بغیر اجازت
بغیر اجازت کالم از: سر جاوید وہ عظیم ہستی، جس کے نور سے دنیا منور ہوئی، وہ اپنے رفقا کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے۔ ایک دن، ایک صحابی، جن کے دلوں میں رسولِ خدا سے محبت موجزن تھی، ان کے پاس آئے اور دستک دی۔ کوئی فوری جواب نہ ملا۔ ان صحابی نے صبر کیا۔ کچھ دیر بعد پھر دستک دی۔ تب اندر سے آواز آئی، "کس کی اجازت ہے؟" صحابی نے اپنا نام بتایا۔ اندر سے جواب آیا، "واپس چلے جاؤ، اب وقت نہیں ہے۔" صحابی دلگرفتہ ہو کر واپس جانے لگے تو اندر سے دوبارہ آواز آئی، "ٹھہرو! اجازت ہے، آ جاؤ۔" یہ وہ لمحہ تھا جب صحابی پوچھا، "یا رسول اللہ، آپ نے مجھے اندر آنے کی اجازت کیوں دی؟" آپ نے فرمایا، "ہم پر لازم ہے کہ ہم دوسروں پر سختی نہ کریں، اور جب کسی کے پاس جائیں تو اجازت طلب کریں۔" یہ فرمانِ عالی شان صرف ایک دروازے کی دستک کا حکم نہیں تھا، بلکہ یہ انسانیت کے لیے ایک ایسا سبق تھا جو صدیوں تک دلوں کو فتح کرتا رہا۔ یہ وہ آداب تھے جو انسان کو انسان بناتے تھے، جو رشتوں میں احترام اور محبت بھرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو یہ تعلیم دی کہ کسی کے گھر ...