چھوٹی نیکیوں کا جادو

 

چھوٹی نیکیوں کا جادو  

کالم از: سر جاوید بشیر  


یہ 2005 کی ایک سرد اور دھند بھری رات تھی۔ سان فرانسسکو کے مشہور گولڈن گیٹ برج پر ٹریفک تقریباً تھم چکا تھا۔ اس ویرانے میں، برج کے عین وسط میں بنے پیدل چلنے والے راستے کی حفاظتی جنگلے پر ایک نوجوان کھڑا نیچے اندھیرے میں ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کو دیکھ رہا تھا۔ اس کا نام کیون برتھیا تھا۔ وہ صرف بائیس سال کا تھا، لیکن زندگی کے دکھوں، ناکامیوں اور قرض کے بوجھ نے اسے وقت سے پہلے بوڑھا کر دیا تھا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ کر ٹھنڈی ہوا میں جم سے گئے تھے۔ اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ آج وہ اپنی زندگی کا یہ بوجھل سفر ختم کر دے گا۔ وہ بس آخری ہمت جمع کر رہا تھا کہ جنگلے کے دوسری طرف چھلانگ لگا دے۔


اس کے نزدیک دنیا کا ہر دروازہ بند ہو چکا تھا۔ وہ خود کو دنیا کا ناکام ترین اور تنہا ترین انسان سمجھ رہا تھا۔ اسے لگ رہا تھا کہ اس کے مرنے سے شاید دوسروں کی زندگیاں آسان ہو جائیں گی۔ وہ اپنے آخری لمحوں میں تھا، جب اس کے کندھے پر ایک نرم سا لمس محسوس ہوا۔ اس نے چونک کر پیچھے دیکھا۔ کیلیفورنیا ہائی وے پٹرول کا ایک آفیسر، کیون بریگز، اس کے پیچھے کھڑا تھا۔ اس آفیسر کی آنکھوں میں نہ کوئی سختی تھی، نہ کوئی حکم، نہ کوئی نصیحت۔ بس ایک عجیب سی نرمی اور ہمدردی تھی۔


آفیسر کیون بریگز نے اس سے یہ نہیں پوچھا کہ "تم یہاں کیا کر رہے ہو؟" یا "خودکشی کرنے لگے ہو؟" اس نے مسکرا کر ایک بہت ہی سادہ سا سوال پوچھا، "تمہارا مہینہ کیسا گزرا؟"


یہ سوال اتنا غیر متوقع اور اتنا عام سا تھا کہ کیون برتھیا، جو موت کو گلے لگانے والا تھا، ایک لمحے کے لیے ٹھٹھک گیا۔ اس نے اس کی زندگی کے آخری لمحوں کی بات نہیں کی، بلکہ گزرے ہوئے دنوں کا حال پوچھا۔


اس ایک چھوٹے سے، ہمدردانہ جملے نے برف کی اس دیوار کو پگھلا دیا جو کیون نے اپنے ارد گرد کھڑی کر رکھی تھی۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا۔ اگلے ایک گھنٹے تک وہ آفیسر کیون بریگز سے بات کرتا رہا۔ وہ اسے اپنی زندگی کی ہر ناکامی، ہر دکھ، ہر تکلیف بتاتا رہا اور آفیسر بریگز بغیر کوئی فیصلہ سنائے، بغیر کوئی بھاشن دیے، بس ایک دوست کی طرح اس کی باتیں سنتارہا۔ وہ صرف سنتا رہا۔ جب کیون برتھیا اپنا سارا غبار نکال چکا تو آفیسر بریگز نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور کہا، "چلو، نیچے چلتے ہیں۔ میں تمہیں ایک کپ کافی پلاتا ہوں۔ ہم مزید بات کریں گے۔"


کیون برتھیا نے اپنا ہاتھ اس اجنبی کے ہاتھ میں دے دیا اور جنگلے سے پیچھے ہٹ گیا۔ اس ایک کپ کافی اور چند ہمدرد جملوں نے اسے ایک نئی زندگی دے دی۔


یہ کوئی فلمی کہانی نہیں۔ برسوں بعد، کیون برتھیا، جو آج ایک خوشحال زندگی گزار رہا ہے، ایک بیوی اور چار بچوں کا باپ ہے اور خودکشی کی روک تھام کا ایک سرگرم کارکن ہے، ایک تقریب میں آفیسر کیون بریگز سے ملا۔ اس نے روتے ہوئے اس کا شکریہ ادا کیا اور کہا، "اس رات آپ نے جو کیا، وہ شاید آپ کی ڈیوٹی کا ایک معمولی سا حصہ ہو، آپ کے لیے وہ ایک اور دن تھا جب آپ نے کسی کو برج سے نیچے اتارا۔ لیکن میرے لیے... میرے لیے وہ ایک سوال میری پوری زندگی تھا۔ آپ کی اس چھوٹی سی نیکی نے مجھے موت کے منہ سے واپس کھینچ لیا تھا۔"


یہاں سے ہماری اصل کہانی شروع ہوتی ہے۔ ہم اور آپ، جو اس معاشرے میں رہتے ہیں، جو روز صبح اٹھتے ہیں، اپنی نوکریوں، کاروبار اور پریشانیوں میں گم ہو جاتے ہیں اور رات کو تھک ہار کر سو جاتے ہیں۔ ہم سب اپنی زندگی میں کسی بڑے کارنامے، کسی عظیم الشان کامیابی کے منتظر رہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہم کوئی ایسی فیکٹری لگائیں جو ملک کی تقدیر بدل دے، کوئی ایسی کتاب لکھیں جو صدیوں تک پڑھی جائے، کوئی ایسی عمارت بنائیں جو زمانے کی آنکھوں کو خیرہ کر دے، یا کم از کم اتنی دولت ضرور کما لیں کہ ہماری سات نسلیں بیٹھ کر کھائیں۔ ہم سب اپنی تاریخ میں ایک بڑا، شاندار اور یادگار باب لکھنا چاہتے ہیں۔


لیکن اس بڑی کامیابی کی دوڑ میں ہم ان چھوٹی چھوٹی نیکیوں کو بھول جاتے ہیں جو اصل میں زندگی کو زندگی بناتی ہیں۔ ہم اس حقیقت کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ بڑی عمارتوں کی بنیاد میں پڑی ایک ایک اینٹ اہم ہوتی ہے۔ ہم اس سمندر کو تو دیکھتے ہیں جو ہماری نظروں کے سامنے ٹھاٹھیں مار رہا ہوتا ہے، لیکن ان اربوں کھربوں قطروں کو بھول جاتے ہیں جن سے مل کر یہ سمندر بنتا ہے۔


ہماری بھی تو یہی نفسیات ہے۔ ہم میں سے ہر شخص پاکستان کا وزیراعظم بن کر ملک ٹھیک کرنا چاہتا ہے، لیکن ٹریفک اشارے پر کھڑے سپاہی کو دھوپ میں جلتا دیکھ کر پانی کی ایک بوتل دینا ہمیں یاد نہیں رہتا۔ ہم کروڑوں روپے کی عالیشان مسجد تعمیر کروانے کا خواب دیکھتے ہیں، لیکن اپنے بوڑھے پڑوسی کی خیریت پوچھنے کے لیے ہمارے پاس پانچ منٹ نہیں ہوتے۔ ہم دنیا سے غربت مٹانے پر لمبی لمبی تقریریں کر سکتے ہیں، لیکن اپنے گھر کام کرنے والی ماسی کی بیٹی کی فیس ادا کرنا ہمیں فضول خرچی لگتا ہے۔ ہم سوشل میڈیا پر انسانیت کے سب سے بڑے علمبردار بن کر پوسٹیں لگاتے ہیں، لیکن راستے میں کسی حادثے کے شکار شخص کو ہسپتال پہنچانے کے بجائے اس کی وڈیو بنانے کو ترجیح دیتے ہیں۔


یہ کیسا تضاد ہے؟ یہ کیسی دوہری شخصیت ہے جس میں ہم سب مبتلا ہیں؟ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ ہمیں سکھایا ہی یہی گیا ہے کہ کامیابی کا مطلب ہے "کچھ بڑا کرنا"۔ ہماری نظروں میں نیکی کا پیمانہ بھی اس کا حجم ہے۔ دس لاکھ روپے کا عطیہ دینے والا ہمیں "نیک" اور "حاجی صاحب" لگتا ہے، لیکن چپکے سے کسی یتیم کے سر پر ہاتھ رکھنے والا ہماری نظروں میں ہی نہیں آتا۔ ہمیں دکھاوا پسند ہے۔ ہمیں وہ کام اچھا لگتا ہے جس کی تشہیر ہو، جس پر ہمارا نام لکھا جائے، جس کے بعد لوگ ہماری تعریف کریں۔ چھوٹی نیکیاں گمنام ہوتی ہیں، ان کا کوئی اشتہار نہیں چھپتا، ان پر کوئی تختی نہیں لگتی، اس لیے شاید وہ ہماری انا کو تسکین نہیں پہنچاتیں۔


لیکن سچ یہ ہے کہ اس کائنات کا نظام بڑی چیزوں پر نہیں، چھوٹی چھوٹی چیزوں کے توازن پر قائم ہے۔ ایک چھوٹا سا ایٹم نظر نہیں آتا، لیکن جب وہ اپنی طاقت دکھاتا ہے تو شہر کے شہر تباہ کر دیتا ہے۔ ایک چھوٹا سا بیج مٹی کے نیچے دفن ہوتا ہے، لیکن جب وہ پھوٹتا ہے تو تناور درخت بن کر سینکڑوں کو سایہ اور پھل فراہم کرتا ہے۔ ایک چھوٹا سا لفظ جو آپ کی زبان سے نکلتا ہے، کسی کی زندگی بنا بھی سکتا ہے اور کسی کو زندہ درگور بھی کر سکتا ہے۔

کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ جب آپ کسی شدید پریشانی میں مبتلا ہوں، جب آپ کو لگ رہا ہو کہ دنیا ختم ہونے والی ہے، اس وقت کسی دوست کا ایک فون کال، اس کا صرف یہ کہہ دینا کہ "یار فکر نہ کر، میں ہوں ناں" آپ کے اندر کتنی ہمت بھر دیتا ہے؟ وہ دوست آپ کا مسئلہ حل نہیں کرتا، وہ آپ کو پیسے نہیں دیتا، وہ صرف آپ کو یہ احساس دلاتا ہے کہ آپ اکیلے نہیں ہیں۔ یہ احساس، یہ چھوٹا سا جملہ، بڑی بڑی دولت سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔ یہی چھوٹی نیکی کا جادو ہے۔ یہ وہ خاموش انقلاب ہے جو معاشروں کو اندر سے بدل دیتا ہے۔ آپ کو یاد ہے، پچھلے سال جب کراچی میں شدید بارشیں ہوئی تھیں؟ سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کر رہی تھیں۔ اسی دوران ایک تصویر وائرل ہوئی تھی۔ ایک نوجوان موٹر سائیکل سوار ایک بوڑھے شخص کو اپنی کمر پر اٹھا کر پانی سے بھری سڑک پار کروا رہا تھا۔ اس نوجوان کو کوئی نہیں جانتا تھا، اس نے یہ کام کسی شہرت کے لیے نہیں کیا تھا، لیکن اس کی اس ایک چھوٹی سی نیکی نے لاکھوں دلوں میں امید کی شمع روشن کر دی۔ اس ایک تصویر نے ہمیں یہ احساس دلایا کہ انسانیت ابھی زندہ ہے۔ یہ کسی بھی حکومتی امدادی پیکیج سے بڑا پیغام تھا۔


ہماری روزمرہ کی زندگی ایسے ہزاروں موقعوں سے بھری پڑی ہے۔ آپ دفتر جا رہے ہیں، ایک شخص کی گاڑی خراب ہو گئی ہے۔ آپ رک کر صرف اتنا پوچھ لیں کہ "بھائی صاحب، کوئی مدد چاہیے؟" ہو سکتا ہے آپ اس کی گاڑی ٹھیک نہ کر سکیں، لیکن آپ کا یہ جملہ اسے احساس دلائے گا کہ وہ ایک بے حس لوگوں کے جنگل میں نہیں رہتا۔ آپ بینک کی لائن میں کھڑے ہیں، آپ کے پیچھے ایک بزرگ خاتون کھڑی ہے۔ آپ اپنی باری اسے دے دیں۔ اس سے آپ کے شاید دس منٹ زیادہ لگ جائیں، لیکن اس خاتون کے دل سے جو دعا نکلے گی، وہ شاید آپ کے کسی بڑے مالی نقصان کو ٹال دے۔ آپ کا ملازم پریشان نظر آ رہا ہے، اسے پاس بٹھا کر صرف اس کا حال پوچھ لیں۔ ہو سکتا ہے وہ آپ کو کچھ نہ بتائے، لیکن آپ کا یہ عمل اس کے دل میں آپ کی عزت کو آسمان تک پہنچا دے گا۔


یہ چھوٹی چھوٹی نیکیاں وہ بیج ہیں جو ہم دوسروں کے دلوں کی زمین میں بوتے ہیں۔ ہمیں پتا بھی نہیں چلتا کہ کب یہ بیج ایک تناور درخت بن کر خود ہمیں ہی سایہ فراہم کرنے لگتے ہیں۔ ہم اکثر اپنی پریشانیوں میں اتنے الجھے ہوتے ہیں کہ ہمیں لگتا ہے دنیا میں سب سے دکھی انسان ہم ہی ہیں۔ لیکن جب ہم کسی دوسرے کے لیے کچھ کرتے ہیں، چاہے وہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو، تو ہمیں ایک عجیب سی خوشی اور سکون کا احساس ہوتا ہے۔ یہ احساس ہمیں ہماری اپنی تکلیفوں سے بڑا بنا دیتا ہے۔ دوسروں کے زخموں پر مرہم رکھنا دراصل اپنے ہی زخموں کو بھرنے کا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ ہم بڑی بڑی باتوں میں الجھ کر یہ چھوٹی چھوٹی نیکیاں بھول بیٹھے ہیں۔ 

بدقسمتی یہ ہے کہ ہم پاکستانی اکثر اپنے مسائل کا حل حکومت، اداروں یا سیاستدانوں سے ڈھونڈنے لگتے ہیں۔ لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا کہ اگر ہم میں سے ہر ایک دن میں دو چھوٹی نیکیاں بھی کرنے لگے تو یہ ملک کتنا بدل سکتا ہے؟ ایک مفکر کا قول ہے کہ "قومیں بڑے منصوبوں سے نہیں بلکہ لوگوں کے چھوٹے اعمال سے بنتی ہیں۔" ہمیں چاہیے کہ ہم خود کو اس تبدیلی کا ذریعہ بنائیں۔  


یاد رکھیے، جب تک کوئی سماج چھوٹی نیکیوں کا عادی نہ ہو، وہ بڑی نیکیوں پر کبھی اکٹھا نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ نیکی کا مزاج چھوٹے عمل سے ہی بنتا ہے۔ جیسے بارش ایک قطرے سے شروع ہوتی ہے، جیسے سمندر ایک ندی سے بڑھتا ہے، اور جیسے انقلاب ایک جذبے سے جنم لیتا ہے۔  


کبھی آپ ایک بچے کو قلم خرید دیں، اور وہ آگے جا کر استاد بن جائے۔ کبھی آپ کسی کو راستہ دکھا دیں، اور وہ راستہ اسے زندگی کا نیا مقصد دے۔ کبھی آپ کسی کو صرف مسکرا کر دیکھ لیں، اور وہ مسکراہٹ اُس کی ٹوٹی ہوئی ہمت جوڑ دے۔ دنیا انہی چھوٹے لمحوں کی گواہ ہے جو آنے والے وقتوں میں تاریخ کے بڑے باب بن جاتے ہیں۔  

ضروری نہیں آپ ایک انقلاب برپا کریں... ضروری یہ ہے کہ آپ کسی کے لیے آسانی پیدا کر سکیں۔ یہ آسانی کبھی دو روٹیاں بن جاتی ہے، کبھی ایک دلاسہ، کبھی ایک مسکراہٹ۔ یہی چھوٹی نیکیوں کا جادو ہے جو وقت کے سینے پر بڑے بڑے نقوش چھوڑ جاتا ہے۔  

ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں ہر شخص نفسیاتی دباؤ کا شکار ہے۔ ہر کوئی تنہا ہے۔ اس تنہائی کا علاج بڑی بڑی پارٹیوں یا مہنگے تحفوں میں نہیں، بلکہ چھوٹے چھوٹے ہمدردانہ رویوں میں ہے۔ اپنے ارد گرد دیکھیں۔ آپ کو درجنوں کیون برتھیا نظر آئیں گے۔ کوئی آپ کا دوست ہے جو نوکری جانے پر مایوس ہے، کوئی آپ کا پڑوسی ہے جو بیماری سے لڑ رہا ہے، کوئی آپ کا رشتہ دار ہے جو گھریلو جھگڑوں سے تنگ ہے۔ انہیں آپ کے پیسوں کی نہیں، آپ کی توجہ کی ضرورت ہے۔ انہیں آپ کے بھاشن کی نہیں، آپ کے کندھے کی ضرورت ہے جس پر سر رکھ کر وہ رو سکیں۔ کیا آپ وہ کندھا بن سکتے ہیں؟ کیا آپ وہ آفیسر کیون بریگز بن سکتے ہیں جو صرف اتنا پوچھے، "تمہارا دن کیسا گزرا؟"

تو آئیے، ہم آج سے ایک فیصلہ کریں۔ ہم چھوٹی نیکیوں کا سفر شروع کریں۔ ہم اپنے گھروں، گلیوں، دفاتر، بازاروں میں یہ عمل پھیلائیں۔ ہم یہ یقین رکھیں کہ ہم دنیا کو شاید نہ بدل سکیں، لیکن ہم کسی نہ کسی ایک انسان کی دنیا ضرور بدل سکتے ہیں۔ یہی اصل کامیابی ہے۔  


آپ کو یہ کالم کیسا لگا؟ اس تحریر کے بارے میں اپنی رائے ضرور دیں۔

آپ بھی اپنی زندگی میں کی گئی کسی چھوٹی نیکی کا تجربہ یا اس سے جڑی کوئی کہانی ہمارے ساتھ شیئر کریں، تاکہ دوسروں کو بھی اچھے کام کرنے کی ترغیب ملے۔

تبصرے

  1. کاکا ایک ایسا شخص جس سے لوگوں کو گن آتی ھے اس کو نہلانا کیسا ھے کوئی غریب آپ سے ادھار مانگے آپ دے دیں اور کہیں مجھے جلدی نہیں ھے جب آسانی ہو دےدینا یہ لفظ بولنے سے اس کی انا مجروع نہیں ہوگی اور پھر بھول جائیں کہ کسی کو ادھار دیاتھا یہ عام سی نیکیاں ہمارے لئے تناور درخت بن جاتی ہیں راستے میں کسی کا پٹرول ختم ہوگیا آپ نے مدد کردی بیمار پرسی پہ جائیں مدد کر دیں
    اگر کچھ نہ ہو تو ہمدردی کے بول ہی کافی نہیں اس کےلیۓ دعا بھی کریں انشااللہ آپ کی دعا ضرور پوری ہوگی یہ سب تجربے کی باتیں ہیں اگر آپ کے میٹھے بولوں سے کسی کی زندگی بچتی ھے تو یہ بہت سستا سودا ہے اسے کسی صورت ھاتھ سے نہ جانے دیں اللہ عزوجل ہمیں نیک عمل کرنے کی توفیق عطا فرماۓ آمین یارب العالمین

    جواب دیںحذف کریں
  2. Do something but hided even if you gave something from right hand then don't know the left hand
    And do something smaller ,can changed your whole life
    May be your small act of kindness can change someone's life and from his or her prayers you will go to Jannah 🤲⭐

    جواب دیںحذف کریں
  3. Nice column. Small acts of kindness can change lives.

    جواب دیںحذف کریں
  4. If our small word can change someone life,so we need to support others for making others life better ❤️

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

"قارئین کی پسند: ہمارے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے کالمز کی فہرست"

Vloggers ka Pakistan, Ducky Bhai, Rajab Butt, Sistrology

Sawal pochna mana hai, swal kyun pocha

Chacha, aur Chacha ka Pakistan!

Law of Karma, Maqfat e Ammal

Ducky Bhai, Rajab Butt aur Nani waly ka Sach, Ducky aik fake hero

Jinnah Ka Adhoora Khwab: Kya Tum Use Poora Karoge? Azadi Ka Asal Matlab: Jinnah Ke Alfaaz Mein