Shukar, Thankfulness, Shukar kya hai, Shukar ki Roshni
A Column By: سر جاوید بشیر
ایک چھوٹی سی بستی میں، ایک ماں اور اس کی بیٹی بستی تھیں۔ گھر کچا تھا، چھت بارش میں ٹپکتی تھی۔ مگر ان کے پاس ایک ایسا خزانہ تھا جو بڑی بڑی سلطنتوں کے پاس بھی نہیں ہوتا۔ وہ خزانہ تھا شکر۔ باپ کا سایہ سر سے اٹھ چکا تھا، اور اب ماں اکیلی ان حالات کا مقابلہ کر رہی تھی۔ مگر اس کی بیٹی ہر صبح جاگتی تو اس کی زبان پر سب سے پہلے یہی الفاظ ہوتے: "الحمدللہ! آج بھی زندہ ہوں، سانس لے رہی ہوں، میرے رب کا شکر ہے!" یہ شکر ان کی سب سے بڑی دولت تھی، جو انہیں ہر حال میں دل کا سکون عطا کرتی تھی۔
ایک دن اسکول میں استاد نے بچوں سے پوچھا: "تمہیں زندگی میں سب سے قیمتی چیز کیا ملی؟" سب بچوں نے مہنگی چیزوں کے نام بتانے شروع کیے، مگر اس لڑکی کی آنکھیں نم ہو گئیں اور اس نے پر اعتماد لہجے میں جواب دیا: "مجھے شکر کرنا آتا ہے، یہ میری سب سے قیمتی دولت ہے۔" پوری کلاس میں ایک سناٹا چھا گیا، اور پھر استاد کی آنکھوں میں بھی نمی اتر آئی۔ انہوں نے نرمی سے کہا: "بچو! جو شکر گزار ہوتا ہے، وہ دل سے امیر ہوتا ہے، دنیا کی کوئی دولت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔"
اس نے پڑھائی جاری رکھی، محنت کرتی رہی، ہر چھوٹی سے چھوٹی نعمت پر شکر ادا کرتی رہی۔ وہ جانتی تھی کہ اس کا باپ اب اس دنیا میں نہیں، مگر اس کی ماں کی دعائیں اور اس کی اپنی شکر گزاری ہی ان کا سب سے بڑا سہارا ہے۔ ایک رات، جب گھر میں کچھ کھانے کو نہ تھا اور بھوک کا شدت سے احساس ہو رہا تھا، تو اس نے اپنی ماں کو سینے سے لگا لیا اور کہا: "امی! چلو شکر کریں کہ رب نے ہمیں سکون سے سونے کے لیے چھت تو دی ہے۔ اگر کچھ نہیں ملا، تو آزمائش میں صبر کی دولت تو ملی ہے۔" ماں نے اسے اور زور سے بھینچ لیا اور اس کی نم آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، "بیٹی! تو تو میری ماں بن گئی ہے!"
وقت گزرتا گیا، شکر کی روشنی اس کے اندر اتنی بڑھ گئی کہ اس نے اپنی تعلیم اسکالرشپ پر مکمل کی، پھر سی ایس ایس جیسا کٹھن امتحان بھی پاس کر لیا، اور ایک دن وہ اپنی بستی کی ڈپٹی کمشنر بن گئی۔
اس کی کہانی نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ حقیقی کامیابی کا راز دولت میں نہیں، بلکہ دل کی شکر گزاری میں پنہاں ہے۔
شکر… یہ صرف ایک لفظ نہیں، یہ ایک جذبہ ہے، ایک طرزِ حیات ہے، ایک ایسی کنجی ہے جو بند قسمتوں کے دروازے کھول دیتی ہے۔ شکر وہ روشنی ہے جو اندھیری زندگی کو جگمگا دیتی ہے۔ شکر وہ احساس ہے جو مایوسی میں اُمید کی کرن جگاتا ہے، شکر وہ گرماہٹ ہے جو دل کے زخموں کو مرہم دیتی ہے۔
شکر، اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کا اعتراف ہے۔ یہ کہنا کہ:
"یا اللہ! تو نے مجھے جو بھی دیا، میں اس پر خوش ہوں، راضی ہوں۔"
شکر ایک ایسی طاقت ہے جو انسان کو دوسروں سے شکایت کرنے سے روکتی ہے اور دل میں سکون بٹھاتی ہے۔
سوچیں... اگر صبح آنکھ کھلی، سانس چل رہی ہے، دل دھڑک رہا ہے،نظام ہضم اپنا کام کر رہا ہے، خون اپنی گردش میں ہے، ہاتھ پاؤں سلامت ہیں... تو آپ کتنی بڑی دولت کے مالک ہیں!
مگر افسوس! آج کا انسان نا شکرا ہو گیا ہے۔
آج وہ صرف اُسی چیز کو دیکھتا ہے جو اس کے پاس نہیں ہے۔
اسے وہ موبائل، وہ گاڑی، وہ بنگلہ، وہ نوکری، وہ مقام چاہیے جو دوسروں کے پاس ہے۔
مگر
"کسی اسپتال جا کر دیکھو کہ صحت کتنی بڑی نعمت ہے"
"کسی قبرستان میں جا کر دیکھو کہ زندگی کتنی قیمتی ہے"
شکر کن باتوں پر ہونا چاہیے؟
ہم ہر اُس چیز پر شکر گزار ہو سکتے ہیں جو ملی ہے:
سانس… جو چل رہی ہے
آنکھیں… جو دیکھ رہی ہیں
ہاتھ… جو کام کر رہے ہیں
پاؤں… جو چل رہے ہیں
دل… جو دھڑک رہا ہے
دماغ… جو سوچ رہا ہے
گھر… جو چھت دے رہا ہے
اور سب سے بڑھ کر… زندگی!
زِندہ ہیں! یہ ہی کافی ہے۔
اگر ہم صرف شکر ہی ادا کرتے رہیں تو کیا پا سکتے ہیں؟
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"اگر تم شکر کرو گے، تو میں تمہیں اور دوں گا"
شکر سے رزق بڑھتا ہے، دل کو سکون ملتا ہے، اور رب کی قربت نصیب ہوتی ہے۔
جب زبان پر شکر ہو، تو شکوے خود ہی ختم ہو جاتے ہیں۔
ہر دن کی شروعات "الحمدللہ" سے کریں
جو چیز حاصل ہو، اُس پر "ماشاءاللہ" کہیں
جو نہ ملے، اُس پر "اِن شاء اللہ" کا یقین رکھیں
اور ہر لمحے دل میں یہ کہیں:
"یا اللہ! تو نے جتنا بھی دیا، میری اوقات سے زیادہ دیا، میں تیرا شکر گزار ہوں!"
صبح اُٹھتے ہی ایک نعمت سوچیں اور اس پر شکر ادا کریں
دن بھر میں جب کوئی پریشانی آئے، فوراً اُن چیزوں کو یاد کریں جو پہلے اللہ نے آپ کو دیں
رات سونے سے پہلےکم از کم تین چیزیں سوچیں جن پر شکر بنتا ہے
یہ عادت آہستہ آہستہ دل کو سکون دے گی، آنکھوں سے شکایت کی دھند چھٹ جائے گی، اور روح میں ایک ٹھنڈک آ جائے گی۔
کیونکہ
شکر وہ کنجی ہے جو بند قسمتوں کو کھولتی ہے۔
شکر ایک عمل نہیں، ایک طرزِ زندگی ہے۔
شکر کریں، ہر لمحہ کریں، دل سے کریں…
کیونکہ جس نے شکر سیکھ لیا، اُس نے زندگی جیت لی۔
اور ہمیشہ یہ بات دل میں رکھیں کہ ایک شکر گزار انسان کبھی ناکام نہیں ہوتا، کیونکہ وہ ہر حال میں خوش رہنا جانتا ہے۔
الحمدللہ کہنا سیکھ لو، زندگی آسان ہو جائے گی۔
Mashaallah bohat khoob ustad e muhtram
جواب دیںحذف کریںAlhamdulillah for everything
جواب دیںحذف کریںji bilkul thik kha shukar bht bri nemat hai
جواب دیںحذف کریں!Much appreciated
جواب دیںحذف کریں!Informative
جواب دیںحذف کریں