Deja Vu, Deja Vu waham ya Haqeeqat
ڈیجا وُو (Déjà Vu) — ایک حقیقت یا محض وہم؟
A Column By: سر جاوید بشیر
کبھی آپ کے ساتھ ایسا ہوا ہے کہ آپ کسی جگہ پہلی بار گئے ہوں، لیکن دل کہے کہ یہاں تو آپ پہلے بھی آ چکے ہیں؟ یا کسی شخص سے پہلی بار ملاقات ہو رہی ہو، مگر ایسا لگے جیسے یہ ملاقات تو ماضی میں کئی بار ہو چکی ہو؟ یا کوئی جملہ، کوئی منظر، کوئی کیفیت آپ کو کچھ اس طرح جانی پہچانی لگے کہ آپ چونک جائیں؟ اگر ہاں… تو آپ ڈیجا وُو کے تجربے سے گزر چکے ہیں۔
ڈیجا وُو" ایک فرانسیسی لفظ ہے جس کا مطلب ہے "پہلے دیکھا ہوا"۔
یہ ایک ایسا عجیب احساس ہے جس میں کسی کو لگتا ہے کہ وہ کوئی منظر یا صورتحال پہلے بھی دیکھ یا محسوس کر چکا ہے، حالانکہ اصل میں ایسا کچھ نہیں ہوا ہوتا۔
یہ تجربہ چند سیکنڈز سے لے کر ایک دو منٹ تک ہوتا ہے، اور پھر خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔ مگر اس کا اثر دل و دماغ پر گہرا ہوتا ہے، اور انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ "آخر یہ کیا تھا؟"
کچھ ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ ڈیجا وُو دماغ کا ایک "کمیونیکیشن ایرر" ہے۔
دماغ میں یادداشت اور حالیہ تجربات کو محفوظ کرنے کے الگ الگ حصے ہیں۔ کبھی کبھار دماغ میں یہ سگنلز گڑبڑا جاتے ہیں، اور ایک نیا منظر، غلطی سے پرانی یادداشتوں والے حصے میں چلا جاتا ہے۔ نتیجہ؟ آپ کو لگتا ہے کہ یہ تو پہلے ہو چکا ہے!
یہ ایسا ہی ہے جیسے کمپیوٹر کسی نئی فائل کو "Old Files" فولڈر میں محفوظ کر دے۔
کچھ روحانی ماہرین اور صوفی مزاج لوگ اسے ایک اور زاویے سے دیکھتے ہیں۔
ان کے مطابق ڈیجا وُو اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ انسان کی روح نے اس لمحے کو پہلے کسی خواب، وجدان یا "روحانی سفر" میں دیکھا ہے۔
کچھ عقائد میں اسے "Past Life Memories" یا سابقہ جنم کی یادیں بھی کہا جاتا ہے۔
بعض ماہرین کے مطابق آنکھ سے نظر آنے والا منظر دماغ کے دو الگ حصوں تک پہنچتا ہے، اور اگر ان کے درمیان معمولی تاخیر ہو جائے تو دماغ اُسے پہلے سے دیکھے ہوئے کے طور پر رجسٹر کرتا ہے۔
کبھی کبھار جب دماغ کوئی منظر دیکھتا ہے، وہ فوری طور پر اسے "طویل مدتی یادداشت" میں محفوظ کر دیتا ہے، حالانکہ وہ حالیہ منظر ہوتا ہے۔ اس سے لگتا ہے کہ یہ تو ہم پہلے بھی دیکھ چکے ہیں۔
اگر آپ نے کسی ملتی جلتی جگہ، کتاب، فلم یا خواب میں وہی منظر دیکھا ہو، تو جب آپ حقیقت میں اسے دیکھتے ہیں تو دماغ اُن دونوں کو جوڑ لیتا ہے۔ نتیجہ؟ ڈیجا وُو۔
کیا ڈیجا وُو خطرناک ہے؟
عمومی طور پر نہیں۔
ڈیجا وُو ایک عام اور بے ضرر تجربہ ہے۔ دنیا کی 60% سے زائد آبادی زندگی میں کبھی نہ کبھی اس تجربے سے گزرتی ہے۔
لیکن اگر:
ڈیجا وُو بار بار ہو
اس کے ساتھ چکر آنا، بے ہوشی یا یادداشت کا مسئلہ ہو تو پھر کسی نیورولوجسٹ سے رجوع ضروری ہے، کیونکہ یہ کسی دماغی مرض کی علامت ہو سکتی ہے۔
ڈیجا وُو کا اثر انسان پر کیا ہوتا ہے؟
انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ "میں نے یہ کہاں دیکھا تھا؟"
کچھ لوگوں کے لیے یہ ایک روحانی جھٹکا ہوتا ہے جو انہیں کسی گہرے راز کی طرف لے جاتا ہے۔
ڈیجا وُو کوئی بیماری نہیں، لہٰذا اس کا "علاج" نہیں بلکہ "سمجھ" ضروری ہے۔
لیکن اگر یہ بہت زیادہ ہو رہا ہو تو:
نیند پوری کریں
اسکرین ٹائم کم کریں
دماغی دباؤ کم کریں
ذہنی سکون کے لیے ذکر، مراقبہ کریں
اور اگر ضرورت محسوس ہو تو ماہرِ دماغ و نفسیات سے رجوع کریں
ڈیجا وُو ہمیں کیا سکھاتا ہے؟
ڈیجا وُو ہمیں دماغ، وقت اور شعور کی گہرائیوں میں جھانکنے کا موقع دیتا ہے۔
یہ احساس کہ "کچھ تو ایسا ہے جو ہماری ظاہری آنکھ نہیں دیکھ پاتی" — یہی احساس ہمیں سوچنے، پڑھنے، جاننے اور سمجھنے پر اکساتا ہے۔
یہ وہ لمحہ ہے جو ہمیں دنیاوی معمولات سے نکال کر وجود کے رازوں کی طرف لے جاتا ہے۔
جو بھی ہو — یہ ایک دلچسپ، حیرت انگیز، اور کبھی کبھی روح کو جھنجھوڑ دینے والا تجربہ ضرور ہے۔
اگلی بار جب آپ کو ڈیجا وُو ہو… تو رک جائیں، مسکرائیں، اور دل ہی دل میں سوچیں: "کیا یہ محض اتفاق ہے؟ یا میرے وجود سے جُڑی کوئی گہری بات؟"
اگر آپ کو یہ کالم اچھا لگا ہو تو اسے دوسروں کے ساتھ ضرور شیئر کریں، تاکہ ہم سب ڈیجا وُو اچھی طرح سمجھ سکیں۔
الحمدللہ، شکر ہے، ہمیں سوچنے کی توفیق دی گئی!
السلام عیکم سر جاوید صاحب میری میموری بھلکڑ ہے مجھے اپنے بچپن کی سب باتیں یاد ہیں جس کا مطلب میں میری یاداشت اچھی ہے میرے ساتھ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا میرے ساتھ کسی نی ایسی بات share بھی نہں کی بس فلموں کی حد تک پتا ہے
جواب دیںحذف کریںوعلیکم السلام بھائی جان!
حذف کریںآپ کی 'بھلکڑ' میموری کا کمال ہے کہ بچپن یاد ہے، اور ڈیجا وُو صرف فلموں تک! شاید آپ اتنی 'ریل لائف' میں ہیں کہ دماغ کو 'دھوکا' دینے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ :)
Knowledgeable 😊
جواب دیںحذف کریں!Informative ☺️
جواب دیںحذف کریںGood Information Sir
حذف کریں!Very informative
جواب دیںحذف کریں