لکڑی کا ٹکڑا نہ بنو، کشتی بنو

 


کشتی بنو، لکڑی کا ٹکڑا نہیں

کالم از: سر جاوید بشیر


میں جانتا ہوں کہ یہ کالم شاید میری زندگی کا سب سے طویل کالم ہو۔ آج کے مصروف دور میں اتنا وقت نکالنا مشکل ہے۔ لیکن میری آپ سے التجا ہے کہ اسے صرف پڑھیں نہیں، بلکہ دل میں اتار لیں۔ ہو سکتا ہے کہ اس کے آخر میں آپ وہ نہ رہیں جو آپ آغاز میں تھے۔ یہ صرف الفاظ نہیں، یہ ایک آئینہ ہے جو آپ کو آپ کا اصل چہرہ دکھائے گا۔ پڑھیں، اور فیصلہ کریں کہ آپ کون ہیں اور کیا بننا چاہتے ہیں۔



یہ 1887ء کی ایک صبح تھی۔ الاباما کے ایک چھوٹے سے گھر میں ایک سات سال کی بچی وحشت کے عالم میں چیخ رہی تھی۔ اس کی دنیا ایک سیاہ، گہری اور خاموش غار تھی۔ وہ نہ دیکھ سکتی تھی، نہ سن سکتی تھی اور نہ ہی بول سکتی تھی۔ انیس مہینے کی عمر میں ایک پراسرار بیماری نے اس سے روشنی، آواز اور لفظ، تینوں نعمتیں چھین لی تھیں۔ اس کا نام ہیلن کیلر تھا۔ وہ ایک زندہ وجود تو تھی، مگر اس کی زندگی پانی کے بہاؤ پر بہتے ہوئے لکڑی کے ایک بے سمت ٹکڑے جیسی تھی۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ وہ کون ہے، کہاں ہے، اور اس کے اردگرد کیا ہو رہا ہے۔ بھوک لگتی تو چیختی، غصہ آتا تو چیزیں توڑ دیتی، کسی کو اپنی بات سمجھانی ہوتی تو اشاروں میں ہاتھ پاؤں مارتی اور جب کوئی نہ سمجھتا تو زمین پر لیٹ کر ایڑیاں رگڑنے لگتی۔ اس کے والدین اس کی حالت پر خون کے آنسو روتے اور اسے اپنی تقدیر کا لکھا سمجھ کر خاموش ہو جاتے۔ وہ لکڑی کا ایک ٹکڑا تھی جسے حالات کی بے رحم لہریں جہاں چاہتیں، جس چٹان سے چاہتیں، ٹکرا دیتیں۔


پھر اس کی زندگی میں این سلیوان نامی ایک فرشتہ صفت استانی داخل ہوئی۔ این نے آ کر اس بے سمت لکڑی کے ٹکڑے کو ایک کشتی میں بدلنے کا فیصلہ کیا۔ یہ کوئی آسان کام نہیں تھا۔ ہیلن ایک جنگلی جانور کی طرح تھی جو کسی کو اپنے قریب نہیں آنے دیتی تھی۔ لیکن این نے ہمت نہیں ہاری۔ وہ مہینوں تک اس کے ساتھ رہی، اسے انگلیوں کے اشاروں سے لفظ سکھانے کی کوشش کرتی رہی۔ ایک دن وہ ہیلن کو باغ میں لگے پانی کے پمپ کے پاس لے گئی۔ اس نے ہیلن کا ایک ہاتھ ٹھنڈے، بہتے ہوئے پانی کے نیچے رکھا اور دوسرے ہاتھ کی ہتھیلی پر بار بار ایک لفظ لکھا: 'پانی'۔


اور پھر وہ معجزہ ہوا جس نے تاریخ بدل دی۔


جیسے ہی ٹھنڈے پانی کا لمس اور ہتھیلی پر لکھی جانے والی مخصوص جنبش ایک ساتھ ہیلن کے دماغ میں اکٹھے ہوئے، اس کے اندر جیسے ایک بجلی سی کوند گئی۔ اس کے بے جان وجود میں زندگی کی لہر دوڑ گئی۔ اسے پہلی بار احساس ہوا کہ ہر چیز کا ایک نام ہوتا ہے۔ وہ سیاہ اور خاموش غار یکدم روشن ہو گئی۔ اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی ایک لڑی جاری ہو گئی۔ وہ ایک ہی رات میں تیس نئے لفظ سیکھ گئی۔ وہ لکڑی کا ٹکڑا جو اب تک صرف بہہ رہا تھا، اسے آج پہلی بار چپو مل گئے تھے۔ اسے معلوم ہو گیا تھا کہ اب وہ اپنی زندگی کی سمت خود متعین کر سکتی ہے۔


اس ایک لمحے کے بعد ہیلن کیلر نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ اس نے اپنی زندگی کو ایک ایسی مضبوط کشتی بنایا جس نے نہ صرف گہرے سمندروں کا سینہ چیرا بلکہ دنیا بھر کے کروڑوں مایوس اور معذور انسانوں کے لیے روشنی کا مینار بن گئی۔ وہی بچی جو بول نہیں سکتی تھی، اس نے دنیا کی بہترین یونیورسٹی سے گریجویشن کی، پچاس سے زائد کتابیں لکھیں، اس نے ثابت کر دیا کہ انسان حالات کے رحم و کرم پر بہنے کے لیے پیدا نہیں ہوا، وہ اپنی ہمت، محنت اور ارادے سے حالات کا دھارا موڑنے کی طاقت رکھتا ہے۔


یہ صرف ہیلن کیلر کی کہانی نہیں، یہ آپ کی اور میری، ہم سب کی کہانی ہے۔ یہ اس کائنات کے ہر اس انسان کی کہانی ہے جسے اللہ نے اشرف المخلوقات بنایا ہے، لیکن وہ خود کو حالات کے رحم و کرم پر بہتا ہوا لکڑی کا ایک بے جان ٹکڑا سمجھ بیٹھا ہے۔


زندگی کو پانی کے بہاؤ پر بہتا ہوا لکڑی کا ٹکڑا بنائیں گے تو تمام عمر بے سمت ہی بہتے رہیں گے۔ پار لگنا ہے تو زندگی کو پانی کا سینہ چیرنے والی کشتی بنانا پڑے گا۔


ذرا اپنے اردگرد نظر دوڑائیے۔ اپنے معاشرے کو دیکھیے۔ ہمیں ہر طرف لکڑی کے بے شمار ٹکڑے بہتے ہوئے نظر آئیں گے۔ کوئی اپنی غربت کا رونا رو رہا ہے، کوئی بے روزگاری کا گلہ کر رہا ہے، کوئی اپنے والدین کو اپنی ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرا رہا ہے، کوئی حکومت کو کوس رہا ہے، کوئی نظام کو گالیاں دے رہا ہے اور کوئی قسمت کو برا بھلا کہہ کر اپنے دل کو تسلی دے رہا ہے۔ ہم سب ایک دوسرے کو اپنی محرومیوں کی کہانیاں سنا کر ایک دوسرے کے آنسو پونچھتے ہیں، ایک دوسرے کو دلاسہ دیتے ہیں کہ 'ہمارے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے'، 'یہ سب مقدر کا کھیل ہے'۔ ہم سب نے اجتماعی طور پر خود کو حالات کی ندی میں پھینک دیا ہے اور اب لہروں سے شکایت کر رہے ہیں کہ وہ ہمیں ہماری مرضی کی منزل تک کیوں نہیں لے جا رہیں؟ ہم انتظار کر رہے ہیں۔ کسی معجزے کا، کسی مسیحا کا، کسی ایسے جھونکے کا جو ہمیں خود بخود کنارے پر لے جا کر پھینک دے۔


یہ لکڑی کے ٹکڑے کی نفسیات ہے۔ وہ خود کچھ نہیں کرتا۔ وہ صرف بہتا ہے، ٹکراتا ہے، اور آخرکار کسی گمنام ساحل پر ریت میں دفن ہو جاتا ہے یا سمندر کی گہرائیوں میں ہمیشہ کے لیے کھو جاتا ہے۔ اس کی کوئی منزل نہیں ہوتی، کوئی خواب نہیں ہوتا، کوئی ارادہ نہیں ہوتا۔ اس کا سفر بھی لہروں کی مرضی سے شروع ہوتا ہے اور انجام بھی لہروں کی مرضی پر ہوتا ہے۔


اس کے برعکس کشتی کو دیکھیے۔ کشتی لہروں کے رحم و کرم پر نہیں ہوتی۔ کشتی کا ایک ملاح ہوتا ہے، اس کے ہاتھ میں چپو ہوتے ہیں، اس کے سامنے ایک منزل ہوتی ہے۔ جب طوفانی لہریں اٹھتی ہیں تو لکڑی کا ٹکڑا ان کے ساتھ بلند ہوتا اور گرتا ہے، لیکن کشتی ان لہروں کا سینہ چیر کر اپنا راستہ بناتی ہے۔ کشتی ہوا کے مخالف بھی سفر کر سکتی ہے، اسے بس ملاح کے بازوؤں میں ہمت اور دل میں یقین چاہیے۔ لکڑی کا ٹکڑا شکایت کرتا ہے کہ ہوا تیز کیوں ہے، کشتی اسی تیز ہوا کو اپنے بادبانوں میں بھر کر اپنی رفتار بڑھا لیتی ہے۔


ہم میں سے کتنے ہیں جو اپنی زندگی کی کشتی کے ملاح خود ہیں؟ ہم میں سے کتنے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کے چپو اپنے ہاتھوں میں مضبوطی سے تھام رکھے ہیں؟ ہم میں سے کتنوں نے اپنی منزل کا تعین خود کیا ہے؟ شاید بہت کم۔ اکثریت نے اپنی زندگی کا کنٹرول 'حالات'، 'قسمت' اور 'دوسرے لوگوں' کے ہاتھ میں دے رکھا ہے اور پھر شکوہ بھی ان ہی سے کرتے ہیں۔


جب ایک نوجوان ڈگری لے کر نوکری نہ ملنے پر سسٹم کو گالیاں دیتا ہے تو وہ لکڑی کا ٹکڑا ہوتا ہے۔ لیکن جب وہی نوجوان یہ سوچ کر کوئی چھوٹا موٹا ہنر سیکھ لیتا ہے، کوئی آن لائن کام شروع کر دیتا ہے یا کہیں چھوٹی سی دکان کھول لیتا ہے تو وہ اپنی کشتی بنانا شروع کر دیتا ہے۔ جب ایک لڑکی طعنوں سے تنگ آ کر اپنی زندگی کو روگ لگا لیتی ہے تو وہ لکڑی کا ٹکڑا ہوتی ہے۔ لیکن جب وہی لڑکی ان طعنوں کو اپنی طاقت بنا کر اپنی تعلیم مکمل کرتی ہے اور اپنے پیروں پر کھڑی ہو کر اپنی ایک شناخت بناتی ہے تو وہ دنیا کو دکھا دیتی ہے کہ کشتی کیسے طوفان سے لڑتی ہے۔ جب ایک غریب باپ اپنی غربت کو اپنی اولاد کو ورثے میں دے کر دنیا سے چلا جاتا ہے تو وہ لکڑی کا ٹکڑا ہوتا ہے۔ لیکن جب ایک غریب باپ دن رات محنت کر کے، اپنے پیٹ پر پتھر باندھ کر اپنے بچوں کو تعلیم دلواتا ہے تاکہ ان کی زندگی بدل جائے تو وہ ایک عظیم ملاح ہوتا ہے جو اپنی ٹوٹی ہوئی کشتی میں بیٹھ کر اپنے بچوں کو پار لگانے کی کوشش کرتا ہے۔


کشتی بنانا کوئی آسان کام نہیں۔ اس کے لیے لکڑی چاہیے، لوہے کے کیل چاہئیں، اوزار چاہئیں اور سب سے بڑھ کر ایک عزمِ مصمم چاہیے۔ آپ کی زندگی میں یہ لکڑی آپ کا ارادہ ہے، یہ کیل آپ کی ہمت ہیں، اور یہ اوزار آپ کی محنت اور لگن ہیں۔ پہلا قدم ہمیشہ سب سے مشکل ہوتا ہے، اور وہ ہے یہ فیصلہ کرنا کہ 'میں اب اور لکڑی کا ٹکڑا بن کر نہیں بہوں گا'۔ جس دن آپ نے یہ فیصلہ کر لیا، یقین کیجیے، آپ نے اپنی کشتی کا سب سے پہلا اور سب سے مضبوط تختہ خود ہی بنا لیا۔


اس کے بعد آپ کو چپو بنانے ہیں۔ یہ چپو آپ کا ہنر، آپ کی تعلیم، آپ کی صلاحیتیں ہیں۔ اگر آپ کے پاس کوئی ہنر نہیں تو سیکھیے۔ اگر تعلیم ادھوری ہے تو اسے پورا کیجیے۔ اس دور میں علم حاصل کرنے کے ہزار راستے ہیں۔ آپ کہیں گے کہ عمر نکل گئی؟ تو یاد رکھیے، کے ایف سی (KFC) کے بانی کرنل سینڈرز نے 65 سال کی عمر میں اپنی پہلی دکان کھولی تھی۔ آپ کہیں گے کہ وسائل کہاں سے لاؤں؟ تو ایک لمحے کو سوچیے، وہ کون سا عظیم کام ہے جو سونے کے چمچ سے شروع ہوا تھا؟ ہر بڑی عمارت کی بنیاد میں پہلی اینٹ ایک مزدور نے اپنے ہاتھوں سے ہی رکھی تھی۔ آپ کا سب سے بڑا وسیلہ آپ کا اپنا وجود ہے، آپ کے یہ دو ہاتھ ہیں، آپ کا یہ دماغ ہے جس میں کائنات فتح کرنے کی صلاحیت چھپی ہے۔ شروعات ہمیشہ چھوٹی ہوتی ہے۔ ایک قطرہ ہی دریا بنتا ہے اور ایک ذرہ ہی صحرا کی بنیاد رکھتا ہے۔


مگر یاد رکھیے گا، جس دن آپ نے لکڑی کے ٹکڑے سے کشتی بننے کا سفر شروع کیا، سب سے پہلا اور سب سے بڑا طوفان آپ کے اندر سے نہیں، آپ کے اردگرد سے اٹھے گا۔ یہ طوفان سمندری لہروں کا نہیں، لوگوں کی باتوں کا ہوگا۔ یہ آندھی تیز ہواؤں کی نہیں، طعنوں اور تمسخر کی ہوگی۔


"یہ کیا کرنے لگے ہو؟"

"ارے اپنی اوقات دیکھو!"

"تم سے نہیں ہو پائے گا۔"

"فلاں کا بیٹا دیکھو، وہ بھی یہی کر رہا تھا، آج کہاں دھکے کھا رہا ہے۔"

"بس خیالی پلاؤ پکاتے رہو۔"


یہ وہ زہریلے جملے ہیں جنہوں نے ہماری قوم کی آدھی سے زیادہ صلاحیتوں کو پیدا ہونے سے پہلے ہی مار دیا ہے۔ یہ 'لوگ کیا کہیں گے' کا وہ خوفناک عفریت ہے جو ہمارے خوابوں کو نگل جاتا ہے۔ یہ وہ بے رحم لہریں ہیں جو آپ کی نئی بنتی ہوئی کشتی کو ساحل پر ہی توڑ دینا چاہتی ہیں تاکہ آپ بھی ان کی طرح بے سمت بہنے والوں کے ہجوم میں شامل ہو جائیں۔ جب کوئی شخص کچھ الگ کرنے کی کوشش کرتا ہےتو ہمارا معاشرہ اسے قبول نہیں کرتا، کیونکہ آپ کی ہمت ان کی بے عملی اور کاہلی پر ایک طمانچہ ہوتی ہے۔ آپ کا اٹھایا ہوا قدم ان کے سوئے ہوئے ضمیر پر ایک سوال بن کر چبھتا ہے۔


اس طوفان کا مقابلہ کرنا ہی اصل امتحان ہے۔ اگر آپ ان باتوں سے ڈر گئے، ان طعنوں سے گھبرا گئے تو آپ کی کشتی بننے سے پہلے ہی ٹوٹ جائے گی۔ لیکن اگر آپ نے اپنے کان بند کر لیے، اپنی نظریں اپنی منزل پر جما لیں اور خاموشی سے اپنے کام میں لگے رہے، تو یقین کیجیے، یہی لوگ جو آج آپ پر ہنس رہے ہیں، کل آپ کے لیے تالیاں بجائیں گے۔ یہی لوگ جو آج آپ کو پاگل کہہ رہے ہیں، کل اپنے بچوں کو آپ کی کامیابی کی مثالیں دیں گے۔ مگر اس 'کل' کے لیے، آپ کو اپنے 'آج' کا ہر طعنہ اور ہر تکلیف برداشت کرنی ہوگی۔


اللہ نے آپ کو لکڑی کا بے جان ٹکڑا نہیں بنایا تھا۔ اس نے آپ کو اشرف المخلوقات بنایا تھا۔ اس نے آپ کے اندر روح پھونکی تھی۔ اس نے آپ کو ارادے اور اختیار کی وہ طاقت دی تھی جس کی بنا پر فرشتوں نے بھی آپ کو سجدہ کیا تھا۔ جب آپ خود کو حالات کے سپرد کر کے ایک بے سمت ٹکڑے کی طرح بہنے دیتے ہیں تو آپ اللہ کی دی ہوئی اس عظیم ترین نعمت کی ناشکری کرتے ہیں۔ آپ اس امانت میں خیانت کرتے ہیں جو آپ کو سونپی گئی تھی۔


زندگی میں دو طرح کے درد ہوتے ہیں۔ ایک 'محنت کا درد'  اور دوسرا 'پچھتاوے کا درد'  محنت کا درد وقتی ہوتا ہے۔ جب آپ کشتی بنا رہے ہوتے ہیں تو آپ کے ہاتھوں میں چھالے پڑتے ہیں، آپ کا جسم تھکتا ہے، آپ کی راتوں کی نیند قربان ہوتی ہے۔ یہ درد چند مہینوں یا چند سالوں کا ہوتا ہے، لیکن اس کے بعد جو منزل ملتی ہے، جو سکون ملتا ہے، اس کا کوئی نعم البدل نہیں۔


دوسری طرف پچھتاوے کا درد ہے۔ آج لکڑی کا ٹکڑا بن کر بہنا بہت آسان ہے۔ کوئی محنت نہیں، کوئی مشقت نہیں، بس لہروں کے ساتھ بہتے جاؤ۔ لیکن آج سے بیس سال بعد، جب آپ آئینے میں اپنے چہرے کو دیکھیں گے، جب آپ کی آنکھوں میں خوابوں کی جگہ حسرتوں کی دھول ہوگی، اس وقت جو درد آپ کی روح کو اندر سے کھائے گا، وہ ناقابلِ برداشت ہوگا۔ وہ درد ساری زندگی آپ کا پیچھا نہیں چھوڑے گا۔ وہ آپ کی ہر سانس میں شامل ہو جائے گا۔ وہ درد آپ کو ہر رات سونے نہیں دے گا۔


تو آج فیصلہ کیجیے۔ آپ کون سا درد منتخب کرنا چاہتے ہیں؟ محنت کا وقتی درد یا پچھتاوے کا دائمی عذاب؟


خدارا، اپنی زندگیوں کو بے سمت مت بہنے دیجیے۔ اپنے اندر کے انسان کو جگائیے۔ ہیلن کیلر اگر اپنی معذوری کو اپنی تقدیر مان لیتی تو تاریخ کے اوراق میں گم ہو جاتی، لیکن اس نے اپنی معذوری کو اپنی سب سے بڑی طاقت بنایا اور امر ہو گئی۔ آپ کے پاس تو آنکھیں بھی ہیں، کان بھی ہیں، زبان بھی ہے، اور سب سے بڑھ کر سوچنے والا دماغ اور محنت کرنے والے ہاتھ ہیں۔ آپ کس معجزے کے منتظر ہیں؟ معجزہ باہر سے نہیں آتا، معجزہ آپ کے اندر سے جنم لیتا ہے۔


اٹھئے! اپنی زندگی کی کشتی بنانے کا سامان اکٹھا کیجیے۔ وہ سامان آپ کا عزم ہے، آپ کا حوصلہ ہے، آپ کی لگن ہے۔ پہلا اوزار اٹھائیے، اور وہ اوزار آپ کی نیت ہے۔ آج خود سے عہد کیجیے کہ میں اپنی زندگی بدلوں گا۔ میں حالات کا غلام نہیں، میں اپنے مستقبل کا معمار بنوں گا۔ میں شکوے کرنے والوں میں نہیں، تاریخ بنانے والوں میں اپنا نام لکھواؤں گا۔


کنارے پر پہنچ کر اپنی کشتی سے اترنے کا فخر اور سکون اس عارضی آرام سے ہزار گنا بہتر ہے جو لکڑی کے ٹکڑے کو بے مقصد بہتے ہوئے محسوس ہوتا ہے۔


اٹھئے، چپو اٹھائیے! آپ کا سمندر آپ کا منتظر ہے۔


آپ نے میری زبانی ہیلن کیلر کی کہانی سنی، آپ نے لکڑی کے ٹکڑے اور کشتی کا فلسفہ بھی پڑھ لیا۔ مگر یہ صرف الفاظ نہیں۔ یہ آپ کی زندگی کی حقیقت ہے۔ اب سوال یہ نہیں کہ کہانی کیا تھی، سوال یہ ہے کہ آپ کی اپنی کہانی کیا ہے؟

میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں: کیا آپ نے کبھی خود کو لکڑی کا ٹکڑا محسوس کیا ہے؟ وہ کون سا لمحہ تھا جب آپ نے حالات کے آگے ہار مان لی؟ یا پھر وہ کون سا واقعہ تھا جس نے آپ کو کشتی بننے پر مجبور کیا؟

اپنی کہانی، اپنی مشکلات اور اپنی ہمت کی داستانیں ضرور لکھیں۔ ہمیں بتائیں کہ آپ اپنی زندگی کے چپو کیسے اٹھا رہے ہیں یا اٹھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ آپ کا ایک لفظ کسی دوسرے کو حوصلہ دے سکتا ہے، کسی کی سوئی ہوئی ہمت کو جگا سکتا ہے۔ آئیے، ہم سب مل کر ایک دوسرے کے ملاح بنیں اور ایک دوسرے کو منزل تک پہنچنے میں مدد کریں۔ آپ کے جواب کا انتظار رہے گا، کیونکہ اس سفر میں ہم سب ایک دوسرے کا سہارا ہیں۔

تبصرے

  1. The greatest column sir g I really really like it
    It is the greatest motivation who had no eyes but she did well in her life
    We have everything hand feet eye ear and Brian alhamdulillah everything
    So we should do something great in life for becoming a good person of the world

    جواب دیںحذف کریں
  2. Sir g zabdest motivation story thi waki hi hum log agae ka khyal kartee likin ab se hum bhi acha insan ban ne ki try karyn gee or bane gee or inshallha jo bhi y column pre ga wo lazmi apni zindgi ko samj jaye ga

    جواب دیںحذف کریں
  3. Motivational column Every person make a aim to do something special in their life
    Every person has humbles in their life every person has many those type of people who make them down who say them you can't do this so ignored that persons and go far to those people and run towards the success by ourselves hardwork and a strong mindset
    A greatest coulmn that gave a strength to do something
    Thank you so much sir for giving us motivation and guidance
    A respectable teacher⭐💫

    جواب دیںحذف کریں
  4. The column is very motivated i almost cried for they write the truth of the world and the imagination of reality this is the truth im grateful for you

    جواب دیںحذف کریں
  5. Sir an ka column na muja bohat zayada hosla dia ha ka hamain apni zindagi ko soch samaj ka guzarna cahiya Ku ka yeh aik bar hi multi ha bar bar nhi multi hamain aisa sahi sa guzarna cahiya ma bhi bohat LA parwa tha lakin ab muja yaqeen hua ha ka ma Galt tha lakin ab ma apna ap ko badlna ki kosish karu ga OE dikhao ga ka koi cheez dil sa karna sa insaan kia kuch nhi karta ma ab apna apko agha barhana ki kosish karu ga or ab rukna ka koi fayda nhi ma agha barhu ga or apna waladain or ustad ka nam roshan karu ga or hum sub ko yeh Sochna cahiya ka hum is lakri ka tukra ko badal kar aik kashti ko bana na ho ga jis sa him kamiyabi ki rah par gamzan hon ga or apka muashara taraqi ki rah par chalna ko razi ho ga or kamayab muashara bana ga ager hum apni zindagi ka chapu tham kar aga barhana para ga or samundar ki lahron ko cheer kar aga barhana ho ga yeh soch ager hamari ban jay to hum aik kamayab kom ho jay ga or kamayabi ki taraf barhana laga ga or hamara mulk Pakistan kamayab ho ga or hamain kamayabi ki adat lagna lag jay gi sukariya sir bohat bohat sukariya is column ko hamara lia bna na ka lia jis ki waja sa hamari andhara bari ankhain khul gai han sukariya is column ko hum sub ka lia publish karna ka lia or sir hum sub ki dua ha ka ap hamasha khush rahain or buried nazron sa mahfoz rahain or Allah pak apko lambi zindagi ata farmay or ap par apna raham farmay ameen sumameen💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖

    جواب دیںحذف کریں
  6. it is the best motivational column

    جواب دیںحذف کریں
  7. Yes it is the best motivational column

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

"قارئین کی پسند: ہمارے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے کالمز کی فہرست"

Vloggers ka Pakistan, Ducky Bhai, Rajab Butt, Sistrology

Sawal pochna mana hai, swal kyun pocha

Chacha, aur Chacha ka Pakistan!

Law of Karma, Maqfat e Ammal

Ducky Bhai, Rajab Butt aur Nani waly ka Sach, Ducky aik fake hero

Jinnah Ka Adhoora Khwab: Kya Tum Use Poora Karoge? Azadi Ka Asal Matlab: Jinnah Ke Alfaaz Mein