Jinnah Ka Pakistan Aur Baaje Ka Shor: Shor Nahi, Shaoor Chahiye

 جناح کے پاکستان سے باجے کے شور تک کا سفر

A Column By: سر جاوید بشیر

 آج 12 اگست ہے۔ بس ایک دن بعد 14 اگست آنے والی ہے — وہ دن جسے ہمارے آبا و اجداد نے اپنی جانیں قربان کر کے حاصل کیا۔ وہ دن جب لاکھوں مائیں بیٹے کھو بیٹھیں، لاکھوں بہنیں اپنی عزتیں قربان کر گئیں، اور لاکھوں لوگ اپنے گھروں، کھیتوں اور بستیوں سے ہجرت کر کے ایک نئے خواب کی بنیاد رکھنے نکل پڑے۔ وہ خواب… پاکستان کا خواب۔ محمد علی جناح کا خواب۔ ایک آزاد مملکت کا خواب، جہاں اذان کی آواز گونجے، جہاں عدل ہو، جہاں علم ہو، جہاں نوجوان قوم کا سرمایہ ہوں، جہاں ایمان، اتحاد اور قربانی ہو۔


لیکن آج… میرے کانوں میں وہ آوازیں نہیں آ رہیں جو قربانی کی داستان سنائیں۔ آج میرے کان ایک اور شور سے پھٹ رہے ہیں۔

یہ باجا کا شور ہے۔

ہر گلی میں، ہر نکڑ پر، ہر چوک پر، بچوں کے ہاتھوں میں پلاسٹک کے باجے، کان پھاڑ دینے والی سیٹیاں، بے ربط آوازیں، شور شرابہ، اور یہ سب یومِ آزادی کے نام پر۔


میں اپنے دل سے پوچھتا ہوں — یہ کیسی آزادی ہے؟

کیا یہی وہ پاکستان تھا جو جناح چاہتے تھے؟

کیا یہ وہ دن ہے جس کے لیے لاکھوں شہیدوں کا خون بہا؟

کیا ہماری آزادی کا جشن صرف شور مچانے، نیندیں خراب کرنے اور بزرگوں کے دل دہلانے کا نام ہے؟


میں ایک محلے کی گلی سے گزرا۔ دو معصوم بچے، ہاتھ میں باجا لیے، کانوں کو بہرا کرنے والی آوازیں نکال رہے تھے۔ ایک طرف ایک بوڑھی اماں کرسی پر بیٹھی تھیں، ہاتھ کانوں پر رکھے، چہرے پر تکلیف کے آثار۔ میں نے بچوں سے کہا: "بیٹا، یہ آپ کس کے لیے کر رہے ہو؟"

بچے ہنس کر بولے: "آزادی کا دن ہے نا، جشن منا رہے ہیں!"

میں نے دل ہی دل میں سوچا… کاش کوئی انہیں بتاتا کہ آزادی کا جشن شور سے نہیں، شعور سے منایا جاتا ہے۔


یاد کرو، جب 14 اگست قریب آتا تھا تو گھروں میں پاکستان کا جھنڈا لگتا، سبز اور سفید کپڑے پہنے جاتے، قومی ترانے کی آواز آتی، محفلیں سجتی، اور شہداء کی قبروں پر پھول چڑھائے جاتے۔ بچے اپنے بڑوں سے قربانی کی کہانیاں سنتے اور سیکھتے کہ آزادی کیا ہوتی ہے۔ آج یہ سب کہاں ہے؟

ہم نے اپنے یومِ آزادی کو شور شرابے کا دن بنا دیا۔

ہم نے جناح کے پاکستان کو پلاسٹک کے باجوں کے شور میں ڈبو دیا۔

ہم نے آزادی کو ایک کھلونے کی طرح ہلکا کر دیا، جسے خرید کر بس چند گھنٹے بجایا اور پھر پھینک دیا۔


اصل آزادی تو یہ تھی کہ ہم اپنی قوم کو علم کے زیور سے سجاتے، ہم انصاف کو مضبوط کرتے، ہم اپنے ملک کی سڑکوں کو، سکولوں کو، اسپتالوں کو بہتر بناتے۔ اصل جشن تو وہ ہے جب ایک غریب بچہ تعلیم پائے، جب ایک بیمار مفت علاج پائے، جب ایک مظلوم کو انصاف ملے۔


میں سوچتا ہوں — کاش ہم ایک دن ایسا منائیں جب ہر گلی میں شور نہ ہو بلکہ دعائیں ہوں۔ جب ہر ہاتھ میں باجا نہیں بلکہ کتاب ہو۔ جب ہر زبان پر بے ہنگم آواز نہیں بلکہ قومی ترانہ ہو۔ جب ہم اپنے بچوں کو بتائیں کہ آزادی کی قیمت خون ہے، قربانی ہے، جدوجہد ہے، نہ کہ ایک کان پھاڑ دینے والا باجا۔


ہم کیا سے کیا بن گئے…

جناح کے پاکستان سے باجے کے شور تک کا سفر…

یہ سفر کتنا تکلیف دہ ہے۔ ہم نے آزادی کی روح کو بھلا دیا اور اس کے بدلے ایک شور کو اپنا لیا۔

کاش ہم رک کر سوچیں، خود کو بدلیں، اور اگلے 14 اگست کو 

شور نہیں بلکہ شعور کا دن بنائیں۔


تبصرے

  1. السلام علیکم جناب جاوید بشیر صاحب بڑے ادب سے عرض ہے کہ پہلے اور اب فرق کیسے آیا یقینن ہمارا دھیان شاید اس طرف نئی جاتا اور اگر جاتا ہے تو ہم نظر انداز کیوں کرتے ہیں کہ ہم خود اپنے بچوں کو بدتمیز اور خود سر کر رہے ہیں والدین اور استاتذہ کو چاہۓ کہ وہ اپنے بچوں کو دکانوں سے باجا خریدنے ہی نہ دیں اگر آپ اس کے علاوہ کوئی اور ذمہ دار ہے تو اس کو ہائی لائٹ کریں آپ کی مہربانی ہوگی شعور کی بجاۓ شور کیوں آیا
    والسلام . . .
    اللہ عزوجل ہم سب کو اس شور سے بچاۓ اور شعور عطا فرماۓ آمین یا رب العالمین

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. وعلیکم السلام میرے پیارے بھائی جان!
      آپ کی گہری سوچ اور کالم پر یہ قیمتی رائے میرے لیے بہت اہم ہے۔ آپ نے بالکل درست فرمایا کہ یہ فرق کیوں آیا اور ہم اسے نظر انداز کیوں کرتے ہیں۔
      بھائی جان، باجا کلچر کا پھیلاؤ صرف والدین کی اجازت نہیں، بلکہ ایک وسیع سماجی تبدیلی کا نتیجہ ہے۔ میڈیا کی تشہیر، اور معنی خیز سرگرمیوں کی کمی نے اسے فروغ دیا۔ جب ہم اپنے بچوں کو آزادی کا اصل مقصد اور قربانیوں کی کہانیاں نہیں سکھاتے، تو وہ شور کو ہی جشن سمجھ لیتے ہیں۔
      اسے روکنے کے لیے والدین اور اساتذہ کا کردار کلیدی ہے۔ والدین باجا خریدنے سے گریز کریں اور بچوں کو قومی ترانے، پرچم کشائی، اور شہداء کی کہانیوں سے جوڑیں۔ اساتذہ اسکولوں میں آزادی کی حقیقی روح پر مباحثے اور تقریبات منعقد کریں۔ جب ہم خود مثال بنیں گے، تب ہی شعور شور پر غالب آئے گا۔
      آپ کی دعا کے لیے دل سے شکر گزار ہوں۔ اللہ عزوجل ہمیں اس شور سے بچا کر حقیقی شعور عطا فرمائے، آمین۔

      حذف کریں
  2. You are right sir same happening everywhere and on the day of 14August mostly people suffer from headache
    This is the mistake of parents who buy horns for their children while to tell them reality of freedom

    جواب دیںحذف کریں
  3. یہ والدین کا کردار ہے کہ بچوں کو سکھائے کہ اس مقصد کیلئے ہمارا پیارا پاکستان نہیں بنا بہت ہزار بچیوں کی عزتیں پامال ہوئی تھی بہت سے اپنے بچھرے تھے اک دوسرے سے اور آج کل والدین خود باجے خرید کر دیتے ہیں
    خیر اللہ تعالیٰ سب کو ہدایت اور شعور دے آمین 💫

    جواب دیںحذف کریں
  4. اس کالم میں ایک چیز کی کمی رھے گئئ کچھ روشنی بھٹی صاحب نوجوان نسل جو موٹر سائیکل کے سلنسر نکال کر گلیوں اور سڑکوں پر نکل جاتے ہیں ان پر تھوڑی روشنی بنتی تھی

    جواب دیںحذف کریں
  5. I hope which person read this column ,who is understood
    I try to stop them to play the musical instruments

    THANK YOU
    Sir Javed Bashir

    جواب دیںحذف کریں
  6. جی بالکل سب کو اپنے حصے کا دیا جلانا چاہۓ اللہ عزوجل ہماری مدد کرے آمین یارب العالمین

    جواب دیںحذف کریں
  7. Sir yeh to galat ha Baja bajana lakin bachon ko kon samjay in ko in ka waladain hi samja sakta han ka Pakistan bohat zayada mahnet or mushakat sa bana ha hamain acha sa parna cahiya na ka Baja bajana cahiya yeh Baja bajana galat kam ha hamain khamoshi ko apni taqat banani cahiya na ka shorr macha ka dusron ko parashan karna cahiya phir hi hum apni kosish sa isko kamayabi ki rah par LA kar ka payain ga or air apka bohat bohat sukariya is column ko hamara lia bna na ka lia thanksss alotttt sir 💞💞💞

    جواب دیںحذف کریں
  8. Yes sir we have to end this noise and bring the shower Thank you sir very good information

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

"قارئین کی پسند: ہمارے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے کالمز کی فہرست"

Vloggers ka Pakistan, Ducky Bhai, Rajab Butt, Sistrology

Sawal pochna mana hai, swal kyun pocha

Chacha, aur Chacha ka Pakistan!

Law of Karma, Maqfat e Ammal

Ducky Bhai, Rajab Butt aur Nani waly ka Sach, Ducky aik fake hero

Jinnah Ka Adhoora Khwab: Kya Tum Use Poora Karoge? Azadi Ka Asal Matlab: Jinnah Ke Alfaaz Mein