Allegory of the Cave, کیا ہم قیدی ہیں؟


 جہالت کے غار سے شعور کی روشنی تک: ایک قوم کی بیداری
A Column By: سر جاوید بشیر

کبھی کبھی ایک پرانی داستان، ایک کہانی، ہماری موجودہ زندگی کی سب سے بڑی حقیقت بن جاتی ہے۔ یونانی فلسفی افلاطون (Plato) نے 2400 سال پہلے ایک کہانی سنائی تھی جسے آج بھی دنیا کا ہر ذی شعور انسان پڑھ کر چونک جاتا ہے۔ اس کہانی کو "Allegory of the Cave" کہا جاتا ہے۔ بظاہر یہ ایک فلسفیانہ مثال ہے، مگر اصل میں یہ ہر اس قوم، اس فرد، اس معاشرے کی تصویر ہے جو جہالت، اندھی تقلید، اور سچ سے انکار کی زنجیروں میں جکڑا ہو۔

اور افسوس کہ آج کا پاکستانی نوجوان بھی اس کہانی کے کردار بن چکے ہیں۔
ہماری سوچ، ہمارا تعلیمی نظام، ہمارا میڈیا، ہماری سیاست، سب کچھ ہمیں اسی افلاطون کے غار کی دیواروں پر چلنے والے سایوں کی طرف متوجہ رکھتا ہے، اور ہم انہیں حقیقت سمجھ بیٹھے ہیں۔

آئیے، یہ کہانی سنیں — مگر اپنی آنکھوں اور دل کے ساتھ۔
تصور کریں ایک غار ہے — اندھیرے سے بھرا ہوا۔
اس غار میں کچھ لوگ بچپن سے قید ہیں۔ ان کے ہاتھ، پاؤں اور گردن زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ وہ صرف سامنے کی دیوار کو دیکھ سکتے ہیں۔ ان کے پیچھے ایک آگ جل رہی ہے، اور اس آگ کے درمیان کچھ لوگ مختلف اشیاء لے کر چلتے ہیں۔ ان اشیاء کے سائے غار کی دیوار پر پڑتے ہیں۔ قیدی ساری زندگی صرف ان سایوں کو دیکھتے ہیں — اور انہیں ہی حقیقت مان لیتے ہیں۔

پھر ان میں سے ایک قیدی کسی طرح زنجیروں سے آزاد ہوتا ہے۔ وہ پیچھے مڑتا ہے تو حیران رہ جاتا ہے کہ سائے جنہیں وہ حقیقت سمجھتا تھا، اصل نہیں تھے — اصل چیزیں تو وہ تھیں جو پیچھے چل رہی تھیں۔ وہ آگ سے بھی نکلتا ہے اور باہر کی دنیا میں جاتا ہے۔ وہاں وہ سورج، آسمان، درخت، پانی، اور حقیقت کو پہلی بار دیکھتا ہے۔

پھر وہ واپس جاتا ہے اپنے ساتھی قیدیوں کو حقیقت بتانے، مگر وہ اس پر ہنستے ہیں، مذاق اڑاتے ہیں، اسے جھوٹا اور پاگل کہتے ہیں — کیونکہ وہ سچ سننا نہیں چاہتے، وہ سایوں سے محبت کرتے ہیں، کیونکہ وہی ان کے لیے "آسان" حقیقت ہے۔
یہ کہانی صرف یونانیوں کی نہیں۔
یہ ہماری کہانی ہے۔
ہماری نوجوان نسل بھی آج ایک ذہنی غار میں قید ہے — جس کی دیواروں پر میڈیا، سوشل میڈیا، سیاست، برین واشنگ، جھوٹے خواب، جعلی ہیروز، اور چمکدار فریب کے سائے پڑ رہے ہیں۔

ہم انہیں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں، انہیں حقیقت سمجھتے ہیں، اور جو کوئی ہمیں اصل سچ دکھانا چاہے — ہم اسے رد کر دیتے ، اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔

ہمارا غار ہے سیاست کا فریب،جہاں جھوٹے وعدے، جعلی بیانیے، اور شخصیت پرستی ہمیں اندھوں کی طرح پیروی پر مجبور کرتی ہے۔

میڈیا کا جادو جہاں کرائم، گلیمر، اور بے حیائی کو "ترقی" کا نام دے کر پیش کیا جاتا ہے۔

نظامِ تعلیم جو صرف نمبر دوڑ ہے، جو صرف رٹے، ڈگری، اور سفارش پر قائم ہے۔

سوشل میڈیا جہاں ہر نوجوان influencer بننے کے خواب میں حقیقت سے دور ہو چکا ہے۔

تاریخ سے لا علمی ہمیں نہ اپنے ہیروز کا علم ہے، نہ اپنی اقدار کا فخر۔

ہماری زنجیریں کیا ہیں؟

بے شعوری

اندھی تقلید

شخصیت پرستی

سچ سے نفرت

تنقید سے ڈر

جھوٹے خواب


ہم سچ سننا نہیں چاہتے، کیونکہ سچ تکلیف دیتا ہے۔ ہمیں سچ بولنے والے بُرے لگتے ہیں،کیونکہ وہ ہمارے سائے توڑ دیتے ہیں۔

پاکستانی نوجوان کو کیا کرنا ہوگا؟
ہمیں اپنے comfort zone سے نکل کر سچ کو تلاش کرنا ہوگا، چاہے وہ سچ کتنا ہی تکلیف دہ کیوں نہ ہو۔
اندھی تقلید چھوڑ کر سوالات کرنے ہوں گے۔ ہر بات، ہر روایت، ہر فیصلہ پر سوچنا ہوگا کہ کیا یہ حقیقت ہے یا سایہ؟
علم کا مطلب صرف نوکری نہیں — شعور، بیداری، کردار، اور ذمہ داری بھی ہے۔

سوشل میڈیا سے باہر نکلیں اور اپنی زندگی کو اصلی کتابوں، حقیقی استادوں، اور سچے انسانوں کے ساتھ جوڑیں۔

 اپنے غار کے باہر نکلنے والے بنیں اور جب باہر نکل جائیں، تو واپس آئیں اور دوسروں کو بھی روشنی دکھائیں — چاہے وہ آپ کا مذاق ہی کیوں نہ اڑائیں۔

غار سے نکلنا مشکل ہے، مگر ممکن ہے
سچ تو یہی ہے کہ غار کی دیواروں سے لپٹے ہوئے سائے بہت دلکش ہوتے ہیں۔ سچ کی روشنی آنکھوں کو چبھتی ہے۔ لیکن ایک بار جب آپ اس روشنی کو قبول کر لیں، تو آپ دنیا کو اصل رنگ میں دیکھنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔
پاکستانی نوجوان اگر افلاطون کے اس غار سے باہر نکل آئے — تو وہ دنیا کے بہترین تخلیق کار، رہنما، سائنسدان، فنکار، اور انسان بن سکتے ہیں۔

یہ دنیا، یہ زندگی، یہ معاشرہ — افلاطون کے غار کی طرح ہے۔ کچھ لوگ قید ہیں، کچھ باہر آچکے ہیں، اور کچھ باہر جانے سے ڈرتے ہیں۔

اگر آپ بھی کسی اندھیرے غار میں بیٹھے سایوں کو حقیقت سمجھ رہے ہیں، تو اپنے دل سے پوچھیں — کیا یہی زندگی ہے؟ کیا یہی حقیقت ہے؟

اگر نہیں،تو اُٹھیں،سچائی کی طرف قدم بڑھائیں،تکلیف تو ہوگی،مگر روشنی، سکون، شعور، اور حقیقی آزادی آپ کا انتظار کر رہی ہے۔

کیونکہ... جہاں شعور ہوگا، وہاں حقیقی آزادی ہوگی، اور جہاں حقیقی آزادی ہوگی، وہاں ایک باشعور اور متحد قوم جنم لے گی۔
یہ کالم صرف ایک کہانی نہیں، ایک دعوت ہے — اپنے غار سے نکلنے کی، سچ کو پہچاننے کی، اور ایک نئی، روشن حقیقت کو گلے لگانے کی۔




آپ اس کالم کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ کیا ہم واقعی افلاطون کے غار میں قید ہیں؟ اگر ہم قید ہیں، تو اس قید سے کیسے نکل سکتے ہیں؟ کم از کم ایک تجویز دیں اوراپنی قیمتی آراء سے آگاہ کریں۔




تبصرے

  1. السلام علیکم یہ کہانی میں نے پہلی دفعہ سنی ہے تو میں اپنے وجدان میں ہی بتاؤں گا یہ کہ ہم خیالی دنیا سے باہر نکلیں اور حقیقت کی طرف دوڑیں اب یہ تعین کیسے کریں جو میں حقیقت سمجھتا ہوں آپ کے خیال میں وہ سایہ ہے اور جسے میں حقیقت سمجھتا ہوں آپ کے خیال میں وہ سایہ ہے تو سر جاوید صاحب حقیقت میں جانے کےلۓ مشاہدہ مطالعہ اور شخصیت کو پرکھنا ضروری ہے ایک چیز اور کہ ہمیں اپنی عنا مطلب خود پسندی سے باہر نکلنا ہو گا والسلام

    جواب دیںحذف کریں
  2. اگر واقعی آپ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آپ غار کے قیدی ہیں یا نہیں، تو خود کو دیکھیے: اگر آپ شخصیت پرستی کر رہے ہیں، تو آپ قیدی ہیں؛ اگر ایسا نہیں تو مبارک ہو، آپ آزاد ہیں۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. We should try to know the reality and then believe in it

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

"قارئین کی پسند: ہمارے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے کالمز کی فہرست"

Vloggers ka Pakistan, Ducky Bhai, Rajab Butt, Sistrology

Sawal pochna mana hai, swal kyun pocha

Chacha, aur Chacha ka Pakistan!

Law of Karma, Maqfat e Ammal

Ducky Bhai, Rajab Butt aur Nani waly ka Sach, Ducky aik fake hero

Jinnah Ka Adhoora Khwab: Kya Tum Use Poora Karoge? Azadi Ka Asal Matlab: Jinnah Ke Alfaaz Mein