"Mera bacha fail kiyun hua?" Hmara Taleemi Nizam aur Ham


ہلاکو خان نے دجلہ کالا کیا، ہم نے اپنے بچوں کا مستقبل


کالم از: سر جاویدبشیر


یہ 1258ء کی ایک صبح تھی۔ بغداد، جو اُس وقت دنیا کا علمی، ثقافتی اور تہذیبی مرکز تھا، اپنی ہی دھن میں مگن تھا۔ عباسی خلیفہ مستعصم باللہ اپنے محل میں خوش فہمیوں کی جنت بسائے بیٹھا تھا اور شہر کے گلی کوچوں میں شاعر، فلسفی، سائنسدان اور اطباء علم و حکمت کے موتی رول رہے تھے۔ کسی کو اندازہ تک نہیں تھا کہ منگول ہلاکو خان کی قیادت میں شہر کی فصیلوں کے باہر پہنچ چکا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ چند ہی دنوں میں وہ شہر جسے ہزاروں سال کی تہذیب نے سینچا تھا، کھنڈر بن گیا۔ گلیاں لاشوں سے اَٹ گئیں اور کھوپڑیوں کے مینار بنا دیے گئے۔ مگر سب سے بڑا سانحہ یہ نہیں تھا۔ سب سے بڑا، سب سے المناک اور روح کو گھائل کر دینے والا سانحہ وہ تھا جو دریائے دجلہ کے ساتھ ہوا۔


ہلاکو خان نے حکم دیا کہ بغداد کے عظیم کتب خانے 'بیت الحکمت' کی تمام کتابیں دریا میں پھینک دی جائیں۔ یہ وہ کتب خانہ تھا جہاں ارسطو، افلاطون، بقراط، جالینوس سے لے کر الخوارزمی، ابنِ سینا، الفارابی اور ابنِ رشد تک، انسانی تاریخ کے ہر بڑے دماغ کا نچوڑ لاکھوں کتابوں کی صورت میں موجود تھا۔ مؤرخین لکھتے ہیں کہ جب لاکھوں کتابیں دریا میں پھینکی گئیں تو اُن کی سیاہی سے دجلہ کا شفاف پانی کئی میل تک سیاہ ہو گیا تھا۔ وہ پانی کا رنگ نہیں بدلا تھا، وہ ایک تہذیب کے مستقبل کا رنگ تھا جو سیاہ ہو گیا تھا۔ وہ ایک قوم کی اجتماعی موت کا اعلان تھا جس نے علم کو دریا برد کر دیا تھا۔


آج صدیاں بیت گئیں، مجھے وہ کالا پڑتا ہوا دجلہ کیوں یاد آ رہا ہے؟ اس لیے کہ آج جب میں پنجاب کے نویں جماعت کے حالیہ نتائج پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے بھی بغیر کسی ہلاکو خان کے، اپنے بچوں کے مستقبل کی کتابوں کو جہالت کے دریا میں پھینک دیا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اُس دن دجلہ کا پانی سیاہ ہوا تھا، آج ہماری نسلوں کی قسمت کی تختی سیاہ ہو رہی ہے۔ اُس دن کتابوں کی سیاہی پھیلی تھی، آج ہمارے تعلیمی نظام کے چہرے پر کالک ملی جا رہی ہے۔


ہر سال کی طرح اس سال بھی نتائج آئے۔ وہی روایتی شور شرابا، وہی الزام تراشی کا موسم۔ ڈیرہ غازی خان بورڈ میں 57 فیصد بچے پاس ہوئے، یعنی 43 فیصد فیل۔ سرگودھا بورڈ میں 46 فیصد پاس ہوئے، یعنی 54 فیصد فیل۔ راولپنڈی میں صرف 42 فیصد پاس ہوئے، یعنی 58 فیصد فیل۔ لاہور، جو پنجاب کا دل اور تعلیم کا مرکز کہلاتا ہے، وہاں بھی صرف 45 فیصد بچے کامیاب ہوئے، یعنی 55 فیصد ناکام۔ مجموعی طور پر پنجاب کے تمام بورڈز میں پاس ہونے کی شرح پچاس فیصد سے بھی کم رہی۔


یہ محض اعداد و شمار نہیں ہیں، یہ ہمارے مستقبل پر لکھا گیا وہ نوحہ ہے جسے پڑھ کر آنکھوں سے آنسو نہیں، لہو ٹپکنا چاہیے۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ ہمارے آدھے سے زیادہ بچے، جنہیں کل اس ملک کی باگ ڈور سنبھالنی تھی، وہ تعلیمی نظام کی پہلی ہی بڑی سیڑھی چڑھنے میں ناکام ہو گئے ہیں۔ ذرا تصور کیجیے! ہم اکیسویں صدی کے اُس دور میں جی رہے ہیں جہاں دنیا آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر بات کر رہی ہے، جہاں بچے اسکولوں میں کوڈنگ اور روبوٹکس سیکھ رہے ہیں، اور ہم اپنی نصف نوجوان نسل کو نویں جماعت پاس کروانے میں بھی ناکام ہیں۔ یہ صرف تعلیمی ناکامی نہیں، یہ ایک قومی خودکشی ہے جو ہم دھیرے دھیرے کر رہے ہیں۔


نتیجہ آنے کے بعد حسبِ معمول وہی تماشا شروع ہو گیا۔ اساتذہ کا طبقہ حکومت کو کوس رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی پالیسیاں ناقص ہیں، نصاب فرسودہ ہے، ہمیں تنخواہیں وقت پر نہیں ملتیں، ہمیں غیر تدریسی کاموں جیسے الیکشن ڈیوٹی اور پولیو مہم میں الجھا دیا جاتا ہے، اس لیے نتائج خراب آئے۔ دوسری طرف حکومت اور سرکاری بابوؤں کا موقف ہے کہ اساتذہ کام نہیں کرتے، سرکاری اسکولوں میں استاد غائب رہتے ہیں، ان کی قابلیت پر سوالیہ نشان ہے، ان کی سخت اسکروٹنی ہونی چاہیے۔ یوں ایک دوسرے پر انگلیاں اٹھانے کا ایک ایسا خطرناک کھیل شروع ہو گیا ہے جس میں سب سے بڑا نقصان اس معصوم بچے کا ہو رہا ہے جو اس پورے نظام کے رحم و کرم پر ہے۔ یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے دو ڈاکٹر آپریشن تھیٹر میں لڑ پڑیں کہ غلطی کس کی تھی اور مریض میز پر پڑا دم توڑ دے۔ ہمارا بچہ بھی اسی آپریشن میز پر پڑا ہے اور ہم سب اپنی اپنی انا اور کوتاہیوں کے نشتر لیے ایک دوسرے کو زخمی کرنے میں مصروف ہیں۔

 میں آج کسی پر الزام لگانے نہیں، بلکہ ایک اعتراف کرنے بیٹھا ہوں۔ ایک استاد ہونے کی حیثیت سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس ساری تباہی کا اگر سب سے بڑا کوئی ذمہ دار ہے تو وہ میں ہوں، میرا ساتھی استاد ہے۔ ہاں، میں مانتا ہوں کہ حکومتی پالیسیاں عقل سے عاری ہیں، میں جانتا ہوں کہ وسائل کی شدید کمی ہے، میں یہ بھی تسلیم کرتا ہوں کہ ہمارا نصاب آج کے دور کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا۔ لیکن مجھے یہ بھی بتائیے کہ کیا ایک استاد کا کام صرف نصاب پڑھا دینا ہے؟ کیا اس کا فرض صرف نوکری کرنا ہے؟


استاد کا منصب تو پیغمبروں کا منصب ہے۔ یہ وہ دیا ہے جو خود جل کر دوسروں کے لیے روشنی کرتا ہے۔ اگر ایک استاد چاہے تو وہ ٹوٹی ہوئی کرسیوں اور پھٹے ہوئے ٹاٹوں پر بٹھا کر بھی اپنے شاگردوں کے ذہنوں میں علم کی وہ شمع روشن کر سکتا ہے جسے زمانے کی کوئی آندھی نہ بجھا سکے۔ وسائل کا رونا وہ روتا ہے جس کے اپنے اندر جذبے کا ایندھن ختم ہو چکا ہو۔ جب استاد خود کو ایک سرکاری ملازم سمجھ لے، جب اس کی نظر بچے کے مستقبل پر نہیں بلکہ مہینے کے آخر میں ملنے والی تنخواہ پر ہو، جب وہ اسکول کو صرف ایک ڈیوٹی سمجھے، عبادت نہ سمجھے، تو پھر نتائج ایسے ہی آئیں گے۔ آج زیادہ تر اساتذہ، خصوصاً نوجوان نسل، اس پیشے میں حادثاتی طور پر آ گئے ہیں۔ انہیں کوئی اور نوکری نہیں ملی تو وہ استاد بن گئے۔ ان کے اندر وہ تڑپ، وہ لگن، وہ جذبہ ہی موجود نہیں جو ایک معمارِ قوم کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ سرکاری اسکولوں کا حال تو اور بھی برا ہے۔ وہاں استاد کو اپنی نوکری کا تحفظ حاصل ہے، اسے کوئی نکال نہیں سکتا، اس لیے وہ خود کو بادشاہ سلامت سمجھتا ہے۔ (یقیناً اچھے، محنتی اور قابلِ فخر اساتذہ بھی موجود ہیں، لیکن وہ آٹے میں نمک کے برابر ہیں اور انہی کی وجہ سے یہ خستہ حال نظام کسی نہ کسی طرح سانس لے رہا ہے)۔ جب تک استاد اپنی ذمہ داری کو امانت نہیں سمجھے گا، جب تک وہ یہ محسوس نہیں کرے گا کہ اس کے ہاتھ میں قوم کا مستقبل ہے، تب تک پالیسیاں کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو جائیں، نتائج یہی رہیں گے۔


لیکن ٹھہریے! سارا ملبہ استاد پر ڈال کر ہم ایک اور فریق کو نہایت چالاکی سے بچا لے جاتے ہیں، اور وہ ہیں والدین۔ 

آج کل کے والدین نے بچوں کو موبائل فون اس طرح تھما دیا ہے جیسے وہ ایک کھلونا ہو۔ انہیں معلوم نہیں کہ اس چھوٹی سی ڈیوائس میں ایک پوری دنیا بند ہے — ایک ایسی دنیا جہاں ہر قسم کی برائی ایک کلک پر دستیاب ہے۔ بچے موبائل کے عادی ہو چکے ہیں۔ وہ گھنٹوں ٹک ٹاک، یوٹیوب اور گیمز میں گزار دیتے ہیں۔ پڑھائی؟ وہ تو ایک بورنگ مشغلہ بن کر رہ گیا ہے۔ والدین کو احساس ہی نہیں کہ وہ اپنے بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔


ہماری معاشرتی اقدار بھی بدلتی جا رہی ہیں۔ پہلے گھر میں بزرگ بیٹھے ہوتے تھے، جو بچوں کو کہانیاں سناتے تھے، نصیحتیں کرتے تھے۔ آج کل کے گھروں میں ٹی وی، موبائل اور انٹرنیٹ حکمرانی کر رہے ہیں۔ بچے اپنے والدین سے زیادہ ان ڈیوائسز کے قریب ہیں۔ یہ المیہ ہے کہ ہماری نسلِ نو اپنی ثقافت، اپنی تاریخ، اپنی روایات سے کٹتی جا رہی ہے۔


لیکن اس تمام تر صورتحال میں سب سے زیادہ نقصان ہمارے بچوں کا ہو رہا ہے۔ وہ بچے جو غریب گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں، جن کے پاس وسائل نہیں ہیں، وہ اس نظام کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔ امیروں کے بچے تو پرائیویٹ اسکولوں میں پڑھ کر آگے نکل جاتے ہیں، لیکن غریب کا بچہ سرکاری اسکول میں پڑھتا ہے، جہاں نااہل اساتذہ، ناقص سہولیات اور غیر معیاری تعلیم اس کے مستقبل کو تاریک کر دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں امیر اور غریب کے درمیان خلیج دن بدن وسیع ہوتی جا رہی ہے۔


ادھر حکومت کے پاس کوئی واضح روڈ میپ ہی نہیں۔ نصاب بے معنی، امتحانی نظام پرانا، اور سب سے بڑھ کر پالیسی ساز خود تعلیم کی گہرائی سے نابلد۔ جو لوگ تعلیمی پالیسیاں بناتے ہیں وہ اکثر سرے سے اسکول کے ماحول کو جانتے ہی نہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پالیسیاں ہوائی قلعہ کی طرح زمین پر گر کر بکھر جاتی ہیں۔  


یہی سب کچھ مل کر ہمارے بچوں کو ناکامی کی کھائی میں دھکیل رہا ہے۔ وہ بچہ جو دنیا کی دوڑ میں آگے نکل سکتا ہے، ہم نے اپنے ہی ہاتھوں سے ناکام بنا دیا ہے۔  


اب سوال یہ ہے کہ حل کیا ہے؟ پہلی اور بنیادی چیز یہ ہے کہ استاد کو استاد بننا ہوگا۔ استاد کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ انسان تراش رہا ہے۔ اگر وہ آج فرض پورا نہیں کرے گا تو کل یہی بچہ معاشرے پر بوجھ بن جائے گا۔ دوسرا قدم ہے والدین کی اصلاح۔ والدین کو یہ سمجھنا ہوگا کہ موبائل فون بچے کا کھلونا نہیں بلکہ زہر ہے، اور وقت کتابوں میں لگانے سے ہی بچہ ترقی کرے گا۔ تیسرا قدم حکومت کی سمت کا تعین ہے۔ ایسی پالیسیاں بنانا جو بامقصد ہوں، عملی ہوں اور دنیا سے مطابقت رکھتی ہوں۔  


ہمارے تعلیمی نظام کی اوور ہالنگ ناگزیر ہے۔ ہمیں آج فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنے بچوں کو پرانی کتابوں اور رٹے کے نظام میں گھسیٹ کر مستقبل برباد کریں گے یا انہیں دورِ حاضر کی صلاحیتوں کے ساتھ آگے بڑھائیں گے۔ ہمیں استاد کو محض ایک ملازم کے بجائے معمارِ قوم کا درجہ دینا ہوگا اور استاد کو بھی اپنے فرض کا ادراک کرنا ہوگا۔    


یاد رکھیے! قوموں کی زندگی میں ایک وقت ایسا آتا ہے جب وہ یا تو ملبے کا ڈھیر بن جاتی ہیں یا عزم و ہمت سے نئی عمارت اٹھا لیتی ہیں۔ ہم آج اُس موڑ پر کھڑے ہیں۔ یہ ناکام بچے صرف بچے نہیں ہیں، یہ میرے اور آپ کے کل کے ڈاکٹر، انجینئر، فوجی جوان، سیاست دان اور انجینئر ہیں۔ یہ وہ بیج ہیں جو یا تو سڑی ہوئی زمین میں گل سڑ جائیں گے یا پھر زرخیز مٹی میں لگ کر تناور درخت بن جائیں گے۔ فیصلہ ہم سب کو کرنا ہے کہ ہم اپنے ملک کے بیجوں کے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہیں۔  


کیا ہم اپنے بچوں کو موبائل کی نشہ آور دنیا میں دھکیل کر مستقبل کا اندھیرا خریدیں گے؟ یا کتاب، قلم اور علم کے چراغ سے ان کے اندر روشنی پیدا کریں گے؟ کیا ہم استاد کو صرف حاضری دینے والا نوکر بننے دیں گے یا اُسے وہی مقام دیں گے جو استاد کو حاصل تھا، وہی استاد جس نے بربادی کے راکھ سے قوم کو اٹھا لیا تھا؟  


میرے عزیز والدین، یہ بچے آپ کی سب سے بڑی جاگیر ہیں۔ زمین، مکان، پلاٹ اور زیورات سب فانی ہیں، لیکن اگر یہ بچہ کامیاب ہوگیا تو یہی آپ کی پہچان بنے گا صدقۂ جاریہ ثابت ہوگا، اور اگر یہ بچے ناکام ہوگئے تو یہ قبر تک کا اندھیرا بنیں گے۔  


سوچیں...! وہ لمحہ کیسا ہوگا جب یہ آج کا ناکام بچہ کل ایک ہتھیار اٹھا کر جرم کرے گا، یا چوری اور کرپشن میں ملوث ہوگا۔ اور سوچیں... وہ لمحہ کیسا ہوگا جب یہی بچہ ایک عظیم سائنسدان، مفکر یا قرآن کا عالم بن کر دنیا کو روشن کرے گا۔ فیصلہ آج ہم نے اپنے رویوں سے کرنا ہے۔  


قومیں ایٹم بم سے نہیں بلکہ تعلیم سے بنتی ہیں۔ ہم نے اگر آج استاد کو جاگنے پر مجبور کر دیا، والدین کو ذمہ داری کا احساس دلا دیا، حکومت کو سنجیدہ منصوبہ بندی پر آمادہ کر دیا اور بچوں کو کتاب اور استاد سے محبت کرنا سکھا دیا تو یاد رکھیے پاکستان وہ ستارہ بن سکتا ہے جو دنیا کے علمی افق پر سب سے چمکتا ستارہ ہوگا۔  


میں دل پر ہاتھ رکھ کر اپنے ہر پاکستانی سے کہتا ہوں: خدارا! بچوں کا مذاق مت اُڑائیں، ان کا راستہ مت روکیے، اپنی ذاتی سستیوں، بہانوں اور غفلتوں کا بوجھ ان ننھی معصوم روحوں پر مت ڈالیں۔ یہ بچے اللہ کی طرف سے امانت ہیں۔ اگر ہم نے آج اپنی امانت کو سنبھال لیا تو کل کا پاکستان علم اور ترقی کی روشنی میں سنہرا ہو جائے گا، اور اگر ہم سوئے رہے تو یاد رکھیں آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔  



اب مجھے یہ بتائیں کہ اس سنگین مسئلے پر آپ کیا سوچتے ہیں؟ ان بچوں کی ناکامی کا اصل ذمہ دار کون ہے؟ کیا ہم اس تباہی کو محض اعداد و شمار سمجھ کر نظر انداز کر دیں، یا پھر ایک قوم کی حیثیت سے اٹھ کھڑے ہوں اور اپنے بچوں کے مستقبل کو سنواریں؟

اس تاریکی میں روشنی کی کرن کیسے لائی جائے؟ اس تعلیمی نظام میں حقیقی تبدیلی کیسے ممکن ہے؟ میں آپ سب کی رائے کا منتظر ہوں۔ اپنی سوچ، اپنے جذبات اور اپنے حل ضرور بتائیں۔ کیونکہ یہ صرف میرا کالم نہیں، یہ ہم سب کا درد ہے۔


 

تبصرے

  1. کالم پڑھ کر بہت سے اسباق سیکھنے کو ملے
    بہت ہی زبردست کالم ہے

    جواب دیںحذف کریں
  2. Mobile hi sb chezo ka kasoorwar ha
    Parents should not to give them mobiles in the age of doing something but when they gave
    and distraction started
    Our parents and teachers both play a main rule to nurturing the children
    And government should take action about institution ⭐⭐

    جواب دیںحذف کریں
  3. Sir g first parents provide mobile to their offsprings and think we are rich everyone has it's own mobile
    Second school system lack of facilities there are no libraries
    Third our teachers who has become the money making machine they don't think the further of nation
    Due to teachers study has become very tough because they teaches us rooting methods not self writing

    جواب دیںحذف کریں
  4. ایک بچہ ہر روز راستے پر ایک گھوڑ سوار کا انتظار کرتا اور بھاگتے بھاگتے ہی اپنا سوال پوچھتا سر جاوید صاحب تفصیل آپکو پتا ہوگی کہ وہ بچہ کیا بنا وہ گھوڑ سوار استاد تھا ہمارے ابا جان کہتے تھے کہ بچے سٹریٹ لائٹ میں پڑھتے تھے سکھ بچے اپنے بالوں میں رسی باندھ کر پڑھتے تھے کہ نیند آۓ تو ہم جاگ جائیں سر صرف آپ یعنی استاتذہ ہی ذمہ دار نہیں والدین بھی ذمہ دار ہیں کیونکہ بچہ اس آئی ٹی ٹیکنالوجی کی بھینث چڑھ رہا ھے مطلب کہ اس کا استعمال غلط ہو رہا ہے اصل رول والدین ہیں جو بچوں کو بہت سختی سے اس زہر قاتل سے دور رکھ سکتے ہیں استاد کا کام محنت کروانا ہے ہو سکتا ہے کچھ استاتذہ اپنی ڈیوٹی سے غافل ہوں لیکن سر یہ تو ہر دور میں ہوتا ہے لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ والدین کو بچوں پر بہت زیادہ توجہ دینی چاہئے پھر استاد کمال مہارت سے محنت کرے تو ہمارا بچہ کامیاب انسان بن سکتا ھے ہمارے معاشرے میں والدین کا پڑھا لکھا ہونا بھی ضروری ھے تبھی ہم اپنے بچوں کو کامیاب بناسکتے ہیں اللہ عزوجل ہمیں عمل کی توفیق عطا فرماۓ آمین یا رب العالمین

    جواب دیںحذف کریں
  5. Well said! Your words are truly inspiring and thought-provoking.

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

"قارئین کی پسند: ہمارے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے کالمز کی فہرست"

Vloggers ka Pakistan, Ducky Bhai, Rajab Butt, Sistrology

Sawal pochna mana hai, swal kyun pocha

Chacha, aur Chacha ka Pakistan!

Law of Karma, Maqfat e Ammal

Ducky Bhai, Rajab Butt aur Nani waly ka Sach, Ducky aik fake hero

Jinnah Ka Adhoora Khwab: Kya Tum Use Poora Karoge? Azadi Ka Asal Matlab: Jinnah Ke Alfaaz Mein