روحانیت کا سفر، حصہ دوم
روحانیت کا سفر، حصہ دوم
کالم از: سر جاوید بشیر
آج سے کوئی ساڑھے چودہ سو برس پہلے، جب عرب کا صحرا جہالت کی تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا، تو ایک نور، ایک عظیم الشان انقلاب بن کر ابھرا۔ اس وقت کی معاشرت بدکاری، ظلم اور ناانصافی کی گہرائیوں میں جا گری تھی۔ بچیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا، قبیلے آپس میں خون کے پیاسے رہتے، اور انسانیت اپنے اصل سے کوسوں دور تھی۔ لیکن پھر، مکہ کی گلیوں سے ایک آواز بلند ہوئی، جو ظلم کے ایوانوں میں زلزلہ بن کر گونجی۔ وہ آواز تھی، "اقراء" یعنی پڑھو! وہ آواز تھی، "اللہ کے نام سے پڑھو جس نے پیدا کیا!" وہ آواز تھی، جس نے انسان کو اس کے خالق سے جوڑا، جسے ہم آج روحانیت کہتے ہیں۔
گزشتہ جمعہ ہم نے بات کی تھی کہ روحانیت کیا ہے، اس کے فوائد کیا ہیں، اور اسے کون حاصل کر سکتا ہے۔آج پھر اسی موضوع کے ایک نئے باب کو کھولنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ ہم نے جاننے کی کوشش کی کہ روحانیت، جسے انگریزی میں Spirituality کہتے ہیں، دراصل روح کے متعلق ہے اور یہ روح کیا ہے، یہ تو بس رب العالمین ہی بہتر جانتا ہے۔ ہم تو بس اپنی روح کو پاک کر سکتے ہیں، اسے سنوار سکتے ہیں۔
یہ بالکل ویسا ہی ہے، جیسے ہم اپنے جسم کو گندگی سے پاک کرنے کے لیے روزانہ غسل کرتے ہیں۔ ہمارا جسم، جو اگرچہ بہت اہم ہے، مگر وہ تو گوشت اور خون کا ایک مجموعہ ہے۔ اصل چیز تو روح ہے۔ جب ہماری روح گناہوں، غلط سوچوں، حسد، بغض، کینہ اور جھوٹ سے آلودہ ہو جاتی ہے، تو ہماری زندگی کی ساری لذتیں، سارے رنگ، سب کچھ ماند پڑ جاتا ہے۔ زندگی گویا ایک بوجھل سفر بن جاتی ہے۔ دن رات گزرتے تو ہیں، مگر دل میں وہ سکون، وہ راحت، وہ خوشی نہیں ملتی جس کی ہم تلاش میں ہوتے ہیں۔
سوچ کی پاکیزگی، روحانیت کے لیے اتنی ہی ضروری ہے، جتنا کہ بریانی میں نمک۔ نمک کے بغیر بریانی تو بن جائے گی، مگر اس کا ذائقہ، اس کی لذت، سب غائب ہو جائے گی۔ اسی طرح، جب تک ہماری سوچ پاکیزہ نہیں ہوگی، ہماری روح بھی مکمل طور پر پاک نہیں ہو سکتی۔ اور جب روح میں میل ہوگا، تو زندگی میں بے سکونی اور اداسی کی بجھی بجھی سی کیفیت برقرار رہے گی۔
آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ جو لوگ گناہوں میں ڈوبے رہتے ہیں، جن کی سوچیں گندی ہوتی ہیں، جن کے دل میں دوسروں کے لیے نفرت ہوتی ہے، ان کی زندگی کیسی ہوتی ہے؟ وہ ہمیشہ کسی نہ کسی فکر میں، کسی نہ کسی پریشانی میں مبتلا رہتے ہیں۔ ان کی آنکھوں میں وہ چمک نہیں ہوتی، وہ نور نہیں ہوتا جو اللہ والے بندوں کی آنکھوں میں ہوتا ہے۔ ان کے چہرے پر وہ سکون نہیں ہوتا جو سجدے میں جانے والے کو میسر آتا ہے۔
میں نے اپنی زندگی میں بہت سے ایسے لوگ دیکھے ہیں، جو بہت غریب ہیں، جن کے پاس دنیا کی کوئی آسائش نہیں، مگر ان کی روح اتنی پاکیزہ ہے کہ ان کے چہرے سے نور جھلکتا ہے۔ وہ ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ وہ دوسروں کے لیے وہ پسند کرتے ہیں جو وہ خود کے لیے پسند کرتے ہیں۔ وہ دوسروں کے دکھ میں شریک ہوتے ہیں، اور دوسروں کی خوشی میں خوش ہوتے ہیں۔ وہ حسد، بغض، لالچ، جھوٹ، غیبت جیسی بیماریوں سے کوسوں دور رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو دیکھ کر دل کو سکون ملتا ہے۔ یہ دراصل وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی روح کو سنوار لیا ہے۔
روحانیت کوئی شعبدہ بازی نہیں، کوئی کرتب نہیں، یہ تو دل کی کیفیت ہے۔ یہ اللہ سے بندھ جانے کا نام ہے۔ جب دل اللہ سے بندھ جاتا ہے، تو انسان کو دنیا کی کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہوتی۔ جو نعمتیں اللہ نے اسے دی ہیں، وہ ان پر شکر کرتا ہے۔ اور جو مشکلات آتی ہیں، وہ ان پر صبر کرتا ہے۔
یہ جو ہم گناہ کرتے ہیں، یہ جو غلط سوچیں ہمارے دل و دماغ میں آتی ہیں، یہ سب ہماری روح کو گندا کرتی ہیں۔ یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے کوئی گندے نالے کا پانی پینے کی کوشش کرے۔ مگر اس سے بیماری پھیلے گی۔ اسی طرح، گناہوں بھری روح، جو دنیاوی آلائشوں میں لتھڑی ہوئی ہے، وہ کبھی حقیقی سکون اور خوشی حاصل نہیں کر سکتی۔
زندگی صرف ایک امتحان گاہ ہے۔ اور اس امتحان میں کامیابی کا راز اسی میں ہے کہ ہم اپنی روح کو اس امتحان کے لیے تیار کریں۔ جیسے ہم امتحانات کی تیاری کرتے ہیں، پڑھتے ہیں، اپنے اساتذہ سے سیکھتے ہیں، تاکہ اچھے نمبروں سے پاس ہو سکیں۔ اسی طرح، ہمیں اپنی روح کی تیاری بھی کرنی چاہیے۔
اور یہ تیاری کیسے ہوگی؟ یہ تیاری ہوگی اللہ کی یاد سے، اس کے احکامات پر عمل کرنے سے، اور اس کی مخلوق سے محبت کرنے سے۔ جب ہم کسی مجبور کی مدد کرتے ہیں، جب ہم کسی یتیم کا ہاتھ تھامتے ہیں، جب ہم کسی بوڑھے کی خدمت کرتے ہیں، جب ہم کسی کے ساتھ سچائی اور ایمانداری کا سودا کرتے ہیں، جب ہم دوسروں کے لیے وہی چاہتے ہیں جو خود کے لیے چاہتے ہیں، تو یہ سب کام دراصل ہماری روح کی پاکیزگی کا ذریعہ بنتے ہیں۔
یہ جو دنیاوی چیزوں کی دوڑ ہے، یہ جو نمود و نمائش ہے، یہ جو دوسروں سے آگے نکل جانے کی ہوس ہے، یہ سب ہماری روح کو کمزور کرتی ہیں۔ ہم ان چیزوں کے پیچھے اتنا بھاگتے ہیں کہ ہمیں یہ یاد ہی نہیں رہتا کہ ہمارا اصل مقصد کیا ہے، ہمیں کہاں پہنچنا ہے، ہمارا خالق کون ہے، اور اس نے ہمیں کس لیے پیدا کیا ہے۔
اللہ کی رحمت تو سمندر کی طرح وسیع ہے۔ وہ ہمیں کبھی بھی مایوس نہیں کرتا۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم خود کو اس کی رحمت کا مستحق بنائیں۔ اور اس کی رحمت کا مستحق بننے کا سب سے بڑا ذریعہ یہی ہے کہ ہم اپنی روح کو گناہوں اور غلط سوچوں سے پاک کریں۔
اگر ہم اپنی روح کو گناہوں کی غلاظت سے پاک کر لیں، اگر ہم اپنی سوچوں کو نیکی اور محبت کے رنگوں سے رنگ لیں، تو زندگی کی ہر کیفیت میں ہمیں خوشی ہی خوشی نظر آئے گی۔ یہاں تک کہ دکھ اور تکلیف میں بھی ہم اللہ کے شکر گزار رہیں گے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان دنیا کے شور و غل سے دور، اپنے اندر کی خاموشی میں اللہ کی آواز سنتا ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جب دل دعائیں کرتا ہے، اور دعائیں قبول ہوتی ہیں۔
جب ہم اپنی روح کو گندگی سے پاک کر لیتے ہیں، جب ہم اس میں نیکی، محبت، ہمدردی، دیانت اور صبر کو بساتے ہیں، تو زندگی کی ساری تلخیاں میٹھی لگنے لگتی ہیں۔ ہر کام میں آسانی پیدا ہو جاتی ہے۔ ہر مشکل میں اللہ کی مدد شامل حال ہوتی ہے۔ آپ کو احساس ہوگا کہ جو لوگ اللہ سے جڑے رہتے ہیں، ان کی زندگی میں مشکلات تو آتی ہیں، مگر وہ ان مشکلات کا سامنا جس طرح کرتے ہیں، وہ قابل تعریف ہوتا ہے۔ وہ مایوس نہیں ہوتے، بلکہ اللہ پر توکل کرتے ہیں۔
روحانیت کوئی منزل نہیں، یہ تو ایک مسلسل سفر ہے۔ ایک ایسا سفر جو انسان کی زندگی کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ جیسے صبح سے شام، اور شام سے پھر صبح کا چکر جاری رہتا ہے، اسی طرح روح کی پاکیزگی کا یہ سفر بھی کبھی ختم نہیں ہوتا۔ ہمیں ہر لمحہ، ہر پل اپنی روح کو سنوارنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
یہ جو بری عادتیں ہیں، یہ جو نشے ہیں، یہ جو غلط صحبتیں ہیں، یہ سب ہماری روح کو زہر دیتی ہیں۔ جس طرح کوئی زہر آلود غذا ہمارے جسم کو خراب کر دیتی ہے، اسی طرح یہ بری عادتیں ہماری روح کو مردہ بنا دیتی ہیں۔ تو ان سے بچو۔ ان سے پرہیز کرو۔ اور اپنی زندگی کو ایسے کاموں میں لگاؤ جو روح کو پاکیزگی بخشیں۔
میری دعا ہے کہ اللہ ہم سب کو اپنی روح کو پاک کرنے، اسے سنوارنے، اور اس کے ذریعے اس کی رضا حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
یہ روحانیت کا سفر جاری رہے گا۔ انشاء اللہ! اگلے جمعۃ المبارک کو ہم اسی موضوع پر مزید بات کریں گے۔ ہم جانیں گے کہ کس طرح روزمرہ کی زندگی میں ہم اپنی روح کو مزید پاکیزہ بنا سکتے ہیں۔
لیکن اس سے پہلے، میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں: اس سفر کے بارے میں آپ کے کیا خیالات ہیں؟ کیا آپ بھی اپنی روح کی صفائی اور سکون کی تلاش میں ہیں؟ اور کیا آپ کے ذہن میں اس موضوع سے متعلق کوئی سوال ہے؟
آئیے، ہم سب مل کر اس روحانی سفر کا آغاز کریں۔ آپ کے خیالات، آپ کے تجربات، اور آپ کے سوالات کا انتظار رہے گا۔ کیونکہ یہ میرا کالم نہیں، یہ ہم سب کا مشترکہ سفر ہے۔
The topic is spirituality is very good I am learning a lot things by your columns
جواب دیںحذف کریںI'll wait for next column and try to change myself
السلام علیکم
جواب دیںحذف کریںبالکل ٹھیک کہا روح کیا ہے یہ اللہ ہی جانتا ھے اللہ رب العزت قران پاک میں فرماتا ھے کہ روح میرا امر ہے لفظی مطلب تو حکم ہی ھے لیکن اس حکم کے متعلق ہم نہیں جانتے اس کو جتنا ہم پاک کرتے جائیں گے ویسے ویسے ہم اللہ کے قریب ہوتے جائیں گے یہ ہے تو بہت آسان لیکن زندگی کو مشکل لگتا ہے پنجابی کا شعر یاد آیا ھے جھوٹھیاں عزتاں لبدا جہیڑا عاشق نئیں سودائی اے عشق دی سب تو وڈی عزت گلی گلی رسوائی اے شاعر نے یہ کہا ھے کہ حق کی راہ میں چلنے والوں کو لوگ وٹے مارتے ہیں مطلب کہ لوگ اذیت دیتے ہیں اس کہ باوجود وہ اپنی دھن میں لگے رہتے ہیں جب وہ اس فانی جہان سے کوچ کر جاتے ہیں تو ان کو یاد کرتے ہیں جب روح انتہائی مقام کو پہنچتی ہے تو خالق کائنات فرماتا ھے اے بندے بٹا تیری رضا کیا ہے یہ ہی روحانیت ہے کہ خالق کائنات زبان بن جاتا ہے ہاتھ بن جاتا ہے پھر اسی کا اوڑھنا بچھونا بن جاتا ھے اللہ رب العزت ہمت و طاقت عطا فرماۓ کہ ہم روحانیت حاصل کر سکیں آمین یا رب العالمین
Kamal
جواب دیںحذف کریںI got a lot of learning from this column
جواب دیںحذف کریں😊I 'll wait for next column
Well written
جواب دیںحذف کریںMashaAllah MashaAllah MashaAllah sir keep it up we should stay away from this bad things that's you talked about in this Column And stay closer to Allah Almighty and good deeds and should now polish our hearts
جواب دیںحذف کریںVery good column sir
جواب دیںحذف کریںVery interesting and informative Column.
جواب دیںحذف کریں