میڈیٹیشن چیریٹی باکس

 

میڈیٹیشن چیریٹی باکس

Meditation Charity Box

کالم از: سر جاوید بشیر

یہ بات اُس دن کی ہے جب لاہور کی ایک سرد یخ رات میں مینارِ پاکستان کے سائے تلے ایک ماں اپنے دو ننھے بچوں کو اپنے دوپٹے میں لپیٹے کھڑی تھی۔ اُس وقت رات کی روشنیوں سے پورا شہر جگمگا رہا تھا لیکن اُس کے بچے کانپتے تھے، ہونٹ نیلے پڑ چکے تھے اور آنکھوں میں وہ سوال تھا جو کسی کتاب، کسی فلسفہ، کسی تقریر میں نہیں ملتا۔ وہ سوال تھا: "اماں، ہم گرم سوپ کیوں نہیں پی سکتے؟ ہمارے پاس کمبل کیوں نہیں ہے؟"  

اُس عورت نے ہونٹ کاٹنے کی کوشش کی، دل حلق تک آیا لیکن اُسے اپنے غریب خالی ہاتھوں سے بس دوپٹے کا کنارہ کھینچ کر بچوں پر ڈالنا پڑا۔ اُس لمحے مجھے لگا کہ ہم ہزار بار نمازیں پڑھ لیں، لاکھوں تسبیحات پڑھ لیں، اگر ہمارے گھروں کے قریب کوئی ایسی ماں بچوں کو سردی میں تھپک رہی ہو اور ہم اپنے کمبلوں میں چین کی نیند سو رہے ہوں، تو پھر ہماری عبادتوں کی روح کہاں کھو گئی؟  

یہی وہ لمحہ ہے جس میں اقبال کا شعر میری آنکھوں کے سامنے جگمگا اٹھتا ہے:  

خدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں، بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے  

میں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہوگا  

اقبال نے یہ بات کوئی شاعرانہ نعرہ سمجھ کر نہیں کہی تھی، یہ اُس صدیوں پرانے فلسفے کی بازگشت ہے جسے کائنات کی ہر کتاب، ہر وحی اور ہر پیغمبر دہراتے آئے ہیں کہ "انسان کی خدمت عین عبادت ہے۔" قرآن نے بھی صاف لکھ دیا ہے کہ "جس نے ایک جان بچائی، اس نے پوری انسانیت کو بچایا۔" لیکن صد افسوس، آج ہم ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے خوف، غربت اور سوال کو بھول چکے ہیں۔ ہم نے اپنے دروازے بند کر لیے ہیں، لیکن اپنے حساب کتاب کے رجسٹر کھول رکھے ہیں۔ ہم ہر روز کڑوڑوں کے منصوبے، اربوں کے ٹھیکے، محلوں کی روشنیاں دیکھتے ہیں لیکن بھول جاتے ہیں کہ حقیقت میں معاشروں کو قائم رکھنے والے وہ نامعلوم کردار ہیں جو دوسروں کے لیے چھوٹے چھوٹے چراغ جلاتے ہیں۔  

میں آج ایک ایسا چراغ جلانا چاہ رہا ہوں جسے میں "Meditation Charity Box" کا نام دیتا ہوں۔ یہ کوئی ادارہ نہیں، کوئی پراجیکٹ نہیں، یہ تو بس ایک محبت کی پونجی ہے، ایک ایمان کی امانت ہے۔ یہ اس ماں کے لیے ہے جس کی آنکھوں میں نیند نہیں، بس اپنے بچوں کو سردی سے بچانے کی فکر ہے۔ یہ اس مزدور کے لیے ہے جس کے ہاتھوں کی لکیریں مٹ گئیں مگر غربت کی لکیریں اور گہری ہو گئیں۔ یہ ان بے بس والدین کے لیے ہے جو دوا کی بجائے روز موت کا انتظار کرتے ہیں، اور یہ اس معصوم بچے کے لیے ہے جو دوسروں کے جوتوں کو چمکا کر بھی اپنے پاؤں کی ٹھوکریں نہیں مٹا سکتا۔ یہ سب ان کی آنکھوں میں امید کی ایک نئی کرن کے لیے ہے۔

میں کہنا چاہتا ہوں کہ یہ کوئی مہم نہیں، یہ تو بس اپنی ذات سے خود شروع ہونے والا چراغ ہے۔ آپ کے پاس لاکھوں روپے نہ سہی، بس اتنی گنجائش ہونی چاہیے کہ آپ کسی ایک شخص کے ہونٹوں پر مسکراہٹ لے آئیں۔ ایک بیمار بچے کے لیے دوا، ایک بڑھیا کے لیے رضائی، ایک مزدور کے لیے دو وقت کی روٹی۔ یاد رکھیے، کوئی مسلمان امیر ہو کر نہیں بلکہ انسانیت بانٹ کر بڑا بنتا ہے۔ اگر ہمارے گھروں کے اندر خوشیاں ہیں اور دروازے کے باہر فاقے، تو یہ خوشیاں ہم پر دنِ حشر سوال بن کر اتریں گی۔  

ذرا سوچئے! اِن سردیوں میں جب آپ اپنے کمرے میں ہیٹر کے سامنے بیٹھے چائے پی رہے ہوں گے، اُس وقت آپ کے آس پاس کتنے ہی لوگ ہوں گے جو پھٹے لحافوں میں بدن لپیٹ رہے ہوں گے۔ کسی ماں کے پاس بچوں کے لیے دودھ نہ ہوگا، کسی باپ کے پاس جوتے نہ ہوں گے، کسی بیٹے کے پاس ماں کے لیے دوا کے پیسے نہ ہوں گے۔ یہ وہ منظر ہیں جو رب العزت کے ہاں ہماری بخشش یا پکڑ کا سبب بنیں گے۔ آپ لاکھوں سلام پڑھ لیں، لیکن اگر بھوک سے بلکتا ہوا بچہ آپ کے دروازے کے سامنے مر گیا تو یہ سلام اور دعا اُس وقت کاغذی صفحہ بن جائیں گے۔  

میں آپ سے اپیل نہیں کر رہا، میں آپ کو ایک یاددہانی دے رہا ہوں۔ اپنے گھروں میں جو کیبنٹ خالی ہے اُس میں ایک چھوٹا سا "چراغ" رکھ لیجیے۔ اُس میں روپے ڈالئے، اپنی کمائی کا کوئی حصہ، اپنی زندگی کی چھوٹی قربانی۔ آپ کے یہ پیسےہر مہینے میرے پاس آئیں گے تو یہ پوری امانت کے ساتھ اُس مستحق کے پاس پہنچیں گے جس کا رب کے سوا اور کوئی نہیں۔  

آپ مجھے Jazz Cash یا EasyPaisa پہ بھیج سکتے ہیں، نمبر ہے 03334258189۔  

یاد رکھیے یہ دینے کا عمل صرف دینے سے زیادہ دراصل دل کو روشن کرنے کا عمل ہے۔ چراغ جب جلتا ہے تو روشنی اپنا حصہ کھو کر دوسروں کو فائدہ دیتی ہے۔ ہم سب کو ایک ایک دیا جلانا ہے۔ جب یہ دیے جلیں گے تو معاشرہ جگمگا اٹھے گا، غربت اپنا چہرہ چھپائے گی، ناامیدی شکست کھائے گی۔  

آخر میں آپ کو پھر وہی قصہ یاد دلاؤں جس سے آغاز کیا تھا۔ اُس ماں کا درد، اُس کے دو پھول جیسے بچے اور وہ سردی کی رات۔ کاش اُس وقت کوئی ایک چراغ بھی جلتا، کسی نے ایک رضائی، ایک کڑکڑاتا کمبل تھما دیا ہوتا، تو آج خدا کے عرش پر ایک مسکراہٹ ضرور جگمگائی ہوتی۔  


آئیے، ہم سب اپنی استطاعت کے مطابق، کسی نہ کسی کا سہارا بنیں۔ کوئی بچہ بھوکا نہ سوئے، کوئی بدن سردی میں برہنہ نہ ہو۔ یاد رکھیے! اصل اسلام، اصل انسانیت اور اصل کامیابی صرف اور صرف دوسرے انسانوں کو خوشی دینے میں ہے۔ میں نے اپنا چراغ جلا دیا ہے، اب آپ کی باری ہے...  


زندگی کے کئی سال میرے استاد محترم جاوید چوہدری صاحب کے لکھے ہر لفظ کو پڑھتے اور ان سے رہنمائی لیتے گزرے۔ انہوں نے اپنے ہر کالم میں محض خبر نہیں لکھی، بلکہ دل کی دھڑکنوں کو قلم بند کیا ہے۔ یہ کالم، یہ "Meditation Charity Box" اُن کے نام، اُن کی محبت کے نام۔

آج میں جو کچھ بھی ہوں، انہی کے کالموں کی بدولت ہوں۔ ان کے الفاظ نے میری سوچ کو نئی جہت دی اور ان کی تحریروں سے متاثر ہو کر میں آج یہ عظیم کام شروع کرنے جا رہا ہوں۔ یہ میرا چھوٹا سا خراجِ تحسین ہے اس عظیم شخصیت کو جس نے مجھے جینا اور لکھنا سکھایا۔


 اللّٰہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین۔  



اگر آپ کے پاس کوئی ایسی کہانی ہے، کوئی ایسا واقعہ جو آپ نے دیکھا ہو، تو ضرور لکھیں! ہمیں بتائیں کہ آپ کے ارد گرد کون سے ایسے لوگ ہیں جن کی زندگی میں ایک چھوٹے سے چراغ کی ضرورت ہے۔ آپ کی ایک کہانی، آپ کا ایک پیغام، لاکھوں دلوں کو روشن کر سکتا ہے۔

آئیں، مل کر اس نیک کام کا حصہ بنیں اور ایک دوسرے کو یہ احساس دلائیں کہ انسانیت ابھی زندہ ہے۔ مجھے آپ کے جواب کا انتظار رہے گا۔

تبصرے

  1. MashaAllah sir you have a greatest thoughts about needy people
    Seriously cherity like a bright light that spread happiness to those types of people who need it the most
    And we will give it must
    You are great person 👍

    جواب دیںحذف کریں
  2. سر جو واقعہ آپ نے لکھا ھے وہ میں نے کہانیوں میں ضرور پڑھا ھے اتنا درد ناک واقعہ نظر میں نہیں آیا کیوں کہ 1982 سے1985تک اکسر رات کی ڈیوٹی ھوتی تھی اکسر چوبرجی چوک میں خان بابا پراٹھا لگایا کرتا تھا وہاں سے پراٹھا کھانے کے دوران کوئی

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. بلکہ کافی ضرورت مند آجاتے تھے سردیوں میں فٹ پاتھ پر نظر نہیں آتا تھا لیکن گرمیوں میں فٹ پاتھ پڑے نظر آتے تھے میری اور میرے دوست حاجی قدیر کی اللہ تعالی نے یہی ڈیوٹی لگائی تھی تھیک ھے اگر آپ نے یہ نیک کام شروع کیا ھے تو ہم حاضر بندے کا کام نیت کرنا ھے مالک خود اسباب پیدا کرتا ھے اللہ رب العزت آپ کو اس نیک عمل میں کامیاب کرے آمین یا رب العالمین

      حذف کریں
  3. Help others and be blessed
    Your small donation can change a life

    جواب دیںحذف کریں
  4. Always helping others and start with the nearest person to you

    جواب دیںحذف کریں
  5. Sir hum puri kosish karain ga apka sath Dana ki or massom bachon or burhon or mao ki madad karna apka sath khara rahain aga or apni jitni kosish ho saka lagain ga or apni hasiyat ka mautabik usma rakam dalain ga taka hamari di hui rakam sa koi apni nai zindagi shuru kar saka or us ko aik Allah ki taraf sa sila hasil ho jay or who apni zindagi ko acha sa guzar saka yeh hona sa hamain or ussa jis ko yeh rakam mila GI or hamara rub ko bhi khushi ho GI or who hum par apna raham nazil kara ga sukariya sir is mediation charity box baba na ka lia hum apka is kam ka sila ma Allah apko hamasha khush rakha or ap par apna raham nazil farmay or apko apna hifzo eman ma rakha ameen and good job sir

    جواب دیںحذف کریں
  6. In this Era. We only on think for ourselves,our children. We must think about others who are survive very hard life .i Appreciate your effort. Allah Insha Allah succeeds you.

    جواب دیںحذف کریں
  7. May Allah give us always upper hand and make us reason of someone happiness

    جواب دیںحذف کریں
  8. Hr Cheez choty say hi start hoti hai Allah hm sb KO choti choti naikiyan krny Ki tofeeq den

    جواب دیںحذف کریں
  9. Mashallah sir g u r the truely inspiration🥹💕

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

"قارئین کی پسند: ہمارے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے کالمز کی فہرست"

Vloggers ka Pakistan, Ducky Bhai, Rajab Butt, Sistrology

Sawal pochna mana hai, swal kyun pocha

Chacha, aur Chacha ka Pakistan!

Law of Karma, Maqfat e Ammal

Ducky Bhai, Rajab Butt aur Nani waly ka Sach, Ducky aik fake hero

Jinnah Ka Adhoora Khwab: Kya Tum Use Poora Karoge? Azadi Ka Asal Matlab: Jinnah Ke Alfaaz Mein