Food Vloggers, The real face of Food Vloggers
جتنا غلیظ، اتنا لذیذ — پاکستانی فوڈ وی لاگرز کا اصل چہرہ
A Column By: سر جاوید بشیر
ایک وقت تھا جب ہم کھانے کو صرف بھوک مٹانے کا ذریعہ سمجھتے تھے، لیکن اب کھانے کو تفریح، شہرت، اور پیسے کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ آج کل "جتنا غلیظ، اتنا لذیذ" کا اصول پاکستانی فوڈ کلچر پر غالب آ چکا ہے۔ فیس بک، یوٹیوب، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر ہزاروں وی لاگرز ایسی ویڈیوز بناتے نظر آتے ہیں جن میں صفائی، صحت یا غذائیت کا کوئی خیال نہیں ہوتا۔ لیکن افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہ ویڈیوز لاکھوں افراد دیکھتے ہیں، واہ واہ کرتے ہیں، اور خود بھی انہی کھانوں کے پیچھے پاگل ہو جاتے ہیں۔
یہ کھیل صرف بھوک کا نہیں، پیسوں کا ہے
اکثر فوڈ وی لاگرز ہوٹلوں، ٹھیلوں، اور نام نہاد فوڈ اسٹریٹس پر ویڈیوز بناتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ جتنا زیادہ انوکھا کھانا ہوگا، اتنا ہی ویڈیو وائرل ہوگا۔ لیکن یہ سب کچھ مفت میں نہیں ہوتا۔ بہت سے ہوٹل مالکان ان وی لاگرز کو ہزاروں روپے دیتے ہیں تاکہ وہ ان کے ناقص، گندے، غیر صحت مند کھانوں کی تعریفیں کریں، "زبردست، لذیذ، مزے دار، لاجواب" جیسے الفاظ بول کر ان کھانوں کو جنت کا تحفہ بنا کر پیش کریں۔
کبھی آپ نے غور کیا ان فوڈ ویڈیوز میں کوئی صفائی، ہینڈ گلوز، یا حفظانِ صحت کے اصول نظر آتے ہیں؟ گندگی میں کھڑے ہوکر کھانے بنا رہے ہوتے ہیں، ہاتھ منہ پونچھے بغیر کھانے کو چھو رہے ہوتے ہیں، گردو غبار اڑ رہی ہوتی ہے، مگر وی لاگر "کیا بات ہے جی! ایسا کھانا تو زندگی میں نہیں کھایا!" کہہ کر عوام کو متاثر کرتے ہیں۔
ہمارے نوجوان، جو پہلے ہی فاسٹ فوڈ، کولڈ ڈرنکس، اور بازاری کھانوں کے رسیا تھے، اب ان ویڈیوز کو دیکھ کر اور زیادہ اس دلدل میں دھنس چکے ہیں۔ موٹاپا، معدے کے امراض، لیور کی خرابی، ذیابیطس، دل کے مسائل جیسے جان لیوا بیماریاں ان کھانوں کی بدولت عام ہو چکی ہیں، مگر کوئی بھی وی لاگر اس پہ بات نہیں کرتا، کیونکہ وہ صرف ویوز، لائکس اور اسپانسر شپ کے غلام ہیں۔
ان کھانوں کی ویڈیوز دیکھ کر غریب اور درمیانے طبقے کے لوگ اپنے بچوں کے ساتھ وہی کھانے کھانے پہنچتے ہیں، یہ سوچ کر کہ "یہ بہت مشہور ہے" یوں ایک جانب ان کی جیب خالی ہوتی ہے، دوسری طرف جسم میں زہر بھرتا ہے۔
پاکستان کے ہر شہر، ہر گاؤں کی اپنی خالص دیسی روایتی غذائیں ہیں — سادہ، صحت مند، قدرتی۔ لیکن آج وہ ختم ہو رہی ہیں، کیونکہ میڈیا، سوشل میڈیا اور وی لاگرز نے چٹ پٹے، مصالحے دار، مگر صحت دشمن کھانوں کو ٹرینڈ بنا دیا ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے کھانے میں اگر چکن نہ ہو، چربی نہ ہو، پنیر نہ ہو، یا مصالحہ نہ ہو تو وہ کھانا ہے ہی نہیں۔
کیا کرنا ہوگا؟
والدین، اساتذہ، اور علماء کو چاہئے کہ وہ نوجوان نسل کو شعور دیں کہ صحت کا مطلب صرف پیٹ بھرنا نہیں، بلکہ صحیح خوراک لینا ہے۔
جو وی لاگرز پیسے لے کر گندے کھانوں کو مشہور کرتے ہیں، ان کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی جائے، سوالات کیے جائیں۔
حکومت اور اسکولز کو چاہئے کہ وہ دیسی اور صحت مند کھانوں کو نصاب اور پروگرامز کے ذریعے بچوں تک پہنچائیں۔
ریگولیٹری ادارے متحرک ہوں: ایف ڈی اے یا متعلقہ ادارے فوڈ چینلز کی نگرانی کریں اور ایسی جگہوں کو بند کریں جو صحت کے اصولوں کو پامال کرتی ہیں۔
آخر میں ایک سوال:
کیا ہم اپنے بچوں کو صرف ذائقہ سکھا رہے ہیں یا زندگی؟ جتنا غلیظ، اتنا لذیذ — یہ فقرہ اب مذاق نہیں، بلکہ المیہ بن چکا ہے۔ وقت ہے کہ ہم جاگیں، ورنہ ہماری قوم بیمار ہو کر بستر پر پڑی رہے گی، اور وی لاگرز پیسے کما کر نئی گاڑیوں میں گھومتے رہیں گے۔
فیصلہ آپ کے ہاتھ میں
ہے: ذائقہ یا صحت؟
Good article
جواب دیںحذف کریںHealth is wealth
جواب دیںحذف کریںInteresting
جواب دیںحذف کریںGood sir
جواب دیںحذف کریںفیضان صحت کے اصول دیکھیں تو ایسی کون سی معیاری چیز ہے جو پاکستان میں اس وقت مل سکتی ہے کوئی بھی چیز معیاری نہیں نہ پھل نہ سبزی نہ اناج نہ دودھ اور سب سے بڑ کر مرغی کا گوشت اب تو مٹن اور بیف بھی اتنا ہی غیر میعاری ہے جتنا کہ مرغی کا گوشت
جواب دیںحذف کریںAgree with you 👍👍
جواب دیںحذف کریںHmary taleemi idary khud gandgi ko frough de rhy hy schools mwi canteens ky name pr
جواب دیںحذف کریںایک صاحب نے لکھا ہے کہ کچھ بھی معیاری نہیں ہے مطلب اب کچھ بھی کھائیں فرق نہیں پڑتا او بھائی فرق پڑھتا ہے میں نہیں مانتا کہ معیار میں ذائقہ نہیں ہوتا جتنا غلیظ اتنا لذیذ کا مطلب ارٹیفیشل ذائقہ اس چیز سے بچیں والسلام
جواب دیںحذف کریںشفیق احمد
Obviously health
جواب دیںحذف کریں!Totally agree
جواب دیںحذف کریں