Library, Library aur hmari new generation

 

لائبریری کی طاقت: نسلوں کا مستقبل

A Column By: سر جاوید بشیر

بچپن ہی سے اُس لڑکے کو کتابوں سے دوستی کرا دی گئی۔ اس کے بابا جان خود بھی علم دوست تھے۔ وہ صرف کتابیں پڑھتے ہی نہیں تھے، بلکہ ہر روز اپنے بیٹے کو بھی پڑھنے کی ترغیب دیتے۔ وہ اکثر کہتے،

"بیٹا! جو وقت تم کتاب کے ساتھ گزارو گے، وہ تمہاری زندگی کے سب سے قیمتی لمحات ہوں گے۔"


پھر کچھ ایسا ہوا جو اس محبت کو مزید پروان چڑھانے کا باعث بنا۔ لڑکے کے ماموں اور ان کے بچے بھی علم دوست تھے۔ ان کے گھر کا ماحول بھی مطالعے سے معطر تھا۔ جب بھی وہ ان کے گھر جاتا، کتابوں کا سمندر اس کا استقبال کرتا۔ یوں آہستہ آہستہ، اُس لڑکے کے پاس بھی ایک چھوٹی سی ذاتی لائبریری بن گئی — جس میں Rich Dad Poor Dad, The Power of Subconscious Mind, Animal Farm, اور کئی اور قیمتی کتابیں شامل تھیں۔


اینمل فارم جیسی کتاب، جس میں سیاست کی چالاکیاں اور طاقت کے غلط استعمال کو علامتی انداز میں بیان کیا گیا، اُس نے اسے نہ صرف سمجھ بوجھ دی بلکہ معاشرے کو سمجھنے کی گہری بصیرت بھی عطا کی۔


ایک دن اُس نے سوچا:

"اگر یہ کتابیں میری سوچ بدل سکتی ہیں، تو کیا یہ دوسروں کی سوچ نہیں بدل سکتیں؟"

یہی سوچ ایک چنگاری بنی، جس نے خوابوں کو حقیقت کا رنگ دیا۔ اُس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی ذاتی لائبریری کو دوسرے بچوں کے ساتھ شیئر کرے گا۔ یوں اُس نے ایک چھوٹی سی لائبریری قائم کی — جس کا دروازہ ہر اُس بچے کے لیے کھلا تھا جو علم کا پیاسا تھا۔


لائبریری کیوں ضروری ہے؟


لائبریری صرف کتابوں کا ذخیرہ نہیں، بلکہ ایک ایسا گوشہ ہے جو سوچ کو پروان چڑھاتا ہے، جذبات کو نکھارتا ہے، اور کردار کو سنوارتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک کے اکثر تعلیمی اداروں میں لائبریری کو ایک غیر ضروری چیز سمجھا جاتا ہے، حالانکہ یہی ادارے اگر مطالعے کو فروغ دیں، تو قوم کے اندر تحقیق، تنقید، اور تخلیق کا شعور بیدار ہو سکتا ہے۔


بچوں کا ذہن کھیلوں، موبائل، اور سوشل میڈیا میں الجھا ہوا ہے۔ لائبریری انھیں مطالعے کی طرف راغب کرتی ہے۔

کتابیں صرف علم نہیں دیتیں، بلکہ انسانیت، سچائی، برداشت اور انصاف جیسے اوصاف بھی سکھاتی ہیں۔ مطالعہ کرنے والے بچے بولنے، لکھنے اور سوچنے میں باقیوں سے بہت آگے ہوتے ہیں۔


اسکول یا اکیڈمی کے سربراہ کا ویژن ہی ادارے کا رخ طے کرتا ہے۔ اگر وہ لائبریری کے قیام کو اپنی ترجیح بنائیں، بجٹ کا کچھ حصہ مختص کریں اور اساتذہ کو بھی کتابیں پڑھنے کی ترغیب دیں، تو جلد ہی تعلیمی ماحول بدل سکتا ہے۔


اساتذہ صرف مضمون پڑھانے والے نہیں، بلکہ قوم بنانے والے ہوتے ہیں۔ اگر وہ خود مطالعے کا شوق رکھیں، کلاس میں بچوں کو ہر ہفتے ایک کتاب کی تلخیص سنائیں، یا مطالعے پر مباحثہ کروائیں، تو بچے جلد کتاب دوست بن جائیں گے۔

والدین اگر اپنے بچوں کو نئے کپڑوں کے ساتھ ایک اچھی کتاب بھی تحفے میں دیں، تو مطالعہ ان کی زندگی کا حصہ بن جائے گا۔ رات کو سونے سے پہلے بچوں کو کہانیاں سنانا بھی ایک بہترین شروعات ہو سکتی ہے۔


ہر اسکول یا اکیڈمی ابتدا میں صرف 20 سے 30 کتابوں سے ایک چھوٹا سا گوشہ بنا سکتے ہیں۔ وقت کے ساتھ یہ گوشہ ایک مکمل لائبریری بن سکتا ہے۔

لائبریری کے نظام میں طلبہ کو شامل کیا جائے۔ ہر ہفتے ایک "لائبریری مانیٹر" مقرر ہو جو کتابوں کی ترتیب، رجسٹری، اور حفاظت کی نگرانی کرے۔ اس سے بچوں میں ذمہ داری کا احساس بھی بڑھے گا۔


کتاب صرف کاغذ کا مجموعہ نہیں، یہ وہ دوست ہے جو کبھی دھوکہ نہیں دیتا، وہ استاد ہے جو بغیر فیس کے علم دیتا ہے، وہ رہنما ہے جو راستہ دکھاتا ہے۔

 وہ بچہ جس نے بچپن میں کتابوں سے دوستی کی تھی، آج صرف ایک لائبریری نہیں بنا رہا — وہ ایک قوم کو پڑھنا سکھا رہا ہے۔


اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے فیس بک، ٹک ٹاک، اور یوٹیوب کی دنیا سے نکل کر حقیقی علم کی روشنی میں آئیں، تو ہمیں ہر اسکول، ہر گلی، ہر محلے میں لائبریری کا چراغ روشن کرنا ہو گا۔

کیونکہ… جہاں کتابیں ہوں گی، وہاں سوچ ہوگی، اور جہاں سوچ ہوگی، وہاں ترقی ہو گی


تبصرے

  1. Thank you for teaching us the importance of library ☺️

    جواب دیںحذف کریں
  2. Thanku sir very good information

    جواب دیںحذف کریں
  3. السلام علیکم جنابسر جاوید بشیر صاحب ماشااللہ بہت ہی اچھی ترغیب ہے مطالعہ کا شوک پیدا کرنے کی اللہ عزوجل آپ کو جزاے خیر عطا فرماۓ آمینیا ربالعالمین

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. وعلیکم السلام! بھائی جان، آپ کی حوصلہ افزائی کا بہت شکریہ۔ آپ جیسے علم دوست ساتھ ہوں تو یہ کام مزید آسان اور خوبصورت ہو جاتا ہے۔ ان شاء اللہ، ہم سب مل کر مطالعے کی شمع کو ہر گھر میں روشن کریں گے۔
      آپ کی دعاؤں کا بہت ممنون ہوں۔جزاک اللہ

      حذف کریں
  4. Sir ASA hi ha hamain talim Basil karna ka lia Jo bhi karna para hamain karna cahiya or talim ko mukhtalif kitabon sa hasil karna cahiya or mukhtalif kisam ki kitabon ko parh ka mukhtalif cheezon ka ilam hasil ho or is ko dosron tak bhi punchain yeh hi aik akalmand ki nishani ha sukariya sir is column ko hamara lia bna na ka lia 💓💓💓💕💕💕

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

"قارئین کی پسند: ہمارے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے کالمز کی فہرست"

Vloggers ka Pakistan, Ducky Bhai, Rajab Butt, Sistrology

Sawal pochna mana hai, swal kyun pocha

Chacha, aur Chacha ka Pakistan!

Law of Karma, Maqfat e Ammal

Ducky Bhai, Rajab Butt aur Nani waly ka Sach, Ducky aik fake hero

Jinnah Ka Adhoora Khwab: Kya Tum Use Poora Karoge? Azadi Ka Asal Matlab: Jinnah Ke Alfaaz Mein