Bhoolna Bahaduri Hai, Ham Mazi ko kesy bhol skty?, The One Art
بھولنے کا فن, One Art
A Column By: سر جاوید بشیر
ایک گاؤں میں ایک نوجوان رہتا تھا۔ خوبصورت، محنتی، اور خوابوں سے بھرا ہوا۔ مگر ایک حادثے نے اس کی زندگی کا رنگ چھین لیا۔ اس کا سب کچھ برباد ہو گیا۔ لوگ سمجھتے تھے کہ وہ وقت کے ساتھ بھول جائے گا، مگر وہ بھول نہ سکا۔ ہر دن، ہر رات، وہ اسی لمحے میں جیتا جو اسے توڑ گیا تھا۔
ایک دن گاؤں کے ایک بزرگ اسے دیکھ کر بولے
“بیٹا، تم اپنے ساتھ کیا کر رہے ہو؟”
نوجوان نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا
بابا جی آپ جانتے ہیں، میں نے بہت کچھ کھو دیا ہے۔ میں بھول نہیں سکتا…”
بابا جی نے ایک پتھر اٹھایا اور اس کے ہاتھ میں دے کر کہا
“اس پتھر کو مضبوطی سے پکڑو… اور چلتے رہو۔”
کچھ دیر بعد نوجوان کے ہاتھ میں درد ہونے لگا، اس کی انگلیاں سن ہو گئیں۔ وہ بولا
“بابا جی، یہ بہت بھاری ہے۔”
بابا جی مسکرائے
“یہی تم کر رہے ہو… تم ایک پرانی یاد کو پتھر کی طرح سینے سے چمٹائے پھر رہے ہو، اور سمجھتے ہو کہ تم آزاد ہو۔ آزاد وہ ہے جو پتھر زمین پر رکھ دے اور دوڑنا شروع کر دے۔ بیٹا، بھولنا مشکل نہیں، بس چھوڑنا مشکل ہے… اور جب تم چھوڑ دو گے، تمہاری اڑان شروع ہو گی۔”
… تم بھی اپنے ہاتھ میں پتھر پکڑے ہوئے ہو۔ کوئی ٹوٹا رشتہ، کوئی گندا الزام، کوئی دھوکہ، کوئی ماضی کی غلطی… اور تم اس کو اپنی پہچان بنا کر چل رہے ہو۔
یاد رکھو…
ماضی کو چمٹائے رہنا ایسے ہی ہے جیسے ہاتھ میں جلتا کوئلہ پکڑ کر دوسروں کو سزا دینے کی کوشش کرنا — جلنا تمہیں ہی پڑتا ہے۔
ہم سب اسی کی طرح ہیں۔
ہم چیزوں کو نہیں… یادوں کو پکڑ کر رکھتے ہیں۔ ہم واقعات کو نہیں… احساسات کو زندہ رکھتے ہیں۔ کسی نے ایک بار دھوکہ دیا اور ہم نے برسوں تک اس دھوکے کو اپنا ساتھی بنا لیا۔ کسی نے ساتھ چھوڑا اور ہم نے اس کمی دل کی دیوار پر ٹانگ دیا۔
لیکن سنو… زندگی بھاری بوجھ کے ساتھ نہیں دوڑی جا سکتی۔
کیونکہ یاد رکھنا ہمیشہ طاقت نہیں دیتا، کبھی کبھی زہر بھی دیتا ہے۔
بھولنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم کمزور ہیں، بلکہ یہ کہ ہم جینا چاہتے ہیں۔ جو یاد ہمیں آگے بڑھنے سے روک دے، وہ یاد زخم ہے، خزانہ نہیں۔
بھولنے سے دل ہلکا ہوتا ہے۔
بھولنے سے قدم تیز ہو جاتے ہیں۔
بھولنے سے زندگی کی رنگت پھر سے واپس آتی ہے۔
یاد رکھو… اگر خزاں کو بھولا نہ جائے، تو بہار کبھی محسوس نہیں ہو سکتی۔
ہم کیوں نہیں بھول پاتے؟ کیونکہ ہم چیزوں سے نہیں، ان سے جڑے جذبات سے وابستہ ہو جاتے ہیں۔
ہم وہ کپڑا نہیں چھوڑ پاتے جو ہمیں کسی خاص دن پہنا تھا۔ ہم وہ گانا نہیں سن پاتے جو ہمیں کسی کی یاد دلا دے۔ ہم اس جگہ سے نہیں گزر پاتے جہاں ہم نے کسی کے ساتھ وقت گزارا تھا۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم ہر چیز کو اپنے دل سے باندھ لیتے ہیں، اور پھر سمجھتے ہیں کہ اس کو چھوڑ دینا خود کو چھوڑ دینا ہے۔
بھولنے کا فن یہ نہیں کہ یادوں کو دماغ سے مٹا دیا جائے۔ یہ فن ہے کہ یاد کو دل پر حکومت نہ کرنے دی جائے۔
جب کوئی پرانی یاد تم پر چڑھائی کرے، اس سے لڑو نہیں… اسے آنے دو، اور پھر جانے دو۔ جیسے کھڑکی سے ہوا آتی ہے اور واپس چلی جاتی ہے۔
بھولنے کے لیے شکرگزاری سیکھو۔
جس نے دھوکہ دیا، اس کا شکریہ ادا کرو کہ اس نے تمہیں سچ دکھا دیا۔
جس نے ساتھ چھوڑا، اس کا شکریہ ادا کرو کہ اس نے تمہیں اپنی طاقت پر چلنا سکھا دیا۔
جب تم شکرگزاری کے ساتھ یادوں کو رخصت کرو گے، وہ تمہیں کاٹنا بند کر دیں گی۔
اٹھو، اور دل سے یہ فیصلہ کرو کہ تم اب اپنے ماضی کے قیدی نہیں ہو۔
ایک پرانی یاد لکھو،اور کاغذ جلا دو۔
ایک پرانی چیز کسی ضرورت مند کو دے دو۔
یادوں کو قفل لگا کر مت رکھو، ان کے پر کاٹ کر آزاد کر دو۔
یاد رکھو…
زندگی تمہیں نیا تب دے گی جب تم پرانا چھوڑ دو گے۔
تمہارے دل کے کمرے میں صرف اتنی ہی جگہ ہے — اگر تم اسے پرانی تصویروں اور ٹوٹے خوابوں سے بھر دو گے، تو نئی بہار کہاں سجے گی؟
زندگی بہتی ہوئی ندی ہے، اور ندی میں وہی پانی تازہ رہتا ہے جو بہتا رہتا ہے۔ جو ٹھہرتا ہے، وہ بدبو دینے لگتا ہے۔ تمہاری یادیں بھی ایسا ہی پانی ہیں — انہیں بہنے دو۔
بھولنا کمزوری نہیں، بھولنا بہادری ہے۔
کیونکہ بھولنا اس بات کا اعلان ہے کہ تم اپنے آج کو ماضی کی قید میں نہیں رہنے دو گے۔
یہ اعلان ہے کہ تم نے اپنے زخم کو خزاں نہیں، بلکہ بہار بننے کا موقع دیا ہے۔
زندگی قیمتی ہے۔
اسے ماضی کے کچرے میں ضائع مت کرو۔
آؤ، بھولنے کا فن سیکھو… اور ہلکے قدموں کے ساتھ آگے بڑھو۔
اگر اس کالم نے آپ کو ہلکا ہونے کا راستہ دکھایا ہے، تو پلیز، اپنی قیمتی رائے کمنٹس میں ضرور لکھیں، تاکہ ہم سب مل کر آگے بڑھ سکیں۔
g bilkul aisa hi h agay barhny k liya mazi ko bhulna parts h or jo bhool kr agay bath kr new life ka agaz krta h wohi kamiyab rehta h manty h mazi nhi bhulai ja sakti making wo kehty h na kuch pany k liya bhot kuch khana parts h bs isi trha hmein bhi sb kuch bhula kr khuda ka he has m shukr aada krna chahiya or apni life ko ak party ki trha enjoy krna chahiya
جواب دیںحذف کریںIn lines sa himat milli ha jin chizo ko ham zindagi ma chorna ki kabhy sochta ni pata on ko chorna ki himat or aga bhrna ki himat milli ha.... Thank you sir javed and sweet baba ❣️
حذف کریںماشااللہ ذبردست
جواب دیںحذف کریںسر جاوید صاحب یادیں مختلف قسم کی ہوتی ہیں جن میں آپ نے جو کہا وہ اور جو آپ نے نہیں کہا وہ آپ کی ساری تلقین بہت اچھی ہیں لیکن ایک صدقہ جاریہ بھی ہے اور وہ ہے اپنے کسی عزیز کی چیز کسی ضرورت مند کو دینا جو آپ کو چھوڑ کر چلا گیا ہے
اللہ عزوجل ہم سب کو صبر اور استحکام کے ساتھ آگے بھڑنے کی توفیق عطا فرماۓ
آمین یارب العالمین
Sir ap sai kah rahay ha hamay APNAY mazi ko bhol kar agay Bharna ho ga Thank you sir ya baat bantanay ka Liya Thank you sir
جواب دیںحذف کریںA good column about let it go
جواب دیںحذف کریںIt is like a trick and a good 👍
This Column is very inspiring. You have explained very beautifully . Thanks
جواب دیںحذف کریںVery motivativ and interesting..I like it ☺️
جواب دیںحذف کریںVery interesting and full motivative
جواب دیںحذف کریںAik bohot pur umaide deney wala column hair yeh is column par aik❤️to banta hai
جواب دیںحذف کریںZabards coloumn sir g
جواب دیںحذف کریںPast is always for forget ☺️⭐
جواب دیںحذف کریںThanks sir for making us understand that how we can forget our past because Nowadays everyone is involve in this problem so thanks alot ❤️🤗
جواب دیںحذف کریں