انگریزی سے خوف نہیں، دوستی کریں! یہ کامیابی کی چابی ہے

ا

انگریزی سے خوف نہیں، دوستی کریں! یہ کامیابی کی چابی ہے


کالم از: سر جاوید بشیر

یہ قدیم یونان کی بات ہے۔ ایتھنز شہر کے باہر، سمندر کے کنارے ایک نوجوان کھڑا تھا۔ اس کے بال بکھرے ہوئے تھے، آنکھوں میں ایک عجیب سی وحشت اور جنون تھا۔ سمندر کی لہریں پورے شور سے ساحل سے ٹکرا رہی تھیں اور وہ نوجوان اس شور سے بھی اونچی آواز میں چیخ رہا تھا۔ اس کے منہ میں چھوٹی چھوٹی کنکریاں بھری ہوئی تھیں، جن کی وجہ سے اس کی زبان زخمی تھی اور الفاظ ٹوٹ ٹوٹ کر نکل رہے تھے، مگر وہ رکا نہیں۔ وہ بولتا رہا، چیختا رہا، یہاں تک کہ اس کی آواز لہروں کے شور پر غالب آ گئی۔ یہ کوئی پاگل نہیں تھا۔ یہ دیموس تھینیس تھا، وہ شخص جسے تاریخ کا سب سے بڑا مقرر (orator) بننا تھا۔


دیموس تھینیس پیدائشی طور پر کمزور تھا اور اس کی زبان میں شدید لکنت تھی۔ وہ ہکلا کر بولتا تھا۔ اس دور کے یونان میں سب سے بڑا فن تقریر کا فن تھا۔ جو شخص اچھا بول نہیں سکتا تھا، معاشرہ اسے کمتر اور نامکمل سمجھتا تھا۔ دیموس تھینیس نے جب پہلی بار ایتھنز کی عوامی اسمبلی میں بولنے کی کوشش کی تو لوگوں نے اس کا مذاق اڑایا، اس پر آوازیں کسیں اور اسے سٹیج سے اتار دیا۔ وہ ذلت اور رسوائی کا ایک ناقابل تصور لمحہ تھا۔ اس کی جگہ کوئی اور ہوتا تو شاید ہمیشہ کے لیے خاموشی کی چادر اوڑھ لیتا۔ مگر اس نے ہار نہیں مانی۔ وہ جانتا تھا کہ اس کے اندر خیالات کا ایک سمندر موجزن ہے، مگر اس کی زبان اس کا ساتھ نہیں دے رہی۔


وہ اس ناکامی کے بعد شہر سے نکل گیا اور خود کو ایک تہہ خانے میں بند کر لیا۔ اس نے اپنا آدھا سر مونڈھ دیا تاکہ شرم کے مارے باہر نہ نکل سکے۔ وہ مہینوں آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر بولنے کی مشق کرتا رہا۔ وہ منہ میں کنکریاں بھر کر بولتا تاکہ اس کی زبان کے پٹھے مضبوط ہوں اور الفاظ صاف ادا ہوں۔ وہ دوڑتے ہوئے نظمیں پڑھتا تاکہ اس کا سانس نہ پھولے۔ اور وہ سمندر کے کنارے جا کر لہروں کے شور پر چیختا تاکہ اس کی آواز میں وہ گرج اور طاقت پیدا ہو جو مجمع کو مسحور کر لے۔ سالوں کی اس مشقت کے بعد جب وہ واپس ایتھنز کی اسمبلی میں آیا اور اس نے تقریر شروع کی تو وقت تھم گیا۔ لفظ تھے کہ موتیوں کی طرح جھڑ رہے تھے، آواز تھی کہ بجلی کی طرح کڑک رہی تھی اور دلائل تھے کہ لوہے کی طرح مضبوط۔ جس مجمع نے کبھی اسے ہنسی میں اڑا دیا تھا، آج وہی مجمع سانس روکے اسے سن رہا تھا اور اس کے لفظوں پر رو رہا تھا۔ دیموس تھینیس نے اپنی سب سے بڑی کمزوری کو اپنی سب سے بڑی طاقت بنا لیا تھا۔ اس نے ثابت کیا کہ انسان اگر چاہے تو اپنی زبان کی گرہیں بھی کھول سکتا ہے۔


آج میں جب اپنے پاکستان کے نوجوانوں کو دیکھتا ہوں تو مجھے ان میں دیموس تھینیس کی جھلک نظر آتی ہے۔ ان کے اندر بھی خیالات کے سمندر ہیں، ان کے ذہنوں میں بھی قابلیت اور ذہانت کے خزانے دفن ہیں، مگر ان کی زبان پر بھی ایک گرہ لگی ہوئی ہے۔ یہ لکنت کی گرہ نہیں، یہ انگریزی زبان کی گرہ ہے۔ یہ احساس کمتری کا وہ خوف ہے جو انہیں بولنے نہیں دیتا۔ یہ اس معاشرے کا ڈالا ہوا وہ وہم ہے کہ اگر بولتے ہوئے غلطی کر دی تو لوگ ہنسیں گے۔ ہم نے خود اپنے بچوں کے پیروں میں یہ بیڑیاں ڈال دی ہیں۔ 


نتیجہ کیا نکلا؟ ہمارا نوجوان انٹرویو میں جاتا ہے، اس کے پاس ڈگری ہے، اس کے پاس اپنے شعبے کا علم ہے، مگر جیسے ہی انٹرویو لینے والا انگریزی میں سوال کرتا ہے، اس کے ماتھے پر پسینہ آ جاتا ہے، اس کے ہاتھ کانپنے لگتے ہیں اور اس کی زبان لڑکھڑا جاتی ہے۔ وہ جو کچھ جانتا ہے، وہ بھی بھول جاتا ہے۔ وہ مسترد کر دیا جاتا ہے۔ 


پچھلے کالم میں میں نے بات کی تھی کہ انگریزی کیوں ضروری ہے۔ آج میں آپ کو وہ راستہ دکھانا چاہتا ہوں جس پر چل کر آپ اس خوف اور اس کمزوری پر قابو پا سکتے ہیں۔ یہ دیموس تھینیس والا راستہ ہے، یہ مشقت، ہمت اور مستقل مزاجی کا راستہ ہے۔ یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں، یہ کوئی جادو کی چھڑی نہیں، یہ چند اصول ہیں جن پر اگر آپ نے عمل کر لیا تو آپ کی زبان کی گرہ بھی کھل جائے گی اور دنیا آپ کو بھی سنے گی۔


سب سے پہلا قدم ایک بچے کی طرح بننا ہے۔ ایک بچہ اپنی مادری زبان کیسے سیکھتا ہے؟ کیا وہ پہلے دن سے گرامر کی کتابیں پڑھتا ہے؟ کیا وہ لفظوں کے ہجے یاد کرتا ہے؟ نہیں۔ وہ صرف سنتا ہے۔وہ اپنے اردگرد موجود لوگوں کو صرف سنتا ہے۔ وہ آوازوں کو، لہجوں کو اور لفظوں کی موسیقی کو اپنے اندر جذب کرتا ہے۔ آپ کو بھی یہی کرنا ہے۔ اپنے کانوں کو انگریزی سننے کی عادت ڈالیں۔ یہ پہلا اور سب سے بنیادی اصول ہے۔ آپ دن میں آدھا گھنٹہ نکالیں۔ شروع میں آپ کو ایک لفظ بھی سمجھ نہیں آئے گا۔ کوئی بات نہیں۔ آپ صرف سنیں۔ بولنے کا انداز، ان کا لہجہ، ان کے اتار چڑھاؤ کو محسوس کریں۔ بی بی سی یا کسی بھی بین الاقوامی چینل کی خبریں سنیں۔ ان کا مقصد خبر سمجھنا نہیں، بلکہ زبان کے بہاؤ سے خود کو آشنا کرنا ہے۔ جیسے ایک دریا کنارے بیٹھا شخص پانی کے بہاؤ کو دیکھتا اور محسوس کرتا ہے، ویسے ہی آپ اس زبان کے دریا کو پہلے صرف محسوس کریں۔ یہ عمل آپ کے دماغ کو اس نئی آواز کے لیے تیار کرے گا۔ یہ بنیاد کا وہ پتھر ہے جس پر آپ نے عمارت کھڑی کرنی ہے۔


دوسرا قدم لفظوں سے دوستی کرنا ہے۔ جب کان سننے کے عادی ہو جائیں تو آنکھوں کو پڑھنے کی عادت ڈالیں۔ پڑھنا آپ کو الفاظ کا ذخیرہ دے گا۔ یہ وہ اینٹیں ہیں جن سے آپ نے اپنی گفتگو کی دیوار بنانی ہے۔ اور اس کے لیے آپ کو شیکسپیئر یا برٹرینڈ رسل سے شروع کرنے کی ضرورت نہیں۔ آپ بچوں کی کہانیوں کی کتابوں سے شروع کریں۔ ان میں سادہ ترین الفاظ اور آسان ترین جملے ہوتے ہیں۔ جب آپ ایک کہانی پڑھ کر خود سے سمجھنے لگیں گے تو آپ کو جو خوشی اور اعتماد ملے گا، وہ انمول ہو گا۔ روزانہ صرف ایک صفحہ پڑھنے کی عادت ڈالیں۔ اپنے پاس ایک چھوٹی سی ڈائری اور پن رکھیں۔ جو بھی نیا لفظ نظر آئے، اسے اس کے جملے کے ساتھ لکھ لیں۔ صرف لفظ اور اس کا اردو ترجمہ نہیں، بلکہ پورا جملہ لکھیں کیونکہ لفظوں کا اصل مطلب ان کے استعمال سے پتہ چلتا ہے۔ جب آپ بچوں کی کتابوں سے آگے بڑھ جائیں تو اخبار پڑھنا شروع کریں۔ روزانہ ڈان اخبار کا ایک ایڈیٹوریل پڑھنے کی کوشش کریں۔ شروع میں آپ کو اسی فیصد لفظ سمجھ نہیں آئیں گے، آپ کو غصہ آئے گا، آپ اکتا جائیں گے، مگر آپ نے ہمت نہیں ہارنی۔ آپ نے صرف پڑھتے رہنا ہے۔ ایک مہینے بعد آپ دیکھیں گے کہ جو ایڈیٹوریل پہلے آپ کو ایک اجنبی تحریر لگتا تھا، اب اس کے کچھ کچھ معنی آپ کو سمجھ آنے لگے ہیں۔ یہ پڑھنے کی عادت آپ کے دماغ کے بند دروازے کھول دے گی۔


اب ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دینا۔ ہم میں سے کتنے ہیں جو روز چند جملے انگریزی میں لکھتے ہیں؟ ہم چاہتے ہیں کہ بغیر محنت کے معجزہ ہو جائے۔ معجزے محنت کے بغیر نہیں آتے۔ آپ کے پاس کاپی اور قلم ہے، ایک جملہ لکھیں۔ کل دو لکھیں۔ پرسوں تین۔ آہستہ آہستہ آپ کی انگلیاں وہ جملے بنانے لگیں گی جو کل آپ کو مشکل لگتے تھے۔ پیغمبروں کے پیغام سے لے کر کتابوں تک، ہر انقلاب لکھے گئے الفاظ سے آیا۔ تاریخ لکھنے والوں کو یاد رکھتی ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ بھی سینہ تان کر انگریزی میں بول سکیں، تو پہلے انگریزی میں لکھنا سیکھیں۔  


آخر میں آتا ہے بولنا یہ سب سے مشکل مرحلہ لگتا ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں اگر آپ غلط انگلش بولیں تو لوگ فوراً مذاق اڑاتے ہیں۔ اپنے گاؤں، اپنے محلے میں کتنے بچوں کو دیکھا ہے جو صرف اس ڈر سے بولنے سے کتراتے ہیں کہ کہیں "Grammar" غلط نہ ہو جائے؟یاد رکھیں، زبان "Communication" کا نام ہے، لوگوں کو آپ کی غلطی سے زیادہ آپ کی نیت نظر آتی ہے۔ آپ شروع کریں۔ پہلے آئینے کے سامنے، پھر اپنے دوست کے ساتھ، پھر محفل میں۔ غلطی ہوگی تو کیا ہوا؟ غلطی تو سب سے بڑا استاد ہے۔  


لیکن اصل امتحان یہاں ختم نہیں ہوتا۔ اصل سفر تب شروع ہوتا ہے جب آپ ہر دن پانچ دس منٹ کے لیے خود سے پوچھیں: کیا میں نے کچھ نیا سیکھا؟ کیا میں نے اپنے خواب کو ایک انچ قریب کر لیا؟ کیونکہ زبان صرف جملوں کا نام نہیں بلکہ خوابوں اور شعور کا نام ہے۔  


انگریزی سیکھنا یہ نہیں کہ آپ اپنی مادری زبان بھول جائیں۔ ہم اردو کو چھوڑنے کی بات بالکل نہیں کر رہے۔ انگریزی تو بس ایک چابی ہے، ایک آلہ ہے۔ لیکن آج کی دنیا میں جس نے یہ چابی استعمال نہ کی وہ اندھیرے کمروں میں بھٹکتا رہے گا۔  


میں یہ کالم اس امید پر لکھ رہا ہوں کہ ہر وہ بچہ جو اینٹوں کے بھٹے پر کام کرتا ہے، ہر وہ لڑکی جو دیے کی ٹمٹماتی روشنی میں کتاب کھولتی ہے، ہر وہ نوجوان جو نوکری کے لیے دھکے کھا رہا ہے، وہ جان لے کہ اگر میں سننا سیکھوں، پڑھنا سیکھوں، لکھنا سیکھوں اور بولنا سیکھوں تو یہ زبان مجھے غلام نہیں، مجھے آزاد کر دے گی۔    


سو آؤ آج سے عہد کریں کہ ہم انگریزی کو بوجھ نہیں سمجھیں گے بلکہ اپنی اپنی ترقی، اپنی عزت کا ہتھیار بنائیں گے۔ اور ایک دن یہی زبان دنیا کے منبروں پر ہمیں سربلند کرے گی۔  


کیونکہ یاد رکھو:  

انگریزی سیکھنے والا ہر نوجوان دراصل اپنے مقدر کو لکھ رہا ہوتا ہے۔ اور جو اپنی تقدیر خود لکھتے ہیں، انہی کے نام تاریخ کے سنہری اوراق پر ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔  


لیکن اس سفر میں آپ اکیلے نہیں ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ یہ راستہ آسان نہیں، اس میں بہت سی رکاوٹیں ہیں، بہت سے مذاق ہیں اور بہت سی ناکامیاں ہیں۔ مگر ایک چیز جو ہمیں مضبوط بناتی ہے، وہ ہے ایک دوسرے کی کہانیوں سے حوصلہ حاصل کرنا۔

میں آپ سب سے پوچھنا چاہتا ہوں: آپ کی انگریزی سیکھنے کی کہانی کیا ہے؟ آپ نے اس زبان کے خوف پر کیسے قابو پایا؟ وہ کون سی مشکل تھی جو آپ کے راستے میں آئی اور آپ نے اسے کیسے عبور کیا؟ یا پھر وہ کون سا لمحہ تھا جب انگریزی نے آپ کے لیے ایک نئی دنیا کے دروازے کھولے؟

اپنی رائے اور اپنی کہانی ضرور شیئر کریں۔ آپ کا ایک جملہ کسی اور کی زندگی میں انقلاب لا سکتا ہے۔ آئیے، ہم سب مل کر اس خوف کو ختم کریں اور ایک ایسی تحریک شروع کریں جس سے ہمارا ہر نوجوان اپنی زبان کی گرہ کھول کر اپنے خوابوں کی طرف اڑان بھر سکے۔


تبصرے

  1. السلام علیکم
    ماشااللہ بہت اچھا کالم ذبردست
    میری انگلش چھٹی سے شروع ہوئی تھی میری ٹیچر نے ایم اے انگلش میں کیا تھا بہت اچھی لیڈی تھی اس نے مجھے کہا تھا کہ انگلش بولو چاہے غلط بولو ایک بار انگلش کی بک سے دور سے ہی کہا مس ڈیویلوپ develop کا کیا مطلب مس بہت ہسی اور کہا کہ شفیقے یہ develop ھے مجھے مس نے پہلے ہی سمجھا دیا تھا اس لئے مجھے شرمندگی نہیں ہوئی اس کے بعد میری جھیجھک تقریبا ختم ہوگئ تو کہنے کا مطلب ہے کہ بندہ غلطی سے ہی سیکھتا ہے جیسے داغ تو اچھے ہوتے ہیں

    جواب دیںحذف کریں
  2. Sir aj apny apnay column k through bhtt sy logo ko ik motivation di ha Aj shayad bht sy bachy is column ko parh kr kuch seekhny ki taraf aye gy
    Many b apni spoken English learning ap sy start ki or Within 4 months you gave me too much knowledge and learnt how to face froms hurdles and now Alhumdullilah I'm perfect in life and can do anything ..
    Thank you for learnt me 👍
    My Epex Sir May Allah gives you more and more🤲♥️

    جواب دیںحذف کریں
  3. Yes sir g English is a tool of success
    But it needs some effort, courage and consistency
    Then it becomes our life time friend

    جواب دیںحذف کریں
  4. Sir column is very motivated yes sir English is tool of success Thank you sir column is very good

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

"قارئین کی پسند: ہمارے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے کالمز کی فہرست"

Vloggers ka Pakistan, Ducky Bhai, Rajab Butt, Sistrology

Sawal pochna mana hai, swal kyun pocha

Chacha, aur Chacha ka Pakistan!

Law of Karma, Maqfat e Ammal

Ducky Bhai, Rajab Butt aur Nani waly ka Sach, Ducky aik fake hero

Jinnah Ka Adhoora Khwab: Kya Tum Use Poora Karoge? Azadi Ka Asal Matlab: Jinnah Ke Alfaaz Mein