لوسیفر ایفیکٹ(Lucifer Effect)— طاقت کا زہر اور ہماری اجتماعی بربادی

 


لوسیفر ایفیکٹ(Lucifer Effect)— طاقت کا زہر اور ہماری اجتماعی بربادی  


کالم از: سر جاویدبشیر


1947ء کا سال تھا۔ ایک نوجوان، جس کا نام تاج محمد تھا، لاہور کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتا تھا۔ وہ ایک سادہ دل، ایماندار اور محنتی لڑکا تھا۔ تقسیمِ ہند کے فسادات کے دوران، اس نے اپنے ہمسائے کے ایک بوڑھے سکھ کو اپنے گھر میں چھپا لیا۔ خطرہ تھا کہ اگر کسی کو پتہ چل گیا تو اس کی جان بھی جاسکتی تھی۔ مگر اس نے کہا، "میں نے انسانیت سیکھی ہے، درندگی نہیں۔" یہ تاج محمد اپنی سادگی میں ایک فرشتہ صفت انسان تھا۔

سال گزر گئے۔ تاج محمد نے سیاست میں قدم رکھا۔ چھوٹا سا کارکن تھا، پھر چیئرمین بنا، پھر ایم این اے بنا۔ طاقت ملتی گئی، اس کا چہرہ بدلتا گیا۔ وہی تاج محمد، جس نے کبھی ایک سکھ کی جان بچائی تھی، آج اپنے ہی حلقے کے غریب کسانوں کی زمین ہڑپ کر رہا تھا۔ وہی ہاتھ، جو کبھی مدد کے لیے بڑھتے تھے، آج رشوت لے رہے تھے۔ ایک دن اس کے ایک پرانے دوست نے پوچھا، "تاج، تم وہ نہیں رہے جو پہلے تھے؟" تو اس نے غصے سے جواب دیا، "دنیا بدل گئی ہے بابا، اب ہر کوئی اپنا ہی سوچتا ہے۔"

یہ وہ زہر ہے جو طاقت کے نشے میں انسان کے اندر چھپے درندے کو بیدار کر دیتا ہےلوسیفر شیطان کا دوسرا نام ہے۔۔ طاقت کے نشے میں اس نے خود کو برتر سمجھا اور شیطان بن گیا۔ یہی کہانی آج ہمارے معاشرے کے ہر دوسرے فرد کی بن چکی ہے۔

لوسیفر ایفیکٹ کی اصطلاح دنیا کے مشہور ماہرِ نفسیات فلپ زیمبارڈو کے "اسٹینفورڈ پریزن ایکسپیریمنٹ" (The Stanford Prison Experiment) سے جڑی ہے۔ 1971 میں امریکہ کی ایک یونیورسٹی میں کچھ عام طلبہ کو دو حصوں میں بانٹا گیا، کچھ کو جیل کے قیدی بنایا گیا اور کچھ کو جیل کے اہلکار۔ چند ہی دنوں میں وہ عام لڑکے جو کل تک کتابوں میں سر جھکائے بیٹھے تھے، طاقت ملتے ہی قیدیوں پر ظلم ڈھانے لگے۔ وہ انہیں ذلیل کرتے، مار پیٹ کرتے۔ یہ سب اتنا خطرناک ہوا کہ محققین کو صرف چھ دن میں یہ تجربہ ختم کرنا پڑا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب دنیا نے پہلی بار یہ مانا کہ ہر انسان کے اندر ایک چھپا ہوا "درندہ" موجود ہے، اور جیسے ہی اسے طاقت ملتی ہے، وہ درندہ جاگ جاتا ہے۔  

ہمارے ہاں ہر شخص چاہتا ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح طاقت حاصل کرے۔ چاہے وہ چھوٹی سی طاقت ہی کیوں نہ ہو۔ ایک چوکیدار تک جب تھوڑی سی طاقت ملتی ہے تو وہ آنے جانے والوں سے بدتمیزی سے پیش آتا ہے۔ یہی وہ زہر ہے جو ہمارے معاشرے کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔

پاکستان میں طاقت کا کھیل لوسیفر ایفیکٹ کی سب سے بھیانک شکل اختیار کر چکا ہے۔ یہاں ہم نے بارہا دیکھا کہ کیسے کرسی پر بیٹھتے ہی انسان کے اندر کا "شیطان" بیدار ہوتا ہے۔ ایک عام سرکاری اہلکار کل تک بس اسٹاپ پر کھڑا لائن میں لگ کر اپنے نمبر کا انتظار کرتا ہے۔ مگر جیسے ہی وہ کسی دفتر میں "کلرک" یا "افسر" بنتا ہے، وہ عام آدمی کو حقیر سمجھنے لگتا ہے۔ وہی ہاتھ جو کبھی فائلوں پر دستخط کو ترس رہے تھے، اب رشوت کے نوٹوں کی گرمی کے عادی ہو جاتے ہیں۔ یہی ہے طاقت کا زہر، یہی ہےلوسیفر ایفیکٹ کا اصل چہرہ۔  

سوال یہ ہے کہ طاقت کیوں بگاڑ دیتی ہے؟ طاقت انسان کے اندر موجود چھپے ہوئے غرور، حسد اور انا کو بڑھا دیتی ہے۔ جو شخص کل تک بھوکا پیاسا اپنے حصے کی روٹی کے لیے ترس رہا ہوتا ہے، وہی اگر طاقت پا لے تو دوسرے کے حصے کا نوالہ بھی چھین لیتا ہے۔ طاقت انسان کو اندھا کر دیتی ہے۔ وہ دوسروں کو کمتر سمجھنا شروع کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں پولیس کا عام سپاہی بھی اپنے علاقے میں بادشاہ بن کر گھومتا ہے۔ ہسپتال کا ایک چپراسی تک مریض کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے۔ استاد طالب علم کو ذلیل کرنے میں خوشی محسوس کرتا ہے۔ یہ سب لوسیفر ایفیکٹ کے ہی مظاہر ہیں۔  

پاکستانی معاشرے میں یہ زہر اس حد تک پھیل چکا ہے کہ یہاں اخلاقیات اور انصاف کی کوئی قیمت نہیں۔ طاقت کے نشے میں ہر شخص اپنی انا کی دیوار پر کھڑا ہو چکا ہے۔ سیاستدان اقتدار میں آتے ہی اپنی اولاد کے لیے سلطنتیں بنانے لگتے ہیں۔ بیوروکریٹ عوام کے ٹیکس سے بنی عمارتوں کو اپنی ذاتی جاگیر بنا لیتے ہیں۔ جاگیردار انسانوں کو اپنے مزارعوں کی طرح خرید و فروخت کرتے ہیں۔ اور ہم عام عوام اپنے اپنے چھوٹے چھوٹے دائروں میں اسی بیماری کے شکار ہیں طاقت نے ہمارے دلوں کو زنگ آلود کر دیا ہے۔  

یہ درندہ ہر انسان کے اندر چھپا بیٹھا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسے پہچانیں اور اس پر قابو پائیں۔ سب سے پہلے تو ہمیں اپنے اندر کے لوسیفرکو تسلیم کرنا ہوگا۔ ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ ہم بھی غلطی کر سکتے ہیں، ہمارے اندر بھی برائی موجود ہے۔ ہمیں اپنے گھروں سے شروع کرنا ہوگا۔ اپنے بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ طاقت ذمہ داری ہے، حق نہیں۔

ہمیں اپنے اندر کے انسان کو زندہ رکھنا ہوگا۔ ہمیں روزانہ اپنا محاسبہ کرنا ہوگا۔ کہیں ہم سے کوئی غلطی تو نہیں ہوئی؟ کہیں ہم نے کسی کو تکلیف تو نہیں پہنچائی؟ یہی وہ نفسیاتی جنگ ہے جو ہمیں اپنے اندر لڑنی ہے۔

یاد رکھیں، ہر انسان کے اندر ایک لوسیفر چھپا بیٹھا ہے۔ یہ ہمارے ایمان، ہمارے اخلاق اور ہماری انسانیت پر منحصر ہے کہ ہم اسے قابو میں رکھتے ہیں یا اس کے آگے ہتھیار ڈال دیں۔

پاکستان اس وقت تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے اور اس تباہی کی جڑ یہی لوسیفر ایفیکٹ ہے۔ اگر ہم نے اس کو قابو نہ کیا تو آنے والے دن مزید اندھیرے ہوں گے۔اگر ہم نے اپنے اندر جھانکا، اپنے ہی نفس پر قابو پایا، اپنے ہی گھر سے انصاف شروع کیا، تو شاید ہماری آنے والی نسلیں روشنی دیکھ سکیں۔ اصل دشمن باہر نہیں، اصل دشمن ہم سب کے اندر ہے۔ وہ لوسیفر جو ہم میں سے ہر ایک کے دل کے کونے میں چھپا بیٹھا ہے۔  

آج ہم میں سے ہر شخص اس دو راہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ وہ ہے جو تاج محمد نے اختیار کیا، جو طاقت کے نشے میں اپنی انسانیت بھول گیا۔ دوسرا راستہ وہ ہے جس پر ہمارے بزرگ چلے، جنہوں نے طاقت کو اللہ تعالی کی امانت سمجھا۔

فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ کیا آپ اپنے اندر کے لوسیفرکو قابو میں رکھیں گے یا اس کے غلام بن جائیں گے؟ یہ جنگ ہر انسان کو اپنے اندر لڑنی ہے۔ اور یہی جنگ دراصل ہماری اصل آزمائش ہے۔

خدا ہم سب کو اس زہر سے بچائے اور ہمیں صحیح راستہ دکھائے۔آمین!




میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ اپنی ذاتی کہانی، اپنے وہ تجربات اور دوسرے لوگوں کے ایسے واقعات لکھیں جو آپ نے دیکھے اور جنہوں نے آپ کو لوسیفر ایفیکٹ کے بارے میں سوچنے پر مجبور کیا۔

 یہ کالم ایک آغاز ہے، اب اس گفتگو کو آپ کی کہانیوں اور تجربات سے آگے بڑھنے دیں۔ آئیے، ہم سب مل کر اس تاریکی میں روشنی کا ایک چراغ جلائیں۔

اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین۔



Credit goes to:The Lucifer Effect

A Book by Philip Zimbardo

تبصرے

  1. السلام علیکم ماشااللہ بہت اچھا کالم
    بالکل ایسا ھے ہر انسان کے اندر چھپا ایک درندہ ھوتا ھے سر میں نے سنا ھے کہ جب اللہ عزوجل مہربان ھوتا ھے تو وہ اپنے خزانے کا پتا دیتا ھے اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ اللہ رب العزت کسی کسی پر مہربان ھوتا ھے مطلب جس کے اندر یہ خوف ھوتا ھے کہ اللہ پکڑلے گا اب چاھے وہ طاقت میں ھو تو بھی اس سے انسانیت نہیں جاۓ گی جو طاقت ملنے پر فرعون بنتے ہیں یا تو وہ خود ظلم کا شکار ھوتے ہیں یاوہ اپنے ارد گرد ماحول کی وجہ سے ایک اور چیز طاقت کا نشہ جس انسان کے دل میں یہ چیز آجاۓ کہ صدا بادشاہی سوہنے رب دی وہ طاقت ملنے پر آپے سے باہر نہیں ہوتا اپنی مثال دینا شائد ٹھیک ہوگا جب طاقت ملی تو اور زیادہ اخلاق سے پیش آنے لگا شکر الحمداللہ کہ پبلک میں اور سٹاف میں مقبول ہوا اتنا ہی بتانا کافی ھے تفصیل بتانے پر اپنے منہ میاں مٹھو لگتا ھے مطلب یہ کہ جو بھی اللہ رب العزت سے رجوع کرتا ھے اور استغفار کرتا ھے اللہ رب العزت اسے اپنی پنا میں لے لیتا ھے جب طاقت ملتی ھے تو وہ وقت حساس ھوتا ھے اس دوران کثرت سے خالق کائنات کو یاد کرنا چاہئے اللہ عزوجل ہم سب کو اپنی حفاظت میں رکھے آمین یا رب العلمین

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. پیارے بھائی جان،وعلیکم السلام

      آپ کے کمنٹ نے دل کو چھو لیا۔ آپ کی خوبصورت اور گہری باتوں کا بہت بہت شکریہ۔ یہ پڑھ کر واقعی بہت خوشی ہوئی کہ آپ نے کالم کے اصل پیغام کو سمجھا اور اسے اتنے دلنشین انداز میں بیان کیا۔ آپ نے جو بات لکھی ہے کہ "طاقت ملنے پر اور زیادہ اخلاق سے پیش آنے لگا،" یہ اس کالم کا سب سے بڑا مقصد اور سبق ہے۔ آپ کا یہ تجربہ ہمارے لیے مثال ہے کہ طاقت انسان کو فرعون نہیں بناتی بلکہ اس سے انسانیت اور عاجزی میں اضافہ ہونا چاہیے۔ یہ تبھی ممکن ہے جب دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف ہو۔
      آپ نے بالکل صحیح کہا کہ اصل بادشاہی صرف ہمارے رب کی ہے۔ جس کے دل میں یہ بات بیٹھ جائے، اس کے لیے طاقت ایک امانت بن جاتی ہے، نشہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو مزید عزت اور کامیابی عطا فرمائے اور آپ کی عاجزی کو سلامت رکھے۔ آپ کی بات دل کی گہرائیوں سے نکلی ہے اور امید ہے کہ یہ دوسرے لوگوں کے لیے بھی مشعلِ راہ بنے گی۔
      آپ کی دعاؤں کا بہت شکریہ۔ آپ کے جذبات نے اس کالم کو ایک نیا رنگ اور نئی روح بخشی ہے۔

      حذف کریں
    2. سر آپ نے سمجھا میں نے اپنا تجربہ تحریر کرکے دوسروں کیلۓ مشعل راہ بن سکتا ھے شکریہ بلکہ بہت زیادہ شکریہ اللہ عزوجل آپ کو مذید ایسے اصلاح کرنے والے کالم تحریر کرنے کی طاقت عطا فرماۓ آمین یا رب العلمین

      حذف کریں
  2. Yes true! Power can reveal a person's true character, and it's up to us to stay humble and grounded.

    جواب دیںحذف کریں
  3. Yes.i seen many people who are totally charged when they get power in any shape money ,relation our even in education. I noticed a principal of a school..she insults her teacher who did good.she think only she did good. Its a bitter reality.

    جواب دیںحذف کریں
  4. Hamy yeh souchna chahiye k Allah pak takat deta ha to cheen b sakta ha to dobara hum on logo ka samna kasy kary gy jin. K sath hum faron ban kr bat krty thy

    جواب دیںحذف کریں
  5. Lucifer effect is a curse of society which eats people comfort

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

"قارئین کی پسند: ہمارے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے کالمز کی فہرست"

Vloggers ka Pakistan, Ducky Bhai, Rajab Butt, Sistrology

Sawal pochna mana hai, swal kyun pocha

Chacha, aur Chacha ka Pakistan!

Law of Karma, Maqfat e Ammal

Ducky Bhai, Rajab Butt aur Nani waly ka Sach, Ducky aik fake hero

Jinnah Ka Adhoora Khwab: Kya Tum Use Poora Karoge? Azadi Ka Asal Matlab: Jinnah Ke Alfaaz Mein