اشاعتیں

اگست, 2025 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

بغیر اجازت

  بغیر اجازت کالم از: سر جاوید  وہ عظیم ہستی، جس کے نور سے دنیا منور ہوئی، وہ اپنے رفقا کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے۔ ایک دن، ایک صحابی، جن کے دلوں میں رسولِ خدا سے محبت موجزن تھی، ان کے پاس آئے اور دستک دی۔ کوئی فوری جواب نہ ملا۔ ان صحابی نے صبر کیا۔ کچھ دیر بعد پھر دستک دی۔ تب اندر سے آواز آئی، "کس کی اجازت ہے؟" صحابی نے اپنا نام بتایا۔ اندر سے جواب آیا، "واپس چلے جاؤ، اب وقت نہیں ہے۔" صحابی دلگرفتہ ہو کر واپس جانے لگے تو اندر سے دوبارہ آواز آئی، "ٹھہرو! اجازت ہے، آ جاؤ۔" یہ وہ لمحہ تھا جب صحابی پوچھا، "یا رسول اللہ، آپ نے مجھے اندر آنے کی اجازت کیوں دی؟" آپ نے فرمایا، "ہم پر لازم ہے کہ ہم دوسروں پر سختی نہ کریں، اور جب کسی کے پاس جائیں تو اجازت طلب کریں۔" یہ فرمانِ عالی شان صرف ایک دروازے کی دستک کا حکم نہیں تھا، بلکہ یہ انسانیت کے لیے ایک ایسا سبق تھا جو صدیوں تک دلوں کو فتح کرتا رہا۔ یہ وہ آداب تھے جو انسان کو انسان بناتے تھے، جو رشتوں میں احترام اور محبت بھرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو یہ تعلیم دی کہ کسی کے گھر ...

ہم دل کی آواز کیسے سنیں۔۔۔؟

ہم دل کی آواز کیسے سنیں۔۔۔؟ از: سر جاویدبشیر  یہ کہانی کوئی افسانہ نہیں بلکہ حقیقی ہے۔ یہ قصہ ہے تیرھویں صدی کے ایک نوجوان کا، جس کے والدین عام کسان تھے۔ وہ غربت کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا، دنیا کا کوئی اسے جانتا بھی نہ تھا۔ لیکن اس کے دل میں ایک آگ جل رہی تھی، ایک سوال بار بار اس کے دل کو کچوکے لگا رہا تھا کہ "میں کون ہوں، میرا مقصد کیا ہے، اور مجھے اس دنیا میں کیوں بھیجا گیا ہے؟" یہ نوجوان بعد میں دنیا کا سب سے بڑا مسلم مفکر، سائنسدان اور شاعر کہلایا۔ اسی نوجوان کو آج دنیا "مولانا جلال الدین رومی" کے نام سے جانتی ہے۔ وہی رومی جس کے افکار آج بھی دلوں کو ہلا دیتے ہیں۔ رومی نے کہا تھا کہ "تمہاری اصل راہنمائی تمہارے دل میں چھپی ہے، لیکن تمہیں دنیا کا شور سنائی دیتا ہے، دل کی سرگوشی کہیں دب جاتی ہے۔"   یہ کہانی اس لیے سنائی کہ آج ہمارا معاشرہ بھی اسی سوال کے گرد چکرا رہاہے کہ ہم کیا ہیں، ہم کیا چاہتے ہیں، اور اس دنیا میں ہمارا اصل مقصد کیا ہے۔ ہمارے شہر کے چوکوں پر مزدوری کرنے والا مزدور، رکشے والا ڈرائیور جو شام کو چند سو روپے کے ساتھ گھر لوٹتا ہے، وہ بھی سوچتا...

روحانیت کا سفر، حصہ دوم

 روحانیت کا سفر، حصہ دوم کالم از: سر جاوید بشیر آج سے کوئی ساڑھے چودہ سو برس پہلے، جب عرب کا صحرا جہالت کی تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا، تو ایک نور، ایک عظیم الشان انقلاب بن کر ابھرا۔ اس وقت کی معاشرت بدکاری، ظلم اور ناانصافی کی گہرائیوں میں جا گری تھی۔ بچیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا، قبیلے آپس میں خون کے پیاسے رہتے، اور انسانیت اپنے اصل سے کوسوں دور تھی۔ لیکن پھر، مکہ کی گلیوں سے ایک آواز بلند ہوئی، جو ظلم کے ایوانوں میں زلزلہ بن کر گونجی۔ وہ آواز تھی، "اقراء" یعنی پڑھو! وہ آواز تھی، "اللہ کے نام سے پڑھو جس نے پیدا کیا!" وہ آواز تھی، جس نے انسان کو اس کے خالق سے جوڑا، جسے ہم آج روحانیت کہتے ہیں۔ گزشتہ جمعہ ہم نے بات کی تھی کہ روحانیت کیا ہے، اس کے فوائد کیا ہیں، اور اسے کون حاصل کر سکتا ہے۔آج پھر اسی موضوع کے ایک نئے باب کو کھولنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ ہم نے جاننے کی کوشش کی کہ روحانیت، جسے انگریزی میں Spirituality کہتے ہیں، دراصل روح کے متعلق ہے اور یہ روح کیا ہے، یہ تو بس رب العالمین ہی بہتر جانتا ہے۔ ہم تو بس اپنی روح کو پاک کر سکتے ہیں، اسے سنوار سکتے ہیں۔ یہ بالکل و...

لکڑی کا ٹکڑا نہ بنو، کشتی بنو

  کشتی بنو، لکڑی کا ٹکڑا نہیں کالم از: سر جاوید بشیر میں جانتا ہوں کہ یہ کالم شاید میری زندگی کا سب سے طویل کالم ہو۔ آج کے مصروف دور میں اتنا وقت نکالنا مشکل ہے۔ لیکن میری آپ سے التجا ہے کہ اسے صرف پڑھیں نہیں، بلکہ دل میں اتار لیں۔ ہو سکتا ہے کہ اس کے آخر میں آپ وہ نہ رہیں جو آپ آغاز میں تھے۔ یہ صرف الفاظ نہیں، یہ ایک آئینہ ہے جو آپ کو آپ کا اصل چہرہ دکھائے گا۔ پڑھیں، اور فیصلہ کریں کہ آپ کون ہیں اور کیا بننا چاہتے ہیں۔ یہ 1887ء کی ایک صبح تھی۔ الاباما کے ایک چھوٹے سے گھر میں ایک سات سال کی بچی وحشت کے عالم میں چیخ رہی تھی۔ اس کی دنیا ایک سیاہ، گہری اور خاموش غار تھی۔ وہ نہ دیکھ سکتی تھی، نہ سن سکتی تھی اور نہ ہی بول سکتی تھی۔ انیس مہینے کی عمر میں ایک پراسرار بیماری نے اس سے روشنی، آواز اور لفظ، تینوں نعمتیں چھین لی تھیں۔ اس کا نام ہیلن کیلر تھا۔ وہ ایک زندہ وجود تو تھی، مگر اس کی زندگی پانی کے بہاؤ پر بہتے ہوئے لکڑی کے ایک بے سمت ٹکڑے جیسی تھی۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ وہ کون ہے، کہاں ہے، اور اس کے اردگرد کیا ہو رہا ہے۔ بھوک لگتی تو چیختی، غصہ آتا تو چیزیں توڑ دیتی، کسی کو اپنی بات ...

انگریزی سے خوف نہیں، دوستی کریں! یہ کامیابی کی چابی ہے

ا انگریزی سے خوف نہیں، دوستی کریں! یہ کامیابی کی چابی ہے کالم از: سر جاوید بشیر یہ قدیم یونان کی بات ہے۔ ایتھنز شہر کے باہر، سمندر کے کنارے ایک نوجوان کھڑا تھا۔ اس کے بال بکھرے ہوئے تھے، آنکھوں میں ایک عجیب سی وحشت اور جنون تھا۔ سمندر کی لہریں پورے شور سے ساحل سے ٹکرا رہی تھیں اور وہ نوجوان اس شور سے بھی اونچی آواز میں چیخ رہا تھا۔ اس کے منہ میں چھوٹی چھوٹی کنکریاں بھری ہوئی تھیں، جن کی وجہ سے اس کی زبان زخمی تھی اور الفاظ ٹوٹ ٹوٹ کر نکل رہے تھے، مگر وہ رکا نہیں۔ وہ بولتا رہا، چیختا رہا، یہاں تک کہ اس کی آواز لہروں کے شور پر غالب آ گئی۔ یہ کوئی پاگل نہیں تھا۔ یہ دیموس تھینیس تھا، وہ شخص جسے تاریخ کا سب سے بڑا مقرر (orator) بننا تھا۔ دیموس تھینیس پیدائشی طور پر کمزور تھا اور اس کی زبان میں شدید لکنت تھی۔ وہ ہکلا کر بولتا تھا۔ اس دور کے یونان میں سب سے بڑا فن تقریر کا فن تھا۔ جو شخص اچھا بول نہیں سکتا تھا، معاشرہ اسے کمتر اور نامکمل سمجھتا تھا۔ دیموس تھینیس نے جب پہلی بار ایتھنز کی عوامی اسمبلی میں بولنے کی کوشش کی تو لوگوں نے اس کا مذاق اڑایا، اس پر آوازیں کسیں اور اسے سٹیج سے اتار...

میڈیٹیشن چیریٹی باکس

  میڈیٹیشن چیریٹی باکس Meditation Charity Box کالم از: سر جاوید بشیر یہ بات اُس دن کی ہے جب لاہور کی ایک سرد یخ رات میں مینارِ پاکستان کے سائے تلے ایک ماں اپنے دو ننھے بچوں کو اپنے دوپٹے میں لپیٹے کھڑی تھی۔ اُس وقت رات کی روشنیوں سے پورا شہر جگمگا رہا تھا لیکن اُس کے بچے کانپتے تھے، ہونٹ نیلے پڑ چکے تھے اور آنکھوں میں وہ سوال تھا جو کسی کتاب، کسی فلسفہ، کسی تقریر میں نہیں ملتا۔ وہ سوال تھا: "اماں، ہم گرم سوپ کیوں نہیں پی سکتے؟ ہمارے پاس کمبل کیوں نہیں ہے؟"   اُس عورت نے ہونٹ کاٹنے کی کوشش کی، دل حلق تک آیا لیکن اُسے اپنے غریب خالی ہاتھوں سے بس دوپٹے کا کنارہ کھینچ کر بچوں پر ڈالنا پڑا۔ اُس لمحے مجھے لگا کہ ہم ہزار بار نمازیں پڑھ لیں، لاکھوں تسبیحات پڑھ لیں، اگر ہمارے گھروں کے قریب کوئی ایسی ماں بچوں کو سردی میں تھپک رہی ہو اور ہم اپنے کمبلوں میں چین کی نیند سو رہے ہوں، تو پھر ہماری عبادتوں کی روح کہاں کھو گئی؟   یہی وہ لمحہ ہے جس میں اقبال کا شعر میری آنکھوں کے سامنے جگمگا اٹھتا ہے:   خدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں، بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے   ...

لوسیفر ایفیکٹ(Lucifer Effect)— طاقت کا زہر اور ہماری اجتماعی بربادی

  لوسیفر ایفیکٹ(Lucifer Effect)— طاقت کا زہر اور ہماری اجتماعی بربادی   کالم از: سر جاویدبشیر 1947ء کا سال تھا۔ ایک نوجوان، جس کا نام تاج محمد تھا، لاہور کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتا تھا۔ وہ ایک سادہ دل، ایماندار اور محنتی لڑکا تھا۔ تقسیمِ ہند کے فسادات کے دوران، اس نے اپنے ہمسائے کے ایک بوڑھے سکھ کو اپنے گھر میں چھپا لیا۔ خطرہ تھا کہ اگر کسی کو پتہ چل گیا تو اس کی جان بھی جاسکتی تھی۔ مگر اس نے کہا، "میں نے انسانیت سیکھی ہے، درندگی نہیں۔" یہ تاج محمد اپنی سادگی میں ایک فرشتہ صفت انسان تھا۔ سال گزر گئے۔ تاج محمد نے سیاست میں قدم رکھا۔ چھوٹا سا کارکن تھا، پھر چیئرمین بنا، پھر ایم این اے بنا۔ طاقت ملتی گئی، اس کا چہرہ بدلتا گیا۔ وہی تاج محمد، جس نے کبھی ایک سکھ کی جان بچائی تھی، آج اپنے ہی حلقے کے غریب کسانوں کی زمین ہڑپ کر رہا تھا۔ وہی ہاتھ، جو کبھی مدد کے لیے بڑھتے تھے، آج رشوت لے رہے تھے۔ ایک دن اس کے ایک پرانے دوست نے پوچھا، "تاج، تم وہ نہیں رہے جو پہلے تھے؟" تو اس نے غصے سے جواب دیا، "دنیا بدل گئی ہے بابا، اب ہر کوئی اپنا ہی سوچتا ہے۔" یہ وہ زہر ہے جو ...

"Mera bacha fail kiyun hua?" Hmara Taleemi Nizam aur Ham

ہلاکو خان نے دجلہ کالا کیا، ہم نے اپنے بچوں کا مستقبل کالم از: سر جاویدبشیر یہ 1258ء کی ایک صبح تھی۔ بغداد، جو اُس وقت دنیا کا علمی، ثقافتی اور تہذیبی مرکز تھا، اپنی ہی دھن میں مگن تھا۔ عباسی خلیفہ مستعصم باللہ اپنے محل میں خوش فہمیوں کی جنت بسائے بیٹھا تھا اور شہر کے گلی کوچوں میں شاعر، فلسفی، سائنسدان اور اطباء علم و حکمت کے موتی رول رہے تھے۔ کسی کو اندازہ تک نہیں تھا کہ منگول ہلاکو خان کی قیادت میں شہر کی فصیلوں کے باہر پہنچ چکا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ چند ہی دنوں میں وہ شہر جسے ہزاروں سال کی تہذیب نے سینچا تھا، کھنڈر بن گیا۔ گلیاں لاشوں سے اَٹ گئیں اور کھوپڑیوں کے مینار بنا دیے گئے۔ مگر سب سے بڑا سانحہ یہ نہیں تھا۔ سب سے بڑا، سب سے المناک اور روح کو گھائل کر دینے والا سانحہ وہ تھا جو دریائے دجلہ کے ساتھ ہوا۔ ہلاکو خان نے حکم دیا کہ بغداد کے عظیم کتب خانے 'بیت الحکمت' کی تمام کتابیں دریا میں پھینک دی جائیں۔ یہ وہ کتب خانہ تھا جہاں ارسطو، افلاطون، بقراط، جالینوس سے لے کر الخوارزمی، ابنِ سینا، الفارابی اور ابنِ رشد تک، انسانی تاریخ کے ہر بڑے دماغ کا نچوڑ لاکھوں کتابوں کی صورت می...

چھوٹی نیکیوں کا جادو

  چھوٹی نیکیوں کا جادو   کالم از: سر جاوید بشیر   یہ 2005 کی ایک سرد اور دھند بھری رات تھی۔ سان فرانسسکو کے مشہور گولڈن گیٹ برج پر ٹریفک تقریباً تھم چکا تھا۔ اس ویرانے میں، برج کے عین وسط میں بنے پیدل چلنے والے راستے کی حفاظتی جنگلے پر ایک نوجوان کھڑا نیچے اندھیرے میں ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کو دیکھ رہا تھا۔ اس کا نام کیون برتھیا تھا۔ وہ صرف بائیس سال کا تھا، لیکن زندگی کے دکھوں، ناکامیوں اور قرض کے بوجھ نے اسے وقت سے پہلے بوڑھا کر دیا تھا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ کر ٹھنڈی ہوا میں جم سے گئے تھے۔ اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ آج وہ اپنی زندگی کا یہ بوجھل سفر ختم کر دے گا۔ وہ بس آخری ہمت جمع کر رہا تھا کہ جنگلے کے دوسری طرف چھلانگ لگا دے۔ اس کے نزدیک دنیا کا ہر دروازہ بند ہو چکا تھا۔ وہ خود کو دنیا کا ناکام ترین اور تنہا ترین انسان سمجھ رہا تھا۔ اسے لگ رہا تھا کہ اس کے مرنے سے شاید دوسروں کی زندگیاں آسان ہو جائیں گی۔ وہ اپنے آخری لمحوں میں تھا، جب اس کے کندھے پر ایک نرم سا لمس محسوس ہوا۔ اس نے چونک کر پیچھے دیکھا۔ کیلیفورنیا ہائی وے پٹرول کا ایک آفیسر، کیون بریگز، ا...