Rohaniyat kiya hai? Rohaniyat ka Safar
کالم از: سر جاویدبشیر
روحانیت کیا ہے؟
آج میں ایسے راز کی کہانی سنانا چاہتا ہوں، جو پہاڑوں کی خاموشی میں چھپا ہے، جو دریا کے بہاؤ میں بہتا ہے، جو دل کی گہرائیوں میں ساکت ہے لیکن پھر بھی سب سے طاقتور ہے۔ یہ راز ہے روحانیت (Spirituality) کا۔
روحانیت دراصل انسان کی اندرونی آنکھ ہے۔ وہ آنکھ جو بند پلکوں کے پیچھے کھلتی ہے۔ وہ سفر جو دل سے شروع ہو کر روح تک پہنچتا ہے۔ یہ دنیا کی سب سے خوبصورت آواز ہے، جو شور کے بیچ بھی خاموش رہتی ہے۔ جب انسان روحانیت کو چھو لیتا ہے، تو اسے سکون بھی ملتا ہے، یقین بھی ملتا ہے اور اللہ کی قربت بھی۔
روحانیت دل کا وہ گہرا سکون ہے جب انسان سب کچھ پا لے تب بھی اس کے چہرے پر ایک اطمینان کی مسکراہٹ ہوتی ہے، اور جب سب کچھ کھو جائے، جب دل کے ٹکڑے ہو جائیں، تب بھی اس کی مسکراہٹ سلامت رہتی ہے۔ وہ اس لیے کہ وہ جانتا ہے، اس کا رب اس کے لیے کوئی برا فیصلہ نہیں کر سکتا۔ وہ بس اپنے مالک کی رضا میں راضی رہتا ہے، چاہے کوئی بھی حال ہو۔
روحانیت کیوں ضروری ہے؟زندگی میں ہم سب نے کبھی نہ کبھی تھکن محسوس کی ہے۔ کبھی دل میں بوجھ اترتا ہے، کبھی دماغ شور مچاتا ہے، کبھی دنیا کی دوڑ دھوپ میں انسان خود کو کھو دیتا ہے۔ ہم سوچتے ہیں شاید زیادہ پیسہ، زیادہ شہرت یا زیادہ تعلقات ہمیں سکون دیں گے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سکون صرف روحانیت سے ملتا ہے۔
روحانیت انسان کو زمین سے جوڑتی ہے اور آسمان سے ملاتی ہے۔ یہ وہ سانس ہے جو تھکی ہوئی جان کو تازگی دیتی ہے۔ یہ وہ روشنی ہے جو اندھیرے دل میں امید جگاتی ہے۔
کیا صرف خاص لوگ ہی روحانیت حاصل کر سکتے ہیں؟
نہیں…!
روحانیت صرف کسی بزرگ یا درویش کے لیے نہیں ہے۔ یہ دولت صرف خانقاہ کے صوفی یا جنگل کے فقیر کے پاس نہیں۔ روحانیت سب کے لیے ہے۔ وہ کسان جو ہل چلاتا ہے، وہ ماں جو بچے کو سینے سے لگاتی ہے، وہ مزدور جو پسینے میں ڈوبا ہوا نوالہ حلال کماتا ہے — یہ سب روحانیت کے قریب ہیں۔
اصل شرط یہ نہیں کہ آپ کے پاس دنیا کی بڑی کتابیں ہوں یا بڑے استاد ہوں، اصل شرط یہ ہے کہ آپ کا دل سچا ہو۔ آپ کے اندر اللہ کے سامنے جھکنے کا جذبہ ہو۔ آپ میں عاجزی ہو، خدمت ہو اور شکر گزاری ہو۔
روحانیت کا دروازہ ہر اس انسان کے لیے کھلا ہے جو دروازے پر دستک دیتا ہے۔ لیکن یہ دروازہ صرف اس کے لیے کھلتا ہے جس کے دل میں اخلاص ہوتا ہے۔ ایک عام آدمی روزہ رکھ کر، نماز پڑھ کر، کسی بھوکے کو کھانا کھلا کر یا کسی کا دکھ بانٹ کر بھی روحانیت کو چھو لیتا ہے۔
روحانیت کوئی مشکل فلسفہ نہیں ہے۔ یہ محبت ہے، سکون ہے، عاجزی ہے، اور اپنے رب کے ساتھ تعلق ہے۔
روحانیت ایک سمندر ہے۔ کچھ لوگ صرف کنارے پر پانی سے کھیلتے ہیں، کچھ غوطہ لگاتے ہیں اور موتی نکالتے ہیں، اور کچھ سمندر کے بیچ جا کر اللہ کی محبت کے لامحدود خزانے پا لیتے ہیں۔
پہلا درجہ ہے خود کو پہچاننا۔
دوسرا درجہ ہے اللہ کو پہچاننا۔
تیسرا درجہ ہے اللہ کی رضا میں اپنی رضا کو فنا کر دینا۔
یہ سفر آسان نہیں، لیکن ناممکن بھی نہیں۔
روحانیت کے لیے انسان میں یہ خصوصیات ہونی چاہئیں۔
اخلاص: نیت صاف ہو، دکھاوا نہ ہو۔
صبر: مشکلات کو امتحان سمجھ کر برداشت کرنا۔
شکر: ہر حالت میں اللہ کا شکر ادا کرنا۔
عاجزی: خود کو بڑا نہ سمجھنا، دوسروں کو عزت دینا۔
محبت: مخلوق سے پیار کرنا، چاہے وہ انسان ہو یا جانور۔
خدمت: بغیر لالچ کے دوسروں کی مدد کرنا۔
یہ صفات دل کے آئینے کو صاف کر دیتی ہیں، اور جب دل صاف ہو جائے تو اللہ کی روشنی اس میں اتر آتی ہے۔
روحانیت دراصل ایک نرم سا لمس ہے، جو دل کو چھوتا ہے اور آنکھوں سے آنسو بہا دیتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب انسان تنہا ہو کر بھی خالی نہیں رہتا۔ یہ وہ احساس ہے جب بندہ جان لیتا ہے کہ میرا اللہ میرے ساتھ ہے۔
یاد رکھو،زندگی کی دوڑ سب کو تھکا دیتی ہے۔ لیکن اللہ کی یاد تھکن کو بھی سکون میں بدل دیتی ہے۔
یہ کالم جاری ہے…
ان شاء اللہ اگلے جمعے کو میں آپ کو بتاؤں گا کہ روحانیت کے سفر پر چلتے ہوئے کون سے عملی اقدامات ہمیں کرنے چاہئیں۔
آپ کے خیال میں یہ سفر کیسے طے کیا جا سکتا ہے؟ اور آپ کی نظر میں روحانیت کیا ہے؟ اپنی قیمتی رائے سے ضرور آگاہ کریں تاکہ ہم سب اس سفر کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔
Kamal
جواب دیںحذف کریںAssalam alikum sir ma is pura column ko dihan sa parha par apna kahi bhi kuch galat nhi kaha or aik sawal ha ager hum sabar karain to Allah pak ki raza ki khatir hamain who cheez mil jati ha ka nhi or ager hum kisi ki khidmat karain or who dua da to kia who dua kabul hoti ha or hamara uper us dua ka koi asar hota ha ka nhi or ager hum Allah pak ki makhlook sa payar karain cahay who janwar ho yeh insaan who hum sa bhi payar kara ga ka nhi yeh who insaan dukh da ga or who janwar payar yeh who janwar dukh da ga or insaan payar yeh phir insaan or janwar dono hi dukh dain ga koi bhi payar da ga yeh dono payar dain ga koi dukh nhi da ga or kia ager insaan ko Allah khub sari dolat da da to ager who sukar ada na kara to kia allah pak usko or mal ata kara ga ka nhi or ager who Allah pak ka sukar ada kara to kia Allah uska mal kam kara ga yeh uska mal ma barkat dala ga or ager insaan khud ko bara nhi samajta or dusra banda ki izat karta ha to kia Allah pak is ka is kam sa razi ho ga ka isko saza mila gi or ager who or ager insaan apna ap ko bara samjta ha or dusron ki izat bhi nhi karta to kia us sa Allah razi ho ga ka naraz ho ga or ager hum ma sa kisi ko rohaniyat mil jay to kia who galat kam kara ga kisi ka bhi sath or kia who chot punchayain ga kisi ko yeh kis who dusron ka dil dukhain ga yeh phir who aajazi ko ikhtayar kara ga or dosro ka sath acha salook karain ga or dusron ko taklif nhi punchain ga or dusron ka khayal rakhain or namaz ma ajazi dikhaian ga or apna rab ka samna ajazi ka sath juka rahain ga to Allah pak razi ho ga kia Allah pak isko inam ata Kara ga kia Allah pak isko apna payara bando ma shamil kara ga ka gunnah gar bando ma shamil kara ga or in sub ka zikar hota hua suna to tha lakin aj samaj bhi lia ha or is sa bohat kuch hasil kia ha ap zindagi ma sir sukariya is column ko hamara lia bana na ka lia or isko shaya karna ka lia sukariya 😎😎😎😎
جواب دیںحذف کریںA good step about spirituality sir g we'll learn a lot from the columns of spirituality
حذف کریںYehh it's a good column about spirituality 😊
جواب دیںحذف کریںرکھو،زندگی کی دوڑ سب کو تھکا دیتی ہے۔ لیکن اللہ کی یاد تھکن کو بھی سکون میں بدل دیتی ہے۔ Excellent. I love these linens .we if we find Allah Almighty 's love.we achieve inner peace and calmness. Our relationship with Allah Almighty is no to much stronge..s
جواب دیںحذف کریںروحانیت اللہ کی قربت حاصل ہونے کا نام
جواب دیںحذف کریںھے جب انسان ہر طرح سے پاک صاف ہوتا ھے تو اسے اللہ عزوجل کی قربت حاصل ہو جاتی ہے دوسرے لفظوں میں اللہ عزوجل کی صفات اس مومن میں آجاتی ہیں اللہ عزوجل قرآن پاک میں فرماتا ھے میں مومن کے ہاتھ بن جاتا ہوں زبان بن جاتا ہوں اس کا چلنا بن جاتا ہوں یعنی جو وہ بولے وہ ہو جاتا ھے یہ روحانیت کب حاصل ہوتی ھے
جب انسان فنا فی اللہ ہو جاتا ھے علامہ اقبال نے فرمایا فرشتوں سے بننا ھے انسان اچھا مگر اس میں لگتی ہے محنت ذیادہ اگر آپ میں کسی کو روحانیت ملی ھے تو آپ کو اس کا شعور نہیں ہوگا جب آپ کی غلطی کی وجہ سے چھن جاتی ہے تب آپ پچھتاتے ہیں روحانیت ملنے سے انسان پرسکون تو ہوتا ھے لیکن اسے روحانیت ملنے کاشعور نہیں ہوتا
So grateful. You're amazing
جواب دیںحذف کریںAmazing sir
جواب دیںحذف کریںBilkul sir rohaniat hai k koi bhi Kam Sirf Allah ki raza k Liye Kiya jaye agar hum log is per Amal kar ly tu in kabhi Kuch galat na Kary gy balky dosro ko rooky gy bhi...
جواب دیںحذف کریں