ہم دل کی آواز کیسے سنیں۔۔۔؟
ہم دل کی آواز کیسے سنیں۔۔۔؟
از: سر جاویدبشیر
یہ کہانی کوئی افسانہ نہیں بلکہ حقیقی ہے۔ یہ قصہ ہے تیرھویں صدی کے ایک نوجوان کا، جس کے والدین عام کسان تھے۔ وہ غربت کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا، دنیا کا کوئی اسے جانتا بھی نہ تھا۔ لیکن اس کے دل میں ایک آگ جل رہی تھی، ایک سوال بار بار اس کے دل کو کچوکے لگا رہا تھا کہ "میں کون ہوں، میرا مقصد کیا ہے، اور مجھے اس دنیا میں کیوں بھیجا گیا ہے؟"
یہ نوجوان بعد میں دنیا کا سب سے بڑا مسلم مفکر، سائنسدان اور شاعر کہلایا۔ اسی نوجوان کو آج دنیا "مولانا جلال الدین رومی" کے نام سے جانتی ہے۔ وہی رومی جس کے افکار آج بھی دلوں کو ہلا دیتے ہیں۔ رومی نے کہا تھا کہ "تمہاری اصل راہنمائی تمہارے دل میں چھپی ہے، لیکن تمہیں دنیا کا شور سنائی دیتا ہے، دل کی سرگوشی کہیں دب جاتی ہے۔"
یہ کہانی اس لیے سنائی کہ آج ہمارا معاشرہ بھی اسی سوال کے گرد چکرا رہاہے کہ ہم کیا ہیں، ہم کیا چاہتے ہیں، اور اس دنیا میں ہمارا اصل مقصد کیا ہے۔ ہمارے شہر کے چوکوں پر مزدوری کرنے والا مزدور، رکشے والا ڈرائیور جو شام کو چند سو روپے کے ساتھ گھر لوٹتا ہے، وہ بھی سوچتا ہے کہ میری زندگی کا حاصل کیا ہے؟ یونیورسٹی میں بیٹھا طالب علم بھی سوچتا ہے کہ ڈگری لینے کے بعد میرا انجام کیا ہوگا؟ یہاں تک کہ وزیروں، وڈیروں اور بڑے بڑے افسروں کے دلوں میں بھی کبھی نہ کبھی یہ سوال دستک دیتا ہے کہ کیا واقعی ہماری کامیابی بس یہی بینک بیلنس اور رعب داب ہے، یا اس کے پیچھے بھی کوئی اور حقیقت ہے؟
ہم سب ایک محفوظ، باوقار اور ’سیٹل‘ زندگی چاہتے ہیں۔ ہم ایک اچھا گھر، ایک اچھی گاڑی اور بینک بیلنس کو کامیابی کی معراج سمجھتے ہیں۔ اس دوڑ میں ہم بھاگتے رہتے ہیں، بھاگتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ سانس پھول جاتی ہے، بال سفید ہو جاتے ہیں اور ایک دن اچانک سینے میں ایک ٹیس اٹھتی ہے، ایک بے چینی، ایک خالی پن کا احساس ہوتا ہے۔ اس دن ہم خود سے سوال کرتے ہیں، ’’یہ سب کچھ تو مل گیا جس کے پیچھے بھاگ رہا تھا، مگر سکون کیوں نہیں ملا؟ خوشی کہاں ہے؟‘‘
مسئلہ یہ ہے کہ ہم سب یہ سوال کرتے ہیں لیکن جواب سننے سے کتراتے ہیں۔ اور جواب کہاں ہے؟ جواب ہمارے دل کے اندر ہے۔ وہ دل جو زندہ ہے مگر ہم نے اسے دنیا کے گرداب میں دفن کر دیا ہے۔
پاکستانی معاشرے کی بدقسمتی یہ رہی ہے کہ ہم نے اپنی زندگی کے فیصلے خود نہیں کیے۔ ہمارے والدین، ہمارے رشتہ دار، ہماری غربت، اور کبھی کبھی ہمارے خوابوں کی کمیابی، سب مل کر ہماری سمت کا تعین کرتے ہیں۔ ایک ڈرائیور کا بیٹا سوچتا ہے کہ اسے بھی بس ڈرائیور ہی بننا ہے۔ ایک استاد کا بیٹا سوچتا ہے کہ اسے بس استاد ہی بننا ہے۔ کوئی بچہ جو تھوڑا پیسہ کمانا چاہتا ہے وہ میڈیکل اور انجینئرنگ کو ہی منزل سمجھ لیتا ہے۔ مگر کبھی رک کر یہ کوئی نہیں سوچتا کہ میرا دل کیا چاہتا ہے؟
ہم اپنے بچوں کے سب سے بڑے دشمن بن جاتے ہیں۔ ہم اپنی ادھوری خواہشات کا بوجھ ان کے نازک کندھوں پر ڈال دیتے ہیں۔ ہم انہیں وہ بنانا چاہتے ہیں جو ہم خود نہیں بن پائے۔ ہم محبت کے نام پر ان کی روح کا قتل کرتے ہیں۔ ہم ان کی انفرادیت کو کچل کر انہیں بھیڑ کا حصہ بنا دیتے ہیں۔ ہمارا تعلیمی نظام ایک ایسی فیکٹری ہے جہاں سے ایک جیسے روبوٹ تیار ہو کر نکلتے ہیں۔ سب کے پاس ڈگریاں ہیں، علم نہیں ہے۔ سب کے پاس نوکریاں ہیں، اطمینان نہیں ہے۔ سب کے پاس پیسہ ہے، خوشی نہیں ہے۔ کیوں؟ کیونکہ وہ وہ کام کر رہے ہیں جو ان کا دماغ انہیں بتاتا ہے، وہ نہیں جو ان کا دل چاہتا ہے۔ دماغ ہمیشہ محفوظ راستہ چنتا ہے، نفع نقصان دیکھتا ہے، جبکہ دل دیوانگی راستہ کاچنتا ہے۔
یہاں ایک غلط فہمی کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ دل کی آواز کا مطلب یہ نہیں کہ انسان بے سوچے سمجھے ہر خواہش کے پیچھے بھاگنے لگے۔ دل کی آواز کا مطلب ہے کہ وہ اندرونی سکون، وہ چھپی ہوئی طاقت، اور وہ حسِ خاص جو اللہ نے ہر ایک کو دی ہے۔ یہ وہ رہنمائی ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ ہمارے ہاتھ کن کاموں میں لگتے ہیں تو سکون ملتا ہے، اور کن کاموں میں دل گھبراتا ہے۔ ایسا کام، جسے کر کے تھکاوٹ نہ ہو، بلکہ دل کو سکون اور روح کو اطمینان ملے۔
بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام، ہمارا سماجی نظام اور ہمارا معاشرتی دباؤ، ہم سے ہمارا دل چھین لیتا ہے۔ ہم اپنے بچوں کو بچپن سے ہی یہ سکھا دیتے ہیں کہ بیٹا روٹی کیسے پوری کرنی ہے، گھر چلانے کے لیے نوکری کیسے کرنی ہے، عزت کمانے کے لیے گاڑی کیسے لینی ہے۔ لیکن کبھی ایک استاد، ایک ماں یا ایک باپ یہ نہیں پوچھتا کہ بیٹا تمہارا دل کس طرف مائل ہے؟ تمہاری اصل چاہت کیا ہے؟
اگر ہم اپنے دل کو سننے لگیں تو زندگی بدل جائے۔ لیکن دل کو سننے کے لیے خاموشی درکار ہے۔ اور ہمارے معاشرے میں خاموشی کہاں ہے؟
لیکن یقین مان لیجئے، یہ سرگوشی ہر وقت ہماری روح میں گونج رہی ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ پھر ہم یہ آواز کیوں نہیں سنتے؟ وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے کان بند کر رکھے ہیں، اور آنکھیں بھی۔ ہم نے دنیاوی دوڑ کو حقیقت مان لیا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ زندگی کی اصل کامیابی وہ ہے جس دن اپنے دل اور مقصد کی بات اللہ کے سامنے رکھ کر کہہ سکیں کہ "یا اللہ، میں نے وہ راستہ اختیار کیا جس کی طرف میرا نفس نہیں میرے دل نے مجھے بلایا تھا۔"
میں اکثر سوچتا ہوں کہ اگر ہمارے حکمران بھی کبھی اپنے دل کی آواز سنتے تو یہ ملک آج کہاں ہوتا؟ اگر ان میں سے کوئی ایک رات کو سونے سے پہلے کرسی اور دولت کی لالچ سے ہٹ کر ایک لمحہ دل سے پوچھتا کہ "تم اس ملک کے ساتھ کیا کر رہے ہو؟" تو شاید آج بجلی کے بلوں میں جلتے ہوئے عوام یونہی چیخ نہ رہے ہوتے۔ لیکن نہیں، وہ اپنے ضمیر کو بھی دبائے رکھتے ہیں، دل کی آواز کو بھی۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے ملک کے ہر چوراہے پر مایوسی کا راج ہے۔
آئیں، اب سیکھتے ہیں کہ دل کی آواز کیسے سنیں، ان طریقوں سے جو عظیم استادوں نے بتائے ہیں۔
دل کی آواز سننے کے لیے سب سے اہم قدم یہ ہے کہ خود کو غیر ضروری خواہشات کی قید سے آزاد کیا جائے۔ وہی خواہشات جنہوں نے ہمیں غلام بنا رکھا ہے۔ وہ خواہش کہ محلے والے کیا کہیں گے؟ وہ فکر کہ لوگ میری کمائی یا میرے لباس پر کیا سوچیں گے؟ وہ حسد کہ دوسروں کے پاس کیا ہے اور میرے پاس کیا نہیں؟ یہ سب شور ہیں، یہ سب پردے ہیں جو ہمیں ہماری اپنی آواز سننے نہیں دیتے۔
ہمیں سیکھنا ہوگا کہ اصل خوشی دولت میں نہیں، بلکہ اس کام میں ہے جسے کرتے ہوئے دل مطمئن ہو۔ یہی انسانیت کا مقصد ہے۔ یہی زندگی کا مقصد ہے کہ ہم اپنے اندر کی اس روشنی کو پہچانیں، جسے آوازِ دل کہا جاتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے انسان بربادی سے نجات پاتا ہے اور امن کی راہوں پر چل پڑتا ہے۔
تو پھر راستہ کیا ہے؟ ہم اس شور میں اپنے دل کی سرگوشی کیسے سنیں؟ اس کا پہلا قدم ’تنہائی‘ ہے۔ خود سے ملاقات۔ دن میں صرف پندرہ منٹ، صرف پندرہ منٹ ہر شور سے دور، موبائل فون سے دور، لوگوں سے دور، صرف اپنی ذات کے ساتھ بیٹھیں۔ آنکھیں بند کریں اور اپنے اندر اٹھنے والے خیالوں کو آنے دیں۔ شروع میں دماغ شور مچائے گا، ہزاروں پریشانیاں، فکریں، منصوبے سامنے لا کر کھڑے کر دے گا۔ مگر آپ ڈٹے رہیں۔ روزانہ یہ مشق کرتے رہیں۔ کچھ دنوں بعد دماغ کا شور کم ہونے لگے گا اور ایک بہت ہی ہلکی، بہت ہی مدھم سی آواز سنائی دے گی، ایک خواہش، ایک خیال، ایک ایسا کام جس کے تصور سے ہی آپ کے چہرے پر مسکراہٹ آ جائے۔ یہی دل کی آواز کا پہلا اشارہ ہے۔
دوسرا قدم ہے اپنے بچپن میں جھانکنا۔ یاد کریں وہ کون سا کام تھا جسے کرتے ہوئے آپ وقت اور جگہ بھول جاتے تھے؟ جب نہ پیسے کی فکر تھی، نہ مستقبل کا خوف۔ کیا آپ کو رنگوں سے کھیلنا اچھا لگتا تھا؟ کیا آپ گھنٹوں بیٹھ کر چیزوں کو کھولتے اور جوڑتے رہتے تھے؟ کیا آپ جانوروں سے باتیں کرتے تھے؟ کیا آپ کہانیاں سن کر ان میں کھو جاتے تھے؟ ہمارا بچپن ہماری فطرت کا سچا آئینہ ہوتا ہے۔ معاشرہ اس آئینے پر گرد ڈالتا جاتا ہے، مگر عکس اندر موجود رہتا ہے۔ اس گرد کو صاف کریں، آپ کو اپنی اصل صورت نظر آ جائے گی۔
تیسرا اور سب سے اہم قدم ہے اپنے اندر کے خوف کا مقابلہ کرنا۔ دل کا راستہ ہمیشہ مشکل، غیر یقینی اور انوکھا ہوتا ہے۔ اس پر چلنے کے لیے ہمت چاہیے۔ جب آپ اپنے دل کی آواز پر چلنے کا فیصلہ کریں گے تو سب سے پہلے آپ کے اپنے، آپ کے پیارے ہی آپ کی مخالفت کریں گے۔ وہ آپ کو مستقبل کے خوف دلائیں گے، مالی مشکلات کا بتائیں گے، دنیا کی ٹھوکروں سے ڈرائیں گے۔ وہ یہ سب آپ کی محبت میں کریں گے، مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ جس انسان کی روح مر جائے، اس کے لیے دنیا کی ہر کامیابی بے معنی ہوتی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں آپ کو ثابت قدم رہنا ہے۔
سوچئے اگر ہمارا ہر نوجوان، ہر مزدور، ہر وزیر، ہر استاد اپنے دل کی آواز سننے لگے تو کیسا پاکستان وجود میں آئے گا۔ وہ پاکستان جس کے خواب علامہ اقبال نے دیکھے تھے۔ ایسا پاکستان جہاں کوئی ڈاکٹر صرف نوکری نہ کرے بلکہ انسانیت کی خدمت کے لیے مسیحا بنے۔ جہاں انجینئر صرف فیس لینے کے لیے نقشے نہ بنائے بلکہ اپنی قوم کے لیے عمارتوں اور پلوں کو دیانت داری سے تعمیر کرے۔ ایسا پاکستان جہاں ایک کالم نگار صرف کالم لکھنے کے لیے الفاظ نہ جوڑے بلکہ قوم کے شعور کو جگانے کے لیے قلم اٹھائے۔ یہی ہے اصل مقصدِ حیات۔۔۔ خود کو پہچاننا، اپنی اصل سننا، اپنی منزل کو دل سے تلاش کرنا۔
میرا دل اکثر کہتا ہے کہ اگر ہم نے آج خود کو نہ پہچانا تو آنے والی نسلیں بھی اسی اندھیرے میں الجھتی رہیں گی۔ لیکن اگر ہم نے ایک لمحے کو بھی دھیان سے دل کی سرگوشی سن لی اور اپنے فیصلے دنیا کے خوف کے بجائے دل کے سکون کے مطابق کرنے شروع کر دیے تو پھر ہم وہ قوم بن سکتے ہیں جو تاریخ بدل دیتی ہے۔
تم میں سے ہر ایک کے دل میں ایک خاص آواز چھپی ہے۔ ممکن ہے وہ آواز کہہ رہی ہو کہ تم سی ایس ایس آفیسر بنو,استاد بنو، یا ڈاکٹر یا بزنس مین, شاعر یا سپاہی۔ لیکن یاد رکھو، وہ آواز صرف تمہاری ہے، وہ دنیا کی نہیں۔ اگر تم نے وہ سنی تو تم زندہ انسان ہو، اگر نہیں سنی تو تم بس ایک زندہ لاش ہو جو زندگی کے بوجھ تلے سر جھکائے چلتی رہتی ہے۔
تو آؤ، آج عہد کریں۔۔۔ اس شور شرابے میں تھوڑا سا سکوت پیدا کریں۔ چند لمحوں کے لیے اپنی آنکھیں بند کریں اور اپنے دل سےپوچھیں: "میرا مقصد کیا ہے؟"
یقین جانیے، آپ کے اندر سے آنے والی سرگوشی ہی آپ کا اصل نصیب ہے۔
یہ کالم میں نے اس امید کے ساتھ لکھا ہے کہ شاید کوئی طالب علم یا کوئی عام پاکستانی اس تحریر کو پڑھ کر اپنے اندر جھانکنے کی ہمت کرے، اپنی اصل پہچان لے اور دل کی آواز سننے کی ہمت پیدا کرے۔
کیونکہ جو اپنی آواز نہیں سنتے، تاریخ ان کے مردہ جسموں پر چل کر گزر جاتی ہےاور جو سنتے ہیں۔۔۔ وہ تاریخ لکھتے ہیں۔
اس کالم کو پڑھ کر آپ کے دل میں کیا محسوس ہوا؟ کیا آپ نے بھی اپنے اندر کے شور میں دبے ہوئے اس خالی پن کو محسوس کیا؟ کیا آپ کو بھی لگا کہ یہ کہانی آپ کی اپنی ہے، یا آپ کے کسی عزیز کی ہے؟ اگر یہ الفاظ آپ کے دل کے کسی کونے کو چھو گئے ہیں، تو شاید یہی وہ لمحہ ہے جب آپ کو رکنا ہے، سانس لینی ہے، اور اپنے دل کی سرگوشی کو سننے کی ہمت کرنی ہے۔
کیونکہ یہی وہ آواز ہے جو آپ کی اصل پہچان ہے۔ یہی وہ روشنی ہے جو آپ کو دنیا کی بھیڑ میں گم ہونے سے بچائے گی۔
تو آیئے، اس خاموشی کو توڑیں۔ آپ کا دل کیا کہتا ہے؟ آپ نے زندگی میں کیا پایا ہے اور کیا کھویا ہے؟ کیا آپ نے اپنے دل کی سن کر کامیابی پائی ہے، یا دنیا کی سن کر بھٹک گئے ہیں؟ آپ کی کہانی کیا ہے؟
آپ کی ہر سوچ، ہر احساس اور ہر لفظ اس سفر کا حصہ ہے۔ اس لیے یہ کالم صرف ایک تحریر نہیں، یہ ایک دعوت ہے— اپنے آپ سے ملنے کی۔ اپنے دل کے خیالات کو یہاں لکھیں، اور ان تمام لوگوں تک پہنچائیں جو شاید آج بھی اپنی آواز کی تلاش میں ہیں۔ کیونکہ جب ایک دل کی آواز گونجتی ہے تو ہزاروں دلوں کو جگاتی ہے۔ تو پھر، کیا آپ تیار ہیں اپنے دل کی آواز سنانے کے لیے؟
Sir such a mind-blowing column I don't know what happened with me but during reading my heart beat run fast my mind saying do anything
جواب دیںحذف کریںAnd want to become a different lady from others
Thanks for given us a direction ✨✨
Mind-blowing column you given us the path and direction thank uh sir keep it up⭐💥
جواب دیںحذف کریںSir assalam-o-alikum kia hal han apka thik Thak han or tabiyat sehat thik ha or ab is column ka bara ma bat karta han ka aj ka column hamara dil ki awaz ko suna na ka or isko samjna ka
جواب دیںحذف کریںilam ata kar raha ha jis sa hamain bohat faida hasil hota ha or hum kamayabi ki taraf barhna suru ho jta han sir apka bohat bohat sukariya hamara lia yeh column bna na ka lia hum na is sa bohat zayada fayda hasil kia ha sukriya sir and Allah Hafiz sir and again sukariya sir💘💘💘💘💘💘💘💘
Amazing
جواب دیںحذف کریںIt's column so amazing
جواب دیںحذف کریںIt's one of the beautiful column you ever written 💜
جواب دیںحذف کریںGreat column sir Amazing
جواب دیںحذف کریںالسلام علیکم
جواب دیںحذف کریںکل یعنی جمعہ المبارک دل کی اتھا گہرائیوں سے جواب دیا تھا لیکن انتظار کریں
جواب دیںحذف کریںGreat Jazak Allah
جواب دیںحذف کریں