YouTube Madari Aur Bacha Jamhoora: Naya Tamasha, Purani Chalakiyan
یوٹیوب کے مداری اور بچہ جمہورا – نیا تماشہ، پرانی چالاکیاں
A Column By: سر جاوید بشیر
ہمارے بچپن کے زمانے میں، محلے محلے ایک مشہور کردار آیا کرتا تھا — مداری۔
ہاتھ میں لکڑی کا ڈنڈا، ساتھ ایک رسی، اور اس رسی کے دوسرے سرے پر ایک بندر یا ریچھ مداری کی زبان چلتی رہتی، کبھی ڈرانا، کبھی ہنسانا، کبھی جھوٹا فلسفہ جھاڑنا، اور ساتھ کھڑا بچہ جمہورا ہر جملے پر "جی استاد" کہہ کر سر ہلاتا۔وہ مداری کا وفادار انسان، ہر حکم پر "جی استاد" کہتا اور سر ہلاتا، چاہے مداری آسمان کو زمین اور زمین کو چاند کہہ دے۔
مداری کا فن یہ تھا کہ اپنے پاس موجود کچھ نہ ہونے کو بھی اتنا قیمتی بنا کر پیش کرے کہ دیکھنے والا اپنی جیب سے سکّے نکال کر اس کے ڈبے میں ڈال دے۔
شو ختم، جیب بھری، اور مداری اگلے محلے کی طرف روانہ۔
اب وہی مداری زمانے کے ساتھ اپ گریڈ ہو گیا ہے۔
ڈنڈے کی جگہ DSLR کیمرا، رسی کی جگہ ہائی سپیڈ انٹرنیٹ، بندر کی جگہ کِلِک بیٹ تھمب نیل (clickbait thumbnail)۔
علم بس اتنا ہی جتنا پرانے مداری کے پاس ہوتا تھا، یعنی زیرو۔
زبان پرانے مداری سے بھی زیادہ تیز، اور اب تو ویڈیو ایڈیٹنگ سوفٹ ویئر اور اسپیشل ایفیکٹس کے ساتھ!
ہمارے آج کے یوٹیوب مداری کے پاس روزانہ کے تماشے کا ایک مینو کارڈ (menu card) ہے۔
مثال کے طور پر:
"ایلینز نے حملہ کر دیا!" دوستو! یہ دیکھیں، ابھی ابھی بڑی خبر آئی ہے، امریکہ کے اوپر UFO دیکھا گیا ہے !"
"ایک بہت بڑا شہابِ ثاقب زمین سے ٹکرانے والا ہے!" چند گھنٹوں میں زمین سے ٹکرا کر دنیا کا خاتمہ کر دے گا"
(ویڈیو اپلوڈ کرنے کے بعد خود جا کرچائے پینے بیٹھ جاتے ہیں)
"سمپسنز کارٹون (Simpsons cartoon) نے یہ سب پہلے بتا دیا تھا!" "یہ کارٹون ہر بڑے واقعے کی پیش گوئی کرتا ہے،"کارٹون نے سب پہلے ہی بتا دیا تھا، یہ دیکھیں ثبوت، یہ دیکھیں یہودی کیسے سب پہلے ہی جانتے، (حالانکہ اس سب کا ہماری زندگی سے کوئی تعلق نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ سمپسنز کئی دہائیوں سے چلنے والا ایک بہت پرانا شو ہے۔ جب کوئی کارٹون اتنے سینکڑوں اقساط دکھائے، تو اتفاق سے کچھ چیزیں حقیقی زندگی کے واقعات سے مل جاتی ہیں۔ باقی یہ لوگ فوٹوشاپ کر کے جعلی بنانے کے ماہر تو ہیں ہی۔)
"ورلڈ وار 3 شروع ہو گئی ہے!"
"ایٹمی حملہ ہونے والا ہے!" دو بڑے ممالک ایٹمی حملے کی تیاری کر رہے ہیں، آپ کا کیا ہوگا؟"
(ہمارا ہوگا یہ کہ ہم ویڈیو دیکھ کر ایک اور ویڈیو کھولیں گے)
"کلاؤڈ سیڈنگ (cloud seeding) سے دشمن ملک نے بادلوں میں کیمیکل ڈال کر پاکستان میں سیلاب لا دیا (اب دلچسپ بات یہ ہے کہ جنہیں سائنس کی الف اور بے بھی نہیں آتی، وہ کلاؤڈ سیڈنگ پر 30 منٹ کا لیکچر دے دیتے ہیں، اور قوم سن بھی لیتی ہے۔)
پرانے وقتوں میں بچہ جمہورا مداری کے ساتھ کھڑا رہتا تھا، آج کے زمانے میں بچہ جمہورا موبائل کے ساتھ جُڑا رہتا ہے۔
پہلے مداری اشارہ کرتا تھا، اب یوٹیوب کا "نوٹیفیکیشن بیل" (notification bell) بجتا ہے۔
پہلے "جی استاد" کہہ کر سر ہلایا جاتا تھا، اب کمنٹس (comments) میں لکھا جاتا ہے "واہ بھائی، آپ نے تو آنکھیں کھول دیں!"۔
پرانے مداری ایک شو سے پانچ دس روپے کماتے تھے،آج کا یوٹیوب مداری ایک جھوٹی خبر سے پانچ دس لاکھ روپے کما لیتا ہے۔
پہلے مداری محلے محلے جا کر لوگوں کو اکٹھا کرتا تھا،
آج ہم خود اپنی مرضی سے اس کے پاس جاتے ہیں، ویڈیو پر کلک کرتے ہیں، اور اس کا بینک بیلنس بڑھاتے ہیں۔
یہ یوٹیوب مداری اچھی طرح جانتے ہیں کہ انسان کی نفسیات کیا ہے۔
ہم سب ڈر اور تجسس کا شکار ہیں۔
اس لیے یہ اپنے ویڈیوز کے تھمب نیل پر ایسی تصویریں لگاتے ہیں:
منہ کھلا ہوا، آنکھیں باہر کو نکلی ہوئی، ہاتھ سر پر۔
پس منظر میں دھماکے، جلتے ہوئے شہر، یا خلائی مخلوق کی فوٹوشاپ تصویر۔
عنوان میں "خطرناک انکشاف" یا "آج رات سب کچھ بدل جائے گا!"
اور ہم…
کلک کر ہی لیتے ہیں۔
یہ یوٹیوب مداری ایک دن بھی فارغ نہیں بیٹھ سکتا۔
روز کوئی نیا ڈرامہ بیچنا ہے تاکہ ناظرین کے ذہنوں کا بخار گرم رہے۔
اب ذرا سوچو — جن کے پاس اتنی صلاحیت ہے کہ وہ ایک گھنٹے میں اتنا ڈرامہ کر سکتے ہیں،
اگر یہ لوگ سچ بولنے، علم پھیلانے اور تحقیق کرنے میں محنت کریں تو قوم کہاں سے کہاں پہنچ سکتی ہے۔
لیکن نہیں، کیونکہ سچ بیچنا مشکل ہے، جھوٹ بیچنا آسان… اور منافع دگنا۔
ہم 2025 میں بھی ڈیجیٹل بچہ جمہورے بنے بیٹھے ہیں۔
ہمارے پاس دنیا بھر کا علم ایک کلک پر موجود ہے، مگر ہم یوٹیوب مداریوں کی زبان سے نکلا ہر جملہ مان لیتے ہیں۔
ہماری سوچ، ہماری عقل، ہمارا وقت… سب ان کے شو کا حصہ ہے،
اور بدلے میں ہمیں ملتا ہے — کچھ بھی نہیں۔
فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے یا تو تم یہ سلسلہ جاری رکھو، ان کے جھوٹے تماشے دیکھتے رہو،
یا پھر اپنی عقل کا سوئچ آن کرو، اور ان کو وہی سمجھو جو یہ ہیں — مداری!
کیونکہ جب دنیا ہمیں دیکھتی ہے تو کہتی ہے:
"یہ وہ قوم ہے جو موبائل اور انٹرنیٹ رکھ کر بھی جھوٹے مداریوں کا تماشہ دیکھتی ہے"
ہمارا وقت، ہمارا ڈیٹا، ہمارا دماغ — سب ان کے ویوز بڑھانے میں لگا ہے۔
اگر ہم نے یہ تماشہ بند نہ کیا، تو یاد رکھنا، دنیا ہمیں ہمیشہ یہی کہے گی: 'پاکستانی؟ اوہ… وہ بچہ جمہورا قوم!' کیا ہم اپنی قوم کو یہ پہچان دیں گے؟ اٹھو، اپنی عقل کو جگاؤ، اور اس بدنامی کو مٹا دو!
Kamal
جواب دیںحذف کریںYouTubers are eating our generation future they are earning money and
جواب دیںحذف کریںThey are filling dirtiness in the mind of youth making youth fool
السلام علیکم سر جاوید بشیر صاحب
جواب دیںحذف کریںوہ پنجابی میں کہتے ہیں بچہ نئیں ورچا سکدے یعنی بچے نے آخر میں کہنا ہے کہ ہاتھی کو کجی میں ڈالو . . .
سر میری دلی دعا ہے کہ اللہ رب العزت آپ کو اپنے نیک ارادے میں کامیاب کرے اللہ رب العزت ہر چیز پر قادر ہے ہم سب کو اپنے حصے کا دیا جلانا چاہئے
Assalamualaikum g sir g bilkul social media pe bhut zaida jhoot hai sab bus Pasay kamane k chakar main lagy or apni ane wali nasal ko zehni Tor per bemar. Kar rahy hai
جواب دیںحذف کریں💓
جواب دیںحذف کریںInteresting
جواب دیںحذف کریںToday we need to take step against the family veloggers
جواب دیںحذف کریںThank you sir for giving us knowledge
جواب دیںحذف کریںIt's a good column for learning something
جواب دیںحذف کریںG bhai ase hi ho raha hai Hum in ki video dekh kr khud ko dunia ka zaheen tareen adim samjty hai ke hamry pas bhut ziada knowledge a gy hai
جواب دیںحذف کریںInteresting and informative
جواب دیںحذف کریں