Social Media Ka Jaal, Ghar Ki Khamoshi Aur Online Rishtey
اپنوں کی اتنی قلت ہے کہ ہم سوشل میڈیا پر غیروں کو اپنے دکھ سناتے پھرتے ہیں
سوشل میڈیا: ہمدردی کا جال یا بربادی؟
A Column By: سر جاوید بشیر
کیا کبھی سوچا ہے کہ وہ لڑکیاں، جو ہر روز اپنے موبائل کی اسکرین پر سر رکھ کر راتیں گزارتی ہیں، وہ وہاں کیا تلاش کر رہی ہوتی ہیں؟ نہ جانے کتنی لڑکیاں … انجان لوگوں کو اپنے دل کی باتیں لکھ رہی ہوتی ہیں، صرف اس اُمید پر کہ کوئی انہیں سنے، کوئی ایک "ریپلائی" دے، کوئی ایک "تم اکیلی نہیں ہو" کہہ دے۔
یہ صرف الفاظ نہیں ہوتے۔ یہ چیخیں ہوتی ہیں۔ وہ چیخیں جو گھر کی دیواریں سننے سے انکار کر چکی ہوتی ہیں۔
گھر کے کمرے، جو کبھی محبت اور تحفظ کا گہوارہ تھے، اب محض خاموشی سے بھرے کمرے بن چکے ہیں۔ ماں باپ کی مصروفیات، بہن بھائیوں کی بےنیازی، رشتہ داروں کے طعنے، معاشرے کی ظالمانہ نظر — اور پھر، ایک تنہا دل… جو صرف کسی کو سنانے کو تڑپتا ہے۔
تب وہ لڑکیاں، جنہیں ابھی جینا سیکھنا تھا، جنہیں خواب دیکھنے تھے، وہ انجان پروفائلز کو اپنا درد سناتی ہیں۔ وہ پوسٹس لکھتی ہیں جیسے: "مجھے کوئی نہیں سمجھتا…" "بس دعا کریں، بہت برا وقت ہے…" "کبھی کبھی لگتا ہے میں کسی کام کی نہیں…" اور بدلے میں وہ چاہتے ہیں صرف تھوڑا سا احساس، تھوڑی سی تسلی، تھوڑا سا اعتبار۔
لیکن… کیا وہ واقعی پاتی ہیں؟ نہیں!
اکثر، یہ "ہمدردی" کا روپ دھارے بھیڑیے ہوتے ہیں، جو ان کی کمزوریوں کو اپنا ہتھیار بناتے ہیں۔ جملے لکھتے ہیں: "تم بہت خاص ہو، کاش تمہیں کوئی سمجھ سکتا…" پھر وہی جال… پھر وہی بربادی… اور پھر وہی پچھتاوا: "کاش میں کسی سے نہ کہتی…"
لیکن قصوروار کون ہے؟
کیا وہ لڑکی، جو بس اپنی بات کسی کو سنانا چاہتی تھی؟ یا وہ گھر، جہاں اسے کبھی کھل کر بات کرنے کا موقع نہیں ملا؟ یا وہ سماج، جو صرف جج کرتا ہے، سہارا نہیں دیتا؟ یا وہ تعلیم، جو صرف نمبرز دیتی ہے، جذبات کو سمجھنا نہیں سکھاتی؟
ایک سوال ہر ماں باپ سے:
کیا آپ اپنی بیٹی کا وہ پہلا "انجان دوست" بن سکتے ہیں؟ کیا آپ اپنے بیٹے کا وہ پہلا "کانفیڈنٹ" بن سکتے ہیں؟ کیا آپ اُن کی سن سکتے ہیں، بغیر کسی طنز، کسی سزا، یا کسی جملے کے؟
اور ایک بات ہر لڑکی سے:
تم خاص ہو۔ تمہارا درد سچا ہے۔ لیکن یاد رکھو — سوشل میڈیا تمہاری ڈائری نہیں ہے۔ تمہاری بات کا وزن ہے، لیکن ہر کوئی اس وزن کو اٹھانے کے قابل نہیں ہوتا۔ ہر "inbox" کھلا دروازہ نہیں ہوتا، کچھ جہنم کے دہانے بھی ہوتے ہیں۔
اپنے رشتوں میں احساس پیدا کرو، لیکن اگر نہ ملے، تو قلم پکڑو، کتاب سے بات کرو، دعا سے دل لگاؤ، یا خود سے محبت کرنا سیکھو۔ لیکن پلیز — اپنی کمزوری کسی "غیر" کے ہتھیار مت بننے دو۔
کیونکہ:
" اتنے بھی کمزور نہ بنو کہ کوئی تمہاری چپ کو بھی بازار میں بیچ آئے…" "اور اپنی اتنی قیمت مت گھٹاؤ، کہ ایک 'دلاسہ' تمہیں بربادی کے رستے پر لے جائے۔"
یہ کیسی اذیت ہے کہ اپنوں کی قربت نہ ملے تو ہم اپنا درد غیروں کے سامنے بکھیرنے لگیں؟ مگر یاد رکھنا، تمہارا دل، تمہاری روح، کسی بھی 'لائک' یا 'ریپلائی' سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔ اپنی کمزوری کو کسی غیر کا ہتھیار مت بننے دو۔ اپنے آنسوؤں کو اپنی طاقت بناؤ، اپنے اندر کی آواز سنو۔ سچا سہارا باہر نہیں، تمہارے اپنے اندر ہے، اور تمہارے رب کی پناہ میں۔ اپنے آپ سے محبت کرو، اور دیکھنا، پھر کوئی تنہائی تمہیں چھو بھی نہیں پائے گی
A bitter reality
جواب دیںحذف کریںکیا . . . . . ایسا . . . ہوسکتا . . . . ہے . . . . . ؟
جواب دیںحذف کریںاگر ہو سکتا ہے تو کیسے . . بچہ سوال کرتا ہے پاپا ڈانٹ دیتا ہے کیا ایسا ہونا چاہۓ
بچے کی تربیت ماحول کرتا ہے مطلب گھر اور تعلیم گاہ بچے کے ساتھ دوستانا رویہ رکھیں کوئی وجہ نہیں رہتی کہ بچہ دوسروں کو اپنا درد سناۓ کچھ عناصر ایسے ہیں کہ لایکس لینے کے چکر میں لوگوں کو بیوقوف بناتے بناتے خود بیوقوف بن جاتے ہیں ان کا کوئی حل نہیں ہوتا سر بچوں کو بالکل بھی کھلی آزادی نہیں دینی چاہۓ ورنہ گھر کا ماحول خراب ہونے سے سارا گھر خراب ہوجاتا ہے اللہ عزوجل آپ کے اس نیک عمل کو قبول فرماۓ آمین یا رب العلمین
Sir you are absolutely right 👍.May Allah give capacity to our for parents understanding their offsprings
جواب دیںحذف کریںReality
جواب دیںحذف کریںDamn reality
جواب دیںحذف کریںReality sir and A good column is reflected Thank you sir
جواب دیںحذف کریں!Well said
جواب دیںحذف کریںSir I will ask some question that the family can't understand our daughters feelings why this is possible this is only not fair??? after this she can talk a random person on social media and spread his lifestyle and the other person can't understand but give her courage that I will understand you feelings but can't why did the parents talk roudly with his/her children's why he/she did can ask that go away I am bzy don't irritating me don't share your own question with me and some time he/she can slap on his/her our own face tightly and say go away from my room this is not fair about children he/she can take a good opinion with you and handle his/her problem easyly please hear his problems and help his/her in any situation thanks sir to dedicate this column for any one else thanks ☺☺☺
جواب دیںحذف کریںYes
جواب دیںحذف کریں