بغیر اجازت

 

بغیر اجازت

کالم از: سر جاوید 

وہ عظیم ہستی، جس کے نور سے دنیا منور ہوئی، وہ اپنے رفقا کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے۔ ایک دن، ایک صحابی، جن کے دلوں میں رسولِ خدا سے محبت موجزن تھی، ان کے پاس آئے اور دستک دی۔ کوئی فوری جواب نہ ملا۔ ان صحابی نے صبر کیا۔ کچھ دیر بعد پھر دستک دی۔ تب اندر سے آواز آئی، "کس کی اجازت ہے؟" صحابی نے اپنا نام بتایا۔ اندر سے جواب آیا، "واپس چلے جاؤ، اب وقت نہیں ہے۔" صحابی دلگرفتہ ہو کر واپس جانے لگے تو اندر سے دوبارہ آواز آئی، "ٹھہرو! اجازت ہے، آ جاؤ۔"


یہ وہ لمحہ تھا جب صحابی پوچھا، "یا رسول اللہ، آپ نے مجھے اندر آنے کی اجازت کیوں دی؟" آپ نے فرمایا، "ہم پر لازم ہے کہ ہم دوسروں پر سختی نہ کریں، اور جب کسی کے پاس جائیں تو اجازت طلب کریں۔" یہ فرمانِ عالی شان صرف ایک دروازے کی دستک کا حکم نہیں تھا، بلکہ یہ انسانیت کے لیے ایک ایسا سبق تھا جو صدیوں تک دلوں کو فتح کرتا رہا۔ یہ وہ آداب تھے جو انسان کو انسان بناتے تھے، جو رشتوں میں احترام اور محبت بھرتے تھے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو یہ تعلیم دی کہ کسی کے گھر یا خلوت میں داخل ہونے سے پہلے تین بار اجازت طلب کی جائے۔ اگر تیسری بار بھی اجازت نہ ملے تو واپس چلے جانا چاہیے


 جاوید چوہدری صاحب، میرے استادِ محترم، وہ سمندر کی طرح ہیں جن کے ہر لفظ میں گہرائی ہے۔ وہ اکثر کہتے ہیں کہ اگر کسی کو فون بھی کرنا ہو، تو پہلے میسج کر کے پوچھ لو کہ کیا وہ بات کر سکتے ہیں؟ یہ میری زندگی کا وہ سبق ہے جو مجھے یاد دلاتا ہے کہ ہم دوسروں کی زندگی میں، ان کے وقت میں، ان کے جذبات میں، بغیر اجازت داخل ہو جاتے ہیں۔


 آج کل تو یہ عام ہو گیا ہے کہ ہم کسی کے بھی کمرے میں، کسی بھی وقت، کسی بھی حال میں، بغیر پوچھے بس یوں ہی چلے جاتے ہیں۔


ہم نے بچوں کو سکولوں میں دنیا جہان کی باتیں سکھائیں۔ اچھے نمبر لانے کا طریقہ سکھایا۔ لیکن ہم نے انہیں وہ بات نہ سکھائی جو انہیں سچا انسان بناتی۔ ہم نے انہیں انگریزی گرامر تو سکھا دی، لیکن "اجازت" کا مفہوم نہ سمجھایا۔ ہم نے انہیں سائنس کے فارمولے سکھائے، یہ بتایا کہ کائنات کیسے چلتی ہے، لیکن ہم نے انہیں یہ نہ سکھایا کہ جب کسی کی زندگی کے رازوں میں جھانکنا ہو، تو دل کے دروازے پر دستک دینی چاہیے۔ 

جب ایک قوم "دستک دینا" چھوڑ دیتی ہے، تو اس کی عمارتوں میں دروازے تو رہ جاتے ہیں… لیکن دلوں کے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔


اور یہی ہمارا زوال ہے۔


جب ہم کسی کے ذاتی معاملات میں بغیر اجازت داخل ہوتے ہیں، تو ہم اس کے احترام کو روندتے ہیں۔


کبھی کسی کی اجازت کے بغیر اُس کا راز جان لینے کی خواہش، تعلق کو تباہ کر دیتی ہے۔


ہم کون ہوتے ہیں بغیر اجازت کسی کے کمرے میں داخل ہونے والے؟

ہم کون ہوتے ہیں بغیر اجازت کسی کے واٹس ایپ پر چیک مارک دیکھنے والے؟

ہم کون ہوتے ہیں بغیر اجازت کسی کی زندگی پر تبصرہ کرنے والے؟

ہم کون ہوتے ہیں بغیر اجازت کسی کے ماضی کو کھولنے والے؟


اور سب سے بڑھ کر —

ہم کون ہوتے ہیں یہ کہنے والے کہ "میں تمھارا خیرخواہ ہوں، اس لیے اجازت کی ضرورت نہیں"؟


خیرخواہی کبھی زور زبردستی سے نہیں ہوتی۔


ہمیں سیکھنا ہوگا، ورنہ ہم ہمیشہ دروازے توڑتے رہیں گے، رشتے نہیں جوڑ پائیں گے۔


 جب ہم کسی کی اجازت کے بغیر اس کے واٹس ایپ کا سٹیٹس دیکھتے ہیں، اس کے فیس بک پر کمنٹ کرتے ہیں، اس کی زندگی کے بارے میں، اس کے کام کے بارے میں، اس کی ناکامیوں کے بارے میں، ہم اپنی رائے دیتے ہیں، تو ہم کیا کر رہے ہوتے ہیں؟ ہم اس کی اپنی ذات پر، اس کی اپنی پسند پر، اپنی سوچ کا پہرہ بٹھا رہے ہوتے ہیں۔ اور یہ سب کرتے ہوئے، ہم بھول جاتے ہیں کہ ہم خود کیا ہیں۔ ہم کون ہوتے ہیں کسی کی زندگی کا مالک بننے والے؟ ہم کون ہوتے ہیں بغیر پوچھے، بغیر جانے، کسی کی زندگی کے معاملات میں دخل دینے والے؟


یہ ہمارے معاشرے کا وہ زوال ہے جس کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ جب ہم دستک دینا چھوڑ دیتے ہیں، تو ہمارے دلوں کے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔ ہم دوسروں کے لیے اپنے دلوں کو کھولنا بھول جاتے ہیں۔ ہم ایک دوسرے کو سمجھنا، ایک دوسرے کے دکھ بانٹنا، ایک دوسرے کا سہارا بننا، سب کچھ بھول جاتے ہیں۔


یہ میری استادِ محترم کی ایک اور بات مجھے یاد دلاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب آپ کسی کے درد کو بانٹنا چاہیں، تو پہلے اس سے پوچھیں کہ کیا وہ اپنا درد آپ سے بانٹنا چاہتا ہے؟ شاید وہ اپنی تنہائی میں سکون پاتا ہو، شاید وہ اپنی خاموشی میں اپنے دکھ کو سمیٹنا چاہتا ہو۔ آپ کی خواہش خیرخواہی کی ہو سکتی ہے، لیکن آپ کا طریقہ غلط ہے۔

ہم نے یہ سب سیکھنا ہے۔ ورنہ ہم ہمیشہ دروازے توڑتے رہیں گے، رشتے نہیں جوڑ پائیں گے۔ ہم صرف اپنے ارد گرد خول بناتے رہیں گے، اور اندر سے خالی ہوتے جائیں گے۔


آئیے، آج ایک عہد کریں۔ آج سے ہم دستک دینا شروع کریں۔ یہ دستک صرف دروازے پر نہیں۔ یہ دستک دلوں پر۔ ذہنوں پر۔ رشتوں پر۔ زندگیوں پر۔ جب ہم کسی کی زندگی میں قدم رکھیں، تو پہلے وہاں کے باسی کی اجازت لیں۔ 


اگر ہم نے یہ سیکھ لیا، تو ہماری زندگی خود بخود خوبصورت ہو جائے گی۔ ہم صرف اچھے انسان نہیں بنیں گے، ہم وہ فرشتے بنیں گے جو دوسروں کے لیے محبت اور سکون کا پیغام لاتے ہیں۔ ہم وہ لوگ بنیں گے جن کی موجودگی سے دوسروں کو راحت ملتی ہے۔


ورنہ… ہم ہمیشہ ایک ایسی قوم رہیں گے جو "چپکے سے" داخل ہوتی ہے… اور "بے عزت ہو کر" نکال دی جاتی ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی تربیت کا آغاز کریں۔ یہ وقت ہے کہ ہم سادگی اور محبت کے ساتھ، دوسروں کے دلوں کے دروازوں پر، پیار سے دستک دیں۔ تاکہ وہ دروازے کھلیں، اور ہمارے لیے بھی، اور ان کے لیے بھی، روشنی کا نیا سفر شروع ہو۔



یہ کالم صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں، یہ ایک سوال ہے۔ ایک ایسا سوال جو آپ کے اپنے دل سے ہے۔ کبھی غور کیا ہے کہ ہم بغیر دستک دیے کسی کے بھی کمرے میں، کسی بھی لمحے، داخل ہو جاتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ہمارا حق ہے، حتیٰ کہ اپنے ماں باپ کے کمرے میں بھی۔ ہم اپنے والدین کے کمرے میں بھی بغیر اجازت کے داخل نہیں ہو سکتے۔ 

اگر یہ الفاظ آپ کے دل کے کسی کونے کو چھو گئے ہیں، اگر یہ آپ کی اپنی کہانی کا حصہ لگتے ہیں، تو خاموش نہ رہیں۔ اپنی کہانی بھی سنائیں۔ ہمیں بتائیں کہ آپ نے یہ سبق کیسے سیکھا؟ یا پھر یہ بتائیں کہ آپ کب بغیر دستک دیے کسی کی زندگی میں داخل ہوئے اور پھر کیا ہوا؟

آئیے، آج اپنے اپنے دلوں کے راز کھولیں۔ کیونکہ جب ایک دل کی آواز گونجتی ہے تو ہزاروں دلوں کو جگاتی ہے۔

تبصرے

  1. Woww such a great column its all about manners great sir
    In your columns you always gave us a new things 💯

    جواب دیںحذف کریں
  2. السلام علیکم
    جی بالکل ایسا ہی ھے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا کہ تین بار دستک دینے کے باوجود دروازہ نہ کھلے تو واپس چلے جایا کرو اپنے بچوں کو بھی یہ بتانا چاہئے کہ بغیر اجازت والدین کے کمرے میں بھی نہیں جانا چاہئے میرا تجربہ یہی ہے اللہ کے فضل سے بچپن ہی سے علم ہو گیا تھا کہ بغیر اجازت داخل نہیں ھوتے اور کافی دفعہ جواب نہ آنے پر واپس جانا پڑا

    جواب دیںحذف کریں
  3. جی بلکل یہ آداب اپنے بچوں کو چھوٹی عمر سے سکھانے چاہیے

    جواب دیںحذف کریں
  4. Sir assalam alikum kia hal chal han thik Thak han tabiyat sehat thik or apka column sa hamain bohat kuch sikhna ko mila ha or hum aga sa kisi ka kamra kisi ka dil yeh kisi ki zindagi ma dakhil hona sa pahla dastak da kar hi daka hi dakhil hoi ga sukariya sir hamara lia yeh column bana ka lia sukariya or khush rahain abad rahain Allah apko lambi zindagi da ameen sumameen 💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞

    جواب دیںحذف کریں
  5. Yes.we should take permission when we enter into our Parents room. I Alhumdulliah fo this from my childhood. I also try to get permission when someone nearby. But one thing i mansion here that we should give attention when someone nearby and wants to share something with you.we should teach our children,friends and other people to get permission. In this Era. Lake of respect.

    جواب دیںحذف کریں
  6. Thank you sir hamay itnay acha Mannar sa batanay ka Liya ab sa ham ijazat ka bager Kisi bi jagh Kisi ki Zindagi me dakhil nahi ho gay

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

"قارئین کی پسند: ہمارے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے کالمز کی فہرست"

Vloggers ka Pakistan, Ducky Bhai, Rajab Butt, Sistrology

Sawal pochna mana hai, swal kyun pocha

Chacha, aur Chacha ka Pakistan!

Law of Karma, Maqfat e Ammal

Ducky Bhai, Rajab Butt aur Nani waly ka Sach, Ducky aik fake hero

Jinnah Ka Adhoora Khwab: Kya Tum Use Poora Karoge? Azadi Ka Asal Matlab: Jinnah Ke Alfaaz Mein