Sirf Degree Nahi, Hunar Sikhao: Pakistan Ke Bachon Ka Roshan Mustaqbil
تعلیم کے ساتھ ہنر بھی — ہمارے بچوں کا اصل مستقبل
A Column By: سر جاوید بشیر
کہتے ہیں غربت روٹی سے نہیں، سوچ سے شروع ہوتی ہے… اور سوچ کا پہلا بیج "تعلیم" بوتی ہے۔ مگر اگر یہی تعلیم بچے کو محض الفاظ رٹا دے،اور ہنرنہ دے، نہ سوچ دے… تو وہ تعلیم نہیں، بوجھ ہے۔ ایک بے مقصد بوجھ!
آج ایک ماں چولہے کے پاس بیٹھ کر سوچتی ہے کہ اس کا بیٹا دسویں کلاس میں پہنچ گیا ہے، مگر آج بھی پنکھا خراب ہو جائے تو اُسے مستری بلانا پڑتا ہے… بچہ پڑھا لکھا ہے، مگر کام کا نہیں!
باپ دن رات محنت کرتا ہے، بچہ اسکول جاتا ہے، فیسیں، کاپیاں، یونیفارم، سب کچھ پورا ہوتا ہے… مگر بچہ کہتا ہے "ابو! مجھے تو پتہ ہی نہیں مجھے آگے کیا بننا ہے…"
یہ ہے ہمارا تعلیمی نظام… نہ رہنمائی دیتا ہے، نہ مہارت سکھاتا ہے، اور نہ ہی وقت کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم صرف ڈگری نہیں، زندگی سکھائیں۔
ہمیں چاہیے کہ:
چھٹی جماعت سے دسویں تک بچوں کو ایسا نصاب دیا جائے کہ دسویں کے بعد بچہ محض "پاس" نہ ہو، بلکہ "قابل" ہو۔
ہر بچے کے ہاتھ میں ہنر ہو، اُس کی آنکھوں میں خواب ہو، اور اُس کے قدموں کے نیچے راستہ ہو۔
آئیے، ایک نیا خواب دیکھیں… ایسا نظام تعلیم جو بچے کو:
خود مختار بنائے
باعزت روزگار دے
اس کی دلچسپیوں کو پہچانے
اور اُسے کل کے لیے تیار کرے
ہر ہفتے دو دن نصابی کتابیں بند کر دی جائیں۔ صرف زندگی کی تعلیم ہو، ہنر ہو، ہاتھوں سے کام ہو، دماغ سے فیصلے ہوں۔انہیں بتایا جائے کہ زندگی کا مقصد کیا ہونا چاہیے، انہیں اچھے طور طریقے سکھائے جائیں۔
چھٹی جماعت سے دسویں تک بچوں کو موٹر سائیکل کے پرزے کھولنے، جوڑنے، انجن کی مرمت، اور مکمل موٹر سائیکل اسمبل کرنے کی تربیت دی جائے۔
دسویں کے بعد وہ نہ صرف اپنی گاڑی خود سنبھالے، بلکہ ایک مکمل ورکشاپ چلا سکے۔
ہر بچہ یہ سیکھے کہ وائرنگ کیا ہوتی ہے؟ موٹر وائنڈنگ کیسے ہوتی ہے؟ پنکھا، فریج، بجلی کی اشیاء کیسے مرمت کی جاتی ہیں؟
فزکس کا تھیوری چیپٹر اب پریکٹیکل میں بدل جائے!
بچہ بلڈ پریشر ناپنا سیکھے، بخار چیک کرنا، انجیکشن، ڈرِپ، بینڈیج، فرسٹ ایڈ — سب کچھ جانتا ہو۔
یہ ہنر زندگی میں ہزاروں بار کام آئے گا… اور شاید کسی کی جان بچا لے!
موبائل فون ہماری زندگی کا جزوِ لازم بن چکا ہے۔
اگر بچہ خود موبائل کا سوفٹ ویئر انسٹال کرنا سیکھ جائے، ریپیئرنگ سیکھ جائے، تو کل چھوٹا سا سیٹ اپ بنا کر عزت سے روزی کما سکتا ہے۔
گرمیوں کی چھٹیوں میں بچوں کو کہا جائے کہ پانچ بچے مل کر کوئی سادہ سا کاروبار کریں تاکہ وہ کم عمر میں مارکیٹ کو سمجھیں، گاہک سے بات کرنا سیکھیں، اور نقصان برداشت کرنا سیکھیں۔
بچوں کو بتایا جائے کہ صرف گیمز کھیلنے کا نام کمپیوٹر نہیں۔
انہیں فری لانسنگ سکھائی جائے، اپنی خدمات انٹرنیٹ پر فروخت کرنے کا طریقہ اگر وہ بیچنا چاہیں، تو کس طرح آن لائن پیج بنا کر پورے پاکستان میں فروخت کر سکتے ہیں۔
پھول، سبزیاں، درختوں کے بیج لگانا سکھایا جائے۔
زمین سے محبت سکھائی جائے، تاکہ بچہ قدرت سے جڑ سکے۔
اگر مستقبل میں وہ نرسری یا زراعت کی طرف جانا چاہے، تو یہ بنیاد کام آئے۔
گھر کی چھوٹی چیزیں بنانا سیکھے، تاکہ مقامی سطح پر کاروبار کر سکے۔
یہی چیزیں دیہات سے شہروں تک فروخت ہو سکتی ہیں۔
ہمارے بچے پڑھ تو لیتے ہیں لیکن بول نہیں پاتے۔ انہیں انگلش میں بات کرنا سکھایا جائے اور کمیونیکیشن سکلز پر مہارت دی جائے۔ روزانہ ایک سپیچ کلاس ہونی چاہیے جہاں استاد انہیں بولنے کا طریقہ سکھائیں۔
انہیں مارکیٹنگ، اعتماد، گفتگو، گاہک سے ڈیل کرنا سکھایا جائے۔
یہ ہنر ہر شعبے میں کامیابی کی چابی ہے۔
اساتذہ اس اعتماد کو پیدا کرنے میں مرکزی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
اب ہمیں اپنے بچوں کو علامہ اقبال کے خوابوں کی تعبیر دینا ہوگی۔
سلیبس سے غیر ضروری کہانیاں نکال کر زندگی کی حقیقتوں کو شامل کرنا ہوگا۔
بچوں کے ذہنوں کو صرف الفاظ سے نہیں، عمل سے روشن کرنا ہوگا۔
کیونکہ کتابیں سب کو یاد ہو جاتی ہیں…
لیکن ہنر صرف اُنہیں آتا ہے جو سیکھتے ہیں، کرتے ہیں، اور بدلنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔
اگر ہم نے اپنے بچوں کو دس جماعتوں میں صرف "پاس" ہونے کے قابل بنایا، تو وہ ہمیشہ دوسروں پر انحصار کریں گے۔
لیکن اگر ہم نے اُنہیں قابل بنا دیا…
تو وہ اپنی دنیا خود بنا لیں گے!
اب وقت ہے! — سسٹم بدلو، نسل بچاؤ!
آپ کا اس کالم کے
بارے میں کیا خیال ہے؟
اپنی قیمتی رائے دیں، آپ کیا مشورے دے سکتے ہیں؟
🙂Yes, I agree with you
جواب دیںحذف کریںYes sir this is absolutely right we will work on it to create a new life
جواب دیںحذف کریںYes Everyperson should be able to do something. It is best column for learning skills. JazakaAllah 😊👌
جواب دیںحذف کریںI agree with sir
جواب دیںحذف کریںسر جاوید بشیر صاحب الحمدللہ آج آپ کا یہ کالم بہت اہمیت کا حامل ہے یہ ہے اصل تربیت میری ایک راۓ بہت اہمیت کی حامل ہے وہ یہ کہ بچوں کو ادب بھی سکھایا جاۓ یہ بہت ضروری ہے اللہ آپ کو جزاۓ خیر عطا فرماۓ آمین یا رب العالمین
جواب دیںحذف کریںThis is exactly education system .needs a focus on practical Skills
جواب دیںحذف کریں