Wasiyat ka sach: Apna Kya Hai? Wasiyat Se Pehle Jaan Lo!
وصیت کا سچ:مرنے سے پہلے جیو
A Column By: سر جاوید بشیر
ایک شخص ساری عمر زمینیں خریدتا رہا، پلاٹ لیتا رہا، مکان بناتا رہا۔ ہر نئی خریداری پر وہ خوشی سے پھول سا جاتا تھا۔ لوگ اسے کامیاب کہتے تھے۔ وہ خود کو فاتح سمجھتا تھا۔ مگر ایک دن اس کی آنکھیں بند ہو گئیں۔ جنازہ اٹھا، لوگ قبر تک لے گئے، سب نے ہاتھ جھاڑ لئے۔ اب اس کی زمینیں اس کی نہیں رہیں۔ پلاٹوں پر دوسرے وارثوں کے نام لکھے گئے۔ مکانوں کی چابیاں دوسروں کے ہاتھوں میں آ گئیں۔ اور وہ؟ وہ قبر کے تنگ گڑھے میں صرف دو کفن کے کپڑے لے کر لیٹ گیا۔وہ اپنی ساری زندگی میں اپنے لئے کچھ نہ بنا سکا۔ سب کچھ دوسروں کے لئے چھوڑ دیا۔"
یہی حقیقت وصیت نامے کے وقت کھلتی ہے۔ جب آپ قلم پکڑ کر اپنی جائیداد، اپنی کمائی، اپنے گھر اور اپنے مال کا حساب لکھنے بیٹھتے ہو، تو ایک کڑوا مگر سچا نکتہ سامنے آتا ہے: اس مال میں آپ کا اپنا کوئی حصہ نہیں۔ آپ کی ساری عمر کی محنت، سارا خون پسینہ، سب کچھ دوسروں میں بانٹ دیا جاتا ہے۔ بیوی کا حصہ الگ، بچوں کا الگ، والدین کا الگ۔ آپ کی باری کہاں آتی ہے؟ کہیں بھی نہیں۔ وصیت نامے کے ہر صفحے پر آپ دوسروں کو نوازتے ہیں، اپنے لئے ایک لفظ بھی نہیں لکھ پاتے۔
کیا عجیب بات ہے نا؟ دنیا میں جب تک زندہ رہتے ہیں، ہم سب سے زیادہ اسی مال کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ کبھی رشوت لیتے ہیں، کبھی جھوٹ بولتے ہیں، کبھی دوسروں کا حق مارتے ہیں، کبھی رشتوں کو توڑتے ہیں، کبھی دلوں کو دُکھاتے ہیں۔ مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ مال بڑھ جائے۔ مکان بڑا ہو جائے۔ بینک بیلنس بھاری ہو جائے۔ گاڑی نئی آ جائے۔ مگر جب وصیت لکھی جاتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ جس چیز کو ہم اپنی سمجھ کر مرتے دم تک سینے سے لگائے رکھتے ہیں، وہ ہماری تھی ہی نہیں۔ وہ دوسروں کے لئے تھی۔
پھر سوال پیدا ہوتا ہے: تو ہمارا اپنا کیا ہے؟ جواب صرف ایک ہے—وہی جو ہم نے اپنی زندگی میں آخرت کے لئے آگے بھیج دیا۔ جو صدقہ ہم نے دیا۔ جو بھوکے کو کھانا کھلایا۔ جو یتیم کے سر پر ہاتھ رکھا۔ جو مسجد کے لئے ایک اینٹ بھی رکھی۔ جو علم ہم نے پھیلایا۔ جو نیکی ہم نے کسی کے دل میں بوئی۔ یہی وہ مال ہے جو وصیت کے کاغذ پر نہیں لکھا جاتا مگر قبر میں روشنی بن کر ساتھ جاتا ہے۔
اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: "انسان کے مرنے کے بعد اس کے اعمال ختم ہو جاتے ہیں سوائے تین کے: صدقہ جاریہ، ایسا علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے، اور نیک اولاد جو دعا کرے۔" سوچو، مال کا کوئی ذکر نہیں۔ گاڑی کا ذکر نہیں۔ مکان کا ذکر نہیں۔ سونے کے زیور کا ذکر نہیں۔ ذکر صرف اس کا ہے جو آپ نے بانٹا، جو آپ نے دوسروں کو دیا۔
وصیت کا کاغذ اصل میں ایک آئینہ ہے۔ وہ ہمیں دکھاتا ہے کہ ہمارا سب کچھ ہم سے چھن جائے گا۔ ہمارے بچے، جنہیں ہم اپنا سب کچھ سمجھتے ہیں، وہی ہمارے مال کے وارث بنیں گے۔ ہمارے عزیز، جنہیں ہم زندگی میں خوش رکھنے کے لئے سب کچھ لٹاتے ہیں، وہی تقسیم کے جھگڑوں میں لگ جائیں گے۔ کبھی کبھی تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ بھائی بھائی کا دشمن بن جاتا ہے، بہن بھائی کی جائیداد پر مقدمے کر دیتی ہے۔ اور آپ؟ آپ قبر میں لیٹے خاموش تماشائی رہتے ہیں۔
اسی لئے سمجھدار وہ ہے جو وصیت لکھنے سے پہلے ہی اصل وصیت شروع کر دے۔ اپنی زندگی کو وصیت بنا دے۔ اپنے وقت کو، اپنے مال کو، اپنی صلاحیت کو اللہ کے راستے میں خرچ کرے۔ کیونکہ مرنے کے بعد تو سب کچھ دوسروں کا ہے۔ اپنے لئے تو صرف وہی ہے جو آپ نے جیتے جی آخرت کے لئے بھیج دیا۔
سوچو! اگر تمہارے پاس آج ایک ہزار روپے ہیں، اور تم نے وہ کسی یتیم کو کھلا دیے، تو وہ ہزار تمہارے نامہ اعمال میں ہمیشہ کے لئے لکھا گیا۔ مگر اگر وہی ہزار تم نے بستر کے نیچے رکھ دیے، تو مرنے کے بعد وہ دوسروں کے حصے میں چلا جائے گا۔ وہ کبھی تمہارا نہ ہوگا۔
وصیت لکھتے وقت ہر انسان کو ایک حقیقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے: وہ خود سب سے بڑا محروم ہے۔ مگر خوش قسمت وہ ہے جو مرنے سے پہلے سمجھ جائے کہ محرومی ختم کی جا سکتی ہے۔ کیسے؟ اپنی جیب سے اللہ کے لئے دینا سیکھ کر۔ اپنے وقت کو نیکی میں لگانا سیکھ کر۔ اپنی زبان کو اچھے الفاظ پر لگانا سیکھ کر۔
ایک دن ہم سب کو وصیت لکھنی ہے۔ مگر کاش ہم یہ حقیقت وصیت لکھنے سے پہلے ہی سمجھ جائیں۔ کاش ہم یہ جان لیں کہ مرنے کے بعد ہمارے ہاتھ خالی ہوں گے، صرف وہی ساتھ جائے گا جو ہم نے دوسروں کو دے دیا۔
تو آج سے طے کرو۔ مال کو سینے سے لگانے کے بجائے اللہ کے راستے میں لگا دو۔ جتنا ممکن ہے، اپنی زندگی ہی میں آخرت کا سامان کر لو۔ کیونکہ کل جب قلم ہاتھ میں ہوگا اور وصیت لکھی جا رہی ہوگی، تو تمہیں پتہ چلے گا—اس کاغذ پر سب کے نام ہوں گے، بس تمہارے اپنے نہیں۔
وصیت کی وہ آخری لائن پڑھ کر ہر انسان کو ایک جھٹکا لگتا ہے، لیکن وہ جھٹکا قبر میں بہت دیر سے لگتا ہے۔ تم سمجھدار ہو، یہ جھٹکا آج ہی لے لو۔ تاکہ کل کا سفر آسان ہو جائے۔
اگر اس کالم نے آپ کو اپنی زندگی کی اصل وصیت لکھنے پر مجبور کیا ہے، تو پلیز، اپنے احساسات، اپنے ارادے، اور اپنی سوچ کمنٹس میں ضرور بتائیں۔ آپ کا ایک لفظ شاید کسی اور کو بھی آج ہی سے 'مرنے سے پہلے جینے' کا راستہ دکھا دے۔
Unbelievable k Insan jin chezzo k pichy sari zindagi bhagta ha kamata ha halal haram bhol jata ha end osky pas kuch nai ata siwaye jo Allah ki raah ma kharch kia ho lsky
جواب دیںحذف کریںAllah hum sb ko hadayat dey or sidhy raasty pr chalaye Ameen
Ameen
حذف کریںالسلام علیکم
جواب دیںحذف کریںماشااللہ بہت پیارا کالم
جب تک ہم زندہ رہتے ہیں ہمیں زندگی سے والہانہ پیار ہوتا ہے یہ فطری ہے
ہمیں مرنا تو ہے ہی یہ بات ہم نظر انداز کرتے ہیں اور مال جمع کرتے رہتے ہیں
جو ہمارے کام نہیں آتا ہمارے کام وہی آتا ہے جسے ہم اپنے ہاتھ سے آگے بھیج چکے ہوتے ہیں وہی کامیاب ہیں اللہ عزوجل ہم سب کو صدقہ جاریہ کرنے کی توفیق عطا فرماۓ آمین یا رب العالمین
An eye opening column
جواب دیںحذف کریںSir very good column kay hamay Allah ki Rah me APNA Mal Dyna chahiya
جواب دیںحذف کریںSir it is also best column and it is reality. If we think about it. May Allah gives us capacity for acting upon Ameen 🤲😇
جواب دیںحذف کریںThe column is well written,concise,and effectively .communicates the message
جواب دیںحذف کریںExactly ,we collect everything that gives happiness but when we old ,realize that nothing is our .except good deeds,charity and our nice behavior.
جواب دیںحذف کریں