Soch ki Pakezgi, Pakeza Soch aur Hmari Zindagi

 Soch Ki Pakezgi: Zindagi Ki Asal Taqt

A Column By: سر جاوید بشیر

کچھ دیر کے لیے اپنی آنکھیں بند کیجیے اور تصور کیجیے ایک چشمے کا جو پہاڑوں کی گہرائیوں سے پھوٹتا ہے، اس کا پانی بالکل شفاف، ٹھنڈا اور میٹھا ہے۔ وہ پانی کسی بھی آلودگی سے پاک ہوتا ہے، اور اسی پاکیزہ پانی سے نہریں بنتی ہیں، دریا بہتے ہیں اور کھیت سیراب ہوتے ہیں۔ اس پانی کی پاکیزگی ہی اس کی افادیت کی بنیاد ہوتی ہے۔ اگر اس چشمے کا پانی ہی گدلا ہو جائے، اس میں زہر گھل جائے تو پھر اس سے نکلنے والے دریا اور نہریں بھی زہریلی ہو جائیں گی، اور جو کھیت اس پانی سے سیراب ہوں گے، ان سے اگنے والی فصل بھی زہریلی ہو گی۔ یہ کوئی کہانی نہیں بلکہ حقیقت ہے، ایک ایسی حقیقت جو ہر ذی شعور پر عیاں ہے۔ اور یہی مثال ہماری سوچ کی ہے۔


سوچ کی پاکیزگی یہ ہے کہ آپ کا ذہن، آپ کے خیالات، ہر طرح کی غلاظت سے پاک ہوں۔ حسد، بغض، کینہ، لالچ، جھوٹ، فریب اور نفرت جیسے منفی جذبات جب ہماری سوچ میں سرایت کر جاتے ہیں تو ہماری پوری شخصیت کو گدلا کر دیتے ہیں۔ یہ بالکل ویسے ہی ہے جیسے ایک صاف ستھرے برتن میں زہر ملا دیا جائے۔ پھر جو بھی اس برتن سے پئے گا، وہ زہر ہی پئے گا۔ اسی طرح جب ہماری سوچ گندی ہو جاتی ہے تو ہمارے عمل بھی گندے ہو جاتے ہیں۔ ہماری زبان سے نکلے الفاظ، ہمارے ہاتھوں سے کیے گئے کام، اور ہمارے رویے سب اس گندی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔

آج ہمارے معاشرے میں جو بے چینی، اضطراب، اور اخلاقی پستی نظر آتی ہے، اس کی جڑ ہماری سوچ کی ناپاکیزگی میں ہے۔ ہر کوئی دوسرے پر تنقید کر رہا ہے، ہر کوئی دوسرے کو گرا کر خود اوپر جانے کی کوشش میں لگا ہے۔ ہماری گفتگو کا معیار گر چکا ہے، ہمارے تعلقات میں خلوص ختم ہو چکا ہے۔ یہ سب اس لیے ہے کہ ہم نے اپنی سوچ کو پاکیزہ نہیں رکھا۔ ہم نے اپنے اندر کچرا جمع کر لیا ہے اور اب وہی کچرا ہمارے قول و فعل سے جھلک رہا ہے۔ آپ سوچیں، ایک انسان جو ہر وقت دوسروں کی برائیاں ڈھونڈتا ہے، دوسروں کے لیے برا سوچتا ہے، کیا وہ کبھی سکون پا سکتا ہے؟ کبھی نہیں! کیونکہ اس کی اپنی سوچ ہی اسے اندر سے کھوکھلا کر رہی ہوتی ہے۔

اس کے برعکس، وہ لوگ جن کی سوچ پاکیزہ ہوتی ہے، وہ دنیا میں نیکی کا نور پھیلاتے ہیں۔ ان کی زبان سے پھول جھڑتے ہیں، ان کے ہاتھ سے بھلائی ہوتی ہے، ان کے وجود سے امن اور سکون کی خوشبو آتی ہے۔ وہ سب کے لیے اچھا سوچتے ہیں، سب کے لیے بھلا کرتے ہیں، اور اسی نیکی کا پھل انہیں دنیا میں بھی ملتا ہے اور آخرت میں بھی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جتنے بھی عظیم رہنما، فلسفی، اور سائنسدان گزرے ہیں، ان کی کامیابی کا راز ان کی پاکیزہ سوچ میں تھا۔ انہوں نے بڑے مقاصد کے لیے سوچا، انسانیت کی بھلائی کے لیے سوچا، اور یہی سوچ انہیں عروج پر لے گئی۔

سوچ کی پاکیزگی محض ایک اخلاقی قدر نہیں، بلکہ یہ ایک نفسیاتی حقیقت بھی ہے۔ جب آپ مثبت سوچتے ہیں، اچھا سوچتے ہیں تو آپ کے اندر سے مثبت توانائی نکلتی ہے۔ یہ توانائی آپ کے جسم، آپ کے ذہن اور آپ کی روح کو مضبوط کرتی ہے۔ آپ پرسکون رہتے ہیں، خوش رہتے ہیں، اور زندگی کے چیلنجز کا سامنا بہتر طریقے سے کر پاتے ہیں۔ اس کے برعکس، منفی سوچ انسان کو ذہنی طور پر مفلوج کر دیتی ہے، اسے ڈپریشن اور انزائٹی کا شکار بنا دیتی ہے۔

تو پھر کیا کیا جائے؟ اپنی سوچ کو پاکیزہ کیسے بنایا جائے؟ یہ کوئی ایک دن کا کام نہیں، بلکہ ایک مسلسل ریاضت ہے۔ سب سے پہلے تو یہ طے کریں کہ آپ نے اپنے ذہن کو کچرا دان نہیں بنانا۔ ہر منفی خیال، ہر بری سوچ کو اپنے ذہن سے نکال باہر پھینکیں۔ اپنی زبان کو قابو میں رکھیں، کیونکہ اکثر ہماری زبان سے نکلے الفاظ ہی ہمارے ذہن میں منفی خیالات کی وجہ بنتے ہیں۔ اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کریں، اچھی کتابیں پڑھیں، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اپنے رب سے رجوع کریں، اس سے دعا مانگیں کہ وہ آپ کے دل اور دماغ کو پاکیزہ کر دے۔

یاد رکھیں، آپ کا ذہن ایک باغ کی مانند ہے، اور آپ اس کے مالی ہیں۔ اگر آپ اس میں اچھے پھول لگائیں گے تو آپ کو خوبصورت پھول ملیں گے، اور اگر آپ اس میں کانٹے بوئیں گے تو آپ کو صرف کانٹے ہی ملیں گے۔ آئیے، ہم سب عہد کریں کہ ہم اپنی سوچ کو پاکیزہ رکھیں گے، اپنے اندر سے ہر قسم کی گندگی کو صاف کریں گے تاکہ ایک بہتر انسان بن سکیں، اور ایک بہتر معاشرہ تشکیل دے سکیں۔ کیونکہ جب سوچ پاکیزہ ہو گی، تب ہی معاشرہ بھی پاکیزہ ہو گا۔

تبصرے

  1. Sir very good column and good Information Thank you sir

    جواب دیںحذف کریں
  2. In this column I understand the mind set issues in our humanity and it is a interesting column thanks to dedicate this column for us

    جواب دیںحذف کریں
  3. اللہ آپ کو جزاۓ خیر عطا کرے ہر وقت شیطان سے اللہ کی پنا مانگنی چاہۓ ورنہ انسان تو بہت کمزور ہے

    جواب دیںحذف کریں
  4. جوابات
    1. Thanks alot for giving us specific information about pure mindset 👌😊May Allah give us sense of act upon it. Ameen ☺️♥️

      حذف کریں
  5. Exactly. It is very difficult to control our thoughts and emotions. But with the help of Allah Almighty we control our thoughts.

    جواب دیںحذف کریں
  6. Very inspiring! Purity of thought is key to a positive life.

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

"قارئین کی پسند: ہمارے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے کالمز کی فہرست"

Vloggers ka Pakistan, Ducky Bhai, Rajab Butt, Sistrology

Sawal pochna mana hai, swal kyun pocha

Chacha, aur Chacha ka Pakistan!

Law of Karma, Maqfat e Ammal

Ducky Bhai, Rajab Butt aur Nani waly ka Sach, Ducky aik fake hero

Jinnah Ka Adhoora Khwab: Kya Tum Use Poora Karoge? Azadi Ka Asal Matlab: Jinnah Ke Alfaaz Mein