے چلتی ہیں۔ میں نے دیکھا کہ وہاں قانون کمزور کی ڈھال ہوتا ہے اور طاقتور کی زنجیر۔ اسی لیے جب میں واپس آیا تو میں آپ کے لیے ایک ایسا پاکستان مانگ رہا تھا جہاں تھانے میں کمزور کی آواز سنی جائے، عدالت میں غریب کی آنکھ نہ جھکے، اور دفتر میں فائل سفارش سے نہیں، اصول سے چلے۔
مگر آج جب میں اپنی قوم کو دیکھتا ہوں تو میرا دل بوجھل ہو جاتا ہے۔
میں دیکھتا ہوں کہ 25 دسمبر کو بھی ہم خود سے سوال نہیں کرتے ،اپنے بچوں کو سچ نہیں بانٹتے اور اپنے کردار نہیں بدلتے۔
میرے نوجوانو!
آج میں خاص طور پر آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں، کیونکہ میں نے پاکستان آپ کے لیے لیا تھا۔ میں نے یہ ملک اس لیے نہیں لیا تھا کہ آپ نوکری کے لیے در در ٹھوکریں کھائیں، سفارش ڈھونڈیں، یا جھوٹ کو ہنر سمجھیں۔ میں نے یہ ملک اس لیے لیا تھا کہ آپ سیدھے کھڑے ہو سکیں، سر اٹھا کر بات کر سکیں، اور دنیا کو بتا سکیں کہ ہم ایک اصولی قوم ہیں۔
لیکن مجھے شرمندگی ہوتی ہے جب میں دیکھتا ہوں کہ میرا نوجوان سب سے پہلے قطار توڑتا ہے، سب سے پہلے قانون کو چکمہ دیتا ہے، اور سب سے پہلے کہتا ہے کہ یہاں ایمانداری سے کچھ نہیں ہوتا۔
میرے بچے!
ایمانداری وہاں نہیں ہوتی جہاں سب ایماندار ہوں۔ ایمانداری وہاں شروع ہوتی ہے جہاں اکیلا انسان بھی غلطی سے انکار کر دے۔
میں آپ سے پوچھتا ہوں، جب آپ ٹریفک سگنل توڑتے ہیں تو کیا ریاست کمزور ہوتی ہے یا آپ کا کردار؟
جب آپ نقل کر کے پاس ہوتے ہیں تو کیا نظام ہارتا ہے یا آپ کا ضمیر؟
جب آپ رشوت دے کر کام نکلوا لیتے ہیں تو کیا آپ جیت جاتے ہیں یا خود کو ہار کا سبق دیتے ہیں؟
میں نے آپ کو آئین دیا تھا، مگر آپ نے اسے کتاب سمجھ کر بند کر دیا۔ آئین کتاب نہیں ہوتا، آئین قوم کی سانس ہوتا ہے۔ جب سانس رکتی ہے تو جسم زندہ نہیں رہتا۔
آپ چیخ چیخ کر انصاف مانگتے ہیں، مگر انصاف کی بنیاد قانون پر ہوتی ہے، اور قانون تب مضبوط ہوتا ہے جب قوم خود اس کی حفاظت کرے۔
مجھے دکھ ہوتا ہے جب میں دیکھتا ہوں کہ استاد کو ذلیل کیا جا رہا ہے۔
یاد رکھیں، جس قوم نے استاد کو کمتر سمجھ لیا، اس قوم نے اپنا مستقبل خود جلا دیا۔
میں نے چاہا تھا کہ استاد کی بات عدالت کی طرح مانی جائے، کیونکہ وہ ذہنوں کے مقدمے سنبھالتا ہے۔ مگر آج استاد خوف میں ہے، کتابیں خاموش ہیں، اور موبائل بول رہا ہے۔
میرے بچوں!
آج اگر میں آپ سے ایک بات منوا سکتا ہوں تو وہ یہ ہے کہ علم کے بغیر آزادی کھوکھلی ہوتی ہے۔
آپ جھنڈا اٹھا سکتے ہیں، مگر اگر آپ کو پڑھنا نہیں آتا تو کوئی دوسرا آپ کا مستقبل لکھ دے گا۔
آپ نعرہ لگا سکتے ہیں، مگر اگر آپ کو سوچنا نہیں آتا تو کوئی دوسرا آپ کے لیے فیصلہ کر دے گا۔
اقلیتوں کے بارے میں میں آج بھی وہی بات دہراتا ہوں جو میں نے زندگی میں کہی تھی۔
یہ ملک سب کا ہے۔
جب کسی ایک انسان کو خوف ہو، تو سمجھ لیں ریاست بیمار ہے۔
جب کسی ایک عبادت گاہ کا دروازہ غیر محفوظ ہو، تو سمجھ لیں قوم کا دل بند ہو رہا ہے۔
طاقت کا امتحان کمزور کے ساتھ سلوک سے ہوتا ہے، نعروں سے نہیں۔
مجھے معلوم ہے آپ تھکے ہوئے ہیں۔
مہنگائی نے آپ کو پریشان کر دیا ہے۔
بے روزگاری نے آپ کے خواب چھین لیے ہیں۔
سیاست نے آپ کو مایوس کر دیا ہے۔
مگر یاد رکھیں، میں نے بھی آسان وقت میں جدوجہد نہیں کی تھی۔
میں نے بیماری میں ملک بنایا۔
میں نے کمزوری میں فیصلہ کیا۔
میں نے تنہائی میں قوم کو راستہ دیا۔
قومیں تب بنتی ہیں جب مشکل میں بھی اصول نہ چھوڑے جائیں۔
اگر حالات اچھے ہوتے ہیں تو ہر کوئی لیڈر بن جاتا۔ لیڈر وہ ہوتا ہے جو خراب حالات میں بھی سیدھا چلتا ہے۔
آج میرے یومِ پیدائش پر مجھے تحفہ دینا چاہتے ہیں تو ایک وعدہ کر لیں۔
یہ وعدہ کسی جلسے میں نہ کریں، اپنے دل میں کریں۔
وعدہ کریں کہ آپ جھوٹ کو آسان راستہ نہیں بنائیں گے۔
وعدہ کریں کہ آپ قانون کو دشمن نہیں، محافظ سمجھیں گے۔
وعدہ کریں کہ آپ استاد، ماں باپ اور کتاب کو پھر سے عزت دیں گے۔
وعدہ کریں کہ آپ اختلاف کو دشمنی نہیں بنائیں گے۔
وعدہ کریں کہ آپ پاکستان کو شکایت نہیں، ذمہ داری سمجھیں گے۔
میرے بچوں!
یاد رکھیں،
میں نے آپ کو صرف زمین نہیں دی تھی۔
میں نے آپ کو ایک موقع دیا تھا۔
اب یہ آپ پر ہے کہ آپ اس موقع کو تاریخ بناتے ہیں یا حسرت۔
آج 25 دسمبر ہے۔
آج میرا جنم دن نہیں، آپ کی آزمائش کا دن ہے۔
اگر آپ نے آج خود سے سچ بول لیا، تو یہی میرا سب سے بڑا جشن ہوگا۔
تمہارا قائد
محمد علی جناح
جزاک اللّٰہ
جواب دیںحذف کریںOn the birthday of Quaid we should promise with ourselves we'll change ourselves and we'll become a good citizen who can make a strong nation
جواب دیںحذف کریںWhere everyone is equal
All are not necessary first we should change ourselves then other will change
You wrote a great column sir g
Great column sir g
جواب دیںحذف کریںWe will implement on it In sha Allah
Jinnah ki himmat aur uska jazba,
جواب دیںحذف کریںHamesha rahe ga har Pakistani ka saath.