Jinnah Ka Adhoora Khwab: Kya Tum Use Poora Karoge? Azadi Ka Asal Matlab: Jinnah Ke Alfaaz Mein
قائد کا خط
A Column By: سر جاوید بشیر
میرے پیارے بچوں!
آج 14 اگست ہے۔ میں، محمد علی جناح—تمہارا قائد—تم سے مخاطب ہوں۔ ہاں، وہی جناح جس نے اللہِ ذو الجلال کی مدد، اپنے رفقائے کار کی انتھک محنت، اور ایک اُمت کے آنسوؤں، ہجرت اور شہادتوں کے سائے میں پاکستان لیا۔ مجھے دنیا میں زیادہ مہلت نہ مل سکی، میری سانسیں اُس وقت ٹوٹ گئیں جب یہ ننھا سا خواب ابھی گہوارے میں تھا۔ مگر جو دیکھنے کے لیے آنکھیں رہ جاتی ہیں، وہ قبر کے پار بھی بے چین رہتی ہیں۔ آج میں اسی بے قراری، اسی محبت، اور اسی درد کے ساتھ تم سے بات کرنے آیا ہوں۔
میں تمہیں یاد دلانے آیا ہوں کہ یہ ملک کیسے ملا تھا۔
لاہور کے اسٹیشن پر خون سے لال گاڑیوں کی وہ راتیں… امرتسر سے اُجڑی ہوئی گودیں… قافلے جو چلتے ہوئے ختم ہو گئے اور جن کے نشان صرف قبروں کی قطاروں نے محفوظ رکھے۔ لاکھوں کے قدم زخموں سے چور تھے مگر نظریں بلند تھیں—کیونکہ ان قدموں کو یقین تھا کہ ہم ایک ایسا گھر بنا رہے ہیں جہاں عزت، قانون اور رحمت چھاؤں کی طرح ساتھ چلیں گے۔ میں خود ان بوڑھی آنکھوں کو نہیں بھول سکا جنہوں نے مٹی کا ایک ڈھیلا اٹھا کر چوم لیا تھا اور کہا تھا: “یہ ہماری زمین ہے!”
میں نے چاہا تھا کہ حکومت ماں بنے—ماں جس کے نزدیک سب اولاد ایک سی ہوتی ہے۔ میں نے چاہا تھا کہ قانون باپ کی طرح مضبوط ہو—جو کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہونے دے۔ میں نے چاہا تھا کہ تمہارے سکولوں میں کتابیں صرف رٹوانے کی نہیں، کردار بنانے کی ہوں۔ میں نے چاہا تھا کہ مسجد کے سائے میں کھڑا ہندو، کسی بھی عبادت گاہ کے باہر کھڑا کوئی بھی انسان—اپنی جان اور عزت کے بارے میں مطمئن ہو۔ اسی لیے میں نے جوگندر ناتھ منڈل کو قانون کا وزیر بنایا، اقلیتوں کو کابینہ میں جگہ دی، دفترِ خارجہ ایک قابل غیر مسلم کے سپرد کیا، اور 11 اگست کو اسمبلی میں کھڑے ہو کر تمہیں یہ بتایا کہ ریاست کا کام تمہارا مذہب طے کرنا نہیں—تمہاری آزادی، جان، مال اور عزت کی حفاظت کرنا ہے۔
لیکن اے میری قوم… مرا بدن تو مٹی میں گیا، مگر میری باتیں تمہارے نصاب سے بھی دفن ہو گئیں۔ مجھے افسوس ہے کہ میرے جانے کے بعد تم نے مجھے پڑھنے کی کوشش کم کی اور اپنے اپنے عقائد کے سانچے میں مجھے ڈھالنے کی کوشش زیادہ۔ کسی نے مجھے “مولوی جناح” بنا دیا، کسی نے “انگریز جناح”—حالانکہ میں تمہارا “قانون پرست جناح” تھا، تمہارا “عہد کو نبھانے والا جناح” تھا۔ مجھے بتاؤ، تم نے میرا کون سا صفحہ اصل میں پڑھا؟ کون سا جملہ دل میں اتارا؟ کون سا خواب آگے بڑھایا؟
آج میرا دل خون کے آنسو روتا ہے جب میں تمہارے شہروں کی زبان سنتا ہوں۔ فیس بک، ٹوئٹر، گلی کوچے—ہر طرف گالی ہے، بہتان ہے، الزام ہے۔ تم نے لیڈروں کو بت بنا لیا ہے: “تیرا لیڈر چور، میرا لیڈر نجات دہندہ، تمہارا لیڈر یہودی ایجنٹ، ہمارا لیڈر آسمان سے اترا ہوا”۔ سیاست عبادت تھی، تم نے اسے تماشہ بنا دیا؛ اختلاف رحمت تھا، تم نے اسے دشمنی بنا دیا۔ تم نے نظام بنانے کے بجائے چہرے بدل بدل کر امیدیں بانٹیں—کبھی صدارتی، کبھی پارلیمانی، کبھی مارشل لا؛ اور ہر بار ادارے کمزور، قانون رسوا، اور غریب زیادہ غریب ہوا۔
میرے نوجوانو! تم تو میرے خواب کی آنکھ تھے۔ میں نے چاہا تھا کہ تم کتاب کو ڈھال اور قلم کو علم کی تلوار بنا کر نکلوں۔ تم نے اپنے کندھوں کو سیاست کے بے لگام جلوسوں کا ایندھن بنا دیا۔ میں نے چاہا تھا تم خاندان کی پہلی ڈگری بنو، تم نے اپنے ماں باپ کی نیندیں جلسوں کے شور میں بیچ دیں۔ میں نے کہا تھا “کام، کام اور بس کام”—تم نے کہا “ٹکراؤ، لائیو اور بس لائکس”۔ کیا تم جانتے ہو کہ قومیں نعرے سے نہیں بنتیں؛ قومیں اداروں سے بنتی ہیں، قانون سے بنتی ہیں، اخلاق سے بنتی ہیں، سچ سے بنتی ہیں۔ تم نے ان چاروں کے مقابل ہیش ٹیگ کھڑا کر دیا—اور سمجھا کہ فتح ہو گئی۔
اقلیتوں کا حال دیکھ کر میرا سر جھک جاتا ہے۔ میں نے کہا تھا کہ یہ ریاست سب کی ہے؛ تم نے کچھ دروازے تنگ اور کچھ ذہن مزید تنگ کر دیے۔ میں نے قانون کو سب سے بڑا رشتہ بنایا تھا؛ تم نے رشتوں کو قانون سے بڑا سمجھ لیا۔ جس دن تم نے “میرا قبیلہ، میری جماعت، میرا مسلک” کو “میرا آئین” پر ترجیح دی، اسی دن تم نے پاکستان کو کمزور کیا۔ ریاست کسی ایک کے نام کی جاگیر نہیں—یہ تو سب کی امانت ہے۔ اور امانت میں خیانت سب سے بڑا جرم ہے۔
میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ تمہارے سکول کبھی گرمی، کبھی سموگ، کبھی سردی کے نام پر بند ہو جاتے ہیں؛ ہسپتالوں میں مریض اپنی باری کے انتظار میں دم توڑتے ہیں؛ عدالتوں میں تاریخ کے بعد تاریخ اور انصاف کے نام پر انتظار کے سوا کچھ نہیں؛ تھانے میں کمزور کی فائل گم اور طاقتور کا فون زندہ؛ سڑک پر بائیک کے سلنسر نکال کر جشنِ آزادی مناتے بچے—جنہیں کسی نے بتایا ہی نہیں کہ آزادی شور سے نہیں، شعور سے منائی جاتی ہے۔
تم پوچھو گے: “قائد! پھر کیا کریں؟”
سن لو، یہ میری وصیت سمجھ لو—لفظ لفظ کر کے اپنے دل پر لکھ لو:
اپنے اندر سے بت توڑو۔ کسی لیڈر کو دیوتا نہ بناؤ۔ جو تمہیں قانون سے بڑا لگے، سمجھ لو وہ تمہاری آزادی سے بڑا بننا چاہتا ہے۔ سوچو، پرکھو، سوال کرو—مگر دلیل سے۔ گالی تمہارا ہتھیار نہیں، تمہاری کمزوری ہے۔
آئین کو ماں سمجھو۔ اب ادارے “شخص” سے نہیں، “قانون” سے چلیں گے۔ پارلیمان کو قوت دو؛ عدلیہ کو انصاف کے لیے آزاد دیکھنا چاہو مگر اسے جواب دہ بھی رکھو
سیاست میں اصول لو، قافلے نہیں۔ منشور پڑھو، چہروں کی چمک پر نہ جاؤ۔ تمہاری رائے تمہاری ہے؛ اسے ووٹ کے دن بیچ نہ دینا۔
تعلیم کو “ایمرجنسی” سمجھو۔ اسکول بند ہونے سے پہلے حل سوچو—اوقات بدل دو، ٹیکنالوجی لے آؤ، ماسک اور فلٹر لگاؤ، گرمی میں جلدی کلاسز، سردی میں دن چڑھے—مگر کتاب بند نہ ہو۔ ٹیچر کی عزت بحال کرو—استاد روح کو علم دیتا ہے اور ماں باپ جسم کو۔ روح بھوکی ہو تو جسم کی طاقت رائیگاں ہے۔
ٹیکنالوجی کو سہارا بناؤ، سہارا نہ بن جاؤ۔ مصنوعی ذہانت تمہاری مددگار ہے، تمہاری مالک نہیں۔ AI سے لکھوانے کے بجائے AI سے سیکھو؛ خلاصہ نہیں، مفہوم سمجھو؛ شارٹ کٹ نہیں، بنیاد مضبوط کرو۔ جو قوم صرف “پیِسٹ” کرتی ہے، وہ کبھی “پیش” نہیں کرتی۔
اقلیتیں تمہارا امتحان ہیں، تمہاری طاقت بھی۔ مضبوط قومیں کمزور دلوں کو ساتھ لے کر چلتی ہیں؛ کمزور قومیں مضبوط ہاتھوں سے بھی ٹوٹ جاتی ہیں۔ کسی کے گرجے، کسی کے مندر، کسی کی عبادت—یہ سب تمہارے آئین کی پناہ میں ہیں۔ جب تک کمزور محفوظ نہیں ہوگا، طاقتور بھی غیر محفوظ رہے گا۔
اخلاق واپس لاؤ۔ سچ کو فیشن نہیں، فریضہ بناؤ۔ قطار میں کھڑے ہونا تہذیب ہے، رشوت سے انکار شجاعت ہے عورت کی عزت کرنا انسانیت ہے۔ سڑک پر کوڑا اٹھانا چھوٹا کام نہیں—یہ بڑے دل کا کام ہے۔ گالی کے بدلے خاموشی طاقت ہے—بزدلی نہیں۔
جشنِ آزادی میں شور نہیں—شعور۔ جھنڈا گلی کی مٹی میں نہیں، دل کے اوپر لگاؤ۔ موٹر سائیکل پر ایک پہیہ نہیں، قوم کے لیے ایک قدم آگے بڑھاؤ۔ فیسٹیول پر خرچ کرنے کے بجائے محلے کی لائبریری، اسکول کے پنکھے، ہسپتال کے بیڈ—یہ تمہارا اصل جشن ہیں۔
میں جانتا ہوں تم تھکے ہوئے ہو—مہنگائی نے ہمت توڑ دی، بے روزگاری نے کمر دُکھا دی، سیاست نے دل زخمی کر دیا۔ مگر گواہ رہنا، قومیں تھکن سے نہیں ہارتیں—قومیں امید چھوڑنے سے ہارتی ہیں۔ اور میری قوم! تم امید ہو۔ تمہاری آنکھوں میں میں وہ چمک دیکھتا ہوں جو کبھی علی گڑھ کے ہاسٹل کی راتوں میں جلتی تھی۔ تمہارے ہاتھوں میں میں وہ لرزش محسوس کرتا ہوں جو کبھی دستور کے مسودے پر میرے قلم میں دوڑی تھی۔ اٹھو! اپنے حصے کی اینٹ اٹھاؤ، اپنے حصے کی صفائی کرو، اپنے حصے کی روشنی جلاؤ۔ تم اکیلے کچھ نہیں بدل سکتے—یہ جھوٹ ہے۔ ایک دیا اندھیرے کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کرتا؛ وہ بس جلتا ہے— بس جلنا ہی بدلنا ہے۔
اگر تم نے آج فیصلہ کر لیا کہ “میرا قائد کوئی چہرہ نہیں، میرا قائد کوئی نعرہ نہیں—میرا قائد میرا آئین، میرا اصول، میری محنت ہے”، تو پھر قسم ہے اس سبز ہلالی پرچم کی، وہ دن دور نہیں جب دنیا تمہیں مثال بنا کر اپنے بچوں کو پڑھائے گی۔
اور اگر تم نے پھر سے بت تراشے، پھر سے قافلے بدلے، پھر سے آئین کو کاغذ سمجھا، پھر سے اقلیت کو کمزور جانا، پھر سے استاد کی بے عزتی کی، پھر سے علم کے دروازے بند کیے—تو یاد رکھو، تاریخ تمہیں معاف نہیں کرے گی۔ تاریخ بہت سخت استاد ہے—وہ دیر سے پڑھاتی ہے، مگر عبرت کے ڈنڈے سے۔
میرے بچوں! میری قوم! میں تمہیں ڈانٹنے نہیں، جگانے آیا تھا۔ میں جناح ہوں—اسی صفائی سے سوچنے والا، اسی قانونی راستے پر چلنے والا، اسی بے باکی سے بات کرنے والا۔ میں تمہارا تھا، تمہارا ہوں، تمہارا رہوں گا—جب تک تم مجھ میں اپنے آئین کی آواز سنو گے۔ جب تک تم “ایمان، اتحاد، نظم” کو کاغذ سے نکال کر کردار بنا لو گے۔
اس خط کو اپنے گھر کے دروازے کے اندر—وہاں لگا دینا۔ ہر روز نکلتے ہوئے ایک سطر پڑھ لیا کرنا:
“میں بت نہیں، ادارہ بناؤں گا۔ میں چہرہ نہیں، اصول چنوں گا۔ میں شور نہیں، شعور پھیلاؤں گا۔”
پھر دیکھنا، تمہاری سڑکوں پر روشنی لمبی ہو جائے گی؛ تمہارے اسکولوں کے در کھلے رہیں گے؛ تمہاری عدالتوں میں فیصلے وقت پر آیا کریں گے؛ تمہارے ہسپتالوں میں دعاؤں کے ساتھ دوا بھی ملے گی؛ تمہارے دیہات میں کنویں گہرے اور فصلیں اونچی ہوں گی؛ تمہارے شہروں میں راتیں محفوظ اور صبحیں پُرامید ہوں گی۔ یہ سب ممکن ہے—اگر تم فیصلہ کر لو۔
میں پھر کہتا ہوں: میں نے تمہیں ایک زمین دی تھی؛ اب تم اسے وطن بناؤ۔ میں نے تمہیں ایک نام دیا تھا؛ اب تم اسے کردار بناؤ۔ میں نے تمہیں قانون دیا تھا؛ اب تم اسے زندگی بناؤ۔ میں نے تمہیں آئین دیا تھا
؛ اب تم اسے آنکھ بناؤ۔
تمہارا قائد
محمد علی جناح
A good column
جواب دیںحذف کریںOur awareness is everything
جواب دیںحذف کریںEveryone thinks himself sagacious no one is listening others
Heart touching
جواب دیںحذف کریںA.o.A sir g awesome column hai I never read before this type of novel is novel ko read karte Hoye aesy laga jesy mery ehsase darj ho is main jis har Pakistani aesa sochy ga hamara quaid wala Pakistan wapis zinda ho jaye ga...Jo gareeb ki bhi SUNe ga or Ameer ki bhi SUNe ga ek he trah 😥😥😥😥😥 hear touching coloumn
جواب دیںحذف کریں❤️❤️❤️❤️❤️
جواب دیںحذف کریںکیا ہم آزاد ہیں . . . . . اگر ہیں تو کیسے؟
جواب دیںحذف کریںکیا عوام جس کو ووٹ دیتی ہے وہ پارٹی حکومت بناتی ہے؟
کیا عدالتیں انصاف فراہم کر رہی ہیں؟
کیا تعلیمی ادارے صحیح کام کر رہے ہیں؟
حکمران عوام کیلۓ یا اپنے لۓ؟
سر جاوید صاحب اب آپ نے بتانا ہے کہ عوام اپنے آپ کو کیسے ٹھیک کر سکتی ہے
دنیا میں کوئی چیز نا ممکن نہیں لیکن کچھ کام ایسے ہوتے ہیں جس کے لۓ قربانی ضروری ہوتی ہے
اللہ عزوجل آپ کا حامی و ناصر ہو آمین یا رب العالمین
میرے پیارے بھائی جان!
حذف کریںآپ نے جو سوالات اٹھائے ہیں، وہ ہر محب وطن پاکستانی کے دل میں ہیں۔ یہ وہی درد ہے جو قائد نے اپنے خط میں بیان کیا ہے۔
جی بھائی جان، ہم آزاد ہیں۔ جس دن ہم نے خود کو آزاد سمجھنا شروع کر دیا، ہم آزاد ہو جائیں گے۔
آپ کے سوالات کہ 'کیا عوام کا ووٹ کام کرتا ہے؟' 'کیا عدالتیں انصاف دے رہی ہیں؟' 'کیا تعلیمی ادارے صحیح ہیں؟' اور 'حکمران کس کے لیے ہیں؟' – یہ سب ہمارے اجتماعی رویوں اور انتخاب کا نتیجہ ہیں۔ عوام اپنے آپ کو تب ٹھیک کر سکتی ہے جب وہ قائد کے اصولوں کو صرف نعرہ نہیں، عمل بنا لے۔ جب ہم اپنے اندر سے بت توڑیں گے، آئین کو ماں سمجھیں گے، اخلاق واپس لائیں گے، اور ہر مشکل میں تعلیم کو ترجیح دیں گے۔ یہ قربانی مانگتا ہے – ذاتی مفاد کی، اندھی تقلید کی، اور بے حسی کی۔
آپ کی دعاؤں کے لیے دل سے شکر گزار ہوں۔ اللہ عزوجل آپ کا حامی و ناصر ہو، آمین یا رب العالمین۔
جی سر جاوید صاحب ہم سوچتے ہیں ہم جو بولتے ہیں ان لفظوں کی پذیرائی ہوتی ہے ہم سوچتے ہیں قانون ہمارا باپ اور حکومت ہماری ماں ہے قائدآعظم نے کہا تھا ہر ادارہ اپنی ڈیوٹی سر انجام دے ویسا ہی ہے سر ہمیں خوابوں میں رہنا اچھا لگتا ہے کیں کہ ہمارے لۓ وہی حقیقت ہے
حذف کریںToday we need to take step against family veloggers
جواب دیںحذف کریںEveryone forgotten the dream of quied e Azam
جواب دیںحذف کریں
جواب دیںحذف کریںIt is often said that nations survive on ideals, but when those ideals are neglected, the very soul of the nation begins to fade. Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah did not merely struggle for a piece of land; he dreamed of a Pakistan where justice, unity, faith, and discipline would be the foundation of society. Sadly, with the passage of time, many of us have distanced ourselves from that vision. Corruption, intolerance, and disunity have taken root where honesty, equality, and brotherhood were meant to flourish.
To say that “everyone has forgotten the dream of Quaid-e-Azam” is not just a statement of disappointment—it is also a call for reflection. Have we truly lived up to the sacrifices of those who gave their lives for this homeland? Or have we let selfishness and short-term gains overshadow the long-term dream of progress and dignity?
If we wish to honor Quaid’s legacy, then we must revive his principles, not just in speeches and slogans, but in action and character. The dream can only live again when every citizen takes responsibility to build Pakistan into the just, united, and prosperous nation that Quaid envisioned.
No words bout this just suplended
جواب دیںحذف کریںExcellent. I have no words to appreciate you for such a superb job.
جواب دیںحذف کریں