Ungli Uthane Se Pehle: Khud Ko Dekho!

 انگلی اٹھانے سے پہلے: اپنا گریبان دیکھو

A Column By: سر جاوید بشیر

 نام تو ان کا فیاض تھا، مگر محلے والے انہیں "فیاض احتسابی" کہتے تھے۔ وجہ یہ تھی کہ ان کی زبان صبح سے رات تک بس ایک ہی کام کرتی تھی: دوسروں کی برائیاں گننا۔ ٹی وی آن کریں تو فیاض صاحب نیوز اینکر کے ساتھ مل کر حکمرانوں کو کوس رہے ہوتے، چائے والے کھوکے پر بیٹھیں تو پولیس والوں کی رشوت خوری کے قصے سناتے۔


ایک دن محلے میں خبر پھیلی کہ گلی میں نالی صاف کرنے کے فنڈ آئے ہیں۔ ٹھیکہ فیاض صاحب کے چچا زاد کے ہاتھ لگا۔ دو دن بعد صفائی کا کام مکمل ہو گیا، لیکن نالی کی حالت ویسی کی ویسی رہی — بلکہ تھوڑی بدتر۔ سب حیران کہ پیسہ کہاں گیا؟ پتہ چلا کہ فنڈ کا آدھا بجٹ فیاض صاحب کے گھر کی نئی ایل سی ڈی اور فریج پر لگ گیا۔


لوگوں نے کہا، "فیاض بھائی! یہ کیا ماجرا ہے؟ آپ تو کرپشن کے سب سے بڑے دشمن تھے!" فیاض صاحب ہنس کر بولے، "بھائی، یہ کرپشن نہیں، کمیشن ہے ۔"


 یہی ہے ہمارا پاکستانی کمال! اپنے کام کو ہم ہمیشہ خوبصورت نام دے دیتے ہیں۔ ہم دوسروں کی چوری کو "بدعنوانی" کہتے ہیں، اور اپنی چوری کو "حلال"۔ ہم بجلی کا کنڈا لگائیں تو کہتے ہیں "مہنگائی بہت ہے"، گیس کا بل کم کرنے کے لیے میٹر ریورس کریں تو کہتے ہیں "بس تھوڑا سیٹ کیا ہے"، اور کسی کا حق ماریں تو کہتے ہیں "بس حالات کا تقاضا تھا"۔


سچ یہ ہے کہ ہمارا ملک ایک بڑے فیاض محلے کی طرح ہے، جہاں سب ایک دوسرے پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں۔


"جب آپ کسی کی طرف انگلی اٹھاتے ہیں، تو دراصل باقی انگلیاں آپ کی طرف اشارہ کر رہی ہوتی ہیں۔"

یہ الفاظ نہ صرف ایک محاورہ ہیں بلکہ ایک آئینہ ہیں… ایک ایسا آئینہ جو ہماری اپنی ذات، کردار، نیت، اور سوچ کو بےنقاب کرتا ہے۔

 ہم الزام دینا آسان سمجھتے ہیں…


ہم دوسروں کی غلطیوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں، اور اپنی کوتاہیوں کو "حالات"، "وقت"، یا "قسمت" کے پردے میں چھپا دیتے ہیں۔

ہم فوراً انگلی اٹھا دیتے ہیں:


"یہ لڑکی بدچلن ہے، موبائل پر باتیں کرتی ہے۔"


"یہ نوجوان بگڑ گئے ہیں، کسی کا احترام نہیں کرتے۔"


"حکومت ناکام ہے، نظام تباہ ہے۔"


لیکن جب کوئی ہم سے پوچھتا ہے:

"آپ نے کیا کیا؟"

تو ہمارے پاس خاموشی، شرمندگی، اور بہانے رہ جاتے ہیں۔


جب آپ انگلی اٹھاتے ہیں، تو باقی تین انگلیاں آپ کی طرف اشارہ کر رہی ہوتی ہیں۔

یہ محض جسمانی حقیقت نہیں، روحانی اشارہ بھی ہے:

کہیں آپ خود بھی اسی رویے کا شکار تو نہیں؟


جس لڑکی کو آپ بدنام کر رہے ہیں، وہ شاید گھر کے ظلم سے بچنے کو آواز ڈھونڈ رہی ہو۔


جس نوجوان پر آپ چلا رہے ہیں، وہ شاید باپ کی مار، غربت کی جکڑ، یا تعلیم کی کمی سے ٹوٹا ہوا ہو۔


جس حکومت پر آپ تنقید کر رہے ہیں، اس میں آپ کے ووٹ کا کردار کیا تھا؟

ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم نے کہاں غلطی کی؟

کہیں ہم نے "سچ بولنے" کے نام پر "ذلیل کرنا" تو نہیں سیکھ لیا؟

کہیں ہم "اصلاح" کے نام پر "رسوائی" کا باعث تو نہیں بن رہے؟

 حقیقت تو یہ ہے…

ہم دوسروں پر انگلی اس لیے اٹھاتے ہیں تاکہ ہم خود کی خامیوں سے توجہ ہٹا سکیں۔


جب ہم دوسروں کو بدنام کرتے ہیں، تو ہمیں خود کے ضمیر کی آواز سنائی نہیں دیتی۔


جب ہم دوسروں کی غلطیوں پر ہنستے ہیں، تو اپنی لغزشیں بھول جاتے ہیں۔


جب ہم دوسروں کو شرمندہ کرتے ہیں، تو اپنے اندر چھپے اندھیرے کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔


لیکن یاد رکھو، جو انگلی کسی پر اٹھتی ہے، وہ کبھی نہ کبھی خود پر بھی پلٹتی ہے۔

زندگی کے امتحان سب کے لیے ہوتے ہیں، اور وقت کسی کا نہیں ہوتا۔


کسی کو بہتر بنانے کے لیے الفاظ میں نرمی، لہجے میں محبت، اور نیت میں اخلاص ہونا چاہیے۔


خود کو پہلے دیکھو۔

خود احتسابی سب سے بڑی عبادت ہے۔ روز خود سے سوال کرو:

“میں کون ہوں؟ میں کتنا سچ ہوں؟ میں کیسا انسان ہوں؟”


خاموشی بعض اوقات اصلاح سے بہتر ہوتی ہے۔

ہر سچ زبان پر لانا ضروری نہیں، بعض سچ صرف دعا اور عمل کے ذریعے ظاہر ہوتے ہیں۔


دنیا آج شور سے بھری ہوئی ہے:

الزام، طعنے، نفرت، تحقیر…

لیکن جو لوگ خاموشی سے کسی کی بہتری چاہتے ہیں، وہی اصل "اصلاح کرنے والے" ہیں۔


انسان کا اصل کمال یہ ہے کہ وہ اپنے اندر جھانکے،اور جب دوسروں پر انگلی اٹھانے کا دل کرے، تو پہلے خود کی طرف دیکھے۔

آج جو بات، جو طنز، جو الزام آپ نے کسی پر پھینکا —

کل وہی لوٹ کر آپ کی طرف آ سکتا ہے،یا آپ کے بچوں، آپ کے پیاروں، یا آپ کے ضمیر کو زخمی کر سکتا ہے۔


اس لیے انگلی اٹھانے سے پہلے سوچو:

کیا میں اس قابل ہوں؟

کیا میرا دامن صاف ہے؟

کیا میں خود وہی غلطی نہیں کر چکا؟


دنیا کو بدلنے کے لیے ہمیں انگلی نہیں، ہاتھ تھامنے کی عادت اپنانی ہوگی۔

کیونکہ ہاتھ تھامے جاتے ہیں، ٹھکرائے نہیں۔

درد بانٹا جاتا ہے، چسکے کے لیے نہیں سنایا جاتا۔

یاد رکھو:

انگلی اٹھانے سے آپ کا قد بلند نہیں ہوتا،لیکن ہاتھ تھامنے سے آپ کسی کو گرنے سے بچا سکتے ہیں۔


اور شاید یہی عمل —

آپ کو اللہ کے قریب اور انسانوں کے دلوں میں زندہ رکھتا ہے۔


آپ کی اس کالم پر

 کیا رائے ہے؟ اس سوال کا جواب ضرور دیجیے گا کہ ہم انگلی کسی پر اٹھاتے ہی کیوں ہیں؟


تبصرے

  1. Lesson full topic thank you 😊

    جواب دیںحذف کریں
  2. Thanks alot sir g. Because you accept my request and you made with full of energy. It's a supreme column for learning. . Thanks again May Allah give us capacity for acting upon 😊👌🤲Why we raise finger on others

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. پیاری بیٹی عائشہ!
      آپ کے یہ الفاظ میرے لیے بہت قیمتی ہیں۔ یہ کالم آپ ہی کی فرمائش پر لکھا تھا، اور آپ کی یہ مثبت سوچ ہی میری اصل توانائی ہے۔
      آپ کا سوال کہ 'ہم دوسروں پر انگلی کیوں اٹھاتے ہیں؟' – اس کا جواب ہمارے اپنے اندر ہے۔ اصل تبدیلی خود سے شروع ہوتی ہے۔
      مجھے بے حد خوشی ہے کہ آپ کو یہ 'سپریم کالم' لگا۔ اس کی اصل کامیابی اس پر عمل کرنے میں ہے۔ اللہ آپ کو اور ہم سب کو اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آپ جیسی روشن سوچ رکھنے والی نسل ہی اس قوم کا مستقبل ہے۔ ہمیشہ سوچتی رہیے، سوال کرتی رہیے، اور اپنی روشنی بکھیرتی رہیے۔

      حذف کریں
  3. Thank you sir very good information

    جواب دیںحذف کریں
  4. Thought provoking column! Before pointing fingers at others, it's essential to examine our own flaws and weaknesses.

    جواب دیںحذف کریں
  5. اگر انسان اپنی انگلیوں کا استعمال اپنی ہی غلطیوں کو گننے کے لئے کرے،تو دوسروں پر انگلیاٹھانے کا وقت ہی نہ ملے

    جواب دیںحذف کریں
  6. Excellent. We should to correct our inner emotions or thoughts. Thanks to guide in better way.

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

"قارئین کی پسند: ہمارے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے کالمز کی فہرست"

Vloggers ka Pakistan, Ducky Bhai, Rajab Butt, Sistrology

Sawal pochna mana hai, swal kyun pocha

Chacha, aur Chacha ka Pakistan!

Law of Karma, Maqfat e Ammal

Ducky Bhai, Rajab Butt aur Nani waly ka Sach, Ducky aik fake hero

Jinnah Ka Adhoora Khwab: Kya Tum Use Poora Karoge? Azadi Ka Asal Matlab: Jinnah Ke Alfaaz Mein