Larky bany Larkiyan, TikTok ke Likes aur Hamara Noujwan

 


اقبال کے شاہین اور ٹک ٹاک کے سپاہی

A Column By: سر جاوید بشیر


 یہ کہانی ہے "طارق بن زیاد" کی۔ وہی نوجوان سپہ سالار جس نے 711 عیسوی میں ایک چھوٹے سے لشکر کے ساتھ جبرالٹر کی پہاڑیوں پر کھڑے ہو کر کشتیاں جلا دیں اور اپنے سپاہیوں کو کہا ’’واپسی کا کوئی راستہ نہیں، یا تو جیت کر آگے بڑھنا ہے یا پھر شہید ہو کر تاریخ میں زندہ رہنا ہے‘‘۔ اُس وقت بھی نوجوان تھے، خواب بھی تھے، تمنائیں بھی تھیں، زندگی کی بہاریں بھی تھیں، لیکن ان کے مقصد اونچے تھے۔ وہ اپنی زندگی کو لائکس اور فالوورز کی بھیک میں ضائع نہیں کرتے تھے، وہ تاریخ پر نقش چھوڑتے تھے۔


اور آج ہمارا نوجوان؟ وہی جو کل والدین کے لیے خوشیوں کا سامان تھا، جس کی پیدائش پر دعائیں کی گئی تھیں، آج TikTok کی سکرین پر لڑکی کا لباس پہن کر، لپ اسٹک اور رنگوں میں غرق ہو کر ہاتھوں کو مٹکاتا ہے، کمروں میں ٹھمکتا ہے، اور پھر اس پر ’’لائکس‘‘ اور ’’کمنٹس‘‘ کی بارش دیکھ کر سمجھتا ہے کہ اُس نے دنیا فتح کر لی ہے۔ یہ ہمارا سفر ہے، یہ ہماری تباہی کا نشان ہے: ایک عظیم قوم سے ایک ’’کرنج‘‘ قوم بننے کا۔


اصل دکھ یہ ہے کہ یہ صرف لڑکے نہیں، ہماری لڑکیاں بھی ہر حد پار کر چکی ہیں۔ جنہیں کل ماں اور بہن کی پہچان کہا جاتا تھا، آج وہ بھی اپنے آپ کو ایسی دلدل میں گرا رہی ہیں جہاں پردہ، حیاء، شرم سب مزاق کا موضوع بن چکے ہیں۔ یہ سب کچھ ہو رہا ہے ایک اسکرین، ایک لائک، ایک ویو کے بدلے میں۔ اور ہم نے یہ طے کر لیا ہے کہ اپنی پہچان، اپنے اقدار، اپنے معاشرتی اصول سب قربان کر دیں گے، بس ہمیں اُس ایک ورچوئل تعریف کی بھیک چاہیے۔


یہ سفر اتنا ہی افسوسناک ہے جتنا کہانی کسی ایسے شہزادے کی جو اپنی پوری سلطنت ایک کھلونے کے بدلے بیچ دے۔ ہم بھول گئے ہیں کہ سرزمین کو کتنی قربانیوں سےحاصل گیا، کس طرح لاکھوں لوگوں نے اپنی جانیں دیں، اپنی عزتیں قربان کیں تاکہ پاکستان کے نوجوان آزاد فضا میں سانس لے سکیں۔ اور آزادی کے اُس تحفے کو ہم TikTok کے شارٹ ویڈیوز میں ضائع کر رہے ہیں۔  


میں یہ نہیں کہتا کہ تفریح غلط ہے، یہ بھی اصل انسانی ضرورت ہے۔ لیکن تفریح اور تہذیب کا بیڑہ غرق کرنا دو الگ چیزیں ہیں۔ آج کا نوجوان جب سوشل میڈیا کی لت میں ڈوبتا ہے تو وہ یہ نہیں دیکھتا کہ وہ خود کو کس تماشے کا حصہ بنا رہا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ کس کی ویڈیو زیادہ وائرل ہوئی، کس نے زیادہ لائکس لیے، کس پر زیادہ ’’کمنٹس‘‘ آئے، لیکن وہ یہ نہیں سوچتا کہ اُس کی ویڈیو کے بعد اُس کے خاندان، اُس کے محلے، اُس کے دوست اُس پر کیسے تبصرے کر رہے ہیں۔ لائکس کی بھوک نے ہماری عزت نفس کھا لی ہے۔  


اُس دور کے نوجوان نے تاریخ بدلی، آج کے نوجوان نے جگر ٹکڑے ٹکڑے کر دیے۔ فرق یہ ہے کہ اُس دور میں ایک نوجوان کا مقصد اُمت کا عروج تھا، آج کا مقصد صرف خود کو ایک کمرے میں کیمرے کے سامنے مختلف حلیوں میں دکھانا ہے۔ کل باپ اپنے بیٹے پر فخر کرتا تھا، آج وہ بیٹے کی ویڈیوز دیکھ کر سر جھکا لیتا ہے۔ یہ صرف ایک بیٹے یا ایک لڑکی کی بدنامی نہیں بلکہ پورے خاندان میں شرمندگی کا باعث ہے۔ ہماری جڑیں کاٹ دی گئی ہیں، ہمیں اپنی پہچان کا پتہ ہی نہیں رہا۔  


سوال یہ ہے کہ آخر ہم یہ سب کر کیوں رہے ہیں؟ اس کا ایک جواب ہے۔ ناکامی! ہمارے تعلیمی ادارے ہمیں وہ اعتماد نہیں دے سکے کہ ہم اپنی اصل پہچان کے ساتھ دنیا جیت سکیں۔ روزگار کے مواقع نہ ملنے، خواب ٹوٹنے اور ناکام معاشرتی ڈھانچے نے ہماری نوجوان نسل کا دماغ تباہ کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں جب ایک لڑکا یا لڑکی چھوٹی سی ویڈیو کے بدلے ہزاروں لوگوں کے لائکس دیکھتا ہے تو اُسے ایک مصنوعی خوشی ملتی ہے، اُسے لگتا ہے کہ اُس کی اہمیت ہے، چاہے یہ خوشی کتنی ہی کھوکھلی کیوں نہ ہو۔ لیکن یاد رکھو، مصنوعی خوشی کبھی حقیقی سکون نہیں لا سکتی۔  


معاشرہ تباہی کی اُس نہج پر کھڑا ہے جہاں تاریخ ہمیشہ معاف نہیں کرتی۔ جب قومیں اپنی اقدار بیچ دیتی ہیں تو وہ کبھی زندہ نہیں رہتیں۔ روم جیسی عظیم سلطنت گرتی ہے تو وجہ اُس کا عیاش نوجوان طبقہ ہی بنتا ہے۔ بغداد جلتا ہے تو اس کے پیچھے بھی عیاشی اور اخلاقی تنزلی چھپی ہوتی ہے۔ نوجوان میدانوں میں سے نکل کر عیاشی کی محفلوں میں داخل ہو جاتے ہیں۔ آج پاکستان کا بھی یہی حال ہے۔ ہم نے اپنے موبائل کی اسکرین پر مصنوعی تالیوں اور جعلی واہ واہ کو اپنا مقصد بنا لیا ہے۔  


لیکن دنیا کا اصول ایک ہے۔ جب قومیں اپنی پہچان چھوڑتی ہیں، تو دنیا اُنہیں دھکے مار کے تاریخ کے کچرے دان میں پھینک دیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی اس مقدر کے حقدار ہیں؟ کیا یہ وہی قوم ہے جسے اقبال نے شاہین کہا تھا، یا یہ وہی قوم ہے جسے قائداعظم نے کہا تھا کہ ’’دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو ختم نہیں کر سکتی‘‘؟ کیا یہ وہی خواب ہے جو ایک برصغیر کے مسلمانوں نے دیکھے تھے؟ یا پھر یہ ایک ڈراؤنا خواب ہے جس میں ہم نے اپنے بچوں کو بدل دیا ہے ایک ایسے مہرے میں، جو صرف لائکس کے پیچھے نا چ رہے ہیں، اچھل رہے ہیں اور اصل زندگی بھول رہے ہیں۔


 کشتیاں جلا کر نکلنے والے جوان کبھی شکست نہیں کھاتے۔ لیکن جو اپنی پہچان بیچ کر لائکس کی بھیک مانگتے ہیں، وہ کبھی جیت نہیں سکتے۔ پاکستان کو ضرورت ہے نئے طارق بن زیاد کی، نئے صلاح الدین کی، مگر ہم پیدا کر رہے ہیں ’’ٹک ٹاک سپاہی‘‘، جو میدان جنگ میں نہیں بلکہ سکرین پر لائکس کے پیچھے مر رہے ہیں۔  


اب بھی وقت ہے۔ اپنی پہچان پہچانو، اپنے خواب سنبھالو، اپنے والدین کے اعتماد کو سمجھو۔ قوم کا مستقبل تمہارے ہاتھ میں ہے۔ اگر تم اپنی پہچان کو بگاڑو گے تو یاد رکھو، آنے والی نسلیں تمہیں معاف نہیں کریں گی۔  


یہی سوال ہمارے سامنے ہے: ہم ایک عظیم قوم سے آخر کتنی تیزی کے ساتھ ایک کرنج قوم بن رہے ہیں؟ اور اگر ہم نے رکنے کا فیصلہ نہ کیا تو آنے والی تاریخ ہمیں وہی مقام دے گی جو کبھی تباہ ہونے والی قوموں کو ملا۔   


تو سوال یہ ہے: ہم کہاں کھڑے ہیں؟ کیا ہم اپنے نوجوانوں کو اس دلدل سے نکال کر ایک نئی سمت دے سکتے ہیں؟ آپ اس صورتحال کے بارے میں کیا سوچتے ہیں، اور اس مسئلے کا حل کیا ہو سکتا ہے؟ اپنی قیمتی رائے ضرور دیں۔

تبصرے

  1. If we reach our youth about positivity we can use social media for good things like motivation business class and career selection , then we can change the mind of youth
    Here Pakistani boys need to think about there honour how they are becoming girls this is their honour who change themselves for some likes

    جواب دیںحذف کریں
  2. Assalam alikum sir yeh to such ha ka yeh nojawan nasal is tiktok ka masla ma phas gay han or larkon na larkian bana na ki kasam kha li ha or roz ba roz yeh is tabahi ma girta ja raha han or inhain maloom bhi nhi ha or yeh apna waladain ki izat bhi kharab karta han or apni izat bhi inhain sharam nhi nhi ati or yeh kisi ki bat bhi nhi sunta han ka koi sai bhi kah raha ha ka nhi iska dost bhi iski izat nhi karta who bhi isko samjata han lakin yeh unki bhi nhi sunta or phir asi wahiyat videos banata han or apni to izat kharab karta hi han or sath sath dosra Larkon ki bhi izat kharab karta han ager inhain in sub sa bachna ha to is tictok ka likes comments or follow sa for rahna ho ga is sa hi hum badal sakta han or dosri taraf lakian bhi larka ban rahi han larko ka kapra pahan rahi han or bahiyai phila rahi han na inka ghar Wala inhain kuch kahta han or inko sharam ati ha inki izat kharab hoti ha inka ghar walon ki izat kharab hoti ha inko koi farak nhi parta is sa bhi or inka ghar walon ki izat Jo muashra ma kharab hoti ha inko is sa bhi farak nhi parta or is bahiyai sa bachna ka lia is bahiyai ka kamo ko chorna ho ga or ghar walon ko apni ulad ko is bahiyai ka kamo sa rokna ho ga phir hi hum is bahiyai sa bach sakta han or hamri izat bhi kharab nhi hoti ager yeh hi bacha yeh bachi top karta han apna imtahanat ma to inka ghar walon ki khushi ka kia thikana ho ga yeh bhi inhain sochna cahiya bas yahi sochna sa inki or inka ghar walon ki izat bhi Bach jati han or inka nam bhi bacha yeh bachi ka top karna sa roshan hota ha bas Mara yeh mashwara ha ka apna bacha ko achi tarbiyat ka sath sath rahn sahn ka tor tarika bhi sikhana cahiya or muashra ka bara ma bhi agha kar Dana cahiya ka in logon sa for rahna cahiya or insa or in ki soch sa bachna ha phir hi bacha yeh bachi apna ghar walon ki izat ka or apni izat ka khayal rakhain ga sukariya sir is column ko hara lia bna na ka lia yeh bohat kamal ki nasihat ha Jo apna hamara lia likhi ha sukariya or Allah Hafiz sir 💕💕💕💖💖💖

    جواب دیںحذف کریں
  3. Jab paisa a jaye to ab bap bhai ka ser sharam sa ni jukta sab sa ziada tabahi yahi ha ka burai ko sab hi soicety mai promote kar re hain

    جواب دیںحذف کریں
  4. Yahhhh sir you are absolutely right. It's a reality of our society 😪

    جواب دیںحذف کریں
  5. ماں . . ماں ہی ایک اچھا معاشرہ ہے
    بچے کی تربیت ماں باپ کرتے ہیں ماں کا کردار زیادہ ہوتا ہے اس لۓ ماں کو نمایا کیا ہے بچہ باہر جاۓ تو پوچھو کہاں جا رہے ہو آۓ تو پوچھو کہاں سے آرہے ہو
    اب ایسا ہوتا ہے کہ اگر پوچھا جاۓ تو جواب ملتا ہے یہی ہوں آنے پر پوچھیں تو جواب ملتا ہے یہی تھا یعنی بچہ والدین کو ڈانٹ دیتا ہے سمجھدار والدین تو بچے کو سزا دیتے ہیں بدتمیزی کی جو والدین جواب سن کر خاموش ہوجاتے ہیں ان کو پچھتانا پڑتا ہے جس سے مختلف برائیاں جنم لیتی ہیں جن میں ایک یہ ٹک ٹاک بھی ہے سر جاوید صاحب بچے پیدا کرنا فرض نہیں ان کی تربیت فرض ہے اللہ عزوجل ہمیں اپنے بچوں کی تربیت کرنے کی توفیق عطافرماۓ آمین یارب العالمین

    جواب دیںحذف کریں
  6. I think its our biggest responsibility as a parent ,teacher or any other responsibility that Allah given us,to rightly guide our younggeneration..But now a days Parents participate too..They support their children to create cringe content. So, i only say we should understand our role being a Muslim.

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

"قارئین کی پسند: ہمارے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے کالمز کی فہرست"

Vloggers ka Pakistan, Ducky Bhai, Rajab Butt, Sistrology

Sawal pochna mana hai, swal kyun pocha

Chacha, aur Chacha ka Pakistan!

Law of Karma, Maqfat e Ammal

Ducky Bhai, Rajab Butt aur Nani waly ka Sach, Ducky aik fake hero

Jinnah Ka Adhoora Khwab: Kya Tum Use Poora Karoge? Azadi Ka Asal Matlab: Jinnah Ke Alfaaz Mein