Aik news aik kahani, Roti mai dair kyun ki, Behanon ke Qatil Bahi
"اک نوالہ روٹی کا اور ایک بیٹی کی لاش"
A Column By: سر جاوید بشیر
کبھی کبھار ایک خبر دل کے کسی گہرے کونے میں ایسی چوٹ لگا جاتی ہے، کہ لفظ بھی ساتھ چھوڑ دیتے ہیں، اور انسان سوچتا ہے کہ کیا ہم واقعی انسان کہلانے کے قابل بھی رہ گئے ہیں؟ ایسی ہی ایک خبر، جس نے صرف آنکھوں کو نم نہیں کیا بلکہ ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، وہ تھی:
"بھائی نے دیر سے روٹی دینے پر اپنی ایم بی بی ایس اسٹوڈنٹ بہن کو قتل کر دیا۔"
یہ صرف ایک قتل نہیں تھا، یہ روٹی کے نوالے پر ایک خواب کا قتل تھا۔
یہ کسی بیٹی کا قتل نہیں تھا، یہ ایک پورے معاشرے کے ضمیر کا جنازہ تھا۔
جس بھائی کی انگلی تھام کر ایک بہن بچپن میں چلنا سیکھتی ہے، جسے وہ اپنا محافظ مانتی ہے، جب وہی ہاتھ تلوار بن جائے، تو کون سا لفظ ہے جو ایسی بربریت کو بیان کر سکتا ہے؟
ایم بی بی ایس کی طالبہ تھی، ڈاکٹر بننا چاہتی تھی، شاید کسی ماں کی امید، کسی باپ کا سہارا، کسی مریض کے لیے مسیحا بننے جا رہی تھی۔
لیکن صرف "روٹی دیر سے دینے" پر اس کا خون بہا دیا گیا۔
کیا ہم اتنے بے حس ہو چکے ہیں کہ غصے میں انسانیت بھی بھول جاتے ہیں؟
قاتل کون تھا؟ بھوک؟ غصہ؟ یا ہم سب؟
یہ صرف ایک بھائی کا جرم نہیں، یہ پورے معاشرے کی منافقت کا نتیجہ ہے۔
یہ ہم سب کا جرم ہے جو غصے کو "مردانگی" کہتے ہیں، جو عورت کو "نوکرانی" سمجھتے ہیں، جو بیٹیوں کو جائیداد کی نہیں بلکہ خدمت کی چیز مانتے ہیں۔
کیا روٹی کی تاخیر اتنا بڑا جرم تھی؟
یا وہ تربیت ناکام تھی جو ایک انسان کو حیوان میں بدل دیتی ہے؟
کبھی غیرت کے نام پر، کبھی روٹی کے نوالے پر، کبھی وراثت میں حصے کی مانگ پر۔
بیٹیاں مر رہی ہیں اور ہم خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔
ہم نے بیٹیوں کو عزت دینا سیکھا ہی نہیں، ہم نے بیٹیوں کو سہولت کا ذریعہ سمجھا، اور جب وہ خود انسان بننے لگیں تو ان کا وجود ناقابل برداشت ہو گیا۔
ہم نے بیٹوں کو طاقت دی، مگر ضبط نہیں سکھایا۔
ہم نے انہیں سردار بنایا، مگر کردار نہ دیا۔
جب گھر میں ماں، بہن، بیٹی محفوظ نہیں، تو معاشرہ کیسے سلامت رہے گا؟
حل کیا ہے؟
تربیت، تربیت، تربیت – بیٹے کو بچپن سے سکھاؤ کہ بہن کوئی بوجھ نہیں، برکت ہے۔
غصے کا علاج کرواؤ – ہر تیز مزاج، سخت لہجہ مردانگی نہیں، یہ ایک بیماری ہے۔
خواتین کو حق دو – وہ نوکر نہیں، خاندان کی بنیاد ہیں۔
قانون حرکت میں آئے – قاتل کو نشانِ عبرت بنایا جائے تاکہ کوئی اور بہن "روٹی" کی قیمت اپنی جان سے نہ دے۔
جب بیٹی ڈاکٹر بننے کے خواب آنکھوں میں سجا کر رات کو سوتی ہے، تو کیا وہ یہی خواب دیکھتی ہے کہ صبح ایک نوالہ دیر ہو جانے پر وہ مار دی جائے گی؟
کیا ہم ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں ایک بہن کی زندگی روٹی
کے نوالے سے بھی سستی ہو گئی ہے؟
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں