School Band Kyun? Corona Se Ab Tak: Taleemi Zakhm Jo Bhar Na Saka
A Column By: سر جاوید بشیر
گرمی آئی تو سکول بند۔ سردی آئی تو سکول بند۔ سموگ چھا گئی تو سکول بند۔
کیا ہمارے بچوں کی قسمت میں بس یہی لکھا ہے؟ پڑھائی کب ہوگی؟ ان کا مستقبل کب بنے گا؟
کورونا کی چھٹیوں نے ہمارے معصوم بچوں کی پڑھائی کا بہت بڑا نقصان کیا، وہ آج بھی پڑھائی میں پیچھے ہیں۔ ان کی یہ کمی شاید کبھی پوری نہ ہو سکے گی، یہ ایک ایسا زخم ہے جو شاید کبھی بھر نہ پائے۔ یہ سب اس وقت کے وزیر تعلیم کی نااہلی کا نتیجہ ہے، جس کا خمیازہ آج ہماری نسل بھگت رہی ہے۔
بس سکول بند ہی کر دو، کیونکہ پڑھائی تو ویسے بھی نہیں ہو رہی۔
ہم ہر سال ایک ہی منظر دیکھتے ہیں—کبھی سردی کی شدت، کبھی گرمی کی شدت، کبھی بارش، کبھی سموگ، اور نتیجہ ہمیشہ ایک ہی نکلتا ہے: "اسکول بند"۔ یہ جملہ سننے میں شاید آسان لگتا ہو، لیکن اس کے اثرات ایک نسل کی بنیادوں کو ہلا دیتے ہیں۔
تعلیم وہ واحد سرمایہ ہے جو قوم کوپسماندگی سے نکال کر ترقی کے راستے پر ڈالتا ہے، لیکن اگر ہم ہر مشکل پر سب سے پہلے تعلیم کا دروازہ بند کر دیں تو پھر ترقی کا خواب کیسے پورا ہوگا؟ کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ اسکول بند کرنے کا مطلب صرف بچوں کے ایک دن کی چھٹی نہیں بلکہ ایک ذہن کی رفتار کا رک جانا بھی ہے؟ ایک استاد کی تربیت کا تسلسل ٹوٹ جانا بھی ہے، ایک طالب علم کے اعتماد میں کمی بھی ہے۔
ہمیں سمجھنا ہوگا کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بھی شدید موسم کا سامنا کرتے ہیں۔ اسکینڈینیوین ممالک میں درجہ حرارت منفی 20 سے نیچے ہوتا ہے، لیکن وہاں اسکول بند نہیں ہوتے، بلکہ اسکول کی عمارتوں کو محفوظ بنایا جاتا ہے، کلاس رومز میں ہیٹنگ کا انتظام کیا جاتا ہے، بچوں کو مناسب لباس اور حفاظتی تدابیر سکھائی جاتی ہیں۔
پاکستان میں یہ سوچ کیوں نہیں کہ مشکل موسم کے باوجود تعلیمی سلسلہ کیسے جاری رکھا جائے؟ حل موجود ہیں:
سردیوں میں سکول کا وقت صبح 10 بجے سے دوپہر 3 بجے تک کر دیا جائے تاکہ بچے زیادہ سردی سے بچ سکیں۔ سموگ کے دنوں میں بچوں کو ماسک پہننے کی عادت ڈالی جائے، اور سکولوں میں ہوا صاف کرنے والی مشینیں لگائی جائیں یا کم از کم کمروں میں کھڑکیاں بند رکھ کر ہوا آنے جانے کا اچھا انتظام کیا جائے۔ گرمیوں میں سکول کا وقت صبح 6:30 بجے سے 10 بجے تک کر دیا جائے تاکہ بچے دن کی شدید گرمی سے بچ سکیں۔ بجلی کے لیے، سرکاری سکولوں کو فوراً سولر سسٹم دیے جائیں، اور پرائیویٹ سکولوں کو آسان قسطوں پر سولر سسٹم مہیا کیے جائیں۔ اس سے نہ صرف بجلی کی کمی پوری ہو گی بلکہ کلاس رومز میں پنکھے اور لائٹس بھی لگاتار چلتے رہیں گے۔
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ سکول بند کرنے کے بجائے ہمیں ڈیجیٹل پڑھائی کا نظام مضبوط کرنا چاہیے۔ اگر ہم ایسا کر لیں تو موسم کی سختی بھی ہماری پڑھائی نہیں روک پائے گی۔ آج دنیا بھر میں آن لائن کلاسز اور کمپیوٹر پر چلنے والے تعلیمی پلیٹ فارمز عام ہو چکے ہیں۔ لیکن پاکستان میں یہ سہولت ابھی صرف بڑے شہروں اور مہنگے سکولوں تک ہی محدود ہے۔
حکومت اور سکولوں کو مل کر گاؤں، چھوٹے شہروں اور بڑے شہروں کے بچوں کو سستے ٹیبلٹ یا موبائل فون دینے چاہییں۔ انہیں انٹرنیٹ کے سستے پیکجز اور آن لائن پڑھائی کے پلیٹ فارمز بھی مہیا کرنے چاہییں۔ خاص طور پر دیہی علاقوں میں جہاں بجلی اور انٹرنیٹ کا مسئلہ ہے، وہاں سولر پر چلنے والے کمپیوٹر لیبز بنائے جا سکتے ہیں۔ اساتذہ کو بھی آن لائن پڑھانے کی پوری تربیت دی جائے اس طرح نہ سردی، نہ گرمی، نہ بارش، کوئی بھی ہمارے بچوں کی پڑھائی نہیں روک سکے گا۔
ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ اسکول بند کرنے کا فیصلہ آسان ہے، لیکن یہ ہمارے بچوں کے مستقبل پر ایک بھاری قیمت کے ساتھ آتا ہے۔ تعلیمی نقصان کا خلا بعد میں کبھی بھی مکمل طور پر پورا نہیں ہو پاتا۔ ایک کھویا ہوا دن کئی بار کھوئے ہوئے مہینوں اور کھوئی ہوئی عادات میں بدل جاتا ہے۔
اگر ہم واقعی اپنے بچوں کے لیے ایک روشن مستقبل چاہتے ہیں، تو ہمیں اسکول بند کرنے کے بجائے ایسے حل تلاش کرنے ہوں گے جو ہر موسم اور ہر چیلنج میں تعلیم کو جاری رکھ سکیں۔ کیونکہ تعلیم صرف ایک مضمون یا ایک کتاب کا نام نہیں—یہ سوچنے، سمجھنے اور آگے بڑھنے کا ہنر ہے، اور یہ ہنر کسی بھی قیمت پر رکنا نہیں چاہیے۔
آپ کی اس بند پالیسی پر کیا رائے ہے؟ نیچے کمنٹ میں اپنی
قیمتی رائے دیں۔ جزاک اللہ۔
سر کیا اس کی ذمہ دار گورنمنٹ ہے
جواب دیںحذف کریںالسلام علیکم سر جاوید بشیر صاحب
جواب دیںحذف کریںآج آپ کا کالم انتہائی اہم ہے یہ نہیں ہے کہ پچھلے کالم غیر اہم ہیں آپ کے تمام کالم ہی معاشرے برائیوں کو اجاگر کرتے ہیں آپ کے تمام مشورے بہترین ہیں ان پر عمل کر کے ہم کامیاب قوم بن سکتے ہیں
اللہ عزوجل آپ کو جزاۓ خیر عطا کرے آمین یارب العالمین
A great thought can change Anything what it wants ⭐
جواب دیںحذف کریںGg
حذف کریںGreat one
جواب دیںحذف کریںThat's why our society does not become successful and always goes backward
جواب دیںحذف کریںSir is column ko parh ka muja yeh malum hua ha ka yeh aik karwa such ha or hamain isa taslim karna cahahiya ka waqai yeh hamara bachon ka lia nuksan ha or isa khatam karna cahiya or hamain sub ko mil ka awaz uthaini cahiya or bhar char ka isma hisa dalain is ki waja sa hamara bachon ko acha mustaqbil bana ga abhi to him soch raha han ka kuch nhi hota aik chuti sa lakin mager bad ma yehi soch kar pachtain ga or sochain ga kash hum us waqt inhain chuti na karna DTA yeh isko iska ustadza na parhaya hi nhi yeh kuch karta nhi ha wagera wagera ab hamain yeh sochna cahiya ka hum awaz buland karain or apna bachon ka mustakbil roshan karain is sa hamara mulk kamayabi ki rah par chala ga sukariya sir is jasa column bana na ka lia hamasha khush rahain 💝💝
جواب دیںحذف کریںجی آپ بلکل درست فرما رہیں ہیں دراصل میری راۓ یہ ہے کہ ہمارے وذیرےاعظم کو تھورا سخی ہونا ہوگا اور گرمیوں میں کلاس رومز میں Air conditionars کی سہولت اور سردیوں میں Heaters کی سہولت ہونی چاہیے،مھے یہ لگتا ہے کہ ہر بات پر چھوٹی یہ صدف ایک بہانا ہے
جواب دیںحذف کریںAll right
Thank You Sir
Allah app ko himat de app hmesha asse column likhte rhein
AMEEN
JazakaAllah 😍♥️👌
جواب دیںحذف کریںIf government becomes responsible for generating future then we can see better results in future there is no much libraries it is very sad point of
جواب دیںحذف کریںPakistan we need to raise voice against it Our government is responsible for it
Waoooo such an informative and important topic rhat you highlight in a brilliant way. Also provide some good way how we better our educational system. In this way we progress .
جواب دیںحذف کریںCorrect sir
جواب دیںحذف کریں